محمود حسانی بہرائچی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
محمود حسانی
پیدائش محمود الحسن
24جون1951ء
محلہ قاضی کٹرہ شہر بہرائچ اتر پردیش بھارت
وفات 2016
محلہ قاضی کٹرہ شہر بہرائچ اتر پردیش بھارت
آخری آرام گاہ محلہ قاضی کٹرہ شہر بہرائچ اتر پردیش بھارت
پیشہ محکمہ تعلیم میں سرکاری ملازمت
زبان اردو
قومیت بھارتی
شہریت بھارتی
تعلیم ادیب کامل
مادر علمی گورکھپور یونیورسٹی
موضوع نعت ،غزل
رشتہ دار منظور بہرائچی

الحاج محمود الحسن تخلص محمودؔ حسانی بہرائچی شہر بہرائچ کے ایک مشہور کہنہ مشق شاعر تھے۔ آپ کی پیدائش24جون1951ء کو شہر بہرائچ کے محلہ قاضی کٹرہ میں ہوئی تھی۔ آپ کے والد کا نام منشی عبد الحق اور والدہ کا نام بسم اللہ بیگم تھا۔

حالات[ترمیم]

محمودؔ حسانی بہرائچی کی ابتدائی تعلیم شہر بہرائچ میں ہی ہوئی۔ آپ نے گورکھپور یونیورسٹی سے ڈگری حاصل کی تھی۔ بعد میں آپ محکمہ تعلیم سے منسلک ہو گئے۔ 2016ء میں آپ نے حج بیت اللہ کی سعادت سے سرفراز ہوئے۔

ادبی خدمات[ترمیم]

محمودؔ حسانی نے 1970ء میں میدان سخن میں قدم رکھا تب آپ نے اپنے استاد ڈاکڑ محمد نعیم اللہ خاں خیالی ؔ کے مشورہ سے اپنا تخلص اوج رکھا او رکئی سالوں تک آپ نے اوج کے تخلص سے ادبی دنیا میں پہچانے جاتے رہے مگر اسی دو رمیں نانپارہ کے مشہور استاد شاعر غوثؔ حسانی نانپاروی جو آپ کے رشتے دار بھی تھے کے اصرار پر اوج تخلص سے کنارہ کر کے محمود حسانی ؔ کا تخلص اختیار کیا اور تا حیات اسی تخلص سے لکتھے رہے۔ محمودؔ حسانی نے صرف غزل کے ہی شاعر نہیں تھے بلکہ آپ نے شاعری کی تمام رائج اصناف میں طبع آزمائی کی اور اپنا ایک الگ مقام قائم کیا بہرائچ کی ادبی دنیا میں۔محمد نعیم اللہ خاں خیالی ؔ صاحب کی رحلت کے بعد آپ نے مشہور استاد شاعر جناب اظہار وارثی سے شرف تلامذہ حاصل کیا اور آخری دم تک آپ کے شاگرد رہے۔اظہار وارثی نے عروض وآہنگ کے معاملے میں محمود حسانی کی کشادہ دلی سے مدح سرائی کی ہے۔ آپ نے ابتدائی دور میں کئی تاریخی مشاعروں میں شرکت کی اور مقبولیت بھی حاصل کی مگر بعد میں مشاعرو ں کا معیار گرنے کی وجہ سے پہلے صرف شعری نششتوں تک ہی محدود رہے لیکن بعد میں اس سے بھی کنارہ کشی کر لی تھی۔ محمود حسانی ایک اچھے سخن ور شاعر ہونے کے ساتھ ساتھ ایک بااخلاق انسان بھی تھے۔ آپ ایک کامیاب صحافی بھی تھے مشہور روزنامہ قومی آواز کے لیے صحافت کرتے تھے۔ قومی آواز ،نیادور،ایوان اردو،راشٹریہ سہارا اردو،نئی دنیا ،اور روزنامہ صحافت کے علاوہ ملک کے معروف رسالوں و میگزینوں میں آپ کا کلام شائع ہو چکے ہیں۔ آپ غزل کے علاوہ نعت و منقبت کے بھی کامیاب شاعر تھے۔ آپ صرف شاعر ہی نہیں تھے بلکہ ایک دلفریب نثرنگار،افسانہ نگار اور ڈراما نگار بھی تھے۔ آپ کے تحریرکردہ ڈرامے کئی بار آل انڈیا ریڈیو سے نثر کیے جا چکے ہیں۔ کئی بار آپ کو دوردرشن لکھنؤ اور دہلی دوردرشن سے بھی کلام پیش کرچکے ہیں۔

ادبی سخصیات سے رابطہ[ترمیم]

۔ آپ کا ادبی حلقہ بہت وسیع تھا جس میں فراق گورکھپوری،جمال ؔ بابا، و صفی ؔ بہرائچی، ڈاکٹرمحمد نعیم اللہ خاں خیالی ؔ،شفیع ؔ بہرائچی،محسنؔ زیدی،اثرؔ بہرائچی ،حاجی لطیف ؔ نوری لطیف ؔ بہرائچی ،،عبرت بہرائچی،واصف القادری نانپاروی، غوث نانپاروی، ایمن چغتائی نانپاروی، مہشر نانپاروی،فنا نانپاروی، رافعتؔ بہرائچی ،نعمتؔ بہرائچی شاعر جمالی، ملک زادہ منظور احمد،رزمی صاحب، اطہر ؔ رحمانی وغیرہ سے آپ کے قریبی تعلوقات تھے۔ بہرائچ کے معروف شاعر منظور بہرائچی کے آپ استاد اور چچیرے بھائی تھے۔

وفات[ترمیم]

محمودؔ حسانی بہرائچی کی وفات 2016ء کو شہر بہرائچ میں ہوئی۔ آپ کی تدفن شہر بہرائچ میں ہی ہوئی۔

نمونہ کلام[ترمیم]

میری آنکھوں کی نمی مت دیکھنا پیچھے مڑکر تم کبھی مت دیکھنا
حال بن جائے گا مثل پل صراط اپنی گزری زندگی مت دیکھنا

نعت

کسی کے لیے علم و حکمت بہت ہے ہمارے لیے دین وفطرت بہت ہے نظام زمانہ چلانے کی خاطر ہمارے نبیؐ کی شریعت بہت ہے نہیں چاہیے اور کوئی خزانہ غمِ عشق احمد کی دولت بہت ہے ہماری بھی ہو مثل اصحاب سیرت ہمیں آج اس کی ضرورت بہت ہے عجب درد ہے دردِعشق محمدﷺ خدا کی قسم اس میں لذت بہت ہے نہ گھبراؤ محمودؔ روز ابد سے سر حشر ان کی سفاعت بہت ہے

غزل

جو پتہّ شاخ ہی گر گیا ہونہیں ممکن کہ وہ پھر سے ہرا ہو وہ اِک گل ہی چمن سے کم نہیں جو کسی صحرا کے دامن میں کھلا ہو امید شادمانی ہے تو لیکن مقدر میں نہ جانے کیا لکھا ہو ہم اپنی رائے سے تو مطمئن ہیں زمانہ ہم سے خوش ہو یا خفا ہو غموں کی بھیڑ نے محمودؔ جیسے ہمارے دل کو اغوا کر لیا ہو

حوالہ جات[ترمیم]

  • نورالحسن حسانیؔ کا مضمون بہرائچ کی ادبی دنیا کے نور نظر ’’محمود حسانی‘‘
  • اردو ویکیپیڈیا کے لیے انٹڑویو