امام الحرمین جوینی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
امام الحرمین ضیاءُ الدین الجُوَینی
امام الحرمین ضیاءُ الدین الجُوَینی
معروفیت امام الحرمین، ضیاءُ الدین، الجُوَینی
پیدائش 17 فروری 1028ء
بُشتَنِقان، موضع جُوَین نزد نیشاپور، خراسان
وفات 20 اگست 1085ء (57 سال)
نسل فارسی
دور قرون وسطی اسلامی عہدِ زریں
شعبۂ زندگی فارس، حجاز، عراق
پیشہ مسلم عالم
مذہب اسلام
فرقہ سنی اسلام
فقہ شافعی
مکتب فکر اشعری
شعبۂ عمل اصول فقہ، فقہ، علم کلام

الجوینی (پیدائش: 17 فروری 1028ء— وفات: 20 اگست 1085ء) عموماً  امام الحرمین کے خطاب سے مشہور و معروف ہیں۔ الجوینی پانچویں صدی ہجری یعنی گیارہویں صدی عیسوی کے متکلم، فقہ شافعیہ کے فقیہ اور الہٰہیات کے عالم تھے۔ 419ھ میں پیدا ہوئے اور 478ھ میں فوت ہوئے۔ الجوینی کی زندگی کا بیشتر حصہ خراسان، نیشاپور، حجاز میں بسر ہوا۔ الجوینی کی زندگی میں کئی سیاسی انقلابات آئے، آل بویہ کی حکومت قائم ہوئی اور مزید یہ کہ خلافت عباسیہ میں خود مختار ریاستیں اور سلطنتیں وجود میں آئیں۔ الجوینی مسجد الحرام اور مسجد نبوی میں درس و تدریس اور بحیثیت خطیبِ اعظم و محدث کے باعث امام الحرمین کہلائے۔ الجوینی کی وجہ شہرت اُن کی مشہور تصنیف الورقات ہے۔

نام و نسب[ترمیم]

امام الجوینی کا نام عبد الملک ہے۔ کنیت ابوالمعالی،  لقب الجُوَینی، خطاب امام الحرمین اور ضیاءُ الدین ہے۔ مکمل نسب یوں ہے : عبد الملک بن ابی محمد عبد اللہ بن یوسف بن عبد اللہ بن یوسف بن محمد بن حیویہ الجُوَینی النیشاپوری الشافعی۔[1] خطاب امام الحرمین کی بنا یوں پڑی کہ الجوینی تقریباً 4 سال تک مکہ مکرمہ میں مقیم رہے اور تدریس کا فریضہ انجام دیتے رہے اور کثرت تدریس کے سبب سے امام الحرمین کے خطاب سے مشہور ہوئے۔[2]

ولادت[ترمیم]

الجوینی کے سال ولادت میں مؤرخین کا اختلاف ہے۔[3] امام ذہبی (متوفی 748ھ)نے امام جوینی کا سنہ ولادت 419ھ لکھا ہے۔[1] مؤرخ ابن تغری بردی نے سال ولادت 417ھ لکھا ہے۔[4] علامہ ابن کثیر الدمشقی نے سال ولادت 419ھ لکھا ہے۔[2] امام یافعی نے تاریخ ولادت 12 محرم الحرام 419ھ لکھی ہے۔[5] امام ابن النجار بغدادی نے تاریخ ولادت 12 محرم الحرام 417ھ لکھی ہے۔[6]

متفقہ قول کے مطابق الجوینی کی ولادت بروز ہفتہ 18 محرم الحرام 419ھ/ 17 فروری 1028ء کو بُشتَنِقان، موضع جُوَین نزد نیشاپور، خراسان میں ہوئی۔[7] موضع جُوَین نیشاپور کے نواح میں واقع ہے [4] مؤرخ اسلام علامہ ابن کثیر الدمشقی نے لکھا ہے کہ: جُوَین نیشاپور کا ایک گاؤں ہے۔[2] اِسی نسبت سے الجوینی کو نیشاپوری بھی کہا جاتا ہے۔ موجودہ زمانہ میں یہ مقام ایران کے صوبہ خراسان رضوی میں واقع ہے۔ ابن خلکان نے لکھا ہے کہ الجوینی کی والدہ کنیز تھیں، شیخ ابو محمد نے اُس کنیر کو حکم دیا تھا کہ اِس بچہ کو تمہارے سواء کوئی دودھ نہ پلائے، اِتفاق سے ایک خاتون اِن کے گھر آئی اور اُس نے اِن کو ایک بار دودھ پلا دیا۔ شیخ ابومحمد نے آکر بچہ کو اٹھایا، اُسے الٹا کیا، شکم پر اپنا ہاتھ رکھا، اُس کے حلق میں اپنی انگلی ڈالی، وہ مسلسل لگے رہے یہاں تک کہ بچہ نے اُس خاتون کے دودھ قے کر دیا۔ الجوینی اکثر اپنی مجلس مناظرہ میں تھکاوٹ پاتے تو کہتے کہ یہ اُسی خاتون کے دودھ پلانے کے آثار ہیں۔

