احمد غزالی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں

مجدالدین ابوالفتح احمد بن محمد غزالی پانچویں صدی ہجری کےشافعی فقہاء و صوفیاء میں سے تھے وہ امام غزالی کے برادرِ اصغر بھی تھے۔

مدرسہ نظامیہ[ترمیم]

ایک عرصہ تک مدرسہ نظامیہ بغداد میں تدریس کے فرائض سر انجام دیتے رہے۔

تصوف[ترمیم]

تصوف کا غلبہ ہوا تو سب چھوڑ چھاڑکراپنے بڑے بھائی امام محمد غزالی صاحب "احیا ءالعلوم"کی تحریک میں شامل ہوگئے۔ان کے وصال کے بعد ان کے مشن کو کامیابی سے چلاتے رہے ۔وعظ ونصیحت تصنیف وتألیف کا سلسلہ جاری رکھا آپکے وعظ میں بیحد تأثیر تھی۔آپکے وعظ کی برکت سے ہزاروں لوگ راہِ راست پر آئے۔آپ فصیح اللسان اور صاحب ِکرامت تھے ۔

وفات[ترمیم]

احمد غزالی 520ھ میں ایرانی شہر قزوین میں وفات پاگئے۔

تالیفات[ترمیم]

آپ نے امت مسلمہ کو مفید کتب سے نوازا ہے،ان میں سے چند کتب یہ ہیں!

  • الذخيرة في علم البصيرة» تصوف میں ہے
  • لباب الإحياء» مختصر كتاب«إحياء علوم الدين»، اپنے بڑے بھائی امام غزالی کی کتاب کو مختصر کیا.
  • سوانح العشاق» فارسی،
  • بوارق الإلماع في الرد على من يحرِّم السماع»، ہندوستان میں 1317ھ طبع ہوئی
  • تفسير سورة يوسف وقصة يوسف عليہ السلام»
  • التجريد في كلمة التوحيد»،
  • كتاب الحق والحقيقة».
  • مدخل السلوك إلى منازل الملوك»
  • لطائف الفكر وجوامع الدرر»، [1]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. الاعلام ،خیرالدین زرکلی