اکمل نذیر

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
محمد اکمل نذیر اکملؔ
Akmal Nazir.jpg
محمد اکمل نذیر اکملؔ
پیدائش محمد اکمل نذیر
1972
محلہ قاضی پورہ جنوب شہر بہرائچ اتر پردیش بھارت
پیشہ تدریسی
زبان اردو،انگریزی زبان
قومیت بھارتی
نسل بھارتی
شہریت بھارتی
تعلیم بی۔اے۔ایم۔اے
مادر علمی اودھ یونی ورسٹی فیض آباد
موضوع غزل
ویب سائٹ
http://akmalsenglishclasses.blogspot.in/

محمد اکمل نذیر کی پیدائش 1972ء میں شہر بہرائچ کے محلہ قاضی پورہ میں ہوئی۔ آپ کے والد کا نام محمد نذیر خاں اور والدہ کا نام شاہدہ بیگم تھا۔ آپ کے والد شہر بہرائچ کے ریاضی کے مشہور استادتھے۔ آپ کے والد کو ریاضی میں گولڈ میڈلیٹ تھے۔ آپ کے والد شہر بہرائچ کے ممتاز نشر نگار بھی تھے۔

تعلیم[ترمیم]

اکمل نذیر کی ابتدائی تعلیم ماڈرن مشن اسکول (موجودہ وقت میں مارنگ اسٹار اکادمی)بہرائچ میں ہوئی۔ ہائی اسکول اور انٹر کے امتحانات شہر بہرائچ کے مشہور کالج آزاد انٹر کالج سے پاس کیا۔ بی۔ اے۔ اور ایم۔ اے کی ڈگریاں اودھ یونی ورسٹی کے کسان پوسٹ گریجوٹ کالج بہرائچ سے حاصل کیں۔ فکمل نذیر کے والد محمد نذیر خاں نہ صرف استاد کی حیثیت سے مقبول تھے بلکہ وہ ایک مشہور نشر نگار بھی تھے۔ اکمل نذیر نے صرف 18 سال کی عمر سے شعر کہنا شروع کیا۔ اکمل نذیر نے باقاعدہ کسی استاد شاعر سے شرف تلمذ حاصل نہیں کیا۔ اکمل نذیر نے غالب ،الطاف حسین حالی ،علامہ اقبال اور فیض احمد فیض کے کلاموں کا مطالعہ کیا اور فیض احمد فیضؔ کی شاعری سے کافی کچھ سیکھا۔ اکمل نذیر کی شاعری میں عصر حاضر کے تقاضوں کے ساتھ ساتھ روایتی رنگ بھی پایا جاتا ہے۔ اکمل نذیر گوشہ نشین رہ کر شاعری کر تے ہے لیکن اب سوشل میڈیا کے دور میں فیس بک کے ذریعہ آپ کی غزلیں،قطعات وٖغیر ہ مننظر عام پر آنے لگے ہیں۔ اکمل نذیر نہ صرف اردو میں شاعری کرتے ہیں بلکہ انگریزی زبان میں بھی شاعری کرتے ہیں۔ آپ نے مختلف عنوانات کے تحت 200 سے زائد نظمیں بھی لکھی ہیں۔ آپ کی ایک انگریڑی نظم A Humble Complaintکو poemhunter.com نے دنیا کی 500 بہترین منظومات میں شامل کیا۔ یہ نظم Overlooked Acadmy America کے روزانہ کے پروجیکٹ کا حصہ رہی ہے۔ ڈاکٹر نعیم اللہ خاں خیالی،شفیق بریلوی ،ڈاکٹر سعید عارفی سے آپ کا رابطہ رہا۔

نمونہ کلام[ترمیم]

تم کو ہے گر قبول تو حاضر ہے نقد یہ

ہوتا نہیں ہے جان کا سودا ادھار میں

رکھ کے قدموں میں کسی کے وہ کلاہ آبرو

گوشہ دل میں چھپائے شوق سرداری رہا

منجمد تھا جن کی آنکھوں میں تمناؤں کا خوں

کس قدر دھندلا وہاں پر خواب بیداری رہا

کیا جانئے کہ جان پر ڈھاتا ہے کیا ستم

شوق سخنوری بھی غم روز گار میں

پوچھتے کیا ہو ہمارے ظرف کی اکملؔ یہاں

صحبت اغیار میں بھی لہجہ میعاری رہا

حوالہ جات[ترمیم]

بیرونی روابط[ترمیم]