نور بخش خراسانی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش
2-395d99b057.jpg

شاہ سید محمد نوربخش قہستانی ایک صوفی, عالم اورنوربخشیہ مسلمانوں کے مذہبی فقہ تھے. انہوں نے فقہۃ الحوط اور کتاب الاعتقادیہ نامی کتاب لکھی ہے. نوربخش سلسلہ طریقت (سلسلہ زھب) کے 20 خلیفہ مجازی ( نائب امام) تھے ۔نوربخش کا اصل نام محمد بن محمد بن عبداللہ تھا[1] ۔ان کے والد قائن میں اور دادا لحصاء(بحرین) میں پیدا ہوۓ ۔کچھ غزل میں انھوں نے لقب "لحصوی" استعمال کیا ہے. ان کے والدنے قہستان کو ہجرت کی، جہاں سید محمد نوربخش 795ھ بمطابق 1393ء میں پیدا ہوۓ۔.وہ سات سال کی عمر تھے جب انھوں نے قرآن حفظ کیا۔ پھر وہ خواجہ اسحق ختلانی کے خاص شاگرد بن گۓ جو کے میر سید علی ہمدانی کے مرید اور جانشین تھے۔

سلسلہ ذہب[ترمیم]

سلسلہ ذہب کے معنی سونے کی زنجیر کے ہیں۔ اصل میں سلسلہ ذہب سے مراد علی بن ابی طالب سے لے کر امام مہدی تک کے سلسلے کو سلسلہ ذہب کہتے ہیں اور نوربخشی لوگ بھی بارہ آئمہ کے پیروکار ہیں اسلۓ انکا سلسلہ تصوف بھی سلسلہ زھب کہا جانے لگا نیز نوربخشی عقیدے کے مطابق امام مہدی غیب میں ہیں لہذا ان کے نائب ہی ان کے ظہور تک دین کو سنبھالنے کے فرائض انجام دیں گے۔سب سے پہلے نائب امام کاعہدہ معروف کرخی حقیقی امام علی رضا سے ملا۔

وفات نوربخش[ترمیم]

شاہ سید محمد نوربخشؒ شاہ رخ تیموری کے مرنے کے بعدگیلان سے (رے)تہران کے علاقہ میں چلے گۓ۔ آپ نے وہاں ایک نفیس بستی آباد کی جسے سولغان کہتے ہیں۔ وہاں ایک باغ اور مسجد تعمیر کی۔بقیہ زندگی یہیں عبادات و بندگی درس و تبلیغ اور تصنیف و تالیف میں گزاری۔ یہاں تک کہ 63 سال کی عمر میں بروز جمعرات بوقت چاشت 14 ربیع الاول 869ھ[2] کو اس دار فانی سے دارلبقا کی طرف انتقال کرگۓ۔

مزار[ترمیم]

انکی کی قبر سولغان کے محلہ پائن میں مشرق کی طرف نہر سولغان سے 200 کلو میٹر کے فاصلے پر واقع

مزار نوربخش

ہے[3]۔روسی انقلاب کے دوران بعض لالچی شرپسندوں نے خزانے کی لالچ میں اسے کھود کر لوٹ لیا۔1351ھ میں آپ کے مزار مبارک پر کو ئی سنگ مزار تک نہ تھا۔ ۔مزار سے ملحق مسجد،لائبریری اور مہمان خانے، زائرین کےلیے رہائش گاہیں تعمیر کی گئیں ہیں۔

حوالاجات[ترمیم]

  1. مولانا یونس سلتروی، نوربخش اور نوربخشیت، صفحات:100 
  2. احوال و آثار شاہ سید محمد نوربخش
  3. مولوی حمزہ علی (1/5)، "3"، نورالمومنین، 1، انجمن صوفیہ نوربخشیہ، ص:53