عبد الخالق غجدوانی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
(عبدالخالق غجدوانی سے رجوع مکرر)
Jump to navigation Jump to search
عبد الخالق غجدوانی
Ghajdawani.jpg 

معلومات شخصیت
پیدائش 24 مارچ 1103  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ پیدائش (P569) ویکی ڈیٹا پر
غجدوان  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام پیدائش (P19) ویکی ڈیٹا پر
وفات سنہ 1179 (75–76 سال)  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ وفات (P570) ویکی ڈیٹا پر
غجدوان  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام وفات (P20) ویکی ڈیٹا پر
عملی زندگی
استاذ خواجہ یوسف ہمدانی  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں استاد (P1066) ویکی ڈیٹا پر
تلمیذ خاص بہاء الدین نقشبند بخاری  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں شاگرد (P802) ویکی ڈیٹا پر
پیشہ معلم  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں پیشہ (P106) ویکی ڈیٹا پر

عبد الخالق غجدوانی سلسلہ نقشبندیہ کے گروہ سلسلہ خواجگان کے عظیم صوفی بزرگ ہیں انہیں خواجہ ہردوجہاں بھی کہا جاتا ہے۔[1]

ولادت[ترمیم]

خواجہ عبد الخالق غجدوانی کی پیدائش بخارا کے ایک بڑے شہر غجدوان میں ہوئی۔ آپ کے والد کا نام خواجہ عبد الجلیل[2] یا خواجہ عبد الجمیل تھا جن کا وصال آپ کی پیدائش سے چند ماہ پہلے ہو گیا لہذا آپ کی پرورش کا سارا اہتمام آپ کی نیک سیرت والدہ نے کیا۔ آپ کی والدہ ماجدہ نے آپ کو مدرسہ میں قرآن پاک پڑھنے کے لیے مشہور زمانہ بزرگ اور مفسر قرآن استاد صدر الدین کے حوالے فرمایا۔ پیدائش سے پہلے بشارت دی گئی کہ تمہارے گھر ایک چراغ روشن ہونے والا ہے جو ایک عالم کو پرنور بنائے گا۔ اس کا شمار خدا کے محبوبین اور مقربین میں ہوگا، میں اسے اپنی فرزندی میں قبول کرتا ہوں۔ اس کا نام عبد الخالق رکھنا۔ یہ بشارت دینے والے خضر علیہ السلام تھے جو اللہ کے ایک کامل بندے کی دنیا میں آمد آمد کی خوشخبری آپ کے والدین کو دے رہے تھے اس لیے کہ بچے کی پرورش بھی اسی نہج پر ہو۔ [1]

بیعت و خلافت[ترمیم]

آپ نے بیعت و خلافت خواجہ ابو یوسف ہمدانی سے حاصل کی اور بخارا میں ریاضت و مجاہدہ میں مشغول ہو گئے۔ آپ اپنی روش و حالات کو اغیار کی نظروں سے پوشیدہ رکھتے تھے۔ بہت سے لوگوں نے آپ کے دست حق پرست پر بیعت کی۔ آپ جب لوگوں کو تلقین فرماتے تو جذبہ و وجد کی کیفیت طاری ہوجاتی اور ’ہو حق‘ کا غلغلہ بلند ہوجاتا۔ آپ پر راز الٰہی منکشف ہونے لگے تھے، آپ کی شہرت دور دور تک پھیل گئی تھی اور ایک دنیا تھی کہ آپ کی طرف امنڈتی چلی آتی تھی۔

تصانیف[ترمیم]

  • رباعیات
  • رسالہ طریقت
  • وصیت نامہ
  • رسالہ صاحبیہ

اصطلاحات[ترمیم]

آپ نے سالکانِ طریقت فقراء کرام کی اصلاح نفس اور قربِ خداوندی کے حصول کے لیے لوگوں کو چند اصطلاحات بتائیں اور نصیحت فرمائی کہ انہیں ہمیشہ یاد رکھو اور انہیں سمجھو اور خلوص دل سے ان پر کاربند ہو جاؤ تاکہ دین و دنیا کی سرخروئی حاصل ہو۔ لوگوں نے اصطلاحات سے متعلق جب آپ سے استفسار کیا تو آپ نے جواب دیا کہ:

1۔ ہوش در دم، 2۔ نظر بر قدم، 3۔ سفر در وطن، 4۔ خلوت در انجمن، 5۔ یاد کرد، 6۔ باز گشت، 7۔ نگاہ داشت، 8۔ یادداشت 9۔ وقوف عددی، 10۔ وقوف زمانی، 11۔ وقوف قلبی۔

سننے والوں کے ہوش جاتے رہے، زبانیں گنگ ہوگئیں اور شعور نے جواب دے دیا۔ کسی نے ڈرتے ڈرتے عرض کیا حضرت ہم ناقص العقل ہیں، ذرا ان کی وضاحت بھی فرمادیجئے۔ آپ نے فرمایا کہ اگر تم وضاحت چاہتے ہو تو سنو کہ

  • ہوش در دم ’ہوش در دم‘ سے مراد یہ ہے کہ انسان کا ہر سانس یاد اللہ کے لیے وقف ہو، کسی بھی سانس کو ضائع نہ ہونے دیا جائے۔ جس سانس میں خدا کی یاد نہ ہوئی وہ لمحہ غفلت میں گزرا۔ سانس کے اندر جاتے اور باہر آتے دونوں میں اس بات کا خیال رکھا جائے کہ غفلت کا لمحہ نہ ملنے پائے۔
  • نظر بر قدم ’نظر بر قدم‘ کا مطلب یہ ہے کہ سالک راہ چلنے میں نگاہ اپنے پاؤں کی پشت پر رکھے تاکہ بیجا نظر اِدھر اُدھر نہ پڑے اور دل محسوسات متفرقہ سے پراگندہ نہ ہو۔ کیونکہ یہ بات مانع حصول مقصود ہے۔ یا اس بات کا مطلب یہ ہے کہ سالک کا قدم باطن اس کی نظر باطن سے پیچھے نہ رہے۔
  • سفر در وطن ’سفر در وطن‘ کا اصل مطلب یہ ہے کہ سفر در نفس۔ انسان کو دنیاوی سفر کی بجائے اپنے اندر کا سفر اختیار کرنا چاہیے۔ دنیاوی سفر اسی قدر اختیار کرے کہ پیر کامل تک رسائی حاصل ہو جائے، دوسری حرکت جائز نہیں۔ اگر اپنے پیر کی قربت اور محبت میسر ہو جائے تو انسان کو سفر سے گریز کرنا چاہیے۔
  • خلوت در انجمن ’خلوت در انجمن‘ سے مراد یہ ہے کہ انجمن جو تفرقہ کی جگہ ہے اس سے تعلق رکھنے کے باوجود ازراہ باطن حق تعالیٰ کے ساتھ خلوت رکھے اور غفلت کو دل میں راہ نہ دے۔ یعنی بازار سے گذرتے ہوئے ذکر میں اس قدر مشغول ہو کہ بازار کے شور و غل کو نہ سن سکے۔ شروع میں یہ معاملہ بتکلف ہوتا ہے اور آخر میں بے تکلف۔
  • یاد کرد ’یاد کرد‘ کا مطلب یہ ہے کہ ہر وقت ذکر میں مشغول رہے، ذکر خواہ زبانی ہو یا قلبی۔
  • باز گشت ’باز گشت‘ سے یہ مراد ہے کہ جب ذاکر کلمۂ توحید کا دل سے ذکر کرے تو ہر بار حکم توحید کے بعد اپنے دل کی زبان سے یہ کہے کہ خدایا میرا مقصود تو اور تیری رضا ہی ہے۔
  • نگاہ داشت ’نگاہ داشت‘ کا مطلب یہ ہے کہ قلب کو خطرات و حدیثِ نفس سے نگاہ رکھے، یعنی کلمہ طیبہ کی تکرار کرتے وقت دل کو تمام وسوسوں سے دور رکھے۔ اور بہتر یہ ہے کہ کلمہ طیبہ کا ورد حبس دم کے ساتھ ہو۔
  • یاد داشت ’یاد داشت‘ سے مراد یہ ہے کہ دوام آگہی بحق سبحانہ (یعنی ہمیشہ ہمیشہ کے لیے اللہ رب العزت کا ذکر قلب و روح میں سرایت کرجائے) اور یہ دوام آگہی اس حد تک غالب ہو کہ سالک کو اپنے وجود کا بھی شعور نہ رہے (اور جب اس بے شعوری کا بھی شعور نہ رہے تو یہ فنائے فناء کہلاتا ہے اور یہی یاد داشت ہے)۔ ایک خادم نے ادب سے اٹھ کر عرض کیا حضرت نگہداشت اور یادداشت میں کیا فرق ہے۔ فرمایا نگہداشت میں طالب اپنی کوشش سے رب کی طرف متوجہ ہوتا ہے اور یادداشت میں بلا کوشش خود بخود قلب خدا کی طرف متوجہ و مشغول ہوجاتا ہے۔
  • وقوف عددی ’وقوف عددی‘۔ اس سے مراد ذکر نفی اثبات میں عدد ذکر سے واقف رہنا ہے، یعنی ذاکر اس ذکر میں سانس کو طاق عدد پر چھوڑے نہ کہ جفت پر، جیسے 3، 5، 7، 11، 13۔ کیونکہ ارشاد ہے ”اللہ وتر یحب الوتر“ خدا ایک ہے اور اکیلے کو دوست رکھتا ہے۔
  • وقوف زمانی ’وقوف زمانی‘ سے مراد ہے کہ واقف نفس رہے، پاس انفاس کو ملحوظ رکھے یعنی محاسبہ رکھے کہ سانس حضور میں گذرتا ہے یا غفلت میں۔ بصورت اطاعت شکر بجا لائے اور بصورت غفلت و معصیت میں عذر خواہی کرے اور استغفار کرے۔ یہ محاسبہ کہلاتا ہے۔
  • وقوف قلبی ’وقوف قلبی‘ سے مراد یہ ہے کہ سالک ہر آن ہر لحظہ اپنے قلب کی طرف متوجہ رہے اور قلب خدا کی طرف متوجہ رہے تاکہ سب طرف کی توجہ ٹوٹ کر معبود حقیقی کی طرف توجہ رہ جائے اور خطرات اور وسوسے قلب میں داخل نہ ہوں، خصوصًا ذکر کے وقت اس کا پورا پورا خیال رکھے۔ وقوف قلبی خواجہ عبد الخالق کے نزدیک بہت ضروری اور رکن عظیم ہے اور دارومدار طریقہ نقشبندیہ کا اسی پر ہے۔

آپ کی اس تشریح و تقریر کا لوگوں پر زبردست اثر ہوا اور لوگوں کو آپ کی قدر و منزلت کا اندازہ ہوا۔ جو لوگ آپ کو ایک عام انسان کی نظر سے دیکھتے تھے ان کے دلوں میں آپ کی ہیبت اور رعب بیٹھ گیا اور مریدین کے دلوں میں آپ کی عزت و تکریم میں زیادہ اضافہ ہوا۔[3]

وصال[ترمیم]

ایک مرتبہ خواجہ عبد الخالق نہایت علیل ہو گئے، اصحاب و مریدین چاروں طرف جمع تھے۔ یکدم آپ نے چشم مبارک وا فرمائی اور ارشاد فرمایا لوگو تمہیں مبارک ہو کہ حق سبحانہ و تعالیٰ نے مجھے اپنی رضامندی کی خوشخبری دی ہے۔ یہ سننا تھا کہ لوگوں کی آنکھوں سے آنسو رواں ہوئے، اس لیے کہ لوگوں کو یقین تھا کہ اب یہ ماہتاب کامل روپوش ہوا چاہتا ہے۔ آپ نے لوگوں کی جذباتی حالت کو ملاحظہ فرمایا کہ لوگ بار بار دعا کی خواہش کر رہے ہیں تو آپ نے ارشاد فرمایا دوستو تم کو مبارک ہو کہ حق تعالیٰ سبحانہ نے مجھے یہ خوشخبری دی ہے، اس طریقہ کو جو لوگ اختیار کریں گے اور آخر تک اس پر قائم رہیں گے میں ان سب کو بخش دوں گا اور سب پر اپنی رحمت نازل فرماؤں گا۔ پس بہت زیادہ کوشش کرو۔ یہ سننا تھا کہ لوگوں پر جوش و جذبہ اور گریہ کی کیفیت طاری ہو گئی۔ تھوڑی دیر کے بعد آواز آئی کہ

یٰاَیَّتُھَا النَّفسُ المُطمَئِنَّةُ ارجِعِی اِلَا رَبِّکِ رَاضِیَةً مَّرضِیَّة

”اے نفس مطمئنہ اپنے رب کی طرف آ کہ تو اس سے راضی اور وہ تجھ سے راضی ہو“۔

یہ سن کر احباب و اصحاب نے دیکھا کہ آپ واصل باللہ ہوچکے ہیں۔ آپ کی تاریخ وصال پر مختلف آراء ہیں۔ بعض نے 616ھ، بعض نے 617ھ اور بعض روایات میں 615ھ ہے۔ تذکرة المشائخ نقشبندیہ اور صوفیائے نقشبند نے آپ کا وصال 12 ربیع الاول 675ھ لکھا ہے۔ اس طرح یہ آفتاب ولایت منبع علم و عرفان خواجہ عبد الخالق غجدوانی اپنے خالق حقیقی سے، اپنے محبوب حقیقی سے جا ملے۔[4]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. شرح کلام جامی ڈاکٹر شمس الدین، صفحہ 1114، مشتاق بک کارنرلاہور
  2. تذکرہ مشائخ سیفیہ از محمد عرفان طریقتی صفحہ 110 ناشر بہار اسلام پبلیکیشنز لاہور
  3. http://www.islahulmuslimeen.org/urdu/silsila/10.htm
  4. http://www.islahulmuslimeen.org/urdu/silsila/10.htm