نعمت بہرائچی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
نعمت بہرائچی
پیدائش نعمت اللہ خاں
1927
محلہ براہمنی پورہ چوک بازار بہرائچ اتر پردیش بھارت
وفات 04 مئی 2006ء
شہر بہرائچ،اتر پردیش بھارت
آخری آرام گاہ بہرائچ،اتر پردیش بھارت
پیشہ ،شاعری ،ادب سے وابستگی، تجارت
زبان اردو
قومیت بھارتی
نسل بھارتی
شہریت بھارتی
تعلیم دینی تعلیم
موضوع نعت ،غزل

نعمت اللہ خاں نعمت بہرائچی کی پیدائش 1927 ء میں شہر بہرائچ میں ہوئی تھی۔ آپ کے والد حاجی رحمت اللہ تھا جو محکمہ جنگلات میں ٹھیکدار تھے۔[1]

حالات[ترمیم]

آپ کے والد تاجرانہ مزاج رکھتے تھے لہٰذا انہوں نے نعمت کی تعلیم کی طرف زیادہ توجہ نہیں دی بلکہ رواج زمانہ کے مطابق بیٹے کا نام مکتب میں لکھا دیا۔ کس کلاس تک تعلیم حاصل کی یہ نہیں پتا لیکن اس کے باوجود نعمت بہرائچی ذہین واقع تھے۔عبرت بہرائچی اپنی کتاب نقوش رفتگاں میں لکھتے ہے کہ

نعمت بہرائچی کو دیوانوں کا حافظ کہا جائے تو غلط نہ ہوگا کیوں کہ انھیں اساتذہ کے ہزاروں اشعار زبانی یاد تھے۔چھدا استاد اور ان کے بیٹے سلیمان جو اپنے دور کے مشہور بیت باز وں میں تھے وہ بھی نعمت کی بیت بازی اور یادداشت کے معترف تھے۔ آپ کو بچپن سے ہی کتب بینی کا بیحد شوق تھا۔آپ کے ذہنی کتب خانہ میں لفظوں کے جوذخیر محفوظ تھے وہی ان کی شاعری کے محرک بن گئے ۔(نقوش رفتگاں) نعمت بہرائچی نہایت خوش مزاج اور خوش فہم خوش ادا تھے

[1]

ادبی خدمات[ترمیم]

نعمت بہرائچی اپنے کلام کی اصلاح اپنے استاد بابا جمال بہرائچی سے کرواتے تھے۔ آپ غزل کے شاعر تھے لیکن غزلوں کے علاوہ حمد نعت،منقبت،قطعات بھی لکھے۔ یہی نہیں آپ نے دوہے بھی لکھے۔ نعمت کے کلام میں کلاسیکی انداز اور جدید رحبانات کا حسین امتزاج ملتا ہے۔ نعمت بہرائچی کی شاعروں سے ہمیشہ ادبی نوک جھونک رہتی تھی خاص طور پر وصفیؔ بہرائچی سے۔ یار باشی خاصہ تھا۔ وہ زبان میں مقناطیسی کشش رکھتے تھے۔ جوانی میں چہک چہک کر پڑھتے تھے۔ بڑھاپے میں ترنم نے جب ساتھ چھوڑ دیا تو کلام تحت میں پڑھنے لگے تھے۔ پہلے مشاعرے خوب پڑھتے تھے بعد میں اجتناب کرنے لگے تھے۔ ادبی بحث و مباحثہ کے رسیا تھے۔ علوم ادبیہ سے نا واقف ہوتے ہوئے بھی عروض بیان پر بحث کرتے تھے۔ مولانا مصطفی حسین جائسی کی صحبت میں رہ کر تذکرہ نگار بھی ہو گئے تھے۔ نعمت بہرائچی کی شاعرانہ کے بارے میں عبرت بہرائچی اپنی کتاب نقوش رفتگاں میں لکھتے ہے کہ ان کے پاس جتنا بھی علم تھا وہ ان کی محنت شاقہ کا ثمرہ تھا۔ ان کے کلام میں مخصوص قسم کی بے ساختگی اور برجستگی پائی جاتی تھی۔ مضمون آفرینی آپکی شاعری کا اہم وصف تھا۔ اس کے علاوہ ان کی شاعری میں تجربات واحساس کا پھیلاؤ بہت تھا ۔[1]

ادبی کاویشے[ترمیم]

نعمت بہرائچی صاحب کتاب شاعر اور ادیب تھے۔ آپ کا ایک شعری مجموعہ پیام جاماور نثر کی ایک کتاب تذکرۂ شعرائے ضلع بہرائچکے نام سے منظر عام پر آئی ۔

ادبی شخصیات سے رابطہ[ترمیم]

محسن زیدی ،ساغر مہدی ،وصفی بہرائچی،ڈاکڑ نعیم اللہ خاں خیالیؔ ،شفیع بہرائچی ،رافت ؔ بہرائچی،بابو لاڈلی پرساد حیرتؔ بہرائچی،شوق بہرائچی،واصف القادری،ایمن چغتائی ؔ ،عبرت بہرائچی ،رزمی بہرائچی، اظہار وارثی ،اثر بہرائچی، وغیرہ نعمت بہرائچی کے ہم عصر اور ساتھیوں میں تھے۔

وفات[ترمیم]

نعمت بہرائچی کی وفات 4مئی 2006ء کو شہر بہرائچ میں ہوئی تھی تدفن شہر بہرائچ میں ہوئی۔ جس میں کثیر تعداد میں لوگوں نے شرکت کی تھی ۔

نمونہ کلام[ترمیم]

سیکھنا ہے اگر وفاداری

ملتے رہئے گا بے وفاؤں سے

وہ ایک شخص برہنہ بدن شجر کی طرح

کسی بھی عمر کے موسم میں سایہ دار نہ تھا

تری تلاش میں مقتل میں آرزو کا لہو

میں پی گیا ہوں جنوں میں شراب کی صورت

بزم سخن میں صبح کے اخبار کی طرح

تا دیر کوئی غور سے پڑھتا رہا مجھے

حوالہ جات[ترمیم]

  1. ^ ا ب پ نقوش رفتگاں از عبرت بہرائچی