غازی سید سالار مسعود

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search

حضرت سالارمسعودغازی رحمتہ اللہ علیہ کا خاندان:

سالارمسعودغازی قطب شاہی علوی اعوان قبیلہ سے تعلق رکھتے تھے ۔ کتاب نسب قریش عربی تالیف لابی عبداللہ مصعب بن عبداللہ بن المصعب بن زبیرجو156ہجری میں پیداہوئے اور236ہجری میں وفات پائی کے صفحپہ77پرلکھتے ہیں وولدعون بن علی بن محمد بن علی بن ابی طالب محمداً؛ رقیہ و علیہ بنی عون۔ منبع الانساب فارسی تالیف سید معین الحق جھونسوی فارسی مخطوطہ کا اردو ترجمہ علامہ ڈاکٹرارشاد حسین ساحل شاہسرامی علی گڑھ انڈیا نے 2012ء میں کیا ہے کے صفحہ363پر لکھتے ہیں:۔ حضرت شاہ ابوالقاسم محمدحنیف بن علی مرتضیٰ بن ابی طالب رضی اللہ تعالیٰ عنہما محمدحنفیہ کےنام سے مشہورہیں اآپ کی ولادت 16ہجری کو مدینہ منورہ میں ہوئی ۔ عمر مبارک پنسٹھ سال تھی 81ہجری میں عبدالملک بن مروان کے عہدحکومت میں پیر کے دن وصال ہواکتابیوں کا ایک گرو دعویٰ کرتا ہے کہ آپ قریب قیامت ظہورفرمائیں گے اسی طرح کی اور بھی بعض بے سروپا حکایات اآپ سے منسوب ہیں۔ اآپ کے تین صاحبزادے 1-ابوھاشم 2۔علی عبدالمنان ۔3۔جعفر اآپ کی چودھ صاحبزادے اور دس صاحبزادیاں تھیں لیکن نسل تین صاحبزادوں سے چلی: ابوہاشم جعفر علی قدست اسراہم ۔حضرت کا وصال مدینہ طیبہ یا طائف میں ھوا۔ حضرت جعفر کے ایک صاحبزادے عبداللہ تھے۔ حضرت علی عبدالمنان کے ایک صاحبزادے عون عرف قطب شاہ غازی تھے ۔حضرت عون عرف قطب شاہ غازی کے ایک صاحبزادے محمداآصف غازی تھے اور محمداآصف غازی کے ایک صاحبزادے شاہ علی غازی تھے شاہ علی غازی دو صاحبزادشاہ محمدغازی اور شاہ احمدغازی(بحرلانساب عربی اور تہذیب الانساب عربی کے مطابق سات صاحبزادے محمد،احمد،علی،موسیٰ،عیسیٰ، حسن و حسین)تھے شاہ احمدغازی نے سبزاوارکو اپنا وطن بنایا چنانچہ سادات سبزواری آپ ہی کی نسل سے ہیں اسی طرح سید حامد خان سبزاواری بھی شاہ احمدغازی کی نسل سے ہیں جن کا مزارمبارک قلعہ مانک پور میں ہے۔ حجرت سید احمدغازی کی اولاد بہت ہے۔سید شاہ احمدغازی کے بڑے بھائی سید شاہ محمدغازی کے ایک صاحبزادے سید طیب غازی ہیں جن کے ایک صاحبزادے سئد طاہر غازی ہیں سید طاہرغازی کے ایک صاحبزادے سید عطااللہ غازی اور ان کے صاحبزادے سیدساھوغازی ہیں(مرات مسعودی فارسی تالیف عبدالرحمن چشتی 1037ھ ،مرات الاسرار فارسی 1065ھ اور تاریخ حیدری و تحقیق الاعوان کے مطابق آپ عطااللہ غازی کے تین صاحبزادے سالارساھوغازی، سالارقطب حیدرالمعروف قطب شاہ و سالارسیف الدین غازی تھے)سید ساھو غازی کی شادی سلطان محمودغزنوی کی ہمشیرہ کے ساتھ ہوئی تھی ان سےایک صاحبزادے سید سعید الدین سالارمسعود غازی ہیں۔۔آپ سادات علوی سے ہیں ۔ اکثرسادات حضرت سید سالارمسعود غازی کے ہمراہ ہندوستان تشریف لائے ہیں۔ مندرج دغازی کاخاندان: ہ بالا کتب کے علاوہ دیگر بے شمار کتب میں سید سالارمسعودغازی قطب شاہی علوی کاتذکرہ موجود ہے۔ قدیم کتاب نسب قریش عربی میں بنی عون تحری رہے اور عون ، اعوان کی واحدہے اور اس کی مزید تصدیق منبع الانساب فارسی سے عون قطب شاہ غازی بن علی عبدالمنان سے ہوتی ہے کہ سیدسالارمسعودغازی شہید 424ہجری کا نسبی تعلق قطب شاہی علوی اعوان قبیلہ سے ہے آپ کامزارمبارک بہرائچ میں ہے سلطان فیروزشاہ تغلق نے آپ کا روضہ مبارک تعمیر کروایاتھا۔

غازی سید سالارمسعود
پیدائش اجمیر، بھارت
اسمائے دیگر سید سالارمسعود غازیؒ
وجہِ شہرت سالار سلطان سہدا فل ہند
مذہب اسلام

