زکوٰۃ

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش
Postscript-viewer-shaded.png اصل مضمون کے لئے ملاحظہ کریں: اسلامی اقتصادی نظام

زمرہ جات



زکوٰۃ اسلام کے پانچ ارکان میں سے ايک اہم رکن ہے، جس کے لغوی معنی پاکیزہ کرنا یا پروان چڑھانا ہیں۔ اس کا بنیادی مقصد غریبوں کی مدد، معاشرتی فلاح و بہبود میں صاحب ثروت لوگوں کا حصہ ملانا اور مستحق لوگوں تک زندگی گزارنے کا سامان بہم پہنچانا ہے۔

اسلام کا تیسرا اہم رکن ہے۔زکوۃ کے معنی پاکیزگی اور بڑھنے کے ہیں۔

پاکیزگی سے مراد اللہ تعالٰی نے ہمارے مال و دولت میں جو حق مقررکیا ہے اس کو خلوص دل اور رضامندی سے ادا کیا جاۓ۔نشونما سے مراد حق داروں پر مال خرچ کرنا اپنی دولت کو بڑھانا ہے ،جس سے مال میں برکت پیدا ہوتی ہے۔

دین اک اصطلاح میں زکوۃ ایسی مالی عبادت ہے جو ہر صاحب نصات مسلمان پرفرض ہے۔

مصارف زکوۃ[ترمیم]

زکوۃ تو بس محتاجوں ‘ مسکینوں‘ عاملین صدقات اور تالیف قلوب کے سزا واروں کے لیے ہے اور اس لیے کہ یہ گردنوں کے چھڑانے ‘ تاوان زدوں کے سنبھالنے ‘ اللہ کی راہ اور مسافروں کی امداد میں خرچ کی جائے ۔ یہ اللہ کا مقرر کردہ فریضہ ہے اور اللہ علم والا اور حکمت والا ہے۔(9۔60)


زکوۃ کی فرضیت[ترمیم]

زکوٰۃ فرض ہونے کے لیے چند شرطیں ہیں:

  • مسلمان ہونا، کافر پر زکوٰۃ واجب نہیں۔
  • بالغ ہونا، نابالغ پر زکوٰۃ فرض نہیں۔
  • عاقل ہونا، بوہرے(مجنون) پر زکوٰۃ فرض نہیں جبکہ اسی حال میں سال گذر جائے اور کبھی کبھی اسے افاقہ ہو جاتا ہے تو فرض ہے۔
  • آزاد ہونا، غلام پر زکوٰۃ نہیں اگرچہ اس کے مالک نے تجارت کی اجازت دے دی ہو۔
  • مال بقدرِ نصاب اس کی ملک میں ہونا، اگر نصاب سے کم ہے تو زکوٰۃ نہیں۔
  • پورے طور پر اس کا مالک ہونا، یعنی اس پر قبضہ بھی ہو۔
  • نصاب کا دین (قرض) سے فارغ (بچا ہوا) ہونا۔
  • نصاب کا حاجتِ اصلیہ سے فارغ ہونا۔
  • مال کا نامی ہونا یعنی بڑھنے والا، خواہ حقیقتہً ہو یاحکماً۔
  • نصاب پر ایک سال کا مل کا گذر جانا ۔(عامۂ کتب)

اللہ تعالٰی نے قراآن کریم میں ارشاد فرمایا : اقیموا الصلوۃ واتوا الزکوۃ ۔ (البقرۃ) ترجمہ:نماز قائم کرو اور زکوۃ ادا کرو ۔ اس آیۃ کریمہ میں زکوۃ کی فرضیت کا ثبوت مل رہا ہے.

اس کے علاوہ خود حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے زکوۃ کا اہتمام فرمایا اور لوگوں کو زکوۃ کا حکم فرمایا اور اسی طرح آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ نے بھی اہتمام فرمایا حتی کہ حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ جس نے زکوۃ کا انکار کیا اس کو قتل کر دیا جائے گا اس طرح سے بہت بڑے اٹھنے والے فتنے کا سد باب ہو گیا ۔

زکوۃ تو اسلام نے غربا کی مدد اور ان کی مشکلات کو حل کرنے کے لئے امرا پر فرض کی ہے۔ اور یہ غربت کو ختم کرنے کا بہترین طریقہ ہے ۔ خیال رہے کہ اگر سارے امیر لوگ زکوۃ دیں تو غربت ہمیشہ کے لئے دفن ہو جاتی ہے۔ اسلام کے اس زریں اصول سے ہر مسلمان اور غیر مسلم فائدہ اٹھا سکتا ہے۔


وجوب زکوۃ سے مثتنی چیزیں[ترمیم]

جس چیز کی طرف زندگی بسر کرنے میں آدمی کو ضرورت ہے، اسے حاجتِ اصیلہّ کہتے ہیں، اس میں زکوٰۃ واجب نہیں جیسے رہنے کا مکان ، جاڑے گرمیوں میں پہننے کے کپڑے ، خانہ داری کا سامان، سواری کے جانور ، پیشہ وروں کے اوزار، اہل علم کے لیے حاجت کی کتابیں، کھانے کے لیے غلہ، (ردالمحتار) یونہی حاجتِ اصیلہّ میں خرچ کرنے کے لیے روپے پیسے۔

نصابِ زکوٰۃ[ترمیم]

