محمد ادریس عنبربہرائچی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search

محمد ادریس عنبربہرائچی
پیدائشمحمد ادریس
7 مئی 1949ء
سکندر پور تحصیل مہسی بہرائچ،اتر پردیش بھارت
پیشہ،شاعری ،ادب سے وابستگی،سرکاری نوکری سے سکبدوش
زباناردو،سنسکرت
قومیتبھارتی
نسلبھارتی
شہریتبھارتی
موضوعنعت ،غزل ،،نظم
نمایاں کامسونی ٹہینی پر ہریل (ساہتیہ اکیڈمی اعزاز یافتہ )

محمد ادریس عنبر ؔ بہرائچی کی ولادت 7 مئی 1949ء کو ضلع بہرائچ کے ترقیاتی حلقہ مہسی کے سکندر پور علاقہ میں ہوئی۔آپ کے والد کا نام جمیل احمد جمیلؔ تھا۔جو مقامی سطح پر مشہور نعتیہ شاعر تھے۔

ادبی خدمات[ترمیم]

عنبر ؔ بہرائچی نے ابتدائی تعلیم حاصل کرنے کے بعد آپ نے جعرافیہ میں ایم۔اے کیا اور صحافت کا ڈپلوما بھی حاصل کیا۔پو۔پی کے سول سروس کے مقابلہ جاتی امتحان میں بیٹھے اور کامیاب ہوئے مختلف عہدوں پر فائز رہے۔آپ اپنی تصنیف ’’روپ انوپ ‘‘میں اپنے حالت لکھتے ہیں کہ ’’جب میں پانچ برس کا تھا ،یہ میری زندگی سے متعلق جیٹھ مہنیے کی تپتی ہوئی دپریاں تھیں۔میری خوش بختی اور اللہ رب العزت کااحسان کہ میرے والد مرحوم جمیل احمد جمیلؔ(جمیؔل مہاراج گنجوی) صاحب اور میرے تیسرے چچا محمد افتخار صاحب نے گاؤں میں ہر جمعرات کو برپا ہونے والی میلاد کی محفلوں میں نعت خوانی کی تہذہب سکھائی۔چونکہ خوش آواز تھااس لیے قرب و جوار کی ان محفلوں میں نعت خوانی کرتا رہتا تھا۔اکبر ؔوارثی میرٹھی مرحوم اور مولانا احمد رضا خان کی نعتیں اور سلام نے سرشار کر رکھا تھا۔اس پاکیزہ مشغلے نے مجھے ثابت قدم رکھا اور عملی زندگی کے تاریک پہلوؤں کا سایہ نہیں پڑنے دیاورنہ میرے جیسا بہت کمزور شخص خود کسی لائق نہیں تھا۔مسیں بھیگنے لگیں تو اپنے گہوارے کی زبان اودھی میں نعتیہ گیت لکھنے لگا اور اپنے گاؤں کے اطراف برپا ہونے والی نعتیہ محفلوں میں پڑھتا رہا۔لوگ خوش ہوکر دعائیں دیتے رہے۔ایم۔اے کرنے کے بعد تقریباً چھ ہفتے لکھنؤ میں گزارے۔اسی دوران استاد بابا جمال ؔبہرائچی مرحوم نے میرا تخلص عنبرؔ تجویز فرمایا۔اللہ انھیں غریق رحمت کرے۔بعد می1973ء میں الہ آباد پہنچا۔دائرہ شاہ محمدی،کہولن ٹولہ اور دائرہ شاہ اجمل کی محفلوں نے اس مشغلے کومہمیز کیا۔1972ءمیں ہی عربی یونی ورسٹی مبارک پور کے افتتاحی جلسے میں ہزاروں علما کی موجودگی میں حافظ ملت حضرت مولانا عبد العزیز صاحب کی دعائیں حاصل ہوئی اسی جلسے کئی اور یہیں حضرت مولانا ارشدالقادری اور دوسرے اہم علما کرام نے بھی میری حوصلہ افزائی کی۔مولانا قمرالزماں صاحب ،مولانا بدر القادری صاحب اور مولانا شمیم گوہر صاحب سے بھی نیاز حاصل ہوا۔[1] پروفیسر وہاب اشرفی لکھتے ہیں کہ عنبر بہرائچی نے اس وقت سے لکھنا شروع کیا جب وہ ہائی اسکول کے طالب علم تھے۔اردو کے علاوہ ہندی اور انگریزی میں بھی لکھتے ہیں۔’’اقبال:ایک ادھین‘‘1985 ء میں ہندی میں شائع ہوئی تھی۔1987ء آپ نے ایک رزمیہ قلمبند کیا جس کا نام تھا’’مہابھشکرمن ‘‘ یہ مہاتما بدھ کی تعلیمات پر مبنی ہے۔پھر نظموں اور غزلوں کا مجموعہ ’’ڈوب ‘‘ کے نام سے شائع ہوا ۔’’سوکھی ٹہنی پر ہریل ‘‘ 1995ء میں شائع ہوئی۔اس پر آپ کو ساہتیہ اکادمی انعام بھی حاصل ہوا۔اس کے بعد 1996ء میں ایک اور ایپک ’’لم یات نظیرک فی نظر‘‘ جو حضرت محمدﷺکی تعلیمات کے باب میں ہے شائع ہوئی۔ آپ کی ایک اہم کتاب ’’سنسکرت شعریات ‘‘ہے یہ کتاب 1999ء میں شائع ہوئی۔ان کی غزلوں کا ایک مجموعہ ’’خالی سیپیوں کا اضطراب ‘‘2000ء میں شائع ہوئی۔‘‘ آگے پروفیسر وہاب اشرفی صاحب لکھتے ہیں کہ ’’عنبر ؔ بہرائچی کی حیثیت منفرد ہے۔ان کی شاعری کا ایک سرسری مطالعہ بھی بتا دے گا کہ شمالی ہندوستانی بولیوں پر ان کی کتنی گہری نظر ہے۔اودھی ،برج،بھوجپوری سے ان کی واقفیت کا ہر قدم پر احساس ہوتاہے۔لیکن یہی نہیں بلکہ اس تعلق سے متعلقہ تہذیبی اور ثقافتی زندگی سے بھی ان کی آشنائی قابل لحاظ ہے۔ان کی شاعری کا پس منظر عام طور سے ہندوستان کی دیہی زندگی اور معاشرت پر مبنی ہے۔آپ نے جو ادبی رزمیہ قلمبند کیا ہے اس کی ہیئت کچھ قدیم سنسکرت کے متن پر ہے لیکن ساتھ ہی ساتھ قصیدہ اور غزل کی جو محترم روایات رہی ہیں ان پر بھی گہری نظر ہے۔[2]

تصانیف[ترمیم]

آپ کو 2000 میں شعری مجموعہ سوکھی ٹہنی پر ہریل کے لیے ساہتیہ اکادمی ایوارڈ [3]سے سرفراز کیا گیا۔آپ نے اردو،ہندی اور اودھی زبان میں کئی کتابیں تصنیف کئی ہیں۔آپ سنسکرت شعریات کے ماہ رہے۔آپ کی سنسکرت شعریات پر کئی کتابیں شائع ہو چکی ہیں۔ جن میں اہم کتابوں کے نام اس طرح ہیں۔

  1. مہا بھنشکرمن
  2. سنسکرت بوطیقا
  3. سنسکرت شعریات
  4. آنند وردھن اور ان کی شخصیت
  5. روپ انوپ
  6. خالی سیپوں کا اضطراب
  7. ڈوب
  8. گمنام جزیروں کی تمکنت
  9. اقبال ایک ادھین

ذاتی زندگی[ترمیم]

1979ء میں عنبر ؔبہرائچی کا انتخاب اتر پردیش سول سروس میں ہو گیا اور اترپردیش کے مختلف اضلاع میں اہم عہدوں پر فائز رہے۔ملازمت سے ریٹائر ہونے کے بعد آپ نے لکھنؤ میں سکونیت اختیار کی اور وہیں رہتے ہے۔آپ کی اہلیہ محترمہ شائشتہ عنبر ہیں۔جو حقوق نسواں کے لیے کام کرتی ہے،اور آل انڈیا ویمنس مسلم پرنسل لا بورڈ کی صدر ہیں۔

نمونہ کلام[ترمیم]

آج پھر دھوپ کی شدت نے بڑا کام کیا ہم نے اس دشت کو لمحوں میں کنول فام کیا
میرے حجرے کو بھی تشہیر ملی اس کے سبب اور آندھی نے بھی اس بار بہت نام کیا
روز ہم جلتی ہوئی ریت پہ چلتے ہی نہ تھے ہم نے سائے میں کجھوروں کے بھی آرام کیا
دل کی بانہوں میں سجاتے رہے آہوں کی دھنک ذہن کو ہم نے رہ عشق میں گم نام کیا
شہر میں رہ کے یہ جنگل کی ادا بھول گئے ہم نے ان شوخ غزالوں کو عبث رام کیا
اپنے پیروں میں بھی بجلی کی ادائیں تھیں مگر دیکھ کر طور جہاں خود کو سبک گام کیا
شاہراہوں پہ ہمیں تو نہیں مصلوب ہوئے قتل مہتاب نے خود کو بھی لب بام کیا
جانے کیا سوچ کے پھر ان کو رہائی دے دی ہم نے اب کے بھی پرندوں کو تہہ دام کیا
ختم ہو گی یہ کڑی دھوپ بھی عنبرؔ دیکھو ایک کہسار کو موسم نے گل اندام کیا

[4]

حوالہ جات[ترمیم]

بیرونی روابط[ترمیم]

زمرہ1949ء کی پیدائشیں