حبیب عجمی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
حبیب عجمی
معلومات شخصیت
مقام پیدائش ایران  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام پیدائش (P19) ویکی ڈیٹا پر
وفات 29 مارچ 738  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ وفات (P570) ویکی ڈیٹا پر
بغداد  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام وفات (P20) ویکی ڈیٹا پر
مدفن مقبرہ حبیب عجمی،  وکرخ،  وبغداد  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام دفن (P119) ویکی ڈیٹا پر
شہریت Flag of Iraq.svg عراق  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں شہریت (P27) ویکی ڈیٹا پر
عملی زندگی
پیشہ محدث  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں پیشہ (P106) ویکی ڈیٹا پر
P islam.svg باب اسلام

حبیب عجمی یا حبیب فارسی کے نام سے مشہور ہیں جو حضرت حسن کے مرید تھے اور پہلی صدی ہجری کے مشائخ تصوف میں شمار ہوتے ہیں آپ کی ولادت فارس میں ہوئی کنیت ابو محمد تھی شروع میں بڑے مالدار اور سودی کاروبار کرتےحسن بصری کے ہاتھ پر توبہ کی اور سارا مال راہ خدا میں خرچ کر دیا

وصال[ترمیم]

ہشام بن عبد الملک کے عہد میں3 ربیع الآخر 156ھ بمطابق یکم مارچ 773ء میں وصال ہوا اور بصرہ میں مدفون ہوئے۔[1]

توکل علی اللہ[ترمیم]

حضرت سیدنا حبیب عجمی کے دروازے پر ایک سائل نے صدا لگائی، آپ کی زوجہ محترمہ گندھا ہوا آٹا رکھ کر پڑوس سے آگ لینے گئی تھیں تا کہ روٹی پکائیں۔ آپ نے وہی آٹا اٹھا کر سائل کو دے دیا، جب وہ آگ لے کر آئیں تو آٹا ندارد (یعنی غائب) آپ نے فرمایا: اسے روٹی پکانے کے لیے لے گئے ہیں، بہت پوچھا تو آپ نے خیرات کر دینے کا واقعہ بتایا وہ بولیں: سبحان اللہ عزوجل! یہ تو اچھی بات ہے مگر ہمیں بھی تو کچھ کھانے کے لیے درکار ہے! اتنے میں ایک شَخص ایک بڑی لگن میں بھر کرگوشت اور روٹی لے آیا۔ آپ نے فرمایا: دیکھو تمہیں کس قدر جلد لوٹا دیا گیا، گویا روٹی بھی پکا دی اور گوشت کا سالن مزید بھیج دیا![2]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. یادگار سہروردیہ ،ابو الفیض قلندر علی سہروردی،صفحہ79
  2. روض الرياحين، الفصل الثاني في اثبات کرامات الاولياء، حکايت نمبر328، ص276