رحیم جرولی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
رحیم جرولی
پیدائش شیخ رحیم
1858ء
قصبہ جرول ضلع بہرائچ اتر پردیش ہندوستان
وفات 1921ء
قصبہ جرول ضلع بہرائچ اتر پردیش ہندوستان
آخری آرام گاہ قصبہ جرول ضلع بہرائچ اتر پردیش ہندوستان
زبان اودھی
قومیت بھارتی
شہریت بھارتی
موضوع غزل دوہے ،نعت ،اودھی زبان میں نعت ،

شیخ رحیم جرولی کی پیدائش 1858 میں اودھ میں ضلع بہرائچ کے مشہور قصبہ جرول سے دو میل دور واقع منیہرا میں ہوئی تھی۔ والد کا نام یار محمد تھا۔[1][2]

حالات[ترمیم]

شیخ رحیم جرولی کی ابتدائی تعلیم جرول میں ہوئی۔ جہاں انہوں نے عربی، فارسی،ہندی اور انگریزی کی تعلیم حاصل کی۔ شیخ رحیم اپنی تعلیم کے بارے میں لکھتے ہیں کہ میں نے اردو فارسی کی تعلیم حاصل کی اور کچھ ہندی زبان کی تعلیم حاصل کی ۔[2] تعلیم حاصل کرنے کے بعد پرائمری اسکول میں ٹیچر ہو گئے اور بعد میں بہرائچ ڈسٹرک بورڈ میں ملازمت کی۔ آخر عمر میں عرق النسا کے مریض ہو گئے تھے۔1921 میں جرول میں انتقال ہوا۔[1]

خدمات[ترمیم]

شیخ رحیم جرولی نے کئی کتابیں لکھی۔ ہندی زبان میں پریم بھاشا کا رس کے نام سے صوفی پرماکھیان لکھی تھی جو ناگری رسم خط میں1915 میں لکھنؤ سے شائع ہوئی تھی۔ بقول ادے شنکر شاستری ہندی میں اب تک رماکھیان کی آخری کڑی آپ کی کتاب ہے۔ اس کتاب کی تخلیق 1904میں ہوئی اور 1915 میں لکھنؤ سے شائع ہوئی تھی۔[3] شیخ رحیم بھاشا پیرم رس میں لکھتے ہیں کہ میں نے جب ملک محمد جائسی کی لکھی پددماوتی اور قاسم شاہ کی لکھی ہنس جواہر جیسی کہانیاں پڑھی اور سنی تب میرے ذہن میں یہ بات آئی کی میں بھی کیوں نہ ایک ایسی پیرم کہانی ہندی میں (اودھی لہجے )میں لکھوں۔

پدماوت دیکھوں نرتھائی ملک محمد کیر بنائی
ہنس جواہر قاسم تیری پڑھوں سنو پستک بہو تیری
تحاں سے موہو بھیو یہ جوگا بھاکھا بھاکھ کہو سنجوگا

[4]

اس کے علاوہ آپ نے ایک اور کتاب رحیماما مقیماں اور نغمعہ فرحت کلب عاشیقاں کے نام سے بھی لکھی تھی جس میں آپ نے نصیحت آمیز کہانی ہے۔ ڈاکٹر محمد نعیم اللہ خیالی شیخ رحیم کے بارے میں لکھتے ہیں کہ ایک کتاب نعتیہ بھجن نبی جی کی سمرن کے نام سے بھی تھی جس کا قلمی نسخہ میرے پاس محفوظ ہے۔[5] اس کے علاوہ آپ اردو اور فارسی زبانوں میں بھی شاعری کرتے تھے۔ میں نے بزرگوں سے سنا ہے کہ بہرائچ میں واقع چھوٹی تکیہ کے سجادہ نشین کرم علی شاہ جن کو شعر و شاعری کا شوق تھا سے ادبی نوک جھوک چلتی تھی۔[1]

نمونہ کلام[ترمیم]

شیخ رحیم ادوھی زبان میں کلام کہتے تھےْ۔ آپ کا نمونہ کلام اس طرح ہے۔

[5]
کاہے من پریم ڈگر بسرایو {{{2}}}
پہلا پریم رچو سب آپے{{{2}}}
طآدم روپ بنایو{{{2}}}
ہور ملک سب شیش نواوے{{{2}}}
ایسا حکم لگاوے{{{2}}}

پریم بھاشا رس سے آپ کا کلام

[5]
چندر کلا اتی بھولی باری{{{2}}}
جانت نہیں ہوت کس یاری{{{2}}}
پریم دسا چتوے ہر کھائی{{{2}}}
بن دیکھے نہیں نین جوڈائی{{{2}}}

حوالہ جات[ترمیم]

  1. ^ ا ب پ ہندی روزنامہ سوتنر بھارت 1956
  2. ^ ا ب بھاشا پیرم رس
  3. ہندی روزنامہ ہندستان
  4. صوفی کاویہ سنگرہ از پرشورام چترویدی
  5. ^ ا ب پ ڈاکٹر محمد نعیم اللہ خیالی کا قلمی مضمون

https://books.google.co.in/books?id=hqLRAAAAMAAJ&dq=शेख+रहीम+भाषा+प्रेम+रस&source=gbs_navlinks_s