حضرہ

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search

حضرہ ایک اسلامی صوفی اصطلاح جو اجتماعی مجلس ذکر کے لئےاستعمال ہوتا ہے

حضرہ کی وضاحت[ترمیم]

حضرہ حلقہ ذکر خاص طور پر سنی صوفیا سے تعلق رکھنے والے مسلمانوں میں رائج ہے اور اس کی سربراہی طریقت سے واقف شیخ کرتا ہے، یہ طریقہ ذکر سلسلہ تصوف میں نئےداخل ہونے والوں کو راغب کرنے کے لیے ہوتا ہے۔ اس کا نام حضرہ اس لیے رکھا گیا ہے کیونکہ یہ خدا کے ساتھ دل کی موجودگی کا ایک سبب ہے اور یہ تصوف کی راہ میں ایک اہم ستون ہے۔

طریقہ کار[ترمیم]

حضرہ میں تلاوت، حمد، نعت، منقبت خطاب اور دعا وغیرہ شامل ہوتے ہیں بعض صوفیا اس میں دف اور آلات موسیقی بھی استعمال کرتے ہیں حضرہ کو عرب ممالک اور کچھ غیر عرب اسلامی ممالک جیسے انڈونیشیا اور ملائیشیا میں اس نام سے جانا جاتا ہے، جبکہ یہ ترکی اور بلقان ممالک میں دوسرے ناموں سے جانا جاتا ہے۔ یہ اکثر جمعہ کی رات عشاء کی نماز کے بعد یا جمعہ کی نماز جمعہ کے بعد ہوتا ہے۔اس کے علاوہ مختلف اسلامی تہواروں اور وفات کے موقع پر مساجد، خانقاہوں اور گھروں میں کیا جاتا ہے[1]

سلاسل[ترمیم]

یہ طریقہ ذکر نقشبندی، رفاعی اور حقانی سلسلہ میں رائج ہے

حضرہ کا حکم[ترمیم]

اکثر مسلمان جو تصوف پر عمل پیرا ہیں اسے اپناتے ہیں جس کی اصل اسلامی شریعت میں بعض قرآنی آیات اور احادیث میں موجود اسے اجتماعی عبادت طور اللہ کے قرب کا وسیلہ سمجھا جاتا ہے۔ جو فر کو ایک جوش و جذبہ فراہم کرتا ہے۔ جبکہ بنیاد پرست سلفی یہ خیال کرتے ہیں کہ حضرہ ایک بدعت ہے اور اسلام سے نہیں۔[2]

حوالہ جات[ترمیم]

مزید دیکھیے[ترمیم]

حضرہ کی ویڈیو