عبدالقادر الصوفی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں

سانچہ:200px

عبدالقادر الصوفی (شیخ عبدالقادر الصوفی) مرابطون عالمی تحریک کے بانی ہیں۔ آپ نے اسلام، تصّوف، اسلامی اقتصادیات وغیرہ پر کئی کتب لکھی ہیں۔ آپ ایک صوفی بزرگ اور دارقوی،شاذلی قادری طریقہ کے پیر بھی ہے۔ آپ اسلامی اقتصادی نظام کے دوبارہ نفاذ کے سرگرم رکن ہیں۔ اور آپ اسلامی سیاسی نظام یعنی خلافت کے نفاذ کے حامی ہیں۔[1]

مرابطون عالمی تحریک[ترمیم]

آپ مرابطون عالمی تحریک کے بانی ہے۔ جو دنیا میں اسلامی اقتصادی نظام اور اسلامی سیاسی نظام کے دوبارہ نفاذ کے لئے کام کرتی ہیں۔

نظریات[ترمیم]

زکوٰٰۃ کی حیثیت[ترمیم]

آپ زکوٰٰۃ کی اپنی اصل شکل میں دوبارہ احیاء کے لئے سر توڑ کوشش کررہے ہے۔ ان کے مطابق زکوٰۃ آج کل اپنی حقیقی شکل میں بحال نہیں ہے۔[2] کیونکہ اس کی بحالی کے لئے کم از کم تین شرائط ہیں۔
1- زکوٰۃ کی حصولی صرف امیر یا خلیفہ کو کرنی چاہیے۔[3]
2- اگر اس کی حصولی پیسوں میں کرنی ہو تو یہ سونے اور چاندے میں ہونی چاہیے۔[4]
3- اس کو فوراَ تقسیم کرنی چاہیے۔

اسلامی زر (پیسہ)[ترمیم]

آپ اسلامی زر یعنی طلائی دینار اور نقرئی درہم کے دوبارہ نفاذ کے حامی ہے۔ ان کے مطابق کاغذی کرنسی اسلام میں حرام ہے۔

خلافت، امارت اور سلطنت[ترمیم]

آپ خلافت یا امارت یا سلطنت کے دوبارہ نفاذ کے حامی ہے۔ ان کے مطابق جمہوریت، بادشاہت وغیرہ اسلام میں حرام ہے۔

اسلامی تجارت اور سماجی بہبود[ترمیم]

آپ اسلامی تجارت کے دوبارہ نفاذ کے لئے کام کرتی ہے۔

عمل الاھل المدینہ[ترمیم]

آپ حضرت محمّد صلی اللھ علیھ وآلہ وسلّم کے زمانے میں مدینہ منورہ میں قائم کردہ نظام کے دوبارہ احیاء کے لئے کوشاں ہیں۔

مزید دیکھیے[ترمیم]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. Henderson، Barney (2010-02-20). "Radical Muslim leader has past in swinging London". Telegraph. اخذ کردہ بتاریخ 2014-12-5. 
  2. Bewley, Abdalhaqq, Zakat: raising a fallen pillar, Black Stone Press, UK, 2001
  3. For example: "The zakat is fard and one of the fundamental matters of Islam, such that whoever denies that it is obligatory is a kafir." And "It is obligatory to pay zakat to the amir (Imam) if he is just. If he is not just and it is impossible to divert it from him, then one pays it to him and that discharges one's duty, but if it is possible to divert it from him then the person paying it should pay it to those who can validly receive it but it is recommended that one not undertake to pay it directly oneself for fear of praise." Al-Qawanin al-Fiqhiyya, Ibn Juzayy al-Kalbi
  4. For example: Al-Fath al-‘Aliyy al-Malik fi al-Fatawi ‘ala Madhhab Malik, Shaykh Muhammad ‘Illish, Al-Azhar