ابدال

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search

ابدال اصطلاح تصوف میں اولیاء کا پانچواں درجہ ابدال ہے۔

وجہ تسمیہ[ترمیم]

امام راغب اصفہانی کے نزدیک ان کو ابدال اس لیے کہتے ہیں کہ ان کی برائیاں نیکیوں سے بدل دی گئی ہیں اولیاء اللہ کے دس طبقوں میں سے چالیس (اور بعض کے نزدیک ستر یا سات)، اولیا کا ایک گروہ جن سے ہفت اقلیم کی نگرانی متعلق بتائی ہے، کہا جاتا ہے کہ یہ جو شکل چاہتے ہیں بدل لیتے ہیں اور جہاں سے سفر کرتے ہیں وہاں ایک شخص اپنے بدلے اپنی صورت کا چھوڑ دیتے ہیں،

عقائد[ترمیم]

ابدال  اللہ کے وہ مقرب بندے ہیں، جو ولایت کے اس مقام پر پہنچے ہوئے ہوتے ہیں کہ ان کی دعاوٴں سے اللہ تعالیٰ بارش برساتا ہے، کفار اوردشمنوں کے خلاف مسلمانوں کی مدد فرماتا ہے اور ان کی دعاوٴں کی برکت سے عذاب وحوادث کو دور فرماتا ہے، امام ابن عساکر نے عبداللہ بن عباس سے ایک حدیث مرفوعاً نقل فرمائی ہے، اس میں ہے کہ اللہ تعالیٰ ہرزمانہ میں تین سو چھپن ابدال پیدا فرماتا ہے، ان میں سے تین سو ابدال، حضرت آدم علیہ السلام کی صفت پر ہوتے ہیں۔ اور چالیس حضرت موسیٰ علیہ السلام کی صفت پر ہوتے ہیں۔ اور سات حضرت ابراہیم علیہ السلام کی صفت پر ہوتے ہیں اور پانچ حضرت جبرئیل امین کی صفت پر ہوتے ہیں اور تین حضرت میکائیل کی صفت پر ہوتے ہیں اور ایک حضرت اسرافیل کی صفت پر ہوتا ہے۔ ابدال کے بارے میں اللہ کے یہاں یہ نظام قائم کیا گیا ہے کہ جب اسرافیل کی صفت پر جو ابدال ہیں ان کی وفات ہو جائے تو ان یک جگہ پر میکائیل کی صفت پر جو تین ہیں، ان میں سے ایک کو قائم مقام کردیتا ہے اور پھر جبرئیل کی صفت کے پانچ میں سے ایک کو ان کی جگہ کرکے پانچ پورے کردیتا ہے اور حضرت ابراہیم کی صفت کے سات میں سے ایک کو ان کی جگہ پر کرکے پانچ پورے کردیتا ہے اور پھر حضرت موسی کی صفت کے چالیس میں سے ایک کو ان کی جگہ کرکے سات پورے کردیتا ہے اور پھر حضرت آدم علیہ السلام کی صفت کے تین سو میں سے ایک کو ان کی جگہ کرکے چالیس پورے کردیتا ہے اور عامة المسلمین میں سے ایک کو ان کی جگہ کرکے تین سو پورے کردیتا ہے، اسی طرح اگر درمیان میں سے کسی کی وفات ہو جائے، مثلاً چالیس یا سات میں سے کسی کی وفات ہو جائے تو اسی ترتیب سے ان کی جگہ پر کی جاتی ہے، ملک شام میں چالیس ابدال ہمیشہ رہتے ہیں، اسی طرح تین سو چھپن ابدال میں سے خاص خاص تعداد کم وبیش ہرملک اور ہرصوبے میں رہتے ہیں، انھیں کی برکت سے آفات اور بلاء ومصیبتیں اللہ تعالیٰ لوگوں سے دور کرتا رہتا ہے۔[1]

حدیث میں ابدال کے متعلق یوں ذکر آیا ہے کہ: علی سے بعض لوگوں نے گزارش کی کہ آپ اہل شام پر لعنت اور بد دعا فرمادیں، تو علی نے فرمایا کہ ایسا ہرگز نہیں کیا جاسکتا، اس لیے کہ میں نے تو جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے فرماتے ہوئے سنا ہے کہ ملک شام میں چالیس ابدال ہوتے ہیں، جب ان میں سے کسی ایک کی وفات ہوجاتی ہے توان کی جگہ دوسرے کو قائم مقام کر دیا جاتا ہے اور انھیں کی برکت اور دعاوٴں سے اللہ تعالیٰ بارش برساتا ہے اور کفار اور دشمنوں کے خلاف اہل شام کی مدد کرتا ہے اور انھیں کی برکت سے اہل شام کے اوپر سے عذاب کو دور فرماتا ہے۔[2]

ابدال پوشیدہ ولی ہوتے ہیں جو دنیا کے انتظام و انصرام کے لیے مامور کیے جاتے ہیں۔ باران رحمت کا نزول اور آفات سماوی و ارضی کا سدباب انہی کے فرائض میں داخل ہے۔

اولیاء کے درجات[ترمیم]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. مرقات بحوالہ حاشیہ مشکوٰة: 583
  2. مشکوۃ شریف