سونے کی زکوٰۃ :
نصاب : 20 مثقال = 20 دينار =85 گرام
پاکستان ، بنگلاديش اور ہندوستان کے اوزان کے مطابق 7.29تولے سونا کيونکہ
1 تولہ = 11.6638 گرام
تو 20 مثقال = 85 گرام = 7.29 تولہ
شرح : 2.5فيصد يعنی اگر آپ کے پاس20 دينار ہو تو آدھا دينار زکوٰۃ ميں دينا ہو گا ۔
شرط : قمری سال کا پورا ہونا

چاندی کی زکوٰۃ
نصاب : 200 درہم = 595 گرام
يا 595 گرام = 51.01 تولہ
شرح : 2.5فيصد يعنی اگر آپ کے پاس دو سو دراہم ہو تو آپکو پانچ دراہم زکوٰۃ ميں دينا ہو نگے ۔
شرط : قمری سال کا پورا ہونا

اموال تجارت پر زکوٰۃ :
نصاب : مال کی اتنی مقدار جسکی قيمت 20 دينار يعنی 85 گرام سونے کے قيمت کے برابر ہو ۔
شرح : 2.5 فیصد
شرط : قمری سال کا پورا ہونا ۔

زکوٰۃ کی شرعی ادائیگی[ترمیم]

زکوٰۃ کی ادائیگی ’’عین‘‘ میں ہونی چاہیئے ناکہ ’’دَین‘‘ میں۔ ’’عین‘‘ کے معنی ہے، حقیقی شے یا مال جو قابل فروختنی ہو، یا کوئی جنس یا حقیقی اثاثہ جات ۔ ’’دَین‘‘ کے معنی ہے ذمہ داری ، قرض ، ادائیگی کاوعدہ۔ زکوٰۃ کو ’’دَین‘‘ میں دینے کی وجہ سے ’’دارورہ‘‘ کی طرف رجوع کرنے سے ہے۔ (’’دارورہ‘‘ کے معنی ہے ’’نہایت مجبوری کی حالت میں کوئی کام کرنا)۔ لیکن دارورہ ایک عارضی اقدام ہوتا ہے اس کو ہمیشہ کے لئے استعمال نہیں کیا جا سکتا۔
زکوٰۃ کے بارے میں مندرجہ ذیل عناصر کا خیال رکھنا چاہیئے۔
(۱) زکوٰۃ کی ادائیگی ہر مسلمان پر فرض ہے جب اس کے پاس دولت نصاب تک پہنچ جائے۔
(۲) زکوٰۃ کی ادائیگی ہمیشہ حقیقی جنس میں ہونی چاہیئے یا موتیوں میں یا اگر اس کو پیسوں (زر) کی صورت میں دینا ہو تو اس کو سونے کے دینار اور چاندی کے درہم میں دینی چاہیئے۔
(۳) جب سونے کے دینار اور چاندی کے درہم موجود ہو،توزکوٰۃ کی ادائیگی کاغذی نوٹوں میں نہیں کی جا سکتی۔
(۴) مسلمانوں کے علاقوں میں واقع کانوں کے معدنیات کے پیداوار پر دس فیصد (10%) زکوٰۃ ہے اور یہ زکوٰۃ کو تیل کی صورت میں جمع کرنے کے لئے بہت اہم ہے۔ تمام مسلمان ملکوں میں تیل کی پیداوار کا دس فیصد حصہ مستحقین زکوٰۃ کا حق ہے۔
(۵) زکوٰۃ کی تقسیم جتنی جلدی ممکن ہو، کرنی چاہیئے۔ مثالی لحاظ سے زکوٰۃ کی وصولی کے بعد، 24گھنٹوں کے اندر اندر اس کی تقسیم ہونی چاہیئے۔
(۵) زکوٰۃ وصول کی جاتی ہے نہ کہ دی جاتی ہے۔ زکوٰۃ کی وصولی محصولین زکوٰۃ کو کرنی چاہیئے جو وصولی کے بعد وصولی کی رسید زکوٰۃ دینے والے کو جاری کرے گا۔ ان محصولین زکوٰۃ (Zakat Collectors) کو امیر (خلیفہ) مقرر کرے گا اور ان کی تنخواہ جمع شدہ زکوٰۃ سے دی جائے گی۔

زکوٰۃ کی ادائیگی’’دَین‘‘و’’عین‘‘ کا مسئلہ[ترمیم]

اسلام کی بنیاد پانچ چیزوں پر ہے۔ اس بات کی گواہی دینا کہ ا للہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور محمدﷺ اس کے رسول ؐ ہیں۔ نماز قائم کرنا، زکوٰۃ دینا، حج کرنا اور رمضان کے روزے رکھنا۔‘‘

مسئلہ:
مسئلہ کہ زکوٰۃ کو ادائیگی کے وعدے کے ساتھ نہیں دیا جا سکتا۔ زکوٰۃ کو صرف حقیقی مال یا شے جو قابل فروختنی ہو، میں دی جائے گی۔ جس کو عربی میں ’’عین‘‘ کہا جاتا ہے۔ اس کو ادائیگی کے وعدے یا قرض کی صورت میں نہیں دیا جا سکتا ۔ جس کو عربی میں ’دَین‘‘ کہتے ہیں۔
شروع ہی سے زکوٰۃ دینار و درہم میں دی جاتی تھی اور قابل توجہ بات یہ ہے کہ اس بات کی کبھی بھی اجازت نہیں دی گئی کہ زکوٰۃ کو کاغذی نوٹوں وصول کی جائے اور یہ صورت خلافتِ عثمانی کی پوری تاریخ میں چھائی رہی یہاں تک کہ اس کا خاتمہ1928ءمیں ہوا۔

شیخ محمد علیش کا فتویٰ
مسلک مالکی کے عظیم قