ابوالحسن خرقانی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں
ابو الحسن خرقانی کی آرامگاہ

خواجہ ابو الحسن خرقانی حقیقت و طریقت کا سرچشمہ،فیوض و برکات منبع و مخزن،اکابر مشائخ اوراولیائے کرام میں مشہورہیں۔

نام نسب اور ولادت[ترمیم]

اسم گرامی علی بن احمد بن جعفربن سلمان کنیت ابو الحسن ولادت 352 ھ میں ہوئی۔آپ کے والد ایران کے علاقے بسطام کےایک دیہات خرقان میں کھیتی باڑی کرتے تھے

علم ومعرفت[ترمیم]

خواجہ ابو الحسن خرقانی نےاپنی خدادادصلاحیتوں کی بدولت کسب علوم شریعت اورتحصیل سلوک و طریقت میں کمال حاصل کیا نیک لوگوں کی صحبت ،ہمیشہ باوضواور عبادت و ریاضت میں وقت گذارتے۔اویسی نسبت سے سلطان العارفین بایزید بسطامی سے روحانی اخذ فیض کیا ۔اپنے زمانے کے معروف علماء کرام اور صوفیاء عظام سے ملاقاتیں کیں شیخ ابو العباس احمد قصاب آملی (خلیفہ محمد بن عبد اللہ طبری)کی زیارت کا شرف حاصل رہا اور ایک مدت تک ان کی خانقاہ میں قیام فرمایا[1]۔ ایک مرتبہ ایک شخص خواجہ ابو الحسن کے پاس آیا اور عرض کی مجھے اپنا خرقہ پہنائیں آپ نے فرمایا مجھے ایک مسئلہ کا جواب دوکہ اگر عورت مرد کے کپڑے پہن لے تو وہ مرد ہو جاتی ہےاس نے کہا نہیں فرمایا تو پھر خرقہ سے کیا فائدہ اگر تو مرد نہیں تو خرقہ پہننے سے تو مرد نہیں ہو سکتا[2] آپ کو اویسی طریقہ پربایزید بسطامی سے باطنی فیض پہنچا اور انہی کے فیض کو آپ نے تمام جہاں میں عام کیا، لیکن آپ کی بایزید بسطامی تک نسبت چہار واسطوں سے مستند بھی ہے کہ آپ کی ابومظفر موسیٰ طوسی سے نسبت ہے اور انکی خواجہ اعرابی بایزید عشقی سے اور انکی خواجہ محمد مغربی سے اور ان کی سلطان العارفین بایزید بسطامی سے نسبت ہے۔[3]

سلطان محمود غزنوی[ترمیم]

مشہور مسلم حکمران سلطان محمود غزنوی آپ کے بڑے عقیدت مند تھے۔ آپ کے استغناء اور خدا دوستی کا یہ عالم تھا کہ جب پہلی بار سلطان محمود غزنوی نے آپ کا شہرہ سنا اور خرقان پہنچ کر پیغام بھیجا کہ حضور میرے دربار میں ملاقات کے لیے قدم رنجہ فرمائیں تو آپ نے اس بات کو قبول نہ کیا۔ خود سلطان ملاقات کے لیے خانقاہ عالیہ میں حاضر ہوا، لیکن آپ اسکی تعظیم کے لیے نہ اٹھے۔ البتہ جب عقیدت و محبت سے سرشار ہوکر اور تبرک کے طور پر پیراہن مبارک لیکر ادب سے جانے کے لیے اٹھا تو حضرت اسکی تعظیم کے لیے اٹھے اور سلطان کے دریافت کرنے پر فرمایا پہلے میں تیری بادشاہی کے لیے نہ اٹھا اور اب تیری درویشی کے لیے کھڑا ہوا ہوں۔ کہتے ہیں کہ جب سومنات پر چڑھائی کے وقت سلطان شکست کھانے لگا تو اضطراب کی حالت میں حضور ابوالحسن خرقانی کا پیراہن مبارک ہاتھ میں لیکر بارگاہ الٰہی میں یوں ملتجی ہوئے:

الٰہی بآبروئے ایں خرقہ بریں کفار ظفردہ ہرچہ ازینجا غنیمت بگیرم بدرویشاں بدہم ترجمہ: خدایا اس خرقہ کی آبرو کے صدقے میں مجھے ان کافروں پر فتح عطا کر، مجھے یہاں سے جو مال غنیمت ملے گا درویشوں کو دیدوں گا۔[3]

تعلیمات[ترمیم]

اپنے وقت کے یگانہ غوث زمانہ قبلہ وقت تھے کیونکہ ان کے زمانہ میں ان کی طرف کوچ ہو اکرتا تھا ۔ ایک دن مریدوں سے کہنےلگے کہ کونسی چیز بہتر ہے سب نے کہا اے شیخ آپ ہی فرمائیں آپ نے فرمایا وہ دل جس میں بالکل اسی کی یاد ہو ۔ ان سے لوگوں نے پوچھاکہ صوفی کس کو کہتے ہیں کہا کہ صوفی جبہ و مصلے سے نہیں ہوا کرتا صوفی رسم وعادات سے صوفی نہیں ہوتا صوفی وہ ہوتا ہےکہ خود کچھ نہ ہو وہ یہ بھی فرماتے کہ صوفی اس دن ہوتا ہےکہ اس کو آفتاب کی حاجت نہ ہواور اس رات ہوتا ہےکہ اس کو چاند ،ستارہ کی ضرورت نہ ہو اور نیستی یہ ہے کہ ہستی کی حاجت نہ ہو۔ ان سے پوچھا گیا کہ مرد کو کیونکر معلوم ہو کہ وہ بیدار ہےکہا اس طرح کہ جب خدا کو یاد کرےسر سے سے قدم تک خدا کی یاد باخبر ہو۔ پوچھا گیا فنا و بقا کی بات کس کو کرنا مناسب ہےکہا اس شخص کو اگر اس کو ایک ریشمی تارسے آسمان سے لٹکا دیں اور ایسی ہوا چلےکہ درخت اور مکانات پہاڑ اکھڑ جائیں اور سب دریا بگاڑ دے لیکن اس کو اپنی جگہ سے نہ ہلا سکے۔[4]

وفات[ترمیم]

جب آپکی وفات کا وقت قریب آیا تو وصیت کی کہ میری قبر 30 گز گہری کھودناتا کہ بایزید کی قبر سے اونچی نہ رہےچنانچہ ایسا ہی کیا گیا آپ کا وصال خرقان میں عاشورہ کے دن 425ھ میں ہوا [5] 10محرم الحرام425 ہجری بمطابق 5دسمبر1033ء کو آپ کا وصال ہوا اس وقت عمر مبارک 73 سال تھی خرقان میں ہی آپکی آخری آرامگاہ ہے۔[1]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. ^ 1.0 1.1 تذکرہ قطب عالم حضرت خواجہ ابو الحسن خرقانی محمد نذیر رانجھاجمیعۃ پبلیکیشنزلاہور
  2. مشائخ نقشبندیہ مجددیہ،محمد حسن نقشبندی، صفحہ 126،قادری رضوی کتب خانہ لاہور
  3. ^ 3.0 3.1 http://www.islahulmuslimeen.org/urdu/books/jalwagah/h07.htm
  4. نفحات الانس ،عبد الرحمن جامی، صفحہ336، شبیر برادرز اردو بازار لاہور
  5. تذکرہ مشائخ نقشبندیہ محمد نو ر بخش توکلی صفحہ82مشتاق بک کارنر اردو بازار لاہور