یقین

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search

یقین کا مطلب اللہ کی ذات پر مکمل بھروسا اور اطمینان ہے۔ کوئی بھی شخص خواہ وہ کسی بھی مذہب کا ہو اس کا اپنے معبود پر یقین ہی اس کے مذہب کو زندگی بخشتاہے۔ دینِ اسلام کے ماننے والے اللہ کی ذات پر یقین رکھتے ہیں۔کائنات کی تخلیق سے لے کر اس کے اندر ہر ہر چیز کو پیداکرنے والا،ہر ہر چیز کوعلم،زندگی اورموت دینے والا صرف ایک ہی ہے اور وہ اللہ سبحانہ کی ذات ہے۔ ہماری زندگی کا نظام وہی چلا رہا ہے، اسی نے زندگی گزارنے کے اپنی کتاب(قرآن مجید) نازل کی۔ اپنے نبی علیہ السلام بھیجے۔ اگر انسان مظاہرِقدرت پر غور کرئے تو کوئی چیز بے فائدہ نہیں اورنہ ہی کوئی چیز خود بخود وجود میں آسکتی ہے اور نہ کسی کو فائدہ دے سکتی ہے۔ یہی وہ غور ہے جو انسان کو اللہ کی پہچان کراتا ہے پھر انسان کی یہ پہچان یقین میں بدلتی ہے اس طرح اس کی مذہبی زندگی آگے کو بڑھتی ہے۔

کامیابی میں یقین کا کردار[ترمیم]

پہلا انعام ذہین کو نہیں بلکہ یقین کو ملتا ہے۔ اس لیے ہمیشہ اللہ تعالیٰ کی ذات اقدس پر پورا یقین رکھیں۔ کیونکہ ہر اچھے کام میں اللہ تعالیٰ کی مدد شامل ہوتی ہے۔

اس لیے یقین کامل بنا لیں کہ اللہ تعالیٰ کی مدد سے آپ ہر چیز کر سکتے ہیں۔ ہر مقصد میں کامیابی حاصل کر سکتے ہیں آپ جو کچھ کر رہے ہیں اگر آپ کو اس میں ناکام ہونے کا ذرہ سا بھی شک ہے۔ تو وہ کام نہ کریں۔ کیونکہ آپ ناکام ہو جائیں گے۔

آپ جس چیز کی توقع کرتے ہیں وہی حاصل کرتے ہیں۔ اگر آپ معجزے کی توقع کریں گے تو آپ کا دماغ اس معجزے کے لیے کام کرنا  شروع کر دے گا اور آپ وہ معجزہ کر دکھائیں گے۔

کامیابی کے لیے اونچے خواب اور سخت محنت کے علاوہ آپ کو کامیابی کی توقع بھی ہونی چاہیے۔ توقع کو حاصل کرنے کے لیے ضروری ہے کہ آپ کو اپنی صلاحیتوں پر،اپنی  خواہشات پر اور اپنی کامیابی پرمکمل  یقین ہو۔

یہ دنیا صرف ان لوگوں کے لیے بنی ہے۔ جن کو خود پر اعتماد ہوتا ہے جب آپ کو یقین ہو کہ آپ کر سکتے ہیں، تو کیسے خودبخود ظاہر ہو جاتا ہے۔ اس دنیا میں کوئی بھی چیز ناممکن نہیں ہے۔ صرف آپ کو اس کے حصول کامکمل  یقین ہونا چاہیے۔کامیابی اور ناکامی میں یقین کا کردار