محشر نانپاروی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
محشر نانپاروی
پیدائش ممتاز حسین
1919ء
محلہ توپ خانہ شہر نانپارہ ضلع بہرائچ اتر پردیش ہندستان
وفات 1984ء
نانپارہ ضلع بہرائچ اتر پردیش
اسمائے دیگر ممتاز حسین
پیشہ ادب سے وابستگی،
وجہِ شہرت شاعری
مذہب اسلام

ممتاز حسین محشرؔ نانپاروی کی پیدائش 1919ء میں محلہ توپ خانہ شہر نانپارہ ضلع بہرائچ میں ہوئی تھی۔ آپ کے والد کانام الطاف حسین تھا۔ آپ شہر نانپارہ اور ضلع بہرائچ کے مشہور شاعر تھے۔

حالات[ترمیم]

محشر نانپاروی نے ایم۔ اے اردو تک کی تعلیم حاصل کی تھی۔ اردو ادب سے گہرا لگاؤ ہونے کی وجہ سے استاد شاعر اصغرنانپاروی کی شاگردی اختیار کی۔ سیاست کی جانب بھی رجھان ہونے کہ وجہ سے کانگریس پارٹی میں بھی شامل رہے۔ آپ کا شمار واصف القادری، ایمن چغتائی ،فنا نانپاروی کے ہمعسر شاعروں میں ہوتا ہے۔ محشر نے غزلیں ،نعتیں و نظمیں وغیرہ لکھی۔ آپ کی لکھی ہوئی رمضان المبارک پر الوداع بہت مشہور ہے نانپارہ شہر میں۔ جسے رمضان میں آج بھی پڑھا جاتا ہے۔ آپ کا کوئی شعری مجموعہ شائع نہیں ہوا۔ ضلع بہرائچ کے مشہور شاعر و ادیب شارق ربانی کا کہنا ہے کہ محشر نانپاروی ایک کہنہ مشق شاعر تھے۔ آپ کے کلام میں وہ تمام خوبیاں موجود ہیں جو ایک کامیاب شاعر کے لیے ضروری سمجھی جاتی ہیں۔

ادبی شخصیات سے را بطہ[ترمیم]

محشر نانپاروی کا نانپارہ کے واصف القادری، ایمن چغتائی ،فنا نانپاروی کے ہمعسر شاعروں میں ہوتا تھا اور ان سب سے محشر نانپاروی کا گہرا تعلق تھا۔ اور بہرائچ کے تمام شعرا سے بھی آپ کا گہرا تعلق تھا۔ جن میں ڈاکٹر محمد نعیم اللہ خیالیؔ ،وصفیؔ بہرائچی،شفیعؔ بہرائچی،شوقؔ بہرائچی،رافعت بہرائچی،عبرت بہرائچی،بابا جمال وغیرہ اہم تھے۔

وفات[ترمیم]

محشر نانپاروی کا انتقال 1984ء کو نانپارہ میں ہی ہوا اور تدفین بھی نانپارہ میں ہوئی ۔

نمونہ کلام[ترمیم]

مسکرا کے وہ بجلی کو شرما گئے ہنس دئے موسم خوشگوار آ گئے
روح روشن پہ کا کل جو بل کھا گئے چاند کے گرد ابر بہار آ گئے
  • محشرؔ نانپارویکا لکھا ہوا مشہو ر رمضان المبارک پر الوداع
ماہ رمضان پیارے میں تجھ پر پہ فدا الوداع الوداع الوداع الوداع
ماہ تاباں ہے تو نور یزداں ہے تو تو میری جان ہے میرا ایمان ہے
مجھ سے مل کر گلے ہو رہا ہے جداالوداع الوداع الوداع الوداع
برکتوں سے تیری سب گناہ دھل گئے ا بارش رحمت اکبر باراں ہے تو
ماہ رمضان پیارے میں تجھ پر پہ فدا الوداع الوداع الوداع الوداع
دین کا جز ہے تو حق کا فرماں ہے تو فرض ہے فرض اعلان قراں ہے تو
ماہ رمضان پیارے میں تجھ پر پہ فدا الوداع الوداع الوداع الوداع
کلمہ طیبٰہ تیرے نغمات ہیں اور محشرؔ کی بخشش کا ساماں ہے تو
ماہ رمضان پیارے میں تجھ پر پہ فدا الوداع الوداع الوداع الوداع

حوالہ جات[ترمیم]

  • ہندی روزنامہ ہندستان بہرائچ میں شائع مضمون 2014ء