سید سالار مسعود غازی کی پیدایش 22 جنوری ؁1015ء میں اجمیرمیں ہوئی۔ سید سالار مسعود غازی سلطان محمود غزنوی کے بھانجے تھے۔ آپ کے والد کا نام سیدسالار ساہو غازی اور والدہ کا نام سترے معلٰا تھا جو سلطان محمود غزنویکی بہن تھیں۔ سیدسالار ساہو غازی محمد بن حنفیہ حضرت علیؓ کی نسل سے تھے۔ سالار مسعود اسلام کی تبلیغ کے لیے جنوبی ایشیا کے لیے 11ھویں صدی کی ابتدا میں اپنے چچا سالارسیف الدین اور استاد سید ابراہیم مشہدی بارہ ہزاری (سلطان محمود غزنوی کے سالار اعظم) کے ساتھ آئے۔

آپ کی آمد[ترمیم]

انہوں نے اپنے ماموں سلطان محمود غزنوی کے ساتھ ہندوستان آئے، تب سالار مسعود (1026 عیسوی میں) کی عمر 11سال کی تھی۔ اپنے ماموں کی سومناتھ پر فتح کے بعد غزنی کو واپس ہوئے۔ لیکن سالار مسعود ان کے عزائم کو آگے بڑھانے کے لیے ہندوستان ہی میں آباد ہوئے۔ جن کا اہم مقصد تبلیغ اور اشاعتِ دین تھا۔

شمالی بھارت کا رخ[ترمیم]

سالار مسعود مئی 1031 ء میں بھارت پر حملہ کر دو جرنیلوں میر حسین عرب اور امیر واجد جعفر کے ہمراہ 50،000 گھوڑوں کے ساتھ 100،000 سے زائد سپاہیوں کی ایک فوج کے ساتھ بھارت میں داخل ہوئے۔ انہوں نے شمالی بھارت میں پر یلغار کیا اور ان کے چچا سالار سیف الدین، میر بختیار، میر سید عزیز الدین اور ملک ب رہان الدین اور ان کی فوجوں کو ان کے ہمراہ کیا۔

میرٹھ، قنوج اور ملیح آباد گزر شمالی بھارت کے میدانی علاقوں میں تیز چھاپہ کے بعد اور وہ ستریخ پہنچے۔ وہ جن مقامی بادشاہوں کے ساتھ دوستی کر معاہدے کرکے میرٹھ اور اجین کو کوچ کیا۔ بعد میں ساکیت لے جایا گیا۔ سالار رجب اور سالار سیف الدین بہرائچ گئے۔ امیر حسن عرب ماہونا کو گئے، ملک فضل وارانسی لیا۔ سلطان سلاطین اور میر، میر بختیار Kannor جنوب گئے اور وہاں میر بختیار مقامی فوج کے ساتھ ایک لڑائی کے دوران ہلاک ہو گیا تھا۔ سید ساہو قرہ اور مانک پور کو گئے . مانک پور میں قرہ اور قطب حیدر کے انچارج ملک عبد اللہ چھوڑنا۔ سیدعزیز الدین ہردوئ خلاف بھیجا، لیکن گومتی کے کنارے پر Gگوپامو میں جنگ میں گر گئی تھی۔ [3] ان کے قریبی ساتھیوں اور اس طرح کے جلال الدین بخاری اور سید ابراہیم باڑہ ہزاری کے طور پر رشتہ داروں کی قبروں بھی ریواڑی میں واقع ہیں۔

بہرائچ کی جنگ[ترمیم]

سید سالار مسعود غازی زیدپور، بابا بازار، رودولی کے ذریعے ایودھیا پر حملہ کرنے کے لیے روانہ، لیکن روناہی پہنچنے پر اور یہاں ایک چھوٹا سا شہر سالار مسعود کی سالارپورکے نام کی طرف سے قائم کیا گیا ہے۔ (ایودھیا کے مضافات میں) وہ اچانک ان کے دماغ کو تبدیل کر دیا اور، اتر اترپردیش میں موجودہ دور کے بہرائچ کی طرف اس کی فوج مارچ۔ شاندار مندر، وہاں کھڑے کے طور پر اس وقت، بہرائچ، . سالار مسعود کی طرف سے حملے کے دوران، لکھیم پور، سیتاپر، لکھنؤ، بارہ بنکی، اناؤ، فیض آباد، بہرائچ کے علاقوں، سراوستی، گونڈا وغیرہ راجا سوہیل دیو کے تحت 21 سرداروں کی فوج کے کی طرف سے حکومت کر رہے تھے۔ وہ 1) رائے صاحب 2) ارجن 3) Bhaggan 4) رائے Raib 5) گینگ 6) مکران 7) شنکر 8) کرن 9) بیربل 10) جیپال 11) Shripal 12) ہرپال 13) Harkaran 14) Harkhu 15) Narhar 16 تھے ) Bhaalar 17) Judhari 18) ناراین 19) ڈل 20) نرسنگھ 21) سے Kalyana. ان کے ملک میں غزنوی فوج کی موجودگی کی طرف سے فکر مند، جلد ہی وہ ایک مقامی Confederacy کے قائم۔

سید سالار مسعود غازی کا مقبرہ[ترمیم]

بعد ازاں آپ کا معتقد سلطان فیروز شاہ تغلق نے آپ کا مقبرہ بنوایا۔ آج بھی اس درگاہ میں سالار مسعود کے دور کے ہتھیاروں کو نمائش کو طور پر رکھا دیکھا جاسکتا ہے۔

حوالہ جات[ترمیم]

بیرونی روابط[ترمیم]