سلسلہ سیفیہ

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں
سیفیہ
Saifia
درجہ بندی مسلم، نقشبندی
مذاہب اسلام
زبانیں فارسی اور اردو
آبادی والی ریاستیں افغانستان، ایران اور پنجاب پاکستان
ذیلی تقسیمات نقشبندی، مجددی، سیفی

سلسلہ سیفیہ تصوف و سلوک کے جدید سلاسل میں ایک معروف سلسلہ جس نے بہت کم عرصہ میں حقیقی روحانیت اور اخلاص فی الدین کی وجہ سے نمایا ں مقام حاصل کیا ہے۔

بانی سلسلہ[ترمیم]

یہ سلسلہ آخوند زادہ سیف الرحمن کے نام کی نسبت سے سیفی کہلاتا ہے، اُن کے مریدین اور پیروکاروں کو سیفی کہا جاتا ہے۔ سیفی سلسلہ کے افراد پاکستان، افغانستان اور دنیا کے دیگر ممالک میں کثیر تعداد میں موجود ہیں۔

چار سلاسل طریقت[ترمیم]

اس سلسلہ میں چاروں سلسلہ ہائے تصوف نقشبندیہ، قادریہ، چشتیہ اور سہروردیہ کے باقاعدہ خلافت و اجازت دی جاتی ہے اور ان سلاسل کے تمام اسباق اپنے مریدین کو درجہ بدرجہ سکھائے جاتے ہیں اور خلافت مطلق انہی کو ملتی ہے جو ان چاروں سلاسل کے تمام اسباق مکمل کر لیں۔ ان سلاسل اربعہ میں وہ خلفاء جن کو باقاعدہ طور پرسند خلافت جاری کی جا چکی ہے ان کی تعداد 40 ہزار سے متجاوز ہے[1]

عقائد و نظریات[ترمیم]

یہ سلسلہ نقشبندیہ مجددیہ ہے۔ جس کی عمومی پہچان سفید عمامہ، سفید لباس اور شریعت سے وابستگی ہے۔ سلسلہ کا تعارف بانی سلسلہ سیفیہ اس طرح بیان کرتے ہیں
"بحمد اللہ میں اللہ تعالیٰ کا عاجز بندہ ہوں کہ تمام سرزمین پر اپنے آپ سے باعتبار ذوق کوئی اور مجھے ادنیٰ ترین نظر نہیں آتا۔ اور خاتم النبیین حضرت محمد صلی اللہ علیہ و الہ وسلم کا امتی ہوں اور حضور اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی ختم نبوت پر اعتقاد رکھتا ہوں اور فروع وفقہ میں حضرت امام اعظم ابوحنیفہ نعمان بن ثابت کوفی کا مقلد ہوں، اور اصول و عقائد میں اہل سنت جماعت کے عظیم پیشوا حضرت امام ابو منصور ماتریدی کا تابع ہوں اور تصوف و طریقت میں حضرت خواجہ بزرگ محمد بہاء الدین شاہ نقشبند رحمتہ اﷲ علیہ، حضرت امام ربانی مجدد الف ثانی رحمتہ اﷲ علیہ، حضرت شیخ عبدالقادر جیلانی رحمتہ اﷲ علیہ، حضرت شیخ شہاب الدین سہروردی رحمتہ اﷲ علیہ، اور حضرت خواجہ معین الدین چشتی اجمیری رحمتہ اﷲ علیہ کی تعلیمات کا تابع اور انہی بزرگان دین کا بالواسطہ مرید ہوں"۔[2]

