اصطلاحات علم تصوف

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search

اصطلاحات (terms) اصطلاح کی جمع ہے ایسالفظ جس کے خاص معنی اسی شعبہ کے ماہرین نے مقرر کیے ہوں۔

اصطلاحات کیا ہیں؟[ترمیم]

ہر زبان میں بعض الفاظ بطور اصطلاح مروج ہوتے ہیں جنہیں اہل زبان خوب جانتے ہیں۔ مثلاً لفظ اخبار' کا لغوی معنی محض خبریں ہے مگر اس کا اصطلاحی مفہوم وہ پرچہ (Newspaper) جس میں خبروں کے علاوہ اور بھی بہت کچھ درج ہوتا ہے۔ اسی طرح کچھ اصطلاحیں فنی اور تکنیکی ہوتی ہیں۔ جنہیں صرف اہل علم و فن ہی جانتے ہیں۔ لغت چونکہ زبان'کے الفاظ کے معنی بیان کرتی ہے لہذا ایسی اصطلاحات کا مفہوم بیان کرنا اس کے دائرہ سے خارج ہوتا ہے اور ایسی اصطلاحات کے لیے الگ کتابیں لکھی جاتی ہیں۔ مثلاً خبر واحد، طول بلد، سرایت حرارت، کشش ثقل وغیرہ وغیرہ ایسی اصطلاحات ہیں جن کے مفہوم کو عام اہل زبان نہیں جانتے۔ قرآن چونکہ علوم شرعیہ کا منبع ہے لہذا اس میں بے شمار ایسی اصطلاحات مثلاً دین، الٰہ، عبادت، صلٰوۃ، زکوٰۃ، معروف، منکر، حج، عمرہ، آخرت وغیرہ استعمال ہوئی ہیں۔ ایسی اصطلاحات کا مفہوم متعین کرنا بھی اللہ اور اس کے رسول کا کام ہے۔ شرعی اصطلاحات کا جو مفہوم اللہ اور اس کے رسول نے بیان کیا ہو وہی قرآن کا بیان کہلاتا ہے اور یہی بیان امت کے لیے قابل قبول ہو سکتا ہے۔[1]

اصطلاحات کی ضرورت[ترمیم]

کسی بھی شعبہ کے علم کے حصول کا بہتر طریقہ یہ ہے کہ اوّلاً اس علم یا فن کی بنیا دی اصطلاحات اور ان کی تعریفات کو جانا جائے۔ پھر تفصیلی مسائل سمجھے جائیں اور اس کے بعد ہی دلائل و علل اور قیل و قال کی طرف متوجہ ہوا جائے مگر عموماً ایسا ہوتا ہے کہ طلبہ آغاز ہی میں کسی علم یا فن کی اصطلاحات کو علی وجہ البصیرت سمجھے بغیر مسائل اور دلائل اور علل و ابحاث میں پڑ جاتے ہیں۔ علم تصوف بھی مکمل ایک شعبہ فن ہے اس کی اصطلاحات سے واقفیت بھی ضروری ہے

وجد[ترمیم]

وجد (Ecstasy)تصوف و سلوک میں استعمال ہونے والی ایک خاص اصطلاح ہے یہ ایک کیفیت ہے جو ذکر و نعت کے وقت طاری ہوتی ہے یہ کیفیت عموما اولیاء کاملین کی محافل اور صحبت کا خاصہ ہے جسے اللہ کی محبت کی علامت تصور کیا جاتا ہے کسی صوفی صاحب کو جب کسی بات پر جوش میں آتا ہے تو اس سے کچھ غیر اختیاری حرکات سرزد ہونے لگتی ہیں مثلاً رونا ،اچھلنا ،کودنا وغیرہ۔ یہ غیر اختیاری ہوں تو کوئی بات نہیں لیکن اگر اختیارسے ایسا کیا جائے تو یہ معیوب ہوتا ہے۔ ان چیزوں سے چونکہ شہرت ہوتی ہے اس لیے بعض لوگ ایسا قصداً بھی کرلیتے ہیں۔ بزرگوں سے منسوب بعض لوگ اس قسم کی حرکتیں کرتے ہیں اور ان کو بزرگوں کے ساتھ منسوب کرلیتے ہیں ۔

اَوراد و وظائف[ترمیم]

وِردۡ مفرد ہے۔ جو مقررہ وظیفے کو کہتے ہیں۔ اس کی جمع اَوراد ہے۔ حضرت عبد القادر عیسٰی شاذلی علیہ الرحمۃ فرماتے ہیں کہ مریدین کو بعدِ نمازِ فجر ( یا مختلف اوقات میں) جن اَورادوو ظائف کے پڑھنے کی مشائخ کرام تلقین کرتے ہیں ،وہ اہلِ طریقت کے نزدیک، اَوراد و وظائف کہلاتے ہیں۔ لُغْت میں اَوراد کے معنی( آنے والا) ہے۔ مشائخ کرام کی اصطلاح میں قلب پرانوارِ الٰہی عَزَّوَجَلَّ کے نزول کو وارِد کہتے ہیں۔ جس کے سبب قلوب متحرّک ہوتے ہیں۔ مشائخ کرام نے راہ طریقت اختیار کرنے والوں کو بڑی سختی سے اَوراد وظائف کی پابندی کی تلقین کی ہے اور انہیں سستی یا فراغت کے انتظارسے بڑا ڈرایا ہے۔ کیونکہ عمْر جلد ختْم ہونے والی ہے اور دنیاوی مشاغل ختْم ہونے کی بجائے بڑھتے رہتے ہیں۔ عطاء اللہ علیہ الرحمۃ فرماتے ہیں! فراغت ملنے تک اعمال و" اَوراد" کو چھوڑنا شیطانی مکرو فریب ہے۔[2]

شریعت[ترمیم]

شریعت احکام تکلفیہ کے مجموعہ کا نام ہے۔ اس میں اعمال ظاہری و باطنی سب آ گئے۔ زندگی گزارنے کا جو طریقہ اللہ تعالیٰ نے مسلمان کے لیے پسند فرمایا ہے اس کو شریعت کہتے ہیں۔ اس کو ہم تک پہنچانے کے لیے چونکہ نبی صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی ذات مبارک ذریعہ بنی ہے۔ اس لیے اس کو آپ صلی اللہ علیہ والہ سلم کا طریقہ یا سنت بھی کہتے ہیں اور آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کو شارع بھی کہتے ہیں یہ صرف اسی نسبت سے ہے ورنہ فی الحقیقت احکامات تو اللہ تعالیٰ کی طرف سے آئے ہیں۔[3]

فقہ[ترمیم]

متقدمین کی اصطلاح میں لفظ فقہ کو شریعت کا مترادف (ہم معنیٰ )سمجھا جاتا ہے۔ جیسا امام اعظم ابو حنیفہ (رحمۃ اللہ علیہ) سے فقہ کی تعریف ’’معرفت النفس ما لھا وما علیھا‘‘ منقول ہے یعنی نفس کے نفع و نقصان کی چیزوں کو پہچاننا پھر متاخرین کی اصطلاح میں شریعت کے صرف اس جز کا نام جو اعمال ظاہرہ سے متعلق ہیں فقہ ہو گیا۔[3]

تصوف[ترمیم]

شریعت کا وہ جزو جو اعمال باطنہ سے متعلق ہے متاخرین کے نزدیک اس کا نام تصوف ہو گیا۔ یہ وہ فن ہے جس کے ذریعے دل کی بیماریوں کا علاج کیا جاتا ہے۔ اس کے ذریعے دل کی صحت اور بیماری کا پتہ چلتا ہے اور بیمار دل کا علاج کیا جاتا ہے۔ اسی کو حدیث شریف میں احسان کہا گیا اور قُرآن میں لفظ تقویٰ کا مفہوم اس کے قریب تر ہے۔ فرق صرف یہ ہے کہ تقویٰ تو دل کی ایک کیفیت کا نام ہے جو مقصود فی الاعمال ہیں اور تصوف اس کو بلکہ تمام اخلاق حمیدہ کی اصلاح کو حاصل کرنے کا اور اس کے اضداد سے بچنے کا علم و فن ہے۔[3]

طریقت[ترمیم]

ان اعمال باطنی کے طریقوں (Procedures)کو جس سے اخلاق حمیدہ حاصل ہوتے ہیں اور اخلاق رذیلہ سے چھٹکارہ حاصل ہوتا ہے ،اس کو طریقت کہتے ہیں۔ وقت کے ساتھ ساتھ ان میں تبدیلی ہوتی رہتی ہے کیونکہ مقصد صحت ہے طریقہ نہیں پس جس وقت جن طریقوں سے روحانی اور قلبی صحت کا زیادہ امکان ہو اس وقت ان ہی طریقوں کو طریقت کہا جائے گا۔[3]

حقیقت[ترمیم]

طریقت سے جب اعمال کی درستی ہوتی ہے تو اس سے قلب میں صفائی اور ستھرائی پیدا ہوتی ہے اس سے دل پر بعض اعمال اور اشیاء بالخصوص اعمال حسنہ و سیّہ کے حقائق و لوازمات منکشف ہوتے ہیں اور اللہ تعالیٰ اور اس کی صفات کا ادراک ہوتا ہے جس سے بندے اور اللہ تعالیٰ کے درمیان جیسا تعلق ہونا چاہیے اس کا ادراک ہوتا ہے ان علوم و معارف تک سالک کی رسائی کو حقیقت کہتے ہیں۔[3]

معرفت[ترمیم]

بندے اور خدا کے درمیان اس تعلق کا ادراک ہی معرفت کہلاتا ہے کہ اس کے ذریعے سالک ہر وقت اپنے حال کے مطابق اللہ تعالیٰ کی منشا کا بہتر طریقے سے ادراک کرلیتا ہے۔ اس لیے اس صاحب انکشاف کو محقق اور عارف کہتے ہیں اور اس نعمت کو معرفت۔ عارف چونکہ اپنی عجز اور بے ثباتی اور اللہ تعالیٰ کی عظمت کو بھی اچھی طرح جانتا ہے اس لیے باوجود دوسروں سے بہتر جاننے کے اپنے آپ کو ہمیشہ قاصر سمجھتا ہے۔ اس کو سمجھنے کے لیے آدم علیہ السلام اور ابلیس کے واقعے کو پیش نظر رکھنا چاہیے۔[3]

نسبت[ترمیم]

نسبت کے معنی تعلق کے ہیں۔ یہ تعلق جانبین سے ہوتا ہے۔ تصوف کی اصطلاح میں نسبت سے مراد اللہ تعالیٰ کے ساتھ بندے کا ایسا تعلق ہے کہ اس کی وجہ سے وہ ہمیشہ اللہ تعالیٰ کے سامنے اپنے آپ کو حاضر اور جوابدہ پاتا ہے اور ہمہ وقت اللہ تعالیٰ کو کسی نہ کسی صورت میں یاد کرتا ہے۔ اس سے اس کو طاعات اور عبادات کی طرف طبعی رغبت یا ایسی کامل عقلی رغبت کہ وہ اس کی طبعیت ثانیہ بن جائے ہوجاتی ہے اور گناہوں سے اس کو ایسی نفرت ہو جاتی ہے جیسا کہ پیشاب پاخانے سے ہوتی ہے۔ ایسے شخص کوہمہ وقت اتباع سنت کی فکر ہوتی ہے۔ اس طرح اللہ تعالیٰ کے ہاں اس کو ایسا قرب حاصل ہو جاتا ہے کہ اس کا معصیتوں سے حفاظت کا انتظام ہوجاتاہے اور طاعات کی توفیقات سے اس کو نوازا جاتا ہے جس پر رضائے الٰہی کا ترتب ہوتا ہے۔ اس کے آثار مختلف ہوتے ہیں جن میں خود بخود روحانی تربیت کے اسباب کا بننا ،دینی کاموں کے لیے استعمال ہونا، اہل قلوب کے دلوں میں خود بخود اس کے لیے محبت کا پیدا ہونا اور اس کے پاس بیٹھنے سے اللہ تعالیٰ کا استحضار پیدا ہونا وغیرہ شامل ہیں۔[3]

بیعت[ترمیم]

بیعت تصوف کی اصطلاح میں شیخ اور مرُیدکے درمیان معاہدہ ہے کہ شیخ اس کو طریق تعلیم کرے گا اور مرُیداس پر عمل کرے گا۔ اس کا مقصد اعمال ظاہری و باطنی کا اہتمام و التزام ہے جس کے لیے مرُیدشیخ کو اپنا نگران دل سے تسلیم کرلیتا ہے اور شیخ اس کو اپنا سمجھ کر اپنی تعلیم اور دعا سے اس کی مدد کا قصد کرتا ہے۔ اس کو بیعت طریقت کہا جاتا ہے اور ہمارے بزرگوں کے ہاں بتواتر رائج ہے۔ اس کی شرعی حیثیت سنت مستحبہ کی ہے لیکن اس کی برکت سے فرائض واجبات اور سنن پر عمل نصیب ہوجاتا ہے اور سب سے بڑھ کر بعض خوش نصیبوں کو نسبت حاصل ہوجاتی ہے جس کے سامنے دنیا کی کوئی بھی دوسری چیز کچھ بھی نہیں۔ نسبت کو حاصل کرنے کے لیے اپنی تربیت کروانا فرض عین ہے اور بیعت اس کا ایک ذریعہ ہے لیکن سنت مستحبہ ہے۔[3]

