مندرجات کا رخ کریں

منفعت علی بہرائچی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
منفعت علی بہرائچی
مذہباسلام

مولانا منفعت علی بہرائچی (پیدائش: 5 جولائی 1916ء – وفات: 1990–1991ء) ایک ممتاز عالمِ دین، مدرس اور اصلاحی رہنما تھے جنھوں نے علمی، مذہبی و سماجی شعبوں میں نمایاں خدمات انجام دیں۔ آپ نے تحریک آزادی ہند میں بھی حصہ لیا اور اپنے علاقے میں اصلاحِ معاشرہ کی جدوجہد جاری رکھی۔

ابتدائی زندگی اور تعلیم

[ترمیم]

مولانا منفعت علی کی ولادت ضلع بہرائچ کے گاؤں ریولیا میں ہوئی۔ والد کا نام مدد علی تھا۔ ابتدائی تعلیم مڈل اسکول قیصرگنج میں حاصل کی۔ 1935ء میں جامعہ مسعودیہ نورالعلوم بہرائچ میں داخلہ لیا، 1937ء تک وہیں تعلیم پائی اور پھر دارالعلوم دیوبند تشریف لے گئے۔ 1940ء میں واپس نورالعلوم آکر وہاں کے مایہ ناز اساتذہ سے اکتسابِ فیض کیا۔ مزید تعلیم کے لیے مظاہر العلوم سہارنپور بھی تشریف لے گئے اور بالخصوص حسین احمد مدنی کی صحبت نے آپ کی علمی و روحانی تربیت میں گہرا اثر ڈالا۔

اصلاحی خدمات

[ترمیم]

تعلیم سے فراغت کے بعد آپ نے اپنے علاقے میں شرک و بدعات اور غیر شرعی رسومات کے خاتمے کی جدوجہد کی۔ اسی مقصد کے تحت ریولیا میں ایک مکتب قائم کیا جو بعد میں مدرسہ اسلامیہ حسینیہ ریولیا کے نام سے مشہور ہوا۔ اکابر نورالعلوم نے آپ کی علمی و اصلاحی خدمات کو دیکھتے ہوئے آپ کو مجلس شوریٰ کا رکن منتخب کیا اور آپ تادمِ حیات اس ذمہ داری پر فائز رہے۔

تحریک آزادی

[ترمیم]

مولانا منفعت علی نے تحریک آزادی ہند میں سرگرم حصہ لیا۔ بالخصوص جیل بھرو آندولن میں آپ اپنے اساتذہ و رفقا کے ہمراہ شریک ہوئے اور اس راہ میں قربانیاں دیں۔

اہم شخصیات سے وابستگی

[ترمیم]

مولانا منفعت علی کے تعلق اور استفادہ کی اہم شخصیات درج ذیل ہیں:

وفات

[ترمیم]

مولانا منفعت علی بہرائچی کا انتقال 1990–1991ء کے درمیان اپنے آبائی وطن ریولیا، ضلع بہرائچ میں ہوا اور وہیں آپ کی تدفین کی گئی۔[1]

مزید دیکھیے

[ترمیم]

مآخذ

[ترمیم]

سانچہ:دیوبندی علماء سانچہ:ہندوستان کے علماء

  1. "منفعت علی بہرائچی"۔ اردو ویکیپیڈیا