ابن یونس

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
ابن یونس
(عربی میں: ابن يونس خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقامی زبان میں نام (P1559) ویکی ڈیٹا پر
معلومات شخصیت
پیدائش سنہ 950  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ پیدائش (P569) ویکی ڈیٹا پر
فسطاط  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام پیدائش (P19) ویکی ڈیٹا پر
وفات 6 جون 1009 (58–59 سال)، 6 جون سنہ 1008 (57–58 سال)[1] اور 6 جون سنہ 1009 (58–59 سال)[2]  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ وفات (P570) ویکی ڈیٹا پر
قاہرہ  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام وفات (P20) ویکی ڈیٹا پر
شہریت Rectangular green flag.svg سلطنت فاطمیہ  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں شہریت (P27) ویکی ڈیٹا پر
عملی زندگی
استاذ ابو الوفا البوزجانی  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں استاد (P1066) ویکی ڈیٹا پر
پیشہ ریاضی دان،  وماہر فلکیات،  ومنجم،  وفلسفی  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں پیشہ (P106) ویکی ڈیٹا پر
شعبۂ عمل فلکیات،  وریاضی  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں شعبۂ عمل (P101) ویکی ڈیٹا پر

ابو الحسن علی بن ابی سعید عبد الرحمن بن احمد بن یونس المصری، البتانی اور ابی الوفاء البوزجانی کے بعد سب سے زیادہ شہرت پانے والے ریاضی اور فلکیات دان ہیں، مستشرق سارٹن انہیں چوتھی صدی ہجری کے سب سے بڑے سائنسدانوں میں شمار کرتے ہیں، وہ شاید مصر کے سب سے بڑے فلکیات دان تھے، مصر میں پیدا ہوئے اور وہیں پر شوال 399 ہجری کو وفات پائی۔

ابن یونس کا خاندان ایک مشہور علمی گھرانہ ہے، ان کے والد سعید مصر کے محدث، مؤرخ اور مشہور عالم تھے، ان کے بڑے دادا یونس امام شافعی کے دوست اور علمِ نجوم کے ماہر تھے۔

“الزیج الحاکمی” کے نام سے ایک زیچ بنایا اور کافی تصانیف چھوڑیں جن میں قابلِ ذکر تصانیف یہ ہیں : غایہ الانتفاع فی معرفہ الدوائر والسمت من قبل الارتفاع، التعدیل المحکم، جداول السمت، جداول فی الشمس والقمر، ابن یونس نے ہی یحیی بن ابی منصور کا زیچ درست کیا تھا، وہ مثلثات کے ماہر تھے اور کروی مثلثات کے بہت مشکل مسائل حل کیے اور اقواس کا حساب دریافت کیا، آخر میں بتاتے چلیں کہ انہوں نے ہی گھڑی کا pendulum ایجاد کیا تھا نا کہ گیلیلیو نے جیسا کہ عام طور پر سمجھا جاتا ہے۔

ابن یو نس نے پینڈولم دسویں صدی میں ایجاد کیا تھا۔ اس ایجاد سے وقت کی پیمائش پینڈولم کی جھولن(oscillation) سے کی جانے لگی۔ اس کی اس زبردست ایجاد سے مکینکل کلاک دریافت ہوئی تھی۔ [3]


زمین کا محور(axis) دیکھنے میں تو بظاہر قطب تارے کی طرح ساکن نظر آتا ہے مگر حقیقت میں یہ ساکن نہیں بلکہ آہستہ آہستہ مدھم رفتار سے دائرے کی صورت میں گردش کر تا ہے۔ اس حرکت کے بہت خفیف ہونے کے باعث یہ ہمیں محسوس نہیں ہوتی ہے۔ یہ دریافت مصر کے سا ئنسداں عبد الرحمن ابن یونس (1009 ء ) نے کی تھی۔ یہ پیمائش اتنی چھو ٹی ہے کہ اسے معلوم کر لینا ابن یونس کی ہیئت دانی کا کمال تھا۔ [4]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. مصنف: ارتھر بری — عنوان : A Short History of Astronomy — ناشر: جون مرے
  2. خالق: John O'Connor اور Edmund Robertson
  3. Science and civilization is Islam, Dr. S.H. Nasr, page 1
  4. مسلمان سا ئنسداں اور ان کی خدمات از ابراہیم عمادی ندوی صفحہ 92