شیخ[ترمیم]

وہ عارف جو طالبین طریقت( جن کو سالک یا مرُیدکہا جاتا ہے ) کو تعلیم کرنے کا اہل ہو شیخ کہلاتا ہے۔[3]

مرُید[ترمیم]

وہ طالب جو شیخ کے ہاتھ پر توبہ کرتا ہے اور اپنی اصلاح کے لیے جو فرض عین ہے یہ عہد کرتا ہے کہ وہ شیخ کی ہر بات کو بلا چون و چرا مانے گا۔[3]

سلسلہ[ترمیم]

اس سے مراد صحبت اور اعتماد کا وہ سلسلہ ہے جو موجودہ شیخ سے آنحضرت صلی اللہ علیہ والہ وسلم تک جاتا ہے۔ ہند میں چار بڑے سلاسل چل رہے ہیں۔ جو چشتیہ ،نقشبندیہ ،قادریہ اور سہروردیہ ہیں۔ جس شیخ سے آدمی بیعت ہوتا ہے تو اس کے ساتھ آدمی اس کے سلسلے میں داخل ہوجاتا ہے۔ ان سلاسل کی مثال فقہ کے چار طریقوں حنفی ،مالکی ،شافعی اور حنبلی یا طب کے مختلف طریقوں یعنی ایلوپیتھی ،ہومیوپیتھی ،آکو پنکچر اوریونانی حکمت وغیرہ سے دی جاتی ہے۔ ان کے اصولوں میں تھوڑا تھوڑا فرق ہے لیکن سب کا نتیجہ وہی روحانی صحت یعنی نسبت کا حاصل کرنا ہے۔[3]

تلوین[ترمیم]

احوال کا بدلنا تلوین کہلاتا ہے۔ چونکہ مرُیدکی جب تربیت ہوتی ہے تو اس پر عجیب عجیب انکشافات ہوتے ہیں جس سے اس کے احوال تبدیل ہوتے رہتے ہیں۔ چونکہ یہ ناپختگی کی علامت ہوتی ہے اس لیے سالک اس سے پناہ مانگتا ہے اور تمکین کی تلاش میں رہتا ہے۔ لیکن تمکین کے لیے تلوین لازمی ہے جیسا کہ منزل کے لیے راستے کا قطع کرنا۔ چونکہ دوران تلوین مختلف احوال کا غلبہ ہوتا ہے اس لیے سالک گو کہ اس میں معذور ہے اور یہ لوازم طریق میں سے ہے اس لیے ماخوذ نہیں ہوتے۔ لیکن اس حال میں وہ قابل تقلید بھی نہیں ہوتے بلکہ ابھی راہ میں ہوتے ہیں اس لیے مشائخ بھی ان کے لیے تمکین کے انتظار میں ہوتے ہیں۔[3]

تمکین[ترمیم]

آخر میں حسب استعداد کسی حالت محمودہ پر استمرار نصیب ہوجاتا ہے اس کو تمکین کہتے ہیں اس وقت تمام اشیاء کے حقوق خوب ادا ہوتے ہیں۔ اسی کو توسط اور اعتدال بھی کہتے ہیں صاحب تمکین حق شناس ہوتا ہے اور واصل ہوتا ہے اس لیے قابل تقلید اور مقتدا بننے کا اہل ہوتا ہے۔[3]

سیر الی اللہ[ترمیم]

سالک جو ابتدا ءمیں روحانی مریض ہوتا ہے، علاج کے لیے مرشد کامل کی طرف رجوع کرتا ہے۔ اور اس میں اطلاع و اتباع کے ذریعے سالک کی روحانی بیماریاں آہستہ آہستہ دور ہو رہی ہوتی ہیں۔ یہاں تک درجہ ضرورت میں سالک کا دل ان بیمایوں سے پاک ہوجاتا ہے۔ یعنی اس کے نفس کا تزکیہ ہوجاتا ہے جس کی طرف قُرآن میں اشارہ ہے قَدْ اَفْلَحَ مَنْ زَکّٰھَا یعنی بے شک جس نے نفس کو پاک کیا کامیاب رہا۔ اس کے ساتھ سالک کا قلب اخلاق حمیدہ سے آراستہ ہوا یعنی اس میں تواضع ،اخلاص، تفویض، حب الٰہی و حب رسول اور انابت الی اللہ کی صفات پیدا ہوئیں اور اس میں رسوخ حاصل ہوا۔ یعنی ان صفات نے قلب میں جگہ پکڑ لی اور ان کو حاصل کرنے کی تدابیر سے آگاہی ہوئی تو کہا جاتا ہے کہ اس کی سیر الی اللہ کی تکمیل ہوئی۔ اس کے بعد سالک کو علم الیقین اور فناءِ تام حاصل ہوجاتا ہے اور شیخ اس کو اکثر اجازت وخلافت دے دیتا ہے۔[3]

