وجد

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search

وجد ایک ایسا روحانی جذبہ ہے۔ جو اللہ کی طرف سے باطن انسانی پر وارد ہو جس کے نتیجہ میں خوشی یا غم کی کیفیت پیدا ہوتی ہے

وجد[ترمیم]

وجد تصوف و سلوک میں استعمال ہونے والی ایک خاص اصطلاح ہے یہ ایک کیفیت ہے جو ذکر و نعت کے وقت طاری ہوتی ہے یہ کیفیت عموما اولیاء کاملین کی محافل اور صحبت کا خاصہ ہے جسے اللہ کی محبت کی علامت تصور کیا جاتا ہے

وجد کے معنی[ترمیم]

حال، جذبہ، بیخودی ،سرمستی، وہ حالت اور کیفیت جوعشق الٰہی میں دل پر ایسی طاری ہوکہ انسان بیخود ہو جائے۔ حال، عشق اور شیفتگی[1][2] وجد؛ حال؛ بے خودی؛ سرمستی؛ کسی شدیدجذبے کا غلبہ؛ حسن، موسیقی یا فنی تخلیقات کے زیر اثر پیدا ہونے والی سرخوشی؛ فرط طرب؛ وفور انبساط؛ کسی جذبے سے مغلوب ہو کر آپے سے باہر ہو جانے کی حالت (جیسے: an ecstasy of fear)؛ وارفتگی کا عالم؛ شاعرانہ وجدان یا آمد۔ [1]

وجد اور تواجد کی حقیقت[ترمیم]

وجد عموما بعض ذی روح چیزوں خصوصا اہل ایمان میں سے ایسے حضرات کو ہوتا ہے جو تلاوت قرآن یا نعت رسول ﷺ یا ذکر باری تعالیٰ یا بزرگان دین کی تعریف و توصیف سنتے ہیں تو ان پر کسی خاص کیفیت کا ورود ہوتا ہے یا انوار و تجلیات کا ورود ہوتا ہے تو ایسی صورت میں وہ اپنے اوپر قابو اور کنٹرول نہیں کر پاتے جس وجہ سے ان کے جسم پر اضطراب و حرکت پیدا ہوتی ہے جس کی بنا پر کبھی ادھر کبھی ادھر کبھی آگے کبھی پیچھے جھکتے اور گر پڑتے ہیں۔ اور کبھی کبھار بیہوش بھی ہوجاتے ہیں تو ایسی حرکت کو وجد حقیقی کہا جاتا ہے۔ اور اس کا محمود و مستحسن ہونا قرآنی آیات و احادیث مبارکہ سے بھی ثابت ہے۔[3]

  • سیدنا شیخ محی الدین عبد القادر جیلانی قطب ربانی سے وجد کے بارے میں دریافت کیا گیا تو آپ نے ارشاد فرمایا: ’’روح اللہ عزوجل کے ذکر کی حلاوت میں مستغرق ہو جائے اور حق تعالیٰ کے لیے سچے طور پر غیر کی محبت دل سے نکال دے ۔‘‘[4]
  • وجد وہ کیفیت ہے جو اتفاقاطاری ہو یہ کیفیت اوراد و وظائف کا نتیجہ ہے پس جس شخص کے وظائف زیادہ ہوں گے اس پر اللہ کی عنایات بھی زیادہ ہونگی۔[5]
  • وجد ایک ایسا روحانی جذبہ ہے جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے بطن انسانی پر وارد ہو خواہ اس کا نتیجہ فرحت ہو یا حزن اس جذبہ کے وارد ہونے سے بطن کی ہیئت تبدیل ہوجاتی ہے اور اس کے اندر رجوع الی اللہ کا شوق پیدا ہوجاتا ہے گویا وجد ایک قسم کی فرحت ہے یہ اس شخص کو حاصل ہوتی ہے جس سے صفات نفس مغلوب ہیں اور اس کی نظریں اللہ کی طرف لگی ہیں[6]
  • جبکہ عمرو بن عثمان مکی کہتے ہیں کہ وجد کی کوئی کیفیت نہیں بیان کی جا سکتی کیونکہ پختہ ایمان رکھنے والے مومنوں کے نزدیک یہ اللہ کے اسراروں میں سے ایک ہے۔[7]

وجد ایک باطنی کیفیت ہے جو طالب و مطلوب کے درمیان میں ہوتی ہے۔[8]

  • گویا ہر وہ کیفیت مسرت و الم جو قلب پر بغیر ارادے و کوشش کے طاری ہو اسے وجد کہتے ہیں[7]
  • سورہ الحج کی آیت نمبر 35 میں لفظ وجل (ڈر) صفات واجدین میں سے ہے [7]

وجد اور تواجد[ترمیم]

وجد یہ ہے کہ کیفیت تمہارے دل پر کسی ارادے اور تکلف کے بغیر جاری ہو [5] وجد کو تکلف سے حاصل کرنا تواجد کہلاتا ہے تواجد اپنے اختیار سے وجد کو لانے کا نام ہے اور ایسے شخص کا وجد کامل نہیں ہوتاکیونکہ اگر یہ کامل ہوتا تو واجد کہلاتا متواجد نہ کہلاتاجو کسی شے کو بہ تکلف ظاہر کرنے کو کہتے ہیں [5] اگر یہ صرف رسومات کی پابندی کے طور پر کرے تو اس کے متعلق حکم یہ ہے

  • رہا معاملہ تواجد کا تو تواجد کے معنی ہیں از خود وجد والی صورت اختیار کرنا۔ تواجد پر علامہ سیوطی کا فتویٰ یوں ہے کہ ذاکر خواہ ذکر کرتے ہوئے کھڑا ہو جائے یہ کھڑا ہونا اختیاری ہو یا غیر اختیاری ہر حال میں جائز ہے ایسے لوگوں پر نہ انکار جائز ہے نہ انہیں منع کرنا جائز ہے [3]
  • ایک گروہ اس میں محض رسموں کا پابند بنا ہوا ہے جو ظاہری حرکتوں کی تقلید کرتا ہے باقاعدہ رقص کرتا اور اور ان کے اشاروں کی نقل کرتا ہے یہ حرام محض ہے [9]

وجد کی مختلف اقسام[ترمیم]

  • سارے بدن کا حرکت اور اضطراب
  • بعض بدن کی حرکت مثلا لطائف کی حرکت اور اقشعرار۔
  • توجد کی لذت اور وارد کے اثر سے رقص و گردش۔
  • منہ سے مختلف الفاظ کا نکلنا مثلا آہ ،اوہ ،اف تف، ہاہا ،عاعا ،لالا، اللہ للہ اور ہو ہو وغیرہ بعض الفاظ موضوعی اور بعض مہمل ظاہر ہوتے ہیں۔
  • بکا کرنا اور رونا کہ بعض اوقات آواز اور حروف پر مشتمل ہوتے ہیں جسے بکا مرتفع کہتے ہیں اور بعض اوقات بغیر آوازآنسو بہنے لگتے ہیں ۔
  • کپڑے پھاڑنا اور قمت تسعی کے مضمون پر انوار کے غلبہ کی وجہ سے ڈرنا اور چیخنا۔
  • تیز رقص یا حرکت کی وجہ سے اعضاء کا ٹوٹ جانا اوربعض اوقات موت کا خطرہ بلکہ موت واقع ہوجانا جیسا کہ حضرت داؤد علیہ السلام کے صحابہ کرام میں سے سینکڑوں کی تعداد میں لوگ وجد کی وجہ سے مر جاتے تھے۔
  • بعض اوقات بلا اختیار ہنسنے کی کیفیت طاری ہونا جیسا کہ تجلیات مالکی میں مولانا عبد المالک کی اقسام میں بیان کیا۔
  • بعض اوقات انہی حرکات غیر اختیاریہ اور صیحات مختلفہ کا نماز میں طاری ہونا اور بعض اوقات خارج نماز طاری ہونا۔
  • بعض اوقات مغلوب الحال ہو کر بے ہوش ہو جانا۔ وغیر ہ [10]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. فیروز الغات فارسی اردو طبع فیروز سنز
  2. فرہنگ آصفیہ از سید احمد دہلوی
  3. ^ ا ب فضیلت الذاکرین فی جواب المنکرین، صفحہ 21، مفتی غلام فرید ہزاروی ،ادارہ محمدیہ سیفیہ راوی ریان لاہور
  4. بہجۃ الاسرار، ذکرشي من اجوبتہ ممايدل علي قدم راسخ، ص236
  5. ^ ا ب پ رسالہ قشیریہ ،صفحہ 157، ابو القاسم عبد الکریم ہوازن قشیری، مکتبہ اعلیٰ حضرت لاہور
  6. عوارف المعارف از شہاب الدین سہروردی صفحہ 742مطبوعہ پروگریسو بک لاہور
  7. ^ ا ب پ کتاب اللمع فی التصوف ،شیخ ابو نصر سراج ،صفحہ 498 ،مطبوعہ اسلامک بک فاؤنڈیشن لاہور
  8. کشف المحجوب ،علی بن عثمان الہجویری،471،مطبوعہ مکتبہ زاویہ لاہور
  9. کشف المحجوب ،علی بن عثمان الہجویری،473،مطبوعہ مکتبہ زاویہ لاہور
  10. مخزن طریقت،محمد ظفر عباس ،صفحہ125، محمدیہ سیفیہ پبلیکیشنز لاہور