ابتدائی حالات و تحصیل علم[ترمیم]

الجوینی کا بچپن موضع جُوَین نزد نیشاپور میں گزرا۔ تقریباً کم عمری میں ہی وہ علم حدیث کی جانب مائل ہو گئے تھے۔ ابتدائی تعلیم اور فقہ اپنے والد ابومحمد عبد اللہ بن یوسف سے حاصل کیا۔439ھ/ 1047ء میں اپنے والد کی وفات کے بعد الجوینی اُن کی جگہ درس دینے لگے تھے۔[2] درس و تدریس کا یہ سلسلہ اُس وقت شروع ہوا جبکہ الجوینی ابھی 20 سال کے بھی نہ ہوئے تھے۔[7] اولاً الجوینی اپنے والد کی جگہ درس دیتے رہے، بعد ازاں وہ امام بیہقی کے مدرسہ میں درس دینے لگے۔[8] نیشاپور کے دیہی مقام بیہق میں قیام کے دوران میں شیخ الاصول والکلام امام ابوالقاسم عبد الجبار الاسفرائنی الاسکاف (متوفی 452ھ) سے علم الکلام سیکھا۔ نیشاپور فقہ شافعی کا مسکن بن چکا تھا اور یہاں کے ائمہ کرام و محدثین عظام فقہ شافعی کے ساتھ ساتھ اشعری عقیدہ علم الکلام سے خاصی دلچسپی رکھتے تھے۔ نیشاپور عقیدہ اُصول اشعری کے ائمہ کا مسکن تھا، یہی خوش قسمتی الجوینی کو میسر آئی۔ الجوینی قیام نیشاپور کے دوران میں کئی ائمہ اشعریہ سے ملاقات کرتے رہے۔ علم الکلام کے اِس دبستان کی بنیاد امام ابوالحسن الاشعری (متوفی 324ھ/ 935ء) نے رکھی تھی۔ دسویں صدی عیسوی میں اشعری عقیدہ علم الکلام اپنے عروج پر تھا۔ نیشاپور میں طغرل بیگ سلجوقی کے وزیر عمید الملک الکُنْدُرِی نے الجوینی کی کھلم کھلا مخالفت کرنا شروع کردی۔ وہ برملا اِس دبستان کو بدعت قرار دے کر منبروں پر ائمہ اشاعرہ کی مذمت کرنے لگا۔ سلجوقی سرپرستی میں کی جانے والی مخالفت کے سبب الجوینی نیشاپور سے ہجرت کر گئے۔[9] البتہ مؤرخین کے نزدیک یہ سوال اختلافی ہے کہ الجوینی کب نیشاپور سے ہجرت کرکے گئے؟۔[10] اِسی مخالفت کے سبب الجوینی کے استاد امام ابوالقاسم اسفرائنی الاسکاف بھی ہجرت کرکے بغداد چلے گئے۔[10] غالباً یہ ہجرت کا واقعہ 452ھ سے قبل کا ہوگا کیونکہ امام ابوالقاسم اسفرائنی الاسکاف کی وفات 452ھ میں بغداد میں ہوئی۔ سلجوقی وزیر السلطنت عمید الملک الکُنْدُرِی 445ھ/ 1054ء میں وزیر سلجوقی سلطنت بنا اور ذوالحجہ 456ھ/ نومبر 1064ء تک وزیر رہا۔ اس مدت میں الجوینی نیشاپور واپس نہیں آئے بلکہ وہ حجاز اور بلاد الشام میں مقیم رہے۔

اسفار علمی[ترمیم]

نیشاپور سے نکلنے کے بعد الجوینی المعسکر پہنچے اور پھر بغداد آئے۔ بغداد میں جلیل القدر علما اور فقہا سے تحصیل علم کرتے رہے۔ 450ھ کے اوائل میں حجاز پہنچے اور بروز منگل 9 ذوالحجہ 450ھ/ 26 جنوری 1059ء کو پہلا حج اداء کیا۔ اُس وقت الجوینی کی عمر 31 سال تھی۔[9][10] 450ھ سے قبل کسی دوسرے ادائیگی حج کی تفصیل نہیں ملتی۔ 450ھ سے 454ھ تک یعنی 1058ء سے 1062ء تک الجوینی مکہ مکرمہ میں مقیم رہے،[11] اِس دوران میں وہ مسجد الحرام اور مسجد نبوی میں درس و تدریس میں مشغول رہے۔ حرمین میں درس و تدریس کے سبب اعزازی لقب امام الحرمین زبان زدِ عام ہو گیا اور الجوینی امام الحرمین کے نام سے مشہور ہو گئے۔[10][11]

بحیثیتِ معلم[ترمیم]

الجوینی جب حجاز سے واپس نیشاپور آئے تو منبر و محراب اِن کے حوالے کر دیا گیا۔ خطابت، تدریس، مجلس جمعہ، مذاکرہ و مناظرہ بھی الجوینی کے سپرد کر دیا گیا۔[5] 30 سال تک بغیر کسی مخالفت کے نیشاپور میں مقیم رہے۔[2] تیس سال کے حوالے سے مشہور قول علامہ ابن کثیر الدمشقی کا ہے لیکن اگر تاریخی تسلسل دیکھا جائے تو نظام الملک طوسی کا عہدِ وزارت ذوالحجہ 456ھ/ نومبر 1064ء میں شروع ہوا۔ اگر اوائل 457ھ سے شمار کیا جائے تو الجوینی نیشاپور میں تقریباً 20 یا 21 سال تک مقیم رہے۔ 30 کا ہندسہ سہوِ کاتب معلوم ہوتا ہے۔ 30 سالوں کے مشہور قول کو ابن تغری بردی نے بھی نقل کیا ہے۔[4]

جب سلجوقی وزیر السلطنت نظام الملک طوسی نے نیشاپور میں بغداد کے مدرسہ نظامیہ کی طرز پر مدرسہ نظامیہ نیشاپور کی بنیاد رکھی تو اُس نے ائمہ اشاعرہ کی حمایت کی اور اُنہیں واپس وطن بلوا لیا۔ جو لوگ واپس نیشاپور آئے اُن میں الجوینی بھی تھے۔ الجوینی مدرسہ نظامیہ نیشاپور میں تا وقت وفات معلم کی حیثیت سے تعلیم دیتے رہے۔ دنیائے اسلام کی مشہور فلسفی شخصیت امام غزالی نے اِسی مدرسہ میں الجوینی سے تعلیم حاصل کی تھی۔[12] الجوینی بحیثیت معلم 457ھ/ 1064ء سے 478ھ/ 1085ء تک مدرسہ نظامیہ نیشاپور سے وابستہ رہے۔

وفات[ترمیم]

اوائل ماہِ ربیع الثانی 478ھ/ اوائل ماہِ اگست 1085ء میں الجوینی علیل ہو گئے۔ دوران میں علالت اپنے پیدائشی گاؤں جُوَین میں چلے گئے کہ شاید وہاں جانے سے صحت عود کر آئے مگر علالت سے صحت یاب نہ ہو سکے اور بروز بدھ 25 ربیع الثانی 478ھ/ 20 اگست 1085ء کی شب عشاء کے بعد جُوَین نزد نیشاپور میں وفات پائی۔[6][11] نمازِ جنارہ بیٹے ابوالقاسم نے پڑھائی۔[6] بوقتِ وفات عمر 59 سال 3 ماہ 8 دن قمری اور 57 سال 6 ماہ 3 دن شمسی تھی۔ الجوینی کی وفات کے سوگ میں بازار بند کردیے گئے، اِن کے شاگردوں نے اپنے قلم اور دواتیں توڑ ڈالیں۔ بوقتِ وفات الجوینی کے طلبہ کی تعداد 455 تھی جو اِن کی وفات کے غم میں ایک سال تک علمی اشتغال میں رکے رہے۔ الجوینی کی وفات پر کئی مرثیے بھی کہے گئے جن میں ایک مشہور شعر یہ ہے کہ:

قلوب العالمین علی المعالی و ایام الوریٰ شبہ اللیالی

ایثمرغصن اھل الفضل یوماً وقد مات الایام ابوالمعالی؟

مخلوقات کے دِل آگ پر ہیں اور مخلوق کی زندگی راتوں کی طرح ہے

کیا اہل علم کی شاخ پھل دے گی جبکہ امام ابو المعالی آج اِنتقال کر گئے ہیں؟[13][5]

ابن تغری بردی نے تاریخ وفات شبِ بدھ 25 ربیع الاول 478ھ بیان کی ہے[14] مگر یہ درست نہیں کیونکہ 478ھ میں 25 ربیع الاول بدھ کو نہیں بلکہ اتوار کے روز تھی۔ درست 25 ربیع الثانی ہی ہے۔

تصانیف[ترمیم]

فقہ پر:

  • نهاية المطلب في دراية المذهب
  • مختصر النهاية۔
  • مختصر التقريب۔
  • الرسالة النظامية في الأركان الإسلامية۔

اصول فقہ پر:

  • البرهان۔
  • الورقات في أصول الفقہ۔
  • الغنية۔
  • التحفة۔
  • التلخيص۔

دیگر:

  • العمد۔
  • الدرة المضية فيما وقع من الخلاف بين الشافعية والحنفية۔
  • الكافية في الجدل
  • الأساليب في الخلاف۔

علم کلام پر:

  • الشامل في أصول الدين۔
  • الإرشاد إلى قواطع الأدلة في أصول الاعتقاد۔
  • لمع الأدلة في قواعد عقائد أهل السنة والجماعة۔
  • العقيدة النظامية في الأركان الإسلامية۔
  • شفاء العليل في بيان ما وقع في التوراة والإنجيل من التبديل۔
  • قصيدة على غرار قصيدة ابن سینا في النفس۔

اسلامی سیاست پر:

  • غياث الأمم في التياث الظلم۔

حوالہ جات[ترمیم]

  1. ^ ا ب حافظ شمس الدین الذہبی: سیر اعلام النبلا، جلد 18، ص 468،  الرقم الترجمہ 240۔ مطبوعہ دارالکتب العلمیہ، بیروت، لبنان۔ 1401ھ۔
  2. ^ ا ب پ ت ٹ ابن کثیر الدمشقی:  البدایہ والنہایہ، جلد 6، ص 494۔ مطبوعہ کراچی، 2008ء۔
  3. الدکتور محمد الزحیلی:  الامام الجُوَینی الامام الحرمین، ص 44۔  مطبوعہ دارالقلم، دمشق، شام۔ 1406ھ۔
  4. ^ ا ب پ ابن تغری بردی:  النجوم الزاھرہ فی ملوک مصر والقاہرہ،  جلد 5، ص 119، تحت سنۃ 478ھ۔ مطبوعہ 1413ھ۔
  5. ^ ا ب پ الیافعی الیمنی:  مرآۃ الجنان، جلد 3، ص 99۔ مطبوعہ دارالکتب العلمیہ، بیروت، لبنان۔ 1411ھ۔
  6. ^ ا ب پ ابن النجار بغدادی: ذیل تاریخ بغداد، جلد 1، ص 93۔ مطبوعہ دارالکتب العربی، بیروت، لبنان۔ 1422ھ، 2001ء۔
  7. ^ ا ب دائرۃ المعارف الاسلامیہ: جلد 7، ص 540۔ مطبوعہ لاہور 1391ھ/ 1971ء
  8. حافظ شمس الدین الذہبی: سیر اعلام النبلا، جلد 18، ص 469،  الرقم الترجمہ 240۔ مطبوعہ دارالکتب العلمیہ، بیروت، لبنان۔ 1401ھ۔
  9. ^ ا ب حافظ شمس الدین الذہبی: سیر اعلام النبلا، جلد 18، ص 469/470،  الرقم الترجمہ 240۔ مطبوعہ دارالکتب العلمیہ، بیروت، لبنان۔ 1401ھ۔
  10. ^ ا ب پ ت دائرۃ المعارف الاسلامیہ: جلد 7، ص 541۔ مطبوعہ لاہور 1391ھ/ 1971ء
  11. ^ ا ب پ حافظ شمس الدین الذہبی:  العبر فی خبر من غبر،  جلد 2، ص 339، تذکرہ تحت سنۃ 478ھ۔ مطبوعہ دارالکتب العلمیہ، بیروت، لبنان۔ 1405ھ۔
  12. دائرۃ المعارف الاسلامیہ: جلد 7، ص 541۔ مطبوعہ لاہور 1391ھ/ 1971ء۔
  13. ابن کثیر الدمشقی:  البدایہ والنہایہ، جلد 6، ص 495۔ مطبوعہ کراچی، 2008ء۔
  14. ابن تغری بردی:  النجوم الزاھرہ فی ملوک مصر والقاہرہ،  جلد 5، ص 120، تحت سنۃ 478ھ۔ مطبوعہ 1413ھ۔