سیر فی اللہ[ترمیم]

سیر الی اللہ کے بعد قلب کے اندر تزکیہ اور تقویٰ سے ایک خاص جلاء اور نور پیدا ہوتا ہے اور سالک برابر قلب کو ماسواء اللہ سے فارغ کرتا رہتا ہے تو حق تعالیٰ کی ذات و صفات اور افعال نیز حقائق کونیہ اور حقائق اعمال شرعیہ سالک کے دل پر منکشف ہوجاتے ہیں، جس سے اس کا خالق کے ساتھ قرب میں اضافہ ہوتا رہتا ہے اور وہ عین الیقین سے حق الیقین تک سفر کرتا رہتا ہے اس کو سیر فی اللہ کہتے ہیں جس کی کوئی حد نہیں جتنا حصّہ جس نے اللہ تعالیٰ کے فضل سے اپنی استعداد کے مطابق پایا وہ اس کا حصّہ ہے۔ موت تک سالک کی یہ سیر جاری رہتی ہے اور تفرید اور تجرید کے ذریعے قرب میں ترقی کرتا رہتا ہے۔ اس میں چاہے شیخ سے مرُیدبڑھ جائے۔ یہ بھی ممکن ہے۔ اس تمام تفصیل سے یہ بات نوٹ کرنی چاہیے کہ بعض کتابوں میں سیر فی اللہ کے بعد بھی دو سیر لکھی گئی ہیں لیکن حقیقت میں یہ سیر فی اللہ کا ہی حصّہ ہیں۔ ان کو الگ بیان کرنے کی ضرورت نہیں۔ جہاں تک شیخ کی نگرانی میں سالک کے سلوک طے کرنے کا تعلق ہے وہ سیرالی اللہ ہے جس کاجاننا ضروری ہے۔ سیر فی اللہ سالک اور اللہ کے درمیان کا معاملہ ہے جس کے بارے میں ارشاد ہے میان عاشق و معشوق رمزے ست کراماً کاتبین را ہم خبر نیست چاہے کسی کو اپنے جمال کے مشاہدہ میں مستغرق کر دے جو اصطلاح میں "مُسْتَہْلِکِیْن "کہلاتے ہیں یا ان کو مخلوق کی اصلاح پر مامور کرکے صفت بقاء سے متصف کر دے جو اصطلاح میں راجعین کہلاتے ہیں۔ یہ اللہ تعالیٰ کی حکمت ہے جو بھی فیصلہ فرمادے۔ راجعین کو مرشدین بھی کہتے ہیں۔ ان کے ظاہر کو عام مخلوق سے خلط ملط کرکے ان کے ذریعے احکام شرعیہ لوگوں تک پہنچاتے ہیں۔[3]

علم الیقین[ترمیم]

اس کی مثال ایسے ہے کہ جیسے مستند طریقوں سے کسی کو پتہ چلے کہ زہر سے آدمی مرتا ہے اور آگ اشیاء کو جلاتی ہے۔[3]

عین الیقین[ترمیم]

اس کی مثال ایسے ہے کہ جیسے کوئی کسی چیز کو آگ سے جلتا ہوا دیکھتا ہے یا زہر سے مرتا ہوا دیکھتا ہے۔[3]

حق الیقین[ترمیم]

اس کی مثال ایسے ہے کہ جیسے خود پر کوئی چیز گزرتی ہے جیسے آگ سے جلا یا زہر سے مرنے لگا تو اس کے لیے وہ حق الیقین ہے۔[3]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. تفسیر تیسیر القرآن - مولانا عبد الرحمن کیلانی صاحب زیر آیت17 سورۃ القیامۃ
  2. حقائق عن التصوف، الباب الثانی ،الذکر، ورد الصوفیۃ ودلیلہ من الکتاب والسنۃ، ص 233
  3. ^ ا ب پ ت ٹ ث ج چ ح خ د ڈ ذ ر​ ڑ​ ز ژ س زبدۃ التصوف،شبیر احمد کاکا خیل،صفحہ19 تا 25، خانقاہ امدادیہ راولپنڈی