اس سلسلہ کی مکمل پہچان میاں محمد حنفی سیفی کے اس بیان سے ہوتی ہے
"مسلکی تصلب (سختی، شدت) اور پختگی ہی ایمان کا دوسرا نام ہے حضرت غوث اعظم سیدنا شیخ عبدالقادر جیلانی، حضرت مجدد الف ثانی شیخ احمد فاروقی سرہندی، حضرت معین الہند خواجہ معین الدین چشتی اجمیری، حضرت شاہ نقشبند خواجہ محمد بہاء الدین نقشبند، حضرت سیدنا خواجہ خواجگان شہاب الدین سہروردی، اور اعلیٰ حضرت عظیم البرکت امام اہلسنت مولانا شاہ احمد رضا خان بریلوی رحمۃ اللہ علیہم اجمعین جیسی دیگر مبارک ہستیوں نے جو تعلیمات ارشاد فرمائی ہیں۔ ہمارے پیر و پیشوا حضرت مجدد العصر محبوب سبحان سیدنا و مرشدنا آخوند زادہ سیف الرحمن پیر ارچی خراسانی مبارک مد ظلہ العالی کی طرف سے ہمیں سختی کے ساتھ ہدایت فرمائی گئی ہے کہ ان پر عمل درآمد کو زندگی کا معمول بنایا جائے، اور اسی فکر کو عام کرنے کیلئے بھرپور جد و جہد کی جائے"[3]

سلسلہ اور مذہب کا فرق[ترمیم]

سلسلہ سیفیہ کے بانی سلسلہ اور مذہب کے فرق کی وضاحت اس طرح فرماتے ہیں "واضح رہے کہ سیفیہ کسی مذہب کا نام نہیں یہ ہمارے سلسلہ طریقت کا اضافی تعارفی لفظ ہے جو میرے معتقدین دیگر تمام مشائخ کے معتقدین کی طرح صرف پہچان کے لئے استعمال کرتے ہیں۔ بحمد اللہ میرے خلفاء اور تمام مریدین راسخ العقیدہ سنی مسلمان ہیں۔ اور جو کوئی بھی یہ کہے کہ "سیفیہ" نیا مذہب ہے وہ شخص مفسد اور جھوٹا ہے"[4]

سلسلہ سیفیہ اوراکابرین[ترمیم]

پروفیسر عون محمد سعیدی مہتمم و شیخ الحدیث دارالعلوم حسنیہ قادریہ سعیدیہ بہاولپور فرماتے ہیں
"مختلف سلسلہ ہائے تصوف شریعت مطہرہ کے روشن ستارے ہیں انہی میں سے ہمارے اس ملک میں ایک عظیم سلسلہ سیفیہ بھی ہے جس کے آفتاب حضرت آخوندزادہ سیف الرحمن ہیں۔ یہ وہ ہستی ہیں جنہوں نے لاکھوں افراد کے قلوب کو روحانیت سے مالامال کیااور بد ترین معاشرہ سے کھلا جہاد کرتے ہوئےبے شمار افراد کو شریعت مطہرہ کی راہ دکھائی"
علامہ محمد اقبال اظہری مہتمم مدرسہ محمدیہ اظہرالعلوم شجاع آباد لکھتے ہیں
"آپ(بانی سلسلہ سیفیہ آخوندزادہ سیف الرحمن) کے دست حق پرست پر بیعت ہونے والےشریعت و طریقت کے پروانےاور سنت مصطفےٰ کے پابند ہو جاتے ہیں،سیرت و صورت میں انقلاب برپا ہو جاتا ہےاسوہ رسول کا عملی نمونہ نظر آتے ہیں آپ کے مریدیناعتقاد صحیح اور عمل صالح کا پیکر بن جاتے ہیں"فورم

مزید دیکھیں[ترمیم]

آخوند زادہ سیف الرحمن

حوالہ جات[ترمیم]

  1. سہ ماہی انوار رضا جوہر آباد صفحہ 84 حضرت آخوند زادہ مبارک نمبر
  2. ہدایت السالکین، مرتب، پروفیسر مشتاق احمد، صفحہ 3،4، ناشر دارالعلوم جامعہ سیفیہ باڑہ پشاور
  3. اہم مقالہ، تصوف روح دین مصطفے ﷺ کانفرنس، 26 اکتوبر، 2008ء منعقدہ اسلام آباد، صفحہ7،8، ناشر ادارہ محمدیہ سیفیہ راوی ریان لاہور
  4. سہ ماہی انوار رضا جوہر آباد، صفحہ47، حضرت آخوند زادہ نمبر نقش ثانی، انٹر نیشنل غوثیہ فورم