نور بخش خراسانی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں
محمد نور بخش خراسانی
محمد نور بخش خراسانی
2-395d99b057.jpg
خراسانی کی خیالی تصویر
پیدائش جمعہ 27 محرم 795ھ (13 دسمبر، 1392ء )[1]
وفات 869ھ (1464ء)[2]
نسل ایرانی
دور جدید دور
شعبۂ زندگی ایشیا
پیشہ عالم
مذہب اسلام
فقہ تصوف
مکتب فکر بارہ امام
شعبۂ عمل عقیدہ، فقہ، تصوف

شاہ سید محمد نوربخش قہستانی ایک صوفی، عالم اورنوربخشیہ مسلمانوں کے مذہبی فقہ تھے۔ انہوں نے فقہۃ الحوط اور کتاب الاعتقادیہ نامی کتاب لکھی ہے۔ نوربخش سلسلہ طریقت (سلسلہ زھب) کے 20 خلیفہ مجازی ( نائب امام) تھے۔ نوربخش کا اصل نام محمد بن عبد اللہ تھا۔[3]ان کے والد قائن میں اور دادا لحصاء(بحرین) میں پیدا ہوئے۔ کچھ غزل میں انھوں نے لقب "لحصوی" استعمال کیا ہے۔ ان کے والدنے قہستان کو ہجرت کی، جہاں سید محمد نوربخش 795ھ بمطابق 1393ء میں پیدا ہوئے۔۔ وہ سات سال کی عمر تھے جب انھوں نے قرآن حفظ کیا۔ پھر وہ خواجہ اسحق ختلانی کے خاص شاگرد بن گئے جو کے میر سید علی ہمدانی کے مرید اور جانشین تھے۔

سلسلہ ذہب[ترمیم]

سلسلہ ذہب کے معنی سونے کی زنجیر کے ہیں۔ اصل میں سلسلہ ذہب سے مراد علی بن ابی طالب سے لے کر امام مہدی تک کے سلسلے کو سلسلہ ذہب کہتے ہیں اور نوربخشی لوگ بھی بارہ ائمہ کے پیروکار ہیں اس لیے انکا سلسلہ تصوف بھی سلسلہ زھب کہا جانے لگا نیز نوربخشی عقیدے کے مطابق امام مہدی غیب میں ہیں لہذا ان کے نائب ہی ان کے ظہور تک دین کو سنبھالنے کے فرائض انجام دیں گے۔ سب سے پہلے نائب امام کاعہدہ معروف کرخی حقیقی امام علی رضا سے ملا۔

وفات نوربخش[ترمیم]

شاہ سید محمد نوربخشؒ شاہ رخ تیموری کے مرنے کے بعدگیلان سے (رے)تہران کے علاقہ میں چلے گئے۔ آپ نے وہاں ایک نفیس بستی آباد کی جسے سولغان کہتے ہیں۔ وہاں ایک باغ اور مسجد تعمیر کی۔ بقیہ زندگی یہیں عبادات و بندگی درس و تبلیغ اور تصنیف و تالیف میں گزاری۔ یہاں تک کہ 63 سال کی عمر میں بروز جمعرات بوقت چاشت 14 ربیع الاول 869ھ[4] کو اس دار فانی سے دارلبقا کی طرف انتقال کرگئے۔

مزار[ترمیم]

انکی کی قبر سولغان کے محلہ پائن میں مشرق کی طرف نہر سولغان سے 200 کلو میٹر کے فاصلے پر واقع

مزار نوربخش

ہے۔[5]روسی انقلاب کے دوران میں بعض لالچی شرپسندوں نے خزانے کی لالچ میں اسے کھود کر لوٹ لیا۔1351ھ میں آپ کے مزار مبارک پر کو ئی سنگ مزار تک نہ تھا۔۔ مزار سے ملحق مسجد،لائبریری اور مہمان خانے، زائرین کے لیے رہائش گاہیں تعمیر کی گئیں ہیں۔

حوالہ جات[ترمیم]

  1. Walbridge، Linda S. (2001-08-06)۔ The Most Learned of the Shi'a : The Institution of the Marja' Taqlid: The۔ آئی ایس بی این 978-0-19-534393-9۔ 
  2. Stellrecht، Irmtraud (1997)۔ The Past in the Present: Horizons of Remembering in the Pakistan Himalaya۔ آئی ایس بی این 978-3-89645-152-1۔ 
  3. مولانا یونس سلتروی، نوربخش اور نوربخشیت، صفحہ 100 
  4. احوال و آثار شاہ سید محمد نوربخش
  5. مولوی حمزہ علی (1/5)، "3"، نورالمومنین 1، انجمن صوفیہ نوربخشیہ، صفحہ 53 Extra |pages= or |at= (معاونت)