سعدی شیرازی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
(شیخ سعدی سے رجوع مکرر)
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں
مصلح الدین ابن عبداللہ شیرازی
Image illustrative de l'article سعدی شیرازی
ایک گلاب باغ میں سعدی، ان کے کام گلستان ، جن کا ایک مغل پانڈلپی سے. 1645

معلومات شخصیت
پیدائش سنہ 1181[1]  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ پیدائش (P569) ویکی ڈیٹا پر
شیراز   خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام پیدائش (P19) ویکی ڈیٹا پر
وفات سنہ 1291 (109–110 سال)[1][2]  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ وفات (P570) ویکی ڈیٹا پر
شیراز   خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام وفات (P20) ویکی ڈیٹا پر
شہریت Flag of Iran.svg ایران  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں شہریت (P27) ویکی ڈیٹا پر
مذہب اسلام
عملی زندگی
پیشہ شاعر،مصنف[3]  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں پیشہ (P106) ویکی ڈیٹا پر
مادری زبان فارسی  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مادری زبان (P103) ویکی ڈیٹا پر
تصنیفی زبان فارسی،عربی  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں بولی، لکھی اور دستخط کی گئیں زبانیں (P1412) ویکی ڈیٹا پر
کارہائے نمایاں گلستان سعدی،بوستان سعدی  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں کارہائے نمایاں (P800) ویکی ڈیٹا پر

مصلح الدين شیخ سعدی آج سے تقريبا 800 برس پہلے ايران كے شہر شیراز ميں پيدا ہوئے آپ ايك بہت بڑے معلم مانےجاتے ہيں-آپ كى دو كتابيں گلستان اور بوستان بہت مشہور ہيں-پہلى كتاب گلستان نثر ميں ہے جبكه دوسرى كتاب بوستان نظم ميں ہے- آپ نےسو برس كى عمر ميں شيراز, ايران ميں انتقال فرمايا-

سوانح حیات[ترمیم]

آپ 1210ء میں ایران کے شہر شیراز میں پیدا ہوئے، آپ کے والد کی وفات آپ کے بچپن میں ہی ہو گئی تھی۔ اپنی جوانی میں، سعدی نے غربت اور سخت مشکلات کا سامنا کیا اور بہتر تعلیم کے لیے آپ نے اپنے آبائی شہر کو خیرباد کہا اور بغداد تشریف لے آئے۔ آپ نے المدرسة النظاميہ میں داخلہ لیا، جہاں آپ نے اسلامی سائنس، قانون، حکومت، تاریخ، عربی ادب اور اسلامی الٰہیات کی تعلیم حاصل کی سعدی شیرازی نے جامع نظامیہ سے فارغ التحصیل ہونے کے بعد متعدد ملکوں کی سیاحت کی۔ وہ شام ، مصر، عراق، انتولیا بھی گئے ، جہاں بڑے شہروں کی زیارت کی ، گاہکوں سے بھرے پررونق بازار دیکھے، اعلیٰ درجہ کے فنون لطیفہ کے نمونوں سے محفوظ ہوئے اور وہاں کے علماء اور فن کاروں سے ملاقاتیں کی۔

آخر کار وہ جہادی صوفیوں کے ایک گروہ میں شامل ہوگئے ، جو صلیبی جنگوں میں شریک تھا۔ ان کے ساتھ مل کر انہوں نے جنگیں لڑیں۔ ایک ایسی ہی جنگ میں وہ جنگی قیدی بنے اور سات سال اس کیفیت میں گزارے ۔ ایک غلام کی حیثیت سے وہ خندقیں کھودنے کے کام پر متعین رہے ۔ مملوکوں نے تاوان ادا کیا ، تو جنگی قیدیوں کو رہا کیا گیا۔ ،جن میں سعدی شیرازی بھی شامل تھے۔ 

قیدسے رہائی کے بعد سعدی شیرازی یروشلم(بیت المقدس) چلے گئے۔ وہاں سے مکہ اور مدینہ کا رُخ کیا ۔ بیس برس کی طویل مسافت کے بعد سعدی شیرازی آخر کار اپنے آبائی وطن ایران پہنچے ،جہاں انہیں اپنے پرانے رفقاء کی صحبت میسر آئی۔

خراسان میں ان کی ملاقات ایک ترکی امیر طغرل سے ہوئی ، جن سے بہت جلد گہری دوستی ہوگئی۔ وہ سعدی شیرازی کو ساتھ لیے سندھ گیا، جہاں انہیں پیر پتر سے ملنے کا موقع ملا ، جو ایرانی صوفی شیخ عثمان مروندی کے پیروکار تھے ۔ اس سفر میں وہ برصغیر بھی آئے اور وسطی ایشیا کے ممالک کی بھی سیر کی ، جہاں و منگول حملوں سے بچے رہنے والے مسلمانوں سے ملے۔ یہی طغرل بعدازاں سلطنت دہلی کی ملازمت میں داخل ہوگیا۔ اس نے سعدی شیرازی کوبھی اپنے ہاں مدعو کیا۔ سعدی شیرازی ، جو ثقافتوں کی رنگا رنگی کے شائق تھے ، اس دعوت پر لبیک کہتے ہوئے چل پڑے اور دہلی اور گجرات میں جا کر رہے ۔ اس دورمیں انہیں سومناتھ کے تاریخی مندر کی سیر کابھی موقع ملا ۔ 

سعدی شیرازی کاکاشغر کےنوجوانوں کی طرف سے بخارا میں ایک عوامی اجتماع کےموقع پر استقبال۔

اہم تصانیف[ترمیم]

بنی آدم[ترمیم]

سعدی کو ان کے اقوال زریں کی وجہ سے بہت شہرت حاصل ہے۔ جن سب سے زیادہ مشہور "بنی آدم" ، "گلستان" کا حصہ ہے:

بنی آدم اعضای یک پیکرند

که در آفرینش ز یک گوهرند

چو عضوى به درد آورَد روزگار

دگر عضوها را نمانَد قرار

تو کز محنت دیگران بی‌غمی

نشاید که نامت نهند آدمی

ایک مغل مسودہ سے لیا گیا بوستان کا پہلا صفحہ

نگار خانہ[ترمیم]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. ^ 1.0 1.1 مصنف: Ahatanhel Krymsky — عنوان : Саади — شائع شدہ از: Brockhaus and Efron Encyclopedic Dictionary. Volume XXVIII, 1899
  2. مذکور : Encyclopædia Iranica — مصنف: Ehsan Yarshater — تاریخ اشاعت: 1982 اور 1985 — ISBN 978-1-56859-050-9
  3. مذکور : مربوط مقتدرہ ملف — ربط : جی این ڈی- آئی ڈی — اجازت نامہ: سی سی زیرو
  4. ^ 4.0 4.1 http://www.iranicaonline.org/articles/sadi-sirazi

بیرونی روابط[ترمیم]

  • The Bustan of Saadi, English translation, 74 p., Iran Chamber Society (PDF).
  • The Golestan of Saadi, translated by رچرڈ فرانسس برٹن, 213 p., Iran Chamber Society (PDF).
  • Golestan Saadi, the complete work, in Persian (ParsTech). This work can be freely downloaded (File size, compiled in pdf format: 485 KB).
  • Saadi Shirazi, Sheikh Mosleh al-Din, Persian Language & Literature, Iran Chamber Society.
  • The Gulistan of Sa'di