شاہ نعیم اللہ بہرائچی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں
مولانا شاہ نعیم اللہ بہرائچی
احاطہ نعیم اللہ شاہ میں واقع آپکا مقبرہ
پیدائش 1738ءمطابق 1153ھ
موضع بھدوانی قصبہ فخرپور ضلع بہرائچ اتر پردیش ہندوستان
وفات 26مئی 1803ء مطابق 5 صفر المظفر 1218ھ
اسمائے دیگر مولانا شاہ نعیم اللہ نقشبندی مجددی مظہری بہرائچی
وجہِ شہرت سلسلہ نقشبندیہ کے بزرگ
مذہب اسلام

مولانا شاہ نعیم اللہ کی پیدائش 1153ھ مطابق 1738ء میں ہوئی۔ آپ کا مقام پیدائش موضع بھدوانی قصبہ فخرپورضلع بہرائچ ہے[1] ۔آپ کے والد کا نام غلام قطب الدین تھا۔

سلسلہ نسب[ترمیم]

شاہ نعیم اللہ علوی سید تھے۔آپ کے مورثِ اعلیٗ خواجہ عماد ؒخلجی ہمراہ سید سالار مسعود غازی کے ہندستان آئے تھے اور بارہ بنکی کے قصبہ کینتور میں جنگ میں جام شہادت نوش فرمایا تھا۔[2] آپ کا سلسلہ نسب اس طرح ہے۔ شاہ نعیم اللہ بن غلام قطب الدین عرف ملک کالے بن ملک غلام محمد بن ملک آدم بن ملک مبارک بن ملک جلال بن ملک نصیرالدین بن ملک ہیبت بن ملک احمد بن ملک حسام الدین تا خواجہ عماد خلجیؒ[1]

تعلیم و تربیت[ترمیم]

شاہ نعیم اللہ نے سات سال کی عمر میں شیخ محمد روشن بہرائچی کی خدمت رسم بسم اللہ ادا کی۔رسم بسم اللہ کے ایک سال ہی سال میں آپ نے قرآن مجید ختم فرما کر درسیہ فارسیہ کی طرف توجہ فرمائی اور شہر بہرائچ کے اساتذہ سے مختصرات کی تعلیم حاصل کی ۔اس کے بعد علوم عربیہ کی تحصیل کا شوق ہوا اور اس کو حٓصل کرنے کے لیے لکھنؤ ،شاہجہاں پور ،بریلی ،مرادآباد ،دہلی کے متعدد سفر کیا۔آپ اپنی خود نوشت سوانح حیات میں لکھتے ہیں کہ 1171ھ میں لکھنؤ کا سفر کیا اور سرائے معالی خاں میں تکیہ شاہ ابراہیم میں قایام کیا اور مولوی محمد خلیل لکھنوی سے صرف ونحوکی کتابیں پڑھیں۔[1]اس کے بعد شاہجہاں پورمیں مولوی امام بخش شاہجہاں پوری سے اور بعد میں بریلی میں مولوی شہاب الدین بریلوی سے علم حٓصل کیا۔اس کے بعد دہلی اورمرادآباد کی سیر کرتے ہوئے دارا نگر پہنچے اور مولوی برکت الہ آبادی کے مدرسہ میں تعلیم حاصل کی۔1177ھ میں لکھنؤ گئے اور تکیہ شاہ محمد عاقل سبز پوش چشتی میں قیام کیا اور مولوی محمد ولی انصاری شاگرد ملا نظام الدین فرنگی محلی کی خڈمت میں رہ کر تمام علوم عقلی و نقلی سے فراغت حاصل کی۔اور علم فرائض و خلاصتہ الحساب کی کتابیں مفتی عبد الرب لکھنؤی سے پڑھیں۔اور احادیث کی سند دوران کسب سلوک طریقہ دہلی میں شیخ الحدیث حاجی احمد شاگرد شاہ ولی اللہ محدث دہلوی سے حاصل کی اور علم تجوید وقرأت شیخ القراء سلطان یوسف ختلانی سے حاصل کی۔[1]

حصول تصوف[ترمیم]

علوم ظاہری سے فراغت کے بعد علم باطن حاصل کرنے کا شوق ہوا اور 1186ھ لکھنؤ میں مرزا مظہر جان جاناں کے خلیفہ محمد جمیل نقشبندی سے فیض باطنی حاصل کیا اور طر یقئہ نقشبندیہ مجدیہ کے اذکار و اشغال سیکھے۔[3] بعد میں 1189ھ مطابق 1775ء میں دہلی گئے اور مرزا مظہر جان جاناں کی خدمت میں پہنچ کر بیعت ہونے کا شرف حاصل کیا اور چار سال تک مرزا مظہر جان جاناں کی خدمت میں رہے اور خرقئہ خلافت و طر یقئہ نقشبندیہ،قادریہ چشتیہ اور سہروردیہ کی خلافت اور اجازت حاصل کر کے 1193ھ مطابق 1779ء میں بہرائچ واپس آئے۔[1]

حالات[ترمیم]

آپ مرزا مظہر جان جاناں کے خلیفہ تھے ۔ آپ چار سال تک مرزا مظہر جان جاناں کی صحبت میں رہے ، مرزا مظہر جان جاناں آپ کے بارے میں فرمایا کرتے تھے کہ تمہاری (شاہ نعیم اللہ بہرائچی) چار سال کی صحبت دوسروں کی بارہ سال کی صحبت کے برابر ہے ۔ مرزا مظہر جان جاناں آپ پر نہایت عنایت فرماتے اور فرماتے تھے کہ نور نسبت اور فیض صحبت سے عالم منور ہوگا ۔شاہ نعیم اللہ کو مرزا مظہر سے بروقت عطاء اجازت و خلافت ہر سہ جلد مکتوبات قدسی امام ربانی مجددالف ثانی عطا کی اور فرمایا کہ یہ دولت یعنی مکتوبات شریف جو میں نے تم کو دیے کسی مرید کو نہیں دیے، مشائخ طریقت جو اپنے مریدوں کو خلعت خلافت دیا کرتے ہیں جو میں نے تم کو دیا ہے یہ سب سے بہتر ہے اس نعمت کا شکر اور قدر کرنا یہ تمہارے واسطے ظاہر اور باطن کا ایک خزانہ ہے اور اگر طالب جمع ہوا کریں اور فرصت ہوا کرے تو بعد عصر کے سب کے سامنے پڑھا کرنا اور بجائے مرشد اور مربی کے ہے ۔آپ بکمال اخلاق حسنہ آراستہ تھے اور صبرمیں نہایت صبرو توکل سے اپنےاوقات یاد خدا میں بسر کیا کرتے تھے ۔

مضامین بسلسلہ

تصوف

Maghribi Kufic.jpg

شاہ نعیم اللہ بہرائچی کو شاہ غلام علی نے جامع معقول و منقول کہا ہے ۔[4] 1186ھ میں مرزا مظہر جان جاناں کے ایک خلیفہ محمد جمیل دہلی سے لکھنؤ آئے ۔،مولانا نعیم اللہ نے تحصیل علم ظاہری سے فراغت حاصل کر لی تھی،اس لیے ان سے طریقۂ نقشبندیہ مجدیہ مظہریہ میں بعیت کی۔پھر 1189ھ میں خود مرزا مظہر جان جاناں کی خدمت میں حاضر ہوئے [5] اور چار سال ان کی خدمت میں رہ کر مقامات عالیہ پر پہونچے [6] اس مدت میں ان کے گھر سے جو خطوط جاتے تھے وہ انہیں کھول کر نہیں پڑھتے تھے کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ وطن اور اہل وطن کی محبت ان کے کار خیر میں فتور پیدا کرے[7] ، خرقہ اجازت و خلافت حاصل کر کے وہ اپنے وطن لوٹے اور رشد ہدایت میں مشغول ہو ئے۔[4] شاہ نعیم اللہ نے لکھنؤ کے ایک محلہ بنگالی ٹولہ میں ایک مسجد اور خانقاہ تعمیر کرائی تھی اور کچھ دنوں وہاں بھی قیام کیا کرتے تھے۔[7]

خلفاء[ترمیم]

شاہ نعیم اللہ بہرائچی سلسلسہ نقشبندیہ مجددیہ مظہریہ کے مشہور بزرگ ہے۔آپکے خلفاء کی تعداد بہت زیادہ تھی۔آپ کے کچھ خلفاء کے نام آثار مرزا مظہر جان جاناں شہید مطبوعہ 2015 میں مصنف نے اس طرح لکھے ہیں۔

  • شاہ مراداللہ فاروقی تھانیسری لکھنوی (مزار مراد علی لین ،اکھاڑہ کریم اللہ شاہ متصل رائل ہوٹل (باپو بھون) لکھنؤ میں ہے۔[1]
  • مولوی محمد حسن کٹکی(مزار مولوی محلہ پوسٹ مہاسنگھ پور ضلع کٹک صوبہ اڑیسہ۔)
  • مولوی کرامت اللہ (مزار درگاہ پیر جلیل لکھنؤ)
  • مولوی نور محمد (مزار درگاہ پیر جلیل لکھنؤ)
  • مولوی بہاءالدین
  • حاجی سید احمد علی (مزار مسجد ٹاٹ شاہ چوک فیض آباد ادوھ)
  • سید محمد دوست (مزار مسجد ٹاٹ شاہ چوک فیض آباد ادوھ)
  • میر محمد ماہ
  • شاہ محمد تقی
  • مولوی جان محمد
  • مولوی خدا بخش
  • میر محمد امین
  • سید حسن شاہ
  • شیخ محمد یاسین
  • شیخ محمد حیات
  • شاہ محمد حسن
  • اسد علی
  • میر بندہ علی خاں

آپ کے شاگردوں کی خاصی تعداد تھی ۔ قاضی ثناء اللہ پانی پتی نے لکھا ہے کہ آل اولاد و شاگردان و مریدان مولوی نعیم اللہ صاحب[8]۔ آپ کے شاگردوں کے چند نام اس طرح ہیں۔

  • شاہ پیر غلام لکھنوی اور شاہ بدر علی لکھنوی خواہرزادہ شاہ محمد عاقل سبزپوش چشتی کاکوروی
  • مرزا عبداللہ عرف مرزا لالن فرزند مرزا شاہ علی متنبٗی اہلیہ مرزا مظہر جان جاناں [9]

تصانیف[ترمیم]

شاہ نعیم اللہ بہرائچی مرزا مظہر جان جاناں کے خاص خلیفہ تھے ۔آپ نے مرزا مظہر جان جاناں کے حالات پر دو کتابیں لکھی ہی ۔بشارات مظہریہ اور معمولات مظہریہ ان میں مرزا مظہر جان جاناں کے خاندانی اور ذاتی حالات اور مشغولیتوں کے علاوہ مرزا مظہر جان جاناں کے معمولات کا تفصیل سے ذکر ہے۔ بشارات مظہریہ قلمی اور ضخیم ہے اور 210 اوراق پر مشتمل ہے اس کا ایک نسخہ برٹش میوزیم (لندن) میں محفوظ ہے ، معمولات مظہریہ چھپ چکی ہے ۔شاہ نعیم اللہ نے مرزا مظہر جان جاناںصاحب کے مکتوبات کا ایک انتخاب بھی رقعات کرامت سعات کے نام سے تیار کیا تھا جو شائع ہو چکا ہے۔ سید ظفر احسن بہرائچی اپنی کتاب آثار حضرت مرزا مظہر جان جاناں شہیدؒ میں صفحہ 223 پر لکھتے ہیں کہ شاہ نعیم اللہ بہرائچی نے کئی کتابیں تالیف کی جو اس طرح ہے۔

  • بشارات مظہریہ (نسخہ برٹش میوزیم (لندن) میں محفوظ)
  • معمولات مظہریہ (مطبوعہ)معمولات مظہریہ
  • رسالہ دراحوال حضرت مرزا مظہر
  • مکتوبات مرزا مظہر جانِ جاناں
  • رقعات مرزا مظہر حصہ اول (مطبوعہ)
  • رقعات کرامت ساعت حصہ اول(مطبوعہ)
  • خود نوشت سوانح حیات (احوال نعیم اللہ بہرائچی) (غیر مطبوعہ)
  • مجموعئہ مکاتیب قاضی ثناء اللہ پانی پتی (مطبوعہ)
  • رسالہ انفاس الاکابر (در خصائص طر یقئہ نقشبندیہ) (مطبوعہ)
  • رسالہ انوراالضمائر (در تحیقیق درویشی ومعنی قیومیت (مطبوعہ)
  • رسالہ یقول الحق (در رد اعتراضات شیخ عبد الحق محدث دہلوی بر کلام حضرت مجدد)
  • رسالہ سلسلتہ الذہب (در سلوک طر یقئہ نقشبندیہ مجددیہ)
  • رسالہ المعصومہ
  • رسالہ ادعیہ ماثورہ (عربی/ فارسی)
  • مثنوی در مدح حضرت مظہرؔ و خلفائے ایشاں (اردو غیر مطبوعہ)
  • مثنوی در مدح سلاسل طر یقئہ نقشبندیہ مجددیہ (اردو غیر مطبوعہ)
  • متفرق اشعار بہ زبان اردو و فارسی
  • شرح سفر السعادت
  • حاشیہ رسالہ میر زاہد
  • حاشیہ رسالہ ملا جلال
  • خلاصئہ وصیت ہائے خاصہ از کلمات اکابر ثلثہ
  • خلاصئہ بیاض حضرت حاجی محمد اٖفضل محدث سیالکوٹی ( عربی/ فارسی)
  • خطبات جمعہ (عربی)
  • وصیت نامہ
  • مکاتیب شریفہ
  • دیباچہ(عربی) بر کتاب شیخ محمد عابد سنامی[1]

ذوق شخن[ترمیم]

شاہ نعیم اللہ مشہور صوفی بزرگ اور اردو شاعر مرزا مظہر جان جاناں کے خلیفہ تھے۔آپ نے مرزا مظہر جان جاناں سے تصوف کے رموز ونکات کے ساتھ شعر گوئی کی بھی تعلیم حاصل کی تھی۔[1]شاہ نعیم اللہ نے اردو میں متعد مثنویاں کہی ہیں۔ مجدد الف ثانی اور شاہ محمد عاقل سبز پوش چشتی کے قادریہ شجرہ کو فارسی میں نظم کیا تھا۔ نمونہ کلام

  • مرزا مظہر جان جاناں کے بارے میں یہ شعر کہتے ہے۔
عجب فیض و تاثیر صحبت میں ہے جو ہر سو وہاں غرق نسبت میں ہے
تو کر شکر حق کا نعیمؔ اللہ مِلا مرشد پاک مظہر سا شاہ

[1]

خدا آرذو دل کی حاصل کرے مجھے فیض اس کے میں شامل کرے
کرے عاصیوں کی دعا مستجاب کہ ہو اپنے مقصود سے کامیاب

مثنوی اردو [1]

خاندان[ترمیم]

شاہ نعیم اللہ بہرائچی کی اہلیہ کا نام بی بی راج رانی تھا۔[1] بی بی راج رانی مشہور صوفی بزرگ سید بڈھن بہرائچی کی اولاد امجاد میں سے تھیں۔قاضی ثناء اللہ پانی پتی اور شاہ غلام علی دہلوی نے اپنے مکتوبات میں یہی نام لکھا ہے۔شاہ نعیم اللہ کی اہلیہ کی وفات 1255ھ میں ہوئی۔آپ کا مزار شاہ نعیم اللہ کے پہلو میں ہے۔شاہ نعیم اللہ کے تین بیتے اور ایک بیٹی تھی۔بیٹوں اور بیٹی کے نام اس طرح ہیں۔

  • محمد اسماعیل (ولادت 1204ھ وفات 1209ھ تدفین احاطہ شاہ نعیم اللہ بہرائچی)
  • غلام شمس الدین (وفات 1209ھ )
  • غلام احمد باقی (ولادت 1209ھ وفات 1211 ھ)
  • بی بی نجیبتہ النساء عرف امتہ البتول (ولادت 1212ھ ) اہلیہ شاہ بشارت اللہ بہرائچی

[1] شاہ نعیم اللہ کے صاحبزادگان کا انتقال بچپن میں ہی ہو گیا تھاصرف آپ کی صاحب زادی بی بی نجیبتہ النساء عرف امتہ البتول نے ہی لمبی عمر پائی اور آپ کا نکاح شاہ بشارت اللہ بہرائچی سے ہوا تھا۔ شاہ بشارت اللہ بہرائچی کے ایک صاحب زادے شاہ ابوالحسن بہرائچی(1241ھ-1316ھ )ہوئے جن سے شاہ نعیم اللہ صاحب کا سلسلہ چلا اور آپ کے جانشین اور آپ کی خانقاہِ نعیمیہ کے مسندِ ارشاد پر فائز ہوئے۔بعد میں شاہ ابو الحسن کے صاحب زادے شاہ نور الحسن بہرائچی پھر ان کے صاحب زادے شاہ عزیزالحسن پھر ان کے صاحب زادے شاہ اعزازالحسن بہرائچی مسند ارشاد پر فائز ہوئے۔موجودہ وقت میں شاہ اعزازالحسن کے صاحب زادے سید ظفر احسن بہرائچی مسند ارشاد پر فائز ہے۔[1]

وفات[ترمیم]

شاہ نعیم اللہ بہرائچی کی وفات 5 صفر1218ھ مطابق 1803ء میں 65 سال کی عمر میں بروز جمعہ نماز عصر کی تیسری رکعت[1] کے سجدے میں شہر بہرائچ میں ہوئی تھی ۔آپ کی تدفین جہاں ہوئی وہ آج احاطہ شاہ نعیم اللہ (گیند گھر میدان) کے نام سے پورے شہر میں مشہور ہے ۔آپ کے مزار اور چہار دیواری کی تعمیر 1811ء مطابق 1226ھ میں اسی نقشہ کے مطابق کرائی گئی جس نقشہ[1] کے مطابق شاہ نعیم اللہ بہرائچی نے مرزا مظہرجان جاناں کی مزار کی تعمیر کرائی تھی۔جو آج بھی اسی حالت میں موجود ہے۔ اسی احاطہ کے ایک حصہ میں محکمہ تعلیم کے دفاتر اور ایک سرکاری نسوا ں انٹر کالج بھی قائم ہیں۔

حوالہ جات[ترمیم]

  1. ^ 1.00 1.01 1.02 1.03 1.04 1.05 1.06 1.07 1.08 1.09 1.10 1.11 1.12 1.13 1.14 آثار مرزا مظہر جان جاناں شہید مطبوعہ 2015
  2. خود نوشت سوانح حیات شاہ نعیم اللہ قلمی نسخہ
  3. بشارات مظہریہ
  4. ^ 4.0 4.1 مقامات مظہری از شاہ غلام علی
  5. مرزا مظہر جان جاناں اور ان کا کلام مطبوعہ1979 دارالمصنفین اعظم گڑھ
  6. مقامات مظہری
  7. ^ 7.0 7.1 معمولات مظہریہ
  8. مکتوب قلمی قاضی ثناء اللہ پانی پتی
  9. خود نوشت سوانح حیات شاہ نعیم اللہ
  • مشائخ نقشبندیہ مجددیہ از مولانا محمدحسن نقشبندی مجددی
  • آثار حضرت مرزا مظہر جان جاناں شہیدؒ از سید ظفر احسن بہرائچی مطبوعہ 2015ء ناشر خانقاہ نعیمیہ بہرائچ

بیرونی روابط[ترمیم]