غزالی
| حجۃ الاسلام امام محمد بن محمد بن محمد الغزالی | |
|---|---|
| (عربی میں: أبو حامد محمد بن محمد الغزالي) | |
حجۃ الاسلام امام غزالی | |
| معلومات شخصیت | |
| پیدائش | سنہ 1058ء [1][2] طوس [3][4] |
| وفات | 14 جمادی الثانی 505ھ / 19 دسمبر 1111ء (عمر: 55 سال قمری، 53 سال شمسی) طوس [3] |
| مدفن | مشہد |
| رہائش | نیشاپور بغداد دمشق یروشلم |
| شہریت | |
| نسل | ایرانی |
| مذہب | اسلام |
| فرقہ | سنی اشعری |
| فقہی مسلک | شافعی |
| بہن/بھائی | |
| عملی زندگی | |
| استاذ | امام الحرمین جوینی [3]، ابو علی فارمدی [4] |
| تلمیذ خاص | ابو بکر ابن العربی |
| پیشہ | فلسفی [5]، متکلم ، آپ بیتی نگار ، شاعر [6]، فقیہ ، صحافی [7][8]، صوفی [5]، الٰہیات دان [5] |
| پیشہ ورانہ زبان | فارسی [3]، عربی [2][9][10] |
| شعبۂ عمل | اسلامی فلسفہ ، تصوف ، علم کلام ، اخلاق اسلامی |
| ملازمت | مدرسہ نظامیہ (بغداد) |
| کارہائے نمایاں | کیمیائے سعادت ، تہافت الفلاسفہ ، احيا علوم الدين ، اقتصاد فی الاعتقاد ، المستصفی من علم الاصول |
| مؤثر | ابن ادریس شافعی، جوینی، ابو طالب مکی، جنید بغدادی، حارث محاسبی، بایزید بسطامی |
| درستی - ترمیم | |
ابو حامد محمد بن محمد غزالی طوسی شافعی (450ھ – 505ھ / 1058ء – 1111ء) پانچویں صدی ہجری کے ممتاز ترین علما میں سے ایک اور اپنے زمانے کے عظیم ترین مسلم مفکرین میں شمار ہوتے ہیں۔ ،[11] وہ ایک جلیل القدر فقیہ ، اصولی ، فلسفی اور صوفی تھے۔ فقہ میں ان کا تعلق شافعی مذہب سے تھا اور اپنے زمانے کے آخری دور میں شافعیہ میں ان جیسا کوئی نہیں تھا۔ عقیدہ کے اعتبار سے وہ اشعری مکتبِ فکر کے پیرو تھے اور علمِ کلام میں اشعری مدرسے کے نمایاں ستونوں میں شمار کیے جاتے ہیں۔ انھیں ابو الحسن اشعری کے بعد اشعری مکتب کے تین بڑے اصولی ائمہ میں شمار کیا جاتا ہے، جن میں الباقلانی ، امام الحرمین جوینی اور امام غزالی شامل ہیں۔[12][13] امام غزالی کو اپنی زندگی میں متعدد القابات سے نوازا گیا، جن میں سب سے مشہور لقب “حجۃ الاسلام” ہے۔ اس کے علاوہ انھیں زین الدین، محجۃ الدین، العالم الاوحد، مفتی الامۃ، برکۃ الانام، امام ائمۃ الدین اور شرف الائمہ جیسے القابات بھی دیے گئے۔ .[14]
امام ابو حامد غزالی کا اثر متعدد علوم پر نہایت گہرا اور نمایاں تھا، جن میں فلسفہ ، فقہِ شافعی ، علمِ کلام ، تصوف اور منطق شامل ہیں۔ انھوں نے ان تمام میدانوں میں متعدد اہم کتب تصنیف کیں۔ آپ کی ولادت اور پرورش طوس میں ہوئی، پھر آپ علم کے حصول کے لیے نیشاپور گئے، جہاں آپ نے امام الحرمین جوینی (امام الحرمین) کی شاگردی اختیار کی اور ان سے اکثر علوم حاصل کیے۔ [15] جب آپ کی عمر 34 برس ہوئی تو آپ بغداد تشریف لے گئے، جہاں سلجوقی وزیر نظام الملک طوسی کی درخواست پر عباسی دور میں مدرسہ نظامیہ میں تدریس سنبھالی۔ اس دور میں آپ کو غیر معمولی شہرت حاصل ہوئی اور مختلف علاقوں سے طلبہ علم آپ کے درس میں شریک ہونے لگے، یہاں تک کہ ایک وقت میں چار سو سے زائد ممتاز علما و فضلاء آپ کے حلقۂ درس میں حاضر ہوتے، آپ سے علم سنتے اور اسے قلم بند کرتے تھے۔ چار سال تدریس کے بعد آپ نے گوشہ نشینی اختیار کرنے کا فیصلہ کیا اور عبادت و تزکیۂ نفس کی طرف متوجہ ہو گئے۔ اس تبدیلی میں تصوف اور صوفیانہ لٹریچر کا خاص اثر تھا۔ چنانچہ آپ خاموشی سے بغداد سے نکل گئے اور تقریباً گیارہ سال پر مشتمل ایک طویل سفر اختیار کیا، جس دوران آپ دمشق ، القدس ، الخليل ، مكة المكرمہ اور مدینہ منورہ میں مقیم رہے۔ [16] اسی عرصے میں آپ نے اپنی مشہور تصنیف احیاء علوم الدین لکھی، جو آپ کے روحانی تجربات اور فکری ارتقا کا نچوڑ ہے۔ بعد ازاں آپ اپنے آبائی شہر طوس واپس آئے، جہاں اپنے گھر کے قریب فقہا کے لیے ایک مدرسہ اور صوفیہ کے لیے ایک خانقاہ قائم کی۔
نسب
[ترمیم]امام ابو حامد غزالی کا مکمل نام ابو حامد محمد بن محمد بن محمد بن احمد غزالی طوسی نیشاپوری ہے۔ آپ کی کنیت ابو حامد ایک ایسے بیٹے کی نسبت سے ہے جو کم عمری میں وفات پا گیا تھا۔ [15] آپ کو “غزالی” کہا جاتا ہے، جس کی نسبت کے بارے میں دو آراء ملتی ہیں: ایک یہ کہ یہ لفظ “غَزّال” (اون کاتنے والے) سے ماخوذ ہے، کیونکہ آپ کے والد اسی پیشے سے وابستہ تھے۔ دوسری رائے یہ ہے کہ “الغَزالی” (ز پر تخفیف کے ساتھ) طوس کے قریب واقع ایک گاؤں غزالہ کی طرف نسبت ہے۔ خود امام غزالی نے فرمایا: “لوگ مجھے الغزّالی کہتے ہیں، حالانکہ میں الغزالی (غزالہ گاؤں کی طرف منسوب) ہوں۔” [17]
| جزء من سلسلہ مقالات حول |
| ابو حامد الغزالی |
|---|
تاہم ابن خلكان کے نزدیک “الغزّالی” (ز پر تشدید کے ساتھ) ہی زیادہ مشہور اور درست نسبت ہے، جبکہ ياقوت الحموی نے یہ ذکر کیا ہے کہ انھوں نے طوس میں “غزالہ” نامی کسی بستی کا ذکر نہیں سنا، جس سے پہلی رائے کو تقویت ملتی ہے۔ اسی طرح آپ کو “الطوسی” بھی کہا جاتا ہے، جو طوس کی طرف نسبت ہے، یہ خراسان کا ایک معروف شہر تھا جو آج کل مشہد کے نام سے جانا جاتا ہے۔ [18] جہاں تک آپ کے نسبی اصل کا تعلق ہے، اس بارے میں محققین کے درمیان اختلاف ہے: بعض کے نزدیک آپ عرب النسل تھے جو اسلامی فتوحات کے بعد فارس میں آباد ہوئے، جبکہ دیگر کے نزدیک آپ خالصتاً فارسی النسل تھے۔ [19]
ولادت اور ابتدائی زندگی
[ترمیم]امام ابو حامد غزالی کی پیدائش 450ھ (1058ء) میں طوس کے قصبہ طابران میں ہوئی، جو طوس کے دو حصوں میں سے ایک تھا۔ بعض اقوال کے مطابق آپ کی ولادت 451ھ (1059ء) میں بھی بیان کی جاتی ہے۔ [20]آپ کا خاندان معاشی اعتبار سے کمزور تھا۔ آپ کے والد طوس میں اون کاتنے اور فروخت کرنے کا کام کرتے تھے۔ ان کے دو ہی بیٹے تھے: ابو حامد (امام غزالی) اور ان کے چھوٹے بھائی احمد غزالی۔ آپ کے والد صوفیانہ مزاج رکھتے تھے، حلال روزی کماتے، فقہاء کی مجالس میں شریک ہوتے، ان کی خدمت کرتے اور حسبِ استطاعت ان پر خرچ بھی کرتے تھے۔ وہ کثرت سے دعا کیا کرتے تھے کہ اللہ انھیں ایسا بیٹا عطا کرے جو فقیہ بنے، چنانچہ ان کی یہ دعا امام غزالی کی صورت میں پوری ہوئی، جبکہ ان کے بھائی احمد بھی ایک مؤثر واعظ بنے۔
جب ان کے والد کا انتقال قریب آیا تو انھوں نے اپنے دونوں بیٹوں کو ایک صوفی دوست کے سپرد کرتے ہوئے کہا: “مجھے علم حاصل نہ کرنے کا بہت افسوس ہے، میں چاہتا ہوں کہ میرے بیٹوں کو تعلیم دی جائے، اس مقصد کے لیے میرا سارا ترکہ ان پر خرچ کر دینا۔” والد کے انتقال کے بعد اس صوفی نے دونوں بھائیوں کی تعلیم کا انتظام کیا، یہاں تک کہ ان کے لیے چھوڑا گیا مال ختم ہو گیا۔ پھر اس نے ان سے کہا:[21] .[22] “میں خود فقیر ہوں اور مزید خرچ نہیں کر سکتا، بہتر یہی ہے کہ تم کسی مدرسے میں داخل ہو جاؤ تاکہ تمھیں طلبہ کی طرح وظیفہ ملے اور تم اپنی ضروریات پوری کر سکو۔” چنانچہ دونوں بھائیوں نے ایسا ہی کیا اور یہی ان کی علمی ترقی کا سبب بنا۔ امام غزالی خود اس واقعے کو بیان کرتے ہوئے کہتے تھے: “ہم نے علم اللہ کے سوا کسی اور مقصد کے لیے حاصل کرنا شروع کیا، مگر اس نے انکار کر دیا کہ وہ اللہ ہی کے لیے نہ ہو جائے۔”[22]
| ابو الحسن اشعری |
| اشعریہ |
|---|
| ابو الحسن اشعری |
تعلیم
[ترمیم]امام ابو حامد غزالی نے کم عمری ہی میں علم حاصل کرنا شروع کر دیا۔ سن 465ھ میں انھوں نے طوس میں شیخ احمد راذکانی سے فقہ کی تعلیم حاصل کی۔[23] اس کے بعد وہ مزید علم کے لیے جرجان گئے، جہاں انھوں نے شیخ اسماعیلی سے کسبِ علم کیا شیخ اسماعیلی کی تعیین میں اختلاف پایا جاتا ہے: تاج الدین سبکی کے مطابق وہ ابو نصر اسماعیلی تھے، جبکہ محقق فرید جبر کے نزدیک وہ اسماعیل بن سعدہ اسماعیلی تھے، نہ کہ ابو نصر، کیونکہ ابو نصر اسماعیلی کا انتقال 428ھ میں ہو چکا تھا، جو امام غزالی کی پیدائش سے پہلے کا زمانہ ہے۔ [23] اس دور میں امام غزالی اپنے اسباق کو لکھ لیا کرتے تھے (جسے “تعلیقہ” کہا جاتا ہے)، یعنی وہ علوم کو قلم بند کرتے مگر مکمل طور پر حفظ نہیں کرتے تھے۔ جرجان سے واپسی کے سفر میں ایک اہم واقعہ پیش آیا: راستے میں ڈاکوؤں نے قافلے پر حملہ کر کے ان کا تمام سامان چھین لیا۔ امام غزالی خود اس واقعے کو بیان کرتے ہوئے کہتے ہیں: “ڈاکوؤں نے ہمارا راستہ روک لیا اور میرا تمام سامان لے گئے۔ میں ان کے پیچھے گیا، تو ان کے سردار نے کہا: واپس لوٹ جاؤ، ورنہ ہلاک ہو جاؤ گے! میں نے کہا: میں تمھیں اس ذات کی قسم دیتا ہوں جس سے تم سلامتی کی امید رکھتے ہو کہ میری تعلیقہ مجھے واپس دے دو، وہ تمھارے کسی کام کی نہیں۔ اس نے پوچھا: تمھاری تعلیقہ کیا ہے؟ میں نے کہا: اس تھیلے میں وہ تحریریں ہیں جن کے لیے میں نے سفر کیا، تاکہ انھیں سنوں، لکھوں اور ان کا علم حاصل کروں۔ وہ ہنس پڑا اور بولا: تم کیسے دعویٰ کرتے ہو کہ تم نے علم حاصل کر لیا، جبکہ ہم نے وہ تم سے لے لیا اور تم علم سے خالی ہو گئے؟ پھر اس نے اپنے ایک ساتھی کو حکم دیا اور میرا تھیلا مجھے واپس کر دیا۔” اس واقعے نے امام غزالی پر گہرا اثر ڈالا۔ اس کے بعد انھوں نے فیصلہ کیا کہ صرف لکھنے پر اکتفا نہیں کریں گے بلکہ علم کو یاد بھی کریں گے۔ چنانچہ وہ اپنی تحریروں (تعلیقات) کی طرف متوجہ ہوئے اور تقریباً تین سال (470ھ تا 473ھ) تک محنت کر کے انھیں حفظ کر لیا۔ [24]
پھر سن 473ھ میں امام ابو حامد غزالی نیشاپور تشریف لے گئے، جہاں انھوں نے امام الحرمین جوینی کی شاگردی اختیار کی، جو اپنے زمانے میں شافعیہ کے امام اور مدرسہ نظامیہ کے سربراہ تھے۔ امام غزالی نے ان سے مختلف علوم حاصل کیے، جن میں فقہِ شافعی، فقہِ اختلاف، اصولِ فقہ، علمِ کلام، منطق اور فلسفہ شامل ہیں۔ انھوں نے نہایت محنت اور لگن کے ساتھ ان علوم میں مہارت حاصل کی، یہاں تک کہ ان میں کامل دسترس حاصل کر لی۔ ان کے استاد امام الحرمین جوینی ان سے بے حد متاثر تھے، یہاں تک کہ انھوں نے انھیں “بحرِ بے کراں” (علم کا سمندر) قرار دیا۔ [24]وہ ان پر فخر کرتے تھے اور انھیں تدریس میں اپنا معاون بھی بنا لیا تھا۔ جب امام غزالی نے اپنی مشہور کتاب “المنخول فی علم الاصول ” تصنیف کی تو امام الحرمین جوینی نے فرمایا: “تم نے مجھے میری زندگی ہی میں دفن کر دیا، کیا تم میرے مرنے تک انتظار نہ کر سکتے تھے؟” [25] .[26]
تدریس اور علمی سفر
[ترمیم]جب امام الحرمین جوینی کی وفات 478ھ (1085ء) میں ہوئی تو ابو حامد غزالی نیشاپور کے “عسکر” (عسکرِ نیشاپور) کی طرف روانہ ہوئے، جہاں اس وقت سلجوقی وزیر نظام الملک طوسی کا علمی مجلس منعقد ہوتا تھا۔ اس مجلس میں بڑے بڑے علما شریک ہوتے تھے اور ابو حامد غزالی نے وہاں ممتاز علما سے مناظرے کیے اور ان پر علمی برتری حاصل کی۔ اہلِ علم نے ان کے علم و فضل کا اعتراف کیا اور انھیں عزت و تکریم کے ساتھ قبول کیا۔[24] ننظام الملک طوسی خود بھی علمی ذوق رکھتے تھے اور وہ اپنے دور کے بڑے سرپرستِ علم و مدارس تھے۔ انھوں نے شافعی فقہ اور اشعری عقیدے کے فروغ میں اہم کردار ادا کیا، خصوصاً نظامیہ مدارس کے قیام کے ذریعے۔ بعد ازاں ابو حامد غزالی نے نظام الملک طوسی کی دعوت پر بغداد کی مشہور مدرسہ نظامیہ میں تدریس قبول کی۔ یہ واقعہ جمادی الاول 484ھ (1091ء) کا ہے، اس وقت ان کی عمر تقریباً 34 سال تھی۔ [27]
الغزالی بغداد میں
[ترمیم]ابو حامد الغزالی جمادی الاول 484ھ میں بغداد پہنچے، اُس وقت عباسی خلیفہ المقتدی بامر اللہ کی حکومت تھی۔ وہاں انھوں نے مشہور مدرسہ نظامیہ میں تدریس شروع کی اور اپنے فصیح بیان، عمدہ اسلوب اور بہترین اخلاق کی وجہ سے جلد ہی عوام و خواص میں مقبول ہو گئے۔ ،[28] انھوں نے تقریباً چار سال تک تدریس، فتویٰ اور تصنیف کا سلسلہ جاری رکھا۔ اس دوران ان کی شہرت بہت بڑھ گئی اور دور دور سے طلبہ علم حاصل کرنے کے لیے آنے لگے۔ اسی زمانے میں انھیں علمی مقام کی وجہ سے “امام” کا لقب دیا گیا، جبکہ وزیر نظام الملک طوسی نے انھیں “زين الدين” اور “شرف الائمہ” جیسے القابات سے نوازا۔ ابو حامد الغزالی کے دروس میں فقہ، علم کلام اور اصولِ فقہ کے سینکڑوں طلبہ شریک ہوتے تھے۔ بعض روایات کے مطابق ان کے حلقۂ درس میں 300 سے زائد طلبہ موجود ہوتے تھے۔ اس دور میں بڑے بڑے علما بھی ان کے دروس میں شریک ہوتے تھے، جن میں ابن عقيل ، ابو الخطاب کلوذانی اور ابو بكر بن العربی شامل تھے۔ ابو بكر بن العربی نے کہا: “میں نے بغداد میں الغزالی کو دیکھا کہ ان کے درس میں چار سو عمامے دار اہلِ علم اور فضلاء ان سے علم حاصل کر رہے تھے۔” [29] [30]
ابو حامد الغزالی نے تدریس کے ساتھ ساتھ علمی تحقیق، مناظرے اور مخالف فکری مکاتبِ فکر پر ردّ و نقد میں بھی بھرپور حصہ لیا۔ وہ مدرسہ نظامیہ میں تدریس کے دوران مختلف فکری و فلسفیانہ رجحانات کا گہرا مطالعہ کرتے رہے۔ ابتدا میں انھوں نے یونانی فلسفے اور فلاسفہ کے نظریات کو سمجھنے کے لیے “مقاصد الفلاسفہ” تصنیف کی، جس میں انھوں نے فلاسفہ کے منہج اور ان کے بنیادی نظریات کو وضاحت سے بیان کیا۔ اس کے بعد انھوں نے اسی فلسفیانہ فکر پر تنقید کرتے ہوئے اپنی مشہور کتاب “تہافت الفلاسفہ” لکھی، جس میں انھوں نے فلسفیانہ نظام کے کئی بنیادی اصولوں پر اعتراضات پیش کیے اور ان کے استدلال کو کمزور ثابت کرنے کی کوشش کی۔ [16] اسی دور میں انھوں نے اسماعیلیہ (باطنی فرقہ) کے نظریات پر بھی علمی نقد کیا، کیونکہ اُس وقت یہ گروہ فکری اور سیاسی طور پر خاصی قوت حاصل کر چکا تھا۔ ان حالات میں نظام الملک طوسی کے قتل (485ھ) اور سیاسی کشمکش کے بعد عباسی خلافت کے نئے خلیفہ المستظہر باللہ نے ابو حامد الغزالی سے باطنیہ کے رد کی درخواست کی۔ اس پر انھوں نے اسماعیلیہ کے رد میں متعدد اہم کتب تصنیف کیں، جن میں: “فضائح الباطنيہ” “حجة الحق” “قواصم الباطنيہ” یہ تصانیف اس دور میں باطنی فکر کے علمی اور فکری ردّ کے حوالے سے بنیادی ماخذ سمجھی جاتی ہیں۔[31] ،[32]
رحلۂ غزالی
[ترمیم]
ابو حامد غزالی نے جب فلسفہ اور باطنیہ کے علوم میں گہرا مطالعہ کیا تو اس کے بعد انھوں نے تصوف کے علوم کی طرف توجہ کی اور صوفیہ کی صحبت اختیار کی۔ اس دوران انھوں نے شیخ فضل بن محمد فارمذی کی صحبت اختیار کی، جو نیشاپور میں صوفیہ کے معروف شیخ تھے اور ابو قاسم قشيری کے شاگردوں میں سے تھے۔ اس صحبت اور مطالعے کے نتیجے میں ابو حامد غزالی کو اپنی حالت پر غور و فکر کا موقع ملا۔ انھیں احساس ہوا کہ وہ اخلاصِ نیت سے دور ہیں اور ان کا علم و تدریس بعض دنیوی خواہشات، جیسے شہرت اور مقام، سے متاثر ہو رہا ہے۔ انھیں یہ بھی محسوس ہوا کہ مدرسہ نظامیہ میں ان کی مصروفیات انھیں آخرت کی حقیقی راہ سے ہٹا رہی ہیں۔ انھوں نے اپنی کیفیت یوں بیان کی:[33]
میں نے اپنے حالات پر غور کیا تو دیکھا کہ میں دنیاوی تعلقات میں گھرا ہوا ہوں۔ میری بہترین مصروفیت تدریس و تعلیم ہے، لیکن اس میں بھی میں غیر ضروری علوم کی طرف متوجہ ہوں جو آخرت کے راستے میں فائدہ مند نہیں۔ پھر میں نے اپنی نیت پر غور کیا تو معلوم ہوا کہ وہ خالص اللہ کے لیے نہیں بلکہ شہرت اور مقام کی طلب اس کا محرک ہے۔ میں نے سمجھ لیا کہ میں خطرناک کنارے پر کھڑا ہوں، اگر اصلاح نہ کی تو ہلاکت یقینی ہے۔ پھر میں چھ ماہ تک دنیا اور آخرت کی کشمکش میں مبتلا رہا، یہاں تک کہ رجب 488ھ میں میرا حال اس حد تک پہنچ گیا کہ میں تدریس پر قادر نہ رہا۔ حتیٰ کہ میں ایک دن بھی زبان سے درس دینے پر قادر نہیں تھا، اگرچہ میں کوشش کرتا تھا۔ آخرکار میں نے اللہ کی طرف مکمل رجوع کیا اور دنیاوی وابستگیوں سے دل ہٹا لیا۔
ابو حامد الغزالی نے بغداد سے ذی القعدہ 488ھ میں خروج کیا۔ انھوں نے مدرسہ نظامیہ کی تدریس اپنے بھائی احمد غزالی کے سپرد کی۔ وہ بظاہر حج کے ارادے سے نکلے تاکہ خلیفہ کو یہ محسوس ہو کہ وہ مکہ جا رہے ہیں، لیکن اصل میں ان کا رخ شام کی طرف تھا۔ اسی طرح وہ دمشق پہنچے اور تقریباً دو سال وہاں مقیم رہے۔ اس دوران ان کا زیادہ وقت خلوت، عبادت، مجاہدہ اور نفس کی اصلاح میں گزرتا تھا۔ وہ دمشق کی جامع مسجد میں اعتکاف کرتے، منارہ مسجد پر طویل وقت گزارتے اور تنہائی اختیار کرتے۔ وہ اکثر جامع اموی میں نصر مقدسی کے حلقۂ عبادت و ذکر میں بیٹھتے تھے اور یہی مقام بعد میں “زاویہ غزالیہ” کے نام سے مشہور ہوا۔ بعد ازاں وہ القدس گئے اور مسجد اقصى اور قبة الصخرة میں اعتکاف کیا۔ پھر وہ الخليل تشریف لے گئے۔[34] اس کے بعد وہ مکہ اور مدینہ منورہ گئے اور حج ادا کیا۔ یوں ان کا یہ روحانی سفر تقریباً 11 سال پر محیط رہا، جس میں انھوں نے اپنی مشہور کتاب احياء علوم الدين تصنیف کی۔ اس کے بعد ان کی زندگی کا رجحان مکمل طور پر تصوف اور تزکیۂ نفس کی طرف مائل ہو گیا۔ [24]
ابو حامد الغزالی کے بارے میں تاج الدین سبکی اور ابن الجوزی سمیت دیگر مؤرخین کے مطابق ان کے سفر کی ترتیب کچھ اس طرح بیان کی جاتی ہے:سب سے پہلے وہ 488ھ میں بغداد سے حج کے ارادے سے روانہ ہوئے۔ حج کے بعد وہ دمشق آئے اور 489ھ میں وہاں داخل ہوئے، جہاں وہ کچھ عرصہ مقیم رہے۔ اس کے بعد وہ القدس کی طرف گئے اور وہاں اعتکاف و مجاورت اختیار کی۔ بعد ازاں وہ دوبارہ دمشق واپس آئے اور جامع اموی میں خلوت و عبادت میں مشغول رہے۔ پھر وہ اسكندريہ (مصر) کی طرف بھی گئے۔ ان کے بارے میں مزید ذکر ملتا ہے کہ وہ مختلف شہروں میں مسلسل سفر کرتے رہے، مقدس مقامات کی زیارت کرتے، مساجد میں عبادت کرتے اور روحانی مشاہدات میں مشغول رہتے رہے، یہاں تک کہ بالآخر وہ دوبارہ بغداد واپس آئے اور وہاں تدریس کا سلسلہ شروع کیا۔[24][26]
طوس کی طرف واپسی
[ترمیم]تقریباً 11 سالہ خلوت اور سفر کے بعد ابو حامد غزالی نے بغداد واپس جانے کا ارادہ کیا، چنانچہ وہ ذی القعدہ 499ھ میں بغداد پہنچے۔،[34] تاہم وہ وہاں زیادہ عرصہ نہ رہے اور اپنی سفر کی تکمیل کرتے ہوئے نیشاپور اور پھر اپنے آبائی شہر طوس لوٹ آئے۔ وہاں انھوں نے وزیر فخر الملک کے اصرار پر نیشاپور کی نظامیہ میں تدریس قبول کی، اگرچہ وہ اس پر آمادہ نہ تھے۔ انھوں نے کچھ عرصہ تدریس کی، لیکن جلد ہی فخر الملک باطنیوں کے ہاتھوں قتل ہو گئے، جس کے بعد ابو حامد غزالی نے تدریس ترک کر دی اور دوبارہ طوس کے علاقے طابران میں سکونت اختیار کر لی۔
یہاں انھوں نے اپنے گھر کے قریب ایک مدرسہ قائم کیا جہاں فقہا کو تعلیم دی جاتی تھی اور ایک خانقاہ بھی بنائی جہاں صوفیہ کے لیے عبادت اور خلوت کا انتظام تھا۔ انھوں نے اپنی زندگی کو عبادات، تدریس اور روحانی مشاغل میں تقسیم کر دیا، جیسے قرآن ختم کرنا، صوفیہ کی صحبت، طلبہ کو تعلیم دینا اور نماز و روزہ کی کثرت۔ اسی دوران انھوں نے صحيح بخاری اور صحيح مسلم کی قراءت و تصحیح بھی کی، جس میں ان کے استاد عمر بن عبد الكريم بن سعدويہ رواسی کا کردار تھا۔ ان کی زندگی میں دنیا سے زہد کی ایک نمایاں تبدیلی دیکھی گئی۔ ایک روایت کے مطابق أبو منصور الرزاز کہتے ہیں: “جب الغزالی پہلی بار بغداد آئے تو ان کے لباس اور سواری کی قیمت پانچ سو دینار لگائی گئی، لیکن جب وہ زہد اختیار کر کے واپس آئے تو ان کے لباس کی قیمت صرف پندرہ قیراط رہ گئی۔”[35] اسی طرح ایک وزیر نوشیروان ان سے ملنے آئے تو ابو حامد غزالی نے فرمایا: “تمھارا وقت قیمتی ہے اور تم گویا ایک اجرت پر ہو، اس لیے تمھارا اپنے وقت کو بہتر کام میں صرف کرنا میری ملاقات سے زیادہ مناسب ہے۔” یہ سن کر وہ واپس گئے اور کہا: “لا إله إلا الله! یہ وہی شخص ہے جو اپنی جوانی میں مجھ سے القابات میں اضافہ چاہتا تھا اور سونا و ریشم پہنتا تھا۔”[26]
وفات
[ترمیم]ابو حامد غزالی جب طوس واپس آئے تو چند سال وہیں مقیم رہے، پھر پیر کے دن 14 جمادی الآخر 505ھ (مطابق 19 دسمبر 1111ء) کو الطابران (شہر طوس) میں وفات پا گئے۔ ان کے ہاں صرف بیٹیاں تھیں، کوئی بیٹا باقی نہ رہا۔[20] ان کی وفات کے وقت کے حالات کو ابن جوزی نے اپنی کتاب الثبات عند الممات میں ان کے بھائی احمد غزالی کے حوالے سے نقل کیا ہے کہ: “پیر کی صبح میرے بھائی ابو حامد نے وضو کیا اور نماز ادا کی، پھر کہا: ‘میرا کفن لاؤ’۔ انھوں نے اسے لیا، بوسہ دیا، آنکھوں پر رکھا اور کہا: ‘بادشاہ (اللہ) کے حضور حاضر ہونے کے لیے سمعاً و طاعتاً’۔ پھر قبلہ رخ لیٹ گئے اور طلوعِ فجر سے پہلے وفات پا گئے۔” وفات سے کچھ پہلے ان کے بعض ساتھیوں نے ان سے وصیت کی درخواست کی تو ابو حامد غزالی نے فرمایا: “تم پر اخلاص لازم ہے”[36] اور اسی نصیحت کو دہراتے رہے یہاں تک کہ ان کا انتقال ہو گیا۔[26]
ابو حامد غزالی کے مزار کے تعین کے بارے میں مختلف آراء پائی جاتی ہیں۔ تاج الدين سبكی کے مطابق، امام غزالی کو طابران کے قبرستان میں دفن کیا گیا اور ان کی قبر وہاں معروف اور زیارت گاہ تھی۔ تاہم موجودہ دور میں ان کی کوئی یقینی اور واضح قبر معلوم نہیں۔ ،[37] حال ہی میں طوس (إيران، مشہد کے قریب) میں ایک مقام دریافت کیا گیا ہے جسے ان کا مزار سمجھا جاتا ہے اور رجب طيب اردوغان نے 2009ء میں ایران کے دورے کے دوران اس کی ازسرِ نو تعمیر کا حکم دیا۔ دوسری طرف فاضل البرزنجي نے دعویٰ کیا کہ امام غزالی کی قبر بغداد میں ہے، لیکن الوقف السنی فی العراق اور جامعہ بغداد کے مؤرخ حميد مجيد هدو اس بات کی تردید کرتے ہیں اور اس بات پر زور دیتے ہیں کہ ان کی قبر طوس ہی میں ہے۔ [38][39] ان کے مطابق بغداد میں جس قبر کو غزالی سے منسوب کیا جاتا ہے، وہ دراصل ایک دوسرے صوفی کی ہے جو “الغزالی” کے لقب سے معروف تھا اور کتاب كشف الصدا وغسل الرام کا مصنف تھا۔ وہ تقریباً تین صدی قبل بغداد آیا تھا اور بعد میں لوگوں میں یہ غلط فہمی پھیل گئی کہ یہی امام غزالی کی قبر ہے۔ اس طرح بغداد میں ان کی تدفین کا قول ایک عام مگر بے بنیاد روایت قرار دیا جاتا ہے۔ [40]
اس کے بعد ابو مظفر ابيوردی نے امام غزالی کے انتقال پر مرثیہ کہا۔ [41]
| بَكَى على حجَّة الْإِسْلَام حِين ثوى | من كل حَيّ عَظِيم الْقدر أشرفه | |
| فَمَا لمن يمتري فِي الله عبرته | على أبي حَامِد لَاحَ يعنفه | |
| تِلْكَ الرزية تستوهي قوي جلدي | فالطرف تسهره والدمع تنزفه | |
| فَمَاله خله فِي الزّهْد تنكره | وَمَا لَهُ شُبْهَة فِي الْعلم تعرفه | |
| مضى فأعظم مَفْقُود فجعت بِهِ | من لَا نَظِير لَهُ فِي النَّاس يخلفه |
ترجمہ: حجۃ الاسلام کے انتقال پر ہر بلند مرتبہ انسان رو پڑا، کیونکہ وہ ہر جاندار میں سب سے زیادہ معزز و برتر تھے۔ جو شخص اللہ کے بارے میں شک کرے، اس کے آنسو بھی اس پر ملامت کریں گے، جب وہ ابو حامد پر گریہ کرے گا تو اس کی آنکھیں خود اسے جھڑکیں گی۔ یہ مصیبت میرے صبر و ضبط کو کمزور کر دیتی ہے، میری آنکھوں کو جاگتا رکھتی ہے اور آنسو بہاتی ہے۔ کون ہے جو اس کے زہد (پرہیزگاری) کا انکار کر سکے؟ اور کون ہے جو اس کے علم میں کوئی شبہ تلاش کر سکے؟ وہ رخصت ہو گئے، ایک ایسی عظیم ہستی جس کا فقدان بہت بڑا صدمہ ہے کہ ان جیسا کوئی دوسرا انسان دنیا میں اس کی جگہ نہیں لے سکتا۔
اسی طرح قاضی عبد الملک بن احمد بن محمد بن معافى نے بھی ابو حامد غزالی کے بارے میں کہا:[41]
| بَكَيْت بعيني واجم الْقلب واله | فَتى لم يوال الْحق من لم يواله | |
| وسيبت دمعا طَال مَا قد حَبسته | وَقلت لجفني واله ثمَّ واله | |
| أَبَا حَامِد مُحي الْعُلُوم وَمن بَقِي | صدى الدّين وَالْإِسْلَام وفْق مقاله |
ترجمہ: میں نے اپنی آنکھوں سے رویا، دل غم سے ساکت اور بے قرار تھا اور وہ شخص حق کا ساتھ نہیں دیتا جو اس (امام غزالی) سے محبت نہ رکھے۔ میں نے آنسو بہائے، جنھیں مدت سے روکے رکھا تھا اور اپنی پلکوں سے کہا: اے غمگین! رو، پھر اور رو۔ اے ابو حامد! آپ علوم کو زندہ کرنے والے تھے اور جو کچھ باقی ہے، وہ دین و اسلام کی بازگشت ہے جو آپ کے قول کے مطابق ہے۔
خطِّ غزالی
[ترمیم]خطِ غزالی کہا جاتا ہے کہ ابو حامد الغزالی کا خط ان کی کتاب الوجیز فی فقہ امام شافعی کے ایک مخطوطے کے آخر میں محفوظ ہے، جو ایک امریکی ییل یونیورسٹی کی لائبریری میں موجود ہے۔ [42] تاہم جرمن محقق فرانک گرفیل نے اس دعوے پر شبہ ظاہر کیا ہے۔ ان کے مطابق یہ تحریر خود امام غزالی کے ہاتھ کی نہیں، بلکہ ان کی وفات کے بعد لکھی گئی ایک اجازت کی نقل ہے، اس لیے اسے ان کا اصل خط قرار نہیں دیا جا سکتا۔ [43]
غزالی اور فلسفہ
[ترمیم]
ابو حامد غزالی کے دور میں فلسفہ ایک ایسا علم بن چکا تھا جس نے بہت سے ذہین لوگوں کے افکار اور طرزِ عمل کو متاثر کیا تھا۔ اس کے نتیجے میں بعض افراد کے ہاں دینی عقائد میں شک، اخلاقی کمزوری، سیاسی اضطراب اور معاشرتی فساد پیدا ہونے لگا۔ [44] غزالی نے اس صورتِ حال کے مقابلے میں فلسفہ کا گہرائی سے مطالعہ کیا۔ کہا جاتا ہے کہ انھوں نے تقریباً دو سال تک فلسفیانہ کتابوں کو پڑھا اور سمجھا، یہاں تک کہ اس علم کی باریکیوں پر مکمل عبور حاصل کر لیا اور اپنے دور کے فلسفیوں کے طریقِ فکر کو اچھی طرح سمجھنے لگے۔ وہ خود بیان کرتے ہیں کہ انھوں نے فلسفہ کو سمجھنے اور اس پر غور و فکر کرنے کے بعد اس کے پوشیدہ پہلوؤں، مغالطوں اور ظاہری دلکشی کو پہچان لیا۔ اس کے بعد انھوں نے اس کا نقد لکھا اور اپنی کتاب مقاصد الفلاسفہ میں فلسفیوں کے طریقۂ کار اور ان کے علمی ڈھانچے کو واضح کیا۔ بعد ازاں انھوں نے اس پر سخت تنقید کرتے ہوئے نتیجہ اخذ کیا کہ فلسفی مختلف گروہوں میں تقسیم ہیں اور ان میں سے بہت سے ایسے نظریات رکھتے ہیں جو ان کے نزدیک دین سے انحراف اور گمراہی تک لے جاتے ہیں۔[45]
ابو حامد غزالی نے فلسفہ کا گہرا اور تفصیلی تجزیہ کیا، جس میں انھوں نے فلاسفہ کی اقسام، ان کے مختلف شعبے اور ان کے افکار کو الگ الگ بیان کیا۔ انھوں نے یہ بھی واضح کیا کہ کن آراء کو ان کے نزدیک دین سے انحراف یا قابلِ تنقید سمجھا جا سکتا ہے اور کن باتوں کو مکمل طور پر رد نہیں کیا جا سکتا۔ [46] اسی بنیاد پر وہ ان اولین علما میں شمار کیے جاتے ہیں جنھوں نے فلسفے کا ایک منظم اور تنقیدی علمی مطالعہ پیش کیا۔ انھوں نے یونانی فلسفے سے متاثر فلاسفہ کے علوم کو مختلف حصوں میں تقسیم کیا، جیسے: ریاضیات، منطق، طبیعیات، مابعد الطبیعیات (الٰہیات)، سیاسیات اور اخلاقیات۔ ان کے نزدیک فلسفیانہ غلطیوں کا سب سے زیادہ تعلق مابعد الطبیعیات (الٰہیات) سے تھا، جہاں وہ فلاسفہ کی بڑی غلطیاں سمجھتے تھے۔ انھوں نے بعض اسلامی فلاسفہ پر تین بنیادی مسائل میں سخت اعتراض کیا اور انھیں بعض دیگر مسائل میں بدعتی قرار دیا۔ اسی تناظر میں انھوں نے اپنی معروف کتاب “تہافت الفلاسفہ” تصنیف کی، جس میں انھوں نے عمومی طور پر فلاسفہ اور خاص طور پر ابن سينا اور الفارابی جیسے مفکرین پر شدید تنقید کی۔ بعد میں ابن رشد نے ان کے جواب میں دو اہم کتابیں لکھیں: فصل المقال فيما بين الحكمہ والشريعہ من الاتصال اور تهافت التهافت۔ [47] فجاء بعده ابن رشد فرد على الغزالي في كتابين أساسيين هما «فصل المقال فيما بين الحكمة والشريعة من الاتصال»، ثم «تهافت التهافت».[47]
ابو حامد غزالی کے بارے میں بعض محققین جیسے یوسف قرضاوی اور عباس محمود العقاد کا کہنا ہے کہ ان کے بہت سے نفسیاتی، تربیتی اور سماجی نظریات ایک منفرد فکری نظام کی صورت اختیار کرتے ہیں۔ ان کے نزدیک غزالی بعض اپنی تصانیف میں ایک مربوط “اسلامی فلسفہ” کے نمائندہ دکھائی دیتے ہیں، اگرچہ وہ خود کو فلسفی کہلانا پسند نہیں کرتے تھے۔ یہ رائے بھی مختلف عرب اور مغربی مفکرین میں پائی جاتی ہے کہ غزالی عملاً فلسفیانہ طرزِ فکر کے حامل تھے۔ یہاں تک کہ معروف مغربی مفکر ارنست رینن نے کہا:
“عربی فلسفے نے غزالی جیسا کوئی اصل اور تخلیقی فکر پیدا نہیں کیا۔” اسی طرح بعض مسلم علما کا یہ بھی خیال رہا ہے کہ اگرچہ غزالی نے فلسفے پر تنقید کی، لیکن وہ اس سے مکمل طور پر آزاد نہ ہو سکے اور اس کے اثرات ان کی فکر میں موجود رہے۔ ان کے شاگرد ابو بكر بن العربی سے منقول ہے:
“ہمارے شیخ ابو حامد نے فلسفہ کو مکمل طور پر جذب کر لیا، پھر اسے باہر نکالنا چاہا مگر نہ نکال سکے۔”[48] .[49]
غزالی اور تصوف: فکری مراحل
[ترمیم]ابو حامد غزالی نے اپنی فکری زندگی کے بارے میں خود اپنی کتاب المنقذ من الضلال میں تفصیل سے بیان کیا ہے کہ وہ تصوف پر مستقل طور پر قائم ہونے سے پہلے مختلف علمی اور فکری مراحل سے گذرے۔ ان کے مطابق ان کی ابتدا ایک غیر ارادی شک کی کیفیت سے ہوئی، جس میں انھوں نے حواس اور عقل دونوں پر سوال اٹھایا اور اس بات پر غور کیا کہ کیا یہ واقعی یقینی علم تک پہنچا سکتے ہیں یا نہیں۔ اس کیفیت نے انھیں کچھ عرصہ “شک کی حالت” میں رکھا، جو تقریباً دو ماہ تک جاری رہی اور پھر وہ اس سے نکل آئے۔ [50] اس کے بعد انھوں نے اپنے زمانے کے مختلف فکری گروہوں کا مطالعہ کیا اور انھیں چار بڑے طبقات میں تقسیم کیا: متکلمین: جو خود کو عقلی بحث و نظر کے ماہر سمجھتے تھے ۔ باطنیہ: جو “معصوم امام” سے خصوصی علم لینے کے دعویدار تھے ۔ فلاسفہ: جو منطق اور برہان کے ماہر ہونے کا دعویٰ رکھتے تھے ۔ صوفیہ: جو قربِ الٰہی، مشاہدہ اور باطنی تجربے کے حامل ہونے کا دعویٰ کرتے تھے ۔
مضامین بسلسلہ![]() |
وہ لکھتے ہیں کہ انھوں نے ان تمام راستوں کو سمجھنے کے لیے باقاعدہ تحقیق کی: ابتدا علمِ کلام سے، پھر فلسفہ، پھر باطنیہ کی تردید اور آخر میں تصوف کا مطالعہ۔ انھوں نے علمِ کلام پر مکمل عبور حاصل کیا اور اس میں کئی اہم کتابیں لکھیں، جیسے الاقتصاد فی الاعتقاد، لیکن ان کے نزدیک علمِ کلام ان کے اندرونی روحانی سوالات کا مکمل جواب نہ دے سکا۔ بعد ازاں انھوں نے فلسفہ کا گہرائی سے مطالعہ کیا اور اس کے بعد اپنی معروف کتاب تہافت الفلاسفہ میں اس پر سخت تنقید کی۔ اسی طرح انھوں نے باطنیہ کے افکار کا بھی رد کیا۔ [51] آخرکار وہ اس نتیجے پر پہنچے کہ ان کی فکری اور روحانی تسکین کا راستہ تصوف ہے، جس پر انھوں نے اپنی عملی زندگی کو استوار کیا۔
تصوف پر استقرار
[ترمیم]ابو حامد غزالی کی فکری مراحل کے بعد ان کی توجہ بتدریج تصوف کی طرف مائل ہونے لگی۔ انھوں نے صوفیانہ کتب کا مطالعہ شروع کیا، جن میں قوت القلوب (ابو طالب مکی) اور حارث محاسبی کی تصانیف شامل تھیں، اسی طرح جنید بغدادی ، ابوبکر شبلی اور ابو یزید بسطامی جیسے اکابر صوفیہ کے اقوال اور اقوالِ حکمت سے بھی استفادہ کیا۔[26] وہ شیخ فضل بن محمد فارمذی کی مجالس میں بھی شریک ہوتے رہے، جن سے انھوں نے طریقت اختیار کی۔ اس اثر نے ان پر گہرا اثر ڈالا، یہاں تک کہ وہ بغداد کی نظامیہ مدرسہ میں تدریس چھوڑ کر گوشہ نشینی اور سفر کی طرف مائل ہو گئے۔
اس کے بعد انھوں نے تقریباً 11 سال کا طویل روحانی سفر اختیار کیا، جس میں دمشق ، بیت المقدس، الخلیل ، مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ شامل تھے۔ اسی دوران انھوں نے اپنی مشہور کتاب “احياء علوم الدين” تصنیف کی۔ [33] اپنے اس روحانی تجربے کے بارے میں وہ لکھتے ہیں:“مجھے ان خلوتوں کے دوران ایسے حقائق منکشف ہوئے جنھیں شمار نہیں کیا جا سکتا۔ لیکن جس قدر میں بیان کر سکتا ہوں وہ یہ ہے کہ مجھے یقین حاصل ہو گیا کہ صوفیہ ہی اللہ کے راستے پر چلنے والے خاص لوگ ہیں، ان کا طریقہ سب سے بہتر، ان کا راستہ سب سے درست اور ان کے اخلاق سب سے پاکیزہ ہیں۔”[33]
کتاب احیاء علوم الدین
[ترمیم]احياء علوم الدين ابو حامد غزالی کی تصوف سے متعلق سب سے مشہور اور مؤثر تصنیف شمار کی جاتی ہے۔ اس کتاب کو ان کی دیگر تمام کتابوں کے مقابلے میں غیر معمولی شہرت اور قبولیت حاصل ہوئی، یہاں تک کہ اس کے مخطوطات دنیا کی مختلف لائبریریوں میں پھیل گئے۔ بہت سے علما نے اس کتاب کی تعریف کی ہے۔ مثلاً محدث عبد الرحیم عراقی نے، جنھوں نے اس کتاب کی احادیث کی تخریج بھی کی، لکھا: “یہ کتاب اسلام کی عظیم ترین کتب میں سے ہے جو حلال و حرام کی معرفت پر مشتمل ہے۔[52] اس میں ظاہری احکام کے ساتھ ساتھ باطنی اسرار کو بھی جمع کیا گیا ہے، نہ یہ محض فقہی مسائل تک محدود ہے اور نہ اتنی گہرائی میں گئی ہے کہ اس سے رجوع مشکل ہو جائے۔ اس میں ظاہر و باطن کے علوم کو بہترین انداز میں جمع کیا گیا ہے اور نہایت خوبصورت اسلوب میں پیش کیا گیا ہے۔” بعض اہل علم نے یہاں تک کہا: “جس نے احیاء نہیں پڑھا، وہ زندہ نہیں۔” اس کتاب پر متعدد شروح، اختصارات اور دفاعی کتب بھی لکھی گئیں۔ خود ابو حامد غزالی نے اس پر تنقیدات کے جواب میں “الإملاء على مشكل الإحياء” لکھی۔ مشہور شروح میں اتحاف السادة المتقين بشرح إحياء علوم الدين (الزبيدی) اور المغنی عن حمل الاسفار فی تخريج ما في الإحياء من الأخبار (عبد الرحيم العراقی) شامل ہیں۔ اسی طرح عبد القادر عيدروس کی کتاب تعریف الأحياء بفضائل الإحياء بھی اس کتاب کے فضائل پر ہے۔ اختصارات میں احمد غزالی کی لباب الإحياء، ابن جوزی کی منہاج القاصدين اور بعض محققین کے نزدیک عبد القادر جیلانی سے منسوب بعض تحریریں بھی اسی منہج سے متاثر سمجھی جاتی ہیں۔ ،[53]
اس کے برعکس بہت سے علما نے احياء علوم الدين پر تنقید بھی کی۔ ان کا اعتراض یہ تھا کہ اس میں ضعیف احادیث کی کثرت ہے اور صوفیانہ حکایات بھی زیادہ بیان کی گئی ہیں۔ خود ابو حامد غزالی نے بھی حدیث کے علم میں اپنی کمزوری کا اعتراف کرتے ہوئے کہا: اسی بنیاد پر بعض علما نے اس کتاب کے رد میں مستقل تصانیف لکھیں، جن میں شامل ہیں:[54]، إحياء ميت الأحياء في الرد على كتاب الإحياء از ابو الحسن ابن سكر إعلام الأحياء باغلاط الإحياء از ابن الجوزي الضياء المتلالی فی تعقب الإحياء للغزالي از أحمد بن المنيّر یہ بھی ذکر ملتا ہے کہ بعض ادوار میں، خصوصاً قرطبہ میں، اس کتاب کے خلاف سخت موقف اپنایا گیا اور اسے جلانے کا حکم بھی دیا گیا، جو علي بن يوسف بن تاشفين کے دور سے منسوب کیا جاتا ہے۔ اس کتاب کا نام “احياء علوم الدين” اس تصور کی بنیاد پر رکھا گیا کہ حقیقی دینی علم وہ ہے جو انسان کے کردار اور عمل میں تبدیلی پیدا کرے اور اسے آخرت کی طرف متوجہ کرے۔ غزالی کے نزدیک محض فقہی مناظرے یا علمی تفصیلات میں مہارت اصل مقصد نہیں بلکہ اصل مقصد قلبی اصلاح اور عملی دین ہے۔ [55]
- ربع عبادات جیسے نماز، زکوٰۃ اور حج، جن میں ان عبادات کی بعض باریک تفصیلات اور ان کے انسان کے دل پر اثرات کو واضح کیا گیا ہے۔
- ربع عادات جیسے نکاح اور روزی کمانے کے لیے کام کرنا۔
- ربع مہلكات جیسے غرور، تکبر، دنیا اور منصب کی محبت اور کھانے اور جنسی خواہشات میں حد سے زیادہ افراط، جنھیں ایک ہی باب میں جمع کیا گیا ہے۔
- ربع منجيات کا آغاز توبہ سے کیا گیا ہے اور اس کی حقیقت اللہ کی معرفت، اس کے سامنے شرمندگی، ندامت اور معذرت ہے۔ پھر صبر، اللہ کا خوف اور عبادتِ تفکر کا ذکر کیا گیا ہے۔ [52]
احياء علوم الدين میں عموماً غزالی ہر موضوع کا آغاز قرآن کی آیت سے کرتے ہیں، پھر حدیث، پھر صحابہ کے اقوال اور اس کے بعد صالحین کے واقعات بیان کرتے ہیں۔
غزالی کے شاگرد
[ترمیم]ابو حامد غزالی کے علمی حلقے میں متعدد ذہین اور ممتاز شاگرد شامل تھے، جنھوں نے ان سے براہِ راست یا بالواسطہ استفادہ کیا اور ان کے علمی و فکری اثرات کو آگے منتقل کیا۔ الزبيدي نے اپنی کتب میں ان میں سے کئی شاگردوں کا ذکر کیا ہے:[56]
- ابو نصر احمد بن عبد اللہ خمقدی ، جنھوں نے طوس میں غزالی سے فقہ حاصل کیا اور 544 ہجری میں وفات پائی۔
- ابو منصور محمد بن اسماعيل عطاری ، جو طوس کے معروف واعظ تھے اور 486 ہجری میں وفات پا گئے۔
- ابو فتح احمد بن علی بن برہان، جو پہلے حنبلی تھے پھر غزالی سے فقہ سیکھا، نظامیہ بغداد میں تدریس کی اور احياء علوم الدين بھی پڑھاتے رہے، وفات 518 ہجری۔
- ابو سعيد محمد بن اسعد توقانی ، وفات 554 ہجری۔
- محمد بن عبد اللہ بن تومرت، جنھیں “المہدی” کہا جاتا ہے۔
- ابو حامد محمد بن عبد الملک جوزقانی ، جنھوں نے بغداد میں غزالی سے فقہ حاصل کیا۔
- محمد بن يحيى بن منصور، جو ان کے مشہور شاگردوں میں سے تھے اور انھوں نے غزالی کی کتاب الوسيط کی شرح بھی کی۔
- ابو بكر بن العربی ، مالکی قاضی، جنھوں نے غزالی کی کتاب احياء علوم الدين کو مغرب تک پہنچایا۔
- احمد بن معد اقْلِيشی ، جنھوں نے براہِ راست ملاقات کے بغیر غزالی کی کتب اپنے اساتذہ کے ذریعے روایت کیں۔
- عبد القادر جيلانی ، جن کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ غزالی سے متاثر ہوئے اور اپنی کتاب الغنية لطالبی طريق الحق اسی طرز پر لکھی۔[57][58][59]
آثار غزالی
[ترمیم]
ابو حامد غزالی نے اپنی 55 سالہ زندگی میں مختلف علوم پر بہت سی کتابیں اور رسائل تصنیف کیے، حتیٰ کہ کہا جاتا ہے کہ اگر ان کی تصانیف کو ان کی عمر کے دنوں پر تقسیم کیا جائے تو ہر دن کے حصے میں ایک کتاب آتی ہے۔[60] محققین جمیل صلیبا اور کامل عیاد نے ان کی 228 کتابوں اور رسائل کی فہرست تیار کی، جن میں مطبوعہ، مخطوط اور مفقود سب قسم کی تصانیف شامل ہیں۔ غزالی کی شہرت کی وجہ سے بہت سی کتابیں اور رسائل ان سے منسوب کر دیے گئے، جس کی وجہ سے اصل اور غیر اصل تصانیف میں تمیز کرنا مشکل ہو گیا۔
قدیم مؤرخین جیسے عبد الغافر فارسی ، ابو بکر ابن العربی ، تاج الدین سبکی ، طاش كبرى زاده اور المرتضى الزبيدي نے غزالی کی بہت سی تصانیف ذکر کیں اور بعد کے محققین نے انہی مصادر پر انحصار کیا۔ انیسویں صدی میں مستشرقین نے غزالی کے آثار پر تحقیق شروع کی۔ 1858ء میں مستشرق “جوشہ” نے تقریباً چالیس کتابوں پر تحقیق کی۔ اس کے بعد میکڈونلڈ، گولڈزیہر، ماسینیون، ولیم منٹگمری واٹ اور بویج جیسے محققین نے بھی اسی موضوع پر کام کیا۔[61] بعد میں عبد الرحمن بدوي نے اپنی مشہور کتاب “مؤلفات الغزالی” (1960ء) میں غزالی سے منسوب 457 تصانیف کا جائزہ لیا اور انھیں مختلف اقسام میں تقسیم کیا:[62]
- 1 سے 72: وہ کتابیں جن کی نسبت غزالی سے قطعی ثابت ہے
- 73 سے 95: جن کی نسبت میں شک پایا جاتا ہے
- 96 سے 127: جو غالباً غزالی کی نہیں
- 128 سے 224: وہ حصے جو الگ کتابوں کی صورت میں مشہور ہوئے یا مختلف عنوانات سے منسوب ہوئے
- 225 سے 273: منسوب مگر جعلی کتابیں
- 274 سے 380: نامعلوم نسبت والی کتابیں
- 381 سے 457: مخطوطات جو غزالی سے منسوب ہیں
بعد ازاں بعض محققین نے بدوی کی درجہ بندی پر نظرثانی کی اور خاص طور پر ان کتابوں پر اعتراض کیا جو قطعی طور پر غزالی سے منسوب کی گئی تھیں، کیونکہ ان میں کچھ غیر مستند نسبتیں بھی شامل تھیں۔[63]
غزالی کی تصانیف
[ترمیم]یہ امام غزالی کی منسوب اہم کتابوں کی فہرست ہے:
عقیدہ، علم کلام، فلسفہ اور منطق:
|
فقہ، اصول فقہ اور علم جدل:
|
تصوف:
|
متنوعات:
|
غزالی کے بارے میں علما کے اقوال
[ترمیم]
ابو حامد غزالی کو جمہور متقدمین کے نزدیک “حجۃ الاسلام”، “مجددِ قرنِ پنجم” اور “محیی علوم الدین” سمجھا جاتا ہے۔ ان کی تعریف میں علما نے مختلف اقوال بیان کیے ہیں:،[64]
- ان کے شیخ امام الحرمین جوینی نے کہا: “غزالی ایک بہتا ہوا سمندر ہے۔”
- شمس الدین ذہبی نے کہا: “شیخ، امام، سمندر، حجۃ الاسلام، زمانے کا عجوبہ، زین الدین ابو حامد محمد بن محمد الطوسی الشافعی، غزالی، بہترین تصانیف اور غیر معمولی ذہانت کے مالک تھے۔”
- ابن الجوزی نے کہا: “انھوں نے اصول اور فروع میں بہت عمدہ کتابیں تصنیف کیں، جن کی ترتیب اور انداز منفرد تھا۔”
- تاج الدین سبکی نے کہا: “وہ حجۃ الاسلام اور دین کے وہ ستون ہیں جن کے ذریعے جنت تک رسائی ہوتی ہے، وہ علوم کے جامع اور انتہائی ماہر تھے۔”
- ابن النجار نے کہا: “ابو حامد فقہا کے امام مطلق ہیں، امت کے ربانی عالم ہیں، اپنے زمانے کے مجتہد اور بے حد ذہین تھے۔”
- ابو حسن شاذلی نے کہا: “جب تمھیں اللہ سے کوئی حاجت ہو تو امام ابو حامد کے وسیلے سے دعا کرو۔”[65].[65]
- ابو عباس المرسی نے کہا: “ہم ان کی صدّیقیتِ عظمیٰ کی گواہی دیتے ہیں۔”
- ابن عماد حنبلی نے کہا: “وہ زین الدین، حجۃ الاسلام اور عظیم امام تھے، غیر معمولی ذہانت اور علم کے مالک تھے اور ان جیسا کوئی نہیں دیکھا گیا۔”
- ابن كثير نے کہا: “وہ دنیا کے سب سے ذہین لوگوں میں سے تھے۔”
- ابو بکر ابن العربی نے کہا: “وہ ہمارے زمانے کے سب سے مشہور علما میں سے تھے، جن کی شہرت ہر طرف پھیلی ہوئی تھی۔”
- اسعد میہنی نے کہا: “غزالی کے علم و فضیلت کو وہی سمجھ سکتا ہے جو ذہنی کمال کے قریب ہو۔”
- عبد الغافر فارسی نے کہا: “وہ حجۃ الاسلام، امام الائمہ اور بے مثال فصاحت، ذہانت اور علم کے مالک تھے۔”
- ان کے شاگرد محمد بن یحییٰ نے کہا: “غزالی شافعیِ ثانی ہیں۔”[66]
- جمال الدین اسنوی نے کہا: “غزالی وہ امام ہیں جن کے ذکر سے دل روشن ہوتے ہیں اور وہ امت کے قطب ہیں۔”[41]
- ان کے شاگرد احمد بن محمد اقليشی نے بھی ان کی تعریف میں طویل قصیدہ کہا اور إحياء علوم الدين کی بھی بہت مدح کی۔ [67]
| أبا حامد أنت المخصص بالمجدِ | وأنت الذي علمتنا سنن الرشدِ | |
| وضعت لنا الإحياء تحيي نفوسنا | وتنقذنا من طاعة النازغ المردي | |
| فربع عباداته وعاداته التي | يعاقبها كالدر نظم في العقدِ | |
| وثالثها في المهلكات وإنه | لمنج من الهلك المبرح والبعدِ | |
| ورابعها في المنجيات وإنه | ليسرح بالأرواح في جنة الخُلْدِ | |
| ومنها ابتهاج للجوارح ظاهر | ومنها صلاح للقلوب من الحقدِ |
ترجمہ: اے ابو حامد! تم ہی وہ ہو جو بزرگی اور شرف کے لیے مخصوص کیے گئے اور تم ہی وہ ہو جس نے ہمیں ہدایت کے راستے اور درست سنتیں سکھائیں۔ تم نے ہمارے لیے “احیاء العلوم” پیش کیا، جس نے ہماری روحوں کو زندہ کیا اور ہمیں گمراہ کرنے والے شیطانی وسوسوں کی اطاعت سے بچایا۔ اس میں عبادات اور عادات کا وہ حصہ ہے جو موتیوں کی طرح ایک ہار میں پرو دیا گیا ہے اور اس کا تیسرا حصہ مہلک اخلاقی برائیوں کے بارے میں ہے، جو ہلاکت اور دوری سے نجات دیتا ہے۔ اور چوتھا حصہ نجات دینے والے اعمال پر مشتمل ہے، جو روحوں کو جنتِ ابدی کی طرف لے جاتا ہے اور اس میں ظاہری اعضا کی خوشی بھی ہے اور دلوں کی پاکیزگی بھی، جو حسد اور بغض سے پاک کرتی ہے۔
غزالی کے مخالفین
[ترمیم]ابو حامد غزالی جیسے بڑے فکری رہنما کے ساتھ ساتھ ان پر تنقید کرنے والے علما بھی موجود تھے۔ ان ناقدین نے ان کی بعض آراء، تصوف کے طریقے اور بعض علمی اختیارات پر اعتراض کیا، تاہم ان میں سے اکثر نے ان کے علم و فضل کا اعتراف بھی کیا۔ اہم معترضین درج ذیل ہیں:
- ابو بكر طرطوشی نے غزالی پر تنقید کی کہ انھوں نے بعض دینی علوم کو ترک کر کے تصوف کی طرف زیادہ جھکاؤ اختیار کیا اور فلسفہ کو شامل کیا، یہاں تک کہا کہ وہ “دین سے نکلنے کے قریب ہو گئے”۔ تاہم تاج الدین سبکی نے اس پر رد کیا اور کہا کہ غزالی نے فلسفہ اس لیے پڑھا تاکہ اس کا رد کر سکیں اور وہ تصوف میں پختہ تھے۔[41]
- محمد بن علی تمیمی مازری نے احياء علوم الدين میں ضعیف احادیث کے استعمال اور فلسفہ کے مطالعے پر اعتراض کیا۔ اس پر بھی تاج الدین سبکی نے جواب دیا اور کہا کہ ان کا اعتراض تعصب کی وجہ سے تھا، خاص طور پر اشعری عقائد اور مالکی فقہ کی طرف جھکاؤ کی وجہ سے۔[41]
- ابن الصلاح نے اصولِ فقہ میں منطق کے استعمال پر غزالی پر نقد کیا، جس کا جواب بعد کے علما نے دیا۔
- ابن الجوزی نے کبھی ان کی تعریف کی اور کبھی تنقید بھی کی، خاص طور پر اپنی کتاب تلبيس ابليس اور إعلام الأحياء بأغلاط الإحياء میں۔[41]
- ابن تيميہ نے مختلف مقامات پر ان پر سخت علمی تنقید کی، خصوصاً عقائد اور فلسفے سے متعلق مسائل میں۔
- علی بن محمد بن ولید (اسماعیلی داعی) نے بھی غزالی کی کتاب فضائح الباطنيہ کے جواب میں ایک طویل رد لکھا۔
ان اختلافات کے باوجود، غزالی کی علمی شخصیت اسلامی فکر میں ایک مرکزی حیثیت رکھتی ہے اور ان کے مخالفین بھی ان کی علمی گہرائی اور مقام کا انکار نہیں کرتے۔ [68]
غزالی پر لکھی گئی کتب اور تحقیقی مقالات
[ترمیم]
|
|
غزالی کے بارے میں فنی اور ادارہ جاتی کام
[ترمیم]ابو حامد غزالی کے بارے میں مختلف فنی اور ادارہ جاتی سرگرمیاں انجام دی گئی ہیں، جن میں سے اہم درج ذیل ہیں:
- جنوری 2013 میں مسجد اقصیٰ کے بابِ رحمت اور جامعہ القدس میں امام غزالی کے فکر کے لیے ایک خصوصی علمی مرکز (چیئر) قائم کیا گیا، جس کی ہدایت عبد اللہ الثانی بن حسين نے دی۔ [69]
- 2007 میں انگریزی زبان میں ایک دستاویزی فلم “الغزالی: کیمیائی سعادت” تیار کی گئی، جس کا دورانیہ 80 منٹ تھا۔ [70]
- 2012 میں امام غزالی کی زندگی پر ایک ٹیلی ویژن سیریل بنایا گیا، جو 30 اقساط پر مشتمل تھا، ہر قسط تقریباً 45 منٹ کی تھی اور اس کی ہدایت کاری ابراہیم شوادی نے کی۔ [71]
- 2024 میں مصری اداکار نضال شافعی نے تاریخی ڈراما حشاشين میں امام غزالی کا کردار ادا کیا، جس میں اسماعیلی باطنی فرقہ “حشاشین” اور اس کے رہنما حسن صباح کی کہانی پیش کی گئی ہے۔
مزید دیکھیے
[ترمیم]| ویکی ذخائر پر غزالی سے متعلق سمعی و بصری مواد ملاحظہ کریں۔ |
حوالہ جات
[ترمیم]- ↑ عنوان : Газали Мухаммад
- 1 2 مصنف: فرانس کا قومی کتب خانہ — عنوان : اوپن ڈیٹا پلیٹ فارم — بی این ایف - آئی ڈی: https://catalogue.bnf.fr/ark:/12148/cb11904478v — اخذ شدہ بتاریخ: 10 اکتوبر 2015
- 1 2 3 4 5 عنوان : Encyclopædia Iranica — ناشر: جامعہ کولمبیا — ایرانیکا آئی ڈی: https://www.iranicaonline.org/articles/gazali-i-biography
- 1 2 عنوان : Encyclopaedia of Islam — تاریخ اشاعت: 1991 — جلد: 2 — صفحہ: 1038 — ایرانیکا آئی ڈی: https://www.iranicaonline.org/articles/gazali-i-biography
- 1 2 3 عنوان : Gemeinsame Normdatei — جی این ڈی آئی ڈی: https://d-nb.info/gnd/118537938 — اخذ شدہ بتاریخ: 20 اپریل 2026 — اجازت نامہ: CC0
- ↑ مصنف: CC0 — مدیر: CC0 — عنوان : CC0 — ناشر: CC0 — خالق: CC0 — اشاعت: CC0 — باب: CC0 — جلد: CC0 — صفحہ: CC0 — شمارہ: CC0 — CC0 — CC0 — CC0 — ISBN CC0 — حوالہ یو آر ایل: CC0 — اقتباس: CC0 — اجازت نامہ: CC0
- ↑ عنوان : تاريخ الصحافة العربية — حوالہ یو آر ایل: CC0
- ↑ https://projectjaraid.github.io
- ↑ کونر آئی ڈی: https://plus-legacy.cobiss.net/cobiss/si/sl/conor/9908579
- ↑ کونر آئی ڈی: https://plus-legacy.cobiss.net/cobiss/si/sl/conor/9908579
- ↑ تحفة المهتدين بأخبار المجددين، السيوطي، كما هي منقولة في كتاب "عون المعبود شرح سنن أبي داود"، ج11، ص265، دار الكتب العلمية. آرکائیو شدہ 2016-03-05 بذریعہ وے بیک مشین
- ↑ خیر الدین زرکلی (2002)، الأعلام: قاموس تراجم لأشهر الرجال والنساء من العرب والمستعربين والمستشرقين (بزبان عربی) (15 ایڈیشن)، بیروت: دار العلم للملایین، ج السابع، ص 22، OCLC:1127653771، QID: Q113504685
- ↑ Adel Nuwayhed (1988)، مُعجم المُفسِّرين: من صدر الإسلام وحتَّى العصر الحاضر (بزبان عربی) (3 ایڈیشن)، بیروت: Q121003654، ج الثاني، ص 612، OCLC:235971276، QID: Q122197128
- ↑ الجانب الإلهي من التفكير الإسلامي، محمد البهي، ص232، ط3.
- 1 2 الفيلسوف الغزالي، عبد الأمير الأعسم، ص27-32، دار قباء، ط1998.
- 1 2 شذرات الذهب في أخبار من ذهب، ابن العماد الحنبلي آرکائیو شدہ 2017-10-01 بذریعہ وے بیک مشین
- ↑ سير أعلام النبلاء، الذهبي، ج19. آرکائیو شدہ 2020-03-28 بذریعہ وے بیک مشین
- ↑ وفيات الأعيان، ابن خلكان، ج1، ص98. آرکائیو شدہ 2017-09-20 بذریعہ وے بیک مشین [مردہ ربط]
- ↑ انظر مقدمة تحقيق كتاب الوجيز في الفقه، الإمام الغزالي، علي معوض وعادل عبد الموجود، دار الأرقم، بيروت، ط1، 1997.
- 1 2 معجم البلدان، ياقوت الحموي، ج4، 216-219. آرکائیو شدہ 2017-09-20 بذریعہ وے بیک مشین [مردہ ربط]
- ↑ حجة الإسلام، العزيزي، ص35.
- 1 2 طبقات الشافعية الكبرى، تاج الدين السبكي، ج6، ص191-194. آرکائیو شدہ 2017-07-04 بذریعہ وے بیک مشین [مردہ ربط]
- 1 2 سيرة الغزالي، عبد الكريم العثمان، ص17.
- 1 2 3 4 5 طبقات الشافعية الكبرى، تاج الدين السبكي، ج6، ص195-201. آرکائیو شدہ 2017-07-04 بذریعہ وے بیک مشین [مردہ ربط]
- ↑ رجال الفكر والدعوة في الإسلام، أبو الحسن الندوي، ص159.
- 1 2 3 4 5 ابن جوزی (1995)، المنتظم في تاريخ الملوك والأمم (بزبان عربی) (2 ایڈیشن)، بیروت، ج 17، ص 123-127، OCLC:1222468306، QID: Q125912514
{{حوالہ}}: اسلوب حوالہ 1 کا انتظام: مقام بدون ناشر (link) - ↑ الإمام أبو حامد الغزالي، مصطفى جواد، ص55.
- ↑ البداية والنهاية، ابن كثير، ج16، ص118، أحداث سنة 484 هـ. آرکائیو شدہ 2017-10-02 بذریعہ وے بیک مشین [مردہ ربط]
- ↑ التعليم في المدرسة النظامية، مجلة المعلم الجديد العراقية، حسين أمين، ج6، ج18، سنة 1955، ص35.
- ↑ كتاب: جغرافية الباز الاشهب، تحقيق مكان ولادة الشيخ عبد القادر الكيلاني، د.جمال الدين فالح الكيلاني، مكتبة الجليس -بيروت،2012،ص14
- ↑ الفيلسوف الغزالي، عبد الأمير الأعسم، ص38-40، دار قباء، ط1998.
- ↑ مختصر تاريخ العرب، أمير علي، ص278.
- 1 2 3 المنقذ من الضلال، أبو حامد الغزالي، ص170-177، دار الكتب الحديثة. آرکائیو شدہ 2017-06-17 بذریعہ وے بیک مشین [مردہ ربط]
- 1 2 المنقذ من الضلال، أبو حامد الغزالي، ص180-190، دار الكتب الحديثة. آرکائیو شدہ 2017-06-17 بذریعہ وے بیک مشین [مردہ ربط]
- ↑ البداية والنهاية، ابن كثير، ج16، ص208، أحداث سنة 503 هـ. آرکائیو شدہ 2017-10-02 بذریعہ وے بیک مشین [مردہ ربط]
- ↑ الثبات عند الممات، ابن الجوزي. آرکائیو شدہ 2014-01-16 بذریعہ وے بیک مشین
- ↑ موقع الإمام الغزالي: قبر الإمام الغزالي. آرکائیو شدہ 2016-10-30 بذریعہ وے بیک مشین
- ↑ صحيفة تركية: إعادة إعمار قبر الإمام الغزالي. آرکائیو شدہ 2013-05-13 بذریعہ وے بیک مشین
- ↑ جريدة المؤتمر: الوقف السني: الإدعاء بأن قبر الغزالي في بغداد غايته استغلال الناس.. وأكد ان القبر يقع في مدينة طوس. [مردہ ربط] آرکائیو شدہ 2016-03-07 بذریعہ وے بیک مشین
- ↑ الجزيرة نت: جدل عراقي حول قبر الإمام الغزالي. آرکائیو شدہ 2014-01-16 بذریعہ وے بیک مشین [مردہ ربط]
- 1 2 3 4 5 6 تاج الدین السبکی (1992)، طبقات الشافعية الكبرى (بزبان عربی)، قاہرہ: Q113496838، ج 6، ص 6، QID: Q120648510 – بذریعہ المكتبة الشاملة
- ↑ محمد الغزالي (2011)۔ "مجلد مقدمة التحقيق"۔ إحياء علوم الدين (1 ایڈیشن)۔ دار المنهاج۔ ص 211
{{حوالہ کتاب}}: تحقق من التاريخ في:|سال=(معاونت) ونامعلوم پیرامیٹر|مقام اشاعت=رد کیا گیا (معاونت) - ↑ Islam and Rationality: The Impact of Al-Ghazālī. Papers Collected on His 900th Anniversary. Vol. 2. (2015). Netherlands: Brill. Page 181
- ↑ الإمام الغزالي بين مادحيه وناقديه، يوسف القرضاوي، ص20-45، مؤسسة الرسالة، ط1.
- ↑ المنقذ من الضلال، أبو حامد الغزالي، ص126-127. آرکائیو شدہ 2016-03-05 بذریعہ وے بیک مشین [مردہ ربط]
- ↑ التصوف بين الغزالي وابن تيمية، عبد الفتاح محمد سيد أحمد، ص64-72، دار الوفاء، ط1.
- 1 2 البيان: الفلسفة في القرون الوسطى، جون مارينبون، 2005. آرکائیو شدہ 2016-07-24 بذریعہ وے بیک مشین
- ↑ دراسات في تاريخ الفلسفة العربية الإسلامية ورجالها، عبده الشمالي، ص553.
- ↑ سير أعلام النبلاء، الذهبي، ج19، ص327.
- ↑ المنقذ من الضلال، أبو حامد الغزالي، ص112-118، دار الكتب الحديثة. آرکائیو شدہ 2016-03-05 بذریعہ وے بیک مشین [مردہ ربط]
- ↑ المنقذ من الضلال، أبو حامد الغزالي، ص124، دار الكتب الحديثة. آرکائیو شدہ 2016-03-05 بذریعہ وے بیک مشین [مردہ ربط]
- 1 2 أبو حامد الغزالي وكتابه إحياء علوم الدين، عبد الله بن سالم البطاطي. آرکائیو شدہ 2016-03-06 بذریعہ وے بیک مشین [مردہ ربط]
- ↑ الدرر السنية، إحياء علوم الدين. آرکائیو شدہ 2017-07-27 بذریعہ وے بیک مشین
- ↑ الشيخ عبد القادر الكيلاني رؤية تاريخية معاصرة د.جمال الكيلاني، بغداد،موسسة مصر مرتضى للكتاب، 2011، ص 73.
- ↑ محمد بن عبد الله المقدي (20 صفر 1434هـ)۔ "من أجل ذا حُرٍّقت كتب الغزالي!"۔ موقع الصوفية۔ 5 مارس 2016 کو اصل سے آرکائیو کیا گیا۔ اخذ شدہ بتاریخ شباط 2013 م
{{حوالہ ویب}}: تحقق من التاريخ في:|تاریخ رسائی=(معاونت) - ↑ إتحاف السادة المتقين بشرح إحياء علوم الدين، الزبيدي المرتضى، ج1، ص55.
- ↑ هكذا ظهر جيل صلاح الدين وهكذا عادت القدس، تأليف: ماجد الكيلاني، ص184.
- ↑ الشيخ عبد القادر الجيلاني وآراؤه الاعتقادية والصوفية للشيخ سعيد بن مسفر القحطاني، مكتبة المدينة المنورة، الطبعة الأولى 1418هـ/1997م، ص76.
- ↑ كتاب الشيخ عبد القادر الكيلاني رؤية تاريخية معاصرة، د/جمال الدين فالح الكيلاني، ص24
- ↑ الإمام الغزالي آرکائیو شدہ 2018-10-06 بذریعہ وے بیک مشین
- ↑ نزار عيون السود۔ "الغزالي (أبو حامد ـ)"۔ الموسوعة العربية۔ هئية الموسوعة العربية سورية- دمشق۔ 14 أغسطس 2016 کو اصل سے آرکائیو کیا گیا۔ اخذ شدہ بتاریخ آذار 2013
{{حوالہ ویب}}: تحقق من التاريخ في:|تاریخ رسائی=و|آرکائیو تاریخ=(معاونت) - ↑ عبد الرحمن بدوي (1977)۔ مؤلفات الغزالي (الثانية ایڈیشن)۔ الكويت: وكالة المطبوعات۔ ص 9–15
- ↑ مشهد العلاف۔ "كُتُب الإمام الغزالي الثَّابت مِنها والمنحول"۔ موقع الإمام الغزالي۔ 22 أكتوبر 2018 کو اصل سے آرکائیو کیا گیا۔ اخذ شدہ بتاریخ شباط 2013
{{حوالہ ویب}}: تحقق من التاريخ في:|تاریخ رسائی=و|آرکائیو تاریخ=(معاونت) - ↑ الإمام الغزالي بين مادحيه وناقديه، يوسف القرضاوي، ص84-92، مؤسسة الرسالة، ط1.
- 1 2 لطائف المنن، ابن عطاء الله السكندري، ص97.
- ↑ دور المرابطين في نشر الإسلام في غرب إفريقيا، عصمت دندش، ص195.
- ↑ نظم الأقليشي في الدفاع عن فكر الغزالي، الدكتورة حياة قارة، كلية الآداب، الرباط. آرکائیو شدہ 2020-03-18 بذریعہ وے بیک مشین
- ↑ جورج طرابيشي (2006)۔ معجم الفلاسفة (الثالثة ایڈیشن)۔ بيروت، لبنان: دار الطليعة۔ ص 36
- ↑ مؤسسة الأقصى: افتتاح الكرسي المكتمل لفكر الغزالي في الأقصى.[مردہ ربط]
"نسخة مؤرشفة"۔ اصل سے آرکائیو شدہ بتاریخ 28 مارس 2020۔ اخذ شدہ بتاریخ 16 أبريل 2020
{{حوالہ ویب}}: تحقق من التاريخ في:|تاریخ رسائی=(معاونت)اسلوب حوالہ 1 کا انتظام: BOT: original URL status unknown (link) - ↑ موقع أمازون: فيلم الغزالي.. كيميائي السعادة. آرکائیو شدہ 2012-03-18 بذریعہ وے بیک مشین
- ↑ سينما دوت كوم: مسلسل الإمام الغزالي. آرکائیو شدہ 2016-03-13 بذریعہ وے بیک مشین
- 1058ء کی پیدائشیں
- خراسان کی شخصیات
- شیوخ الاسلام
- آپ بیتی نگار
- اسلامی فلسفی
- اشاعرہ
- اصولی شخصیات
- امام غزالی
- ایرانی صوفیاء
- ایرانی مذہبی رہنما
- بارہویں صدی کی ایرانی شخصیات
- بارہویں صدی کے مسلم الٰہیات دان
- سنی ائمہ
- سنی صوفیاء
- شوافع
- صوفی نفسیات
- طوس کی شخصیات
- فارسی سنی علماء اسلام
- فارسی فلسفی
- قرون وسطی کے فارسی فلسفی
- قرون وسطی کے فلسفی
- گیارہویں صدی کی ایرانی شخصیات
- گیارہویں صدی کے مسلم الٰہیات دان
- ماہرین علمیات
- ماہرین مابعد الطبیعیات
- مجددین
- مسلم فلاسفہ
- مشہد کی شخصیات
- 1050ء کی دہائی کی پیدائشیں
- 1111ء کی وفیات
- ابو حامد غزالی
- شافعی فقہا
- سیاسی فلسفہ
- ایرانی آپ بیتی نگار
- شیعیت کے نقاد
- عرب ثقافت
- فارسی مصنفین
- فارسی زبان کے مصنفین
- گیارہویں صدی کے عرب مصنفین
- بارہویں صدی کے عرب مصنفین
- گیارہویں صدی کے فلسفی
- بارھویں صدی کے فلاسفہ
- صوفی اولیا
- گیارہویں صدی کی شخصیات
- مسلمان علما
- فارسی علماء
- ماہرین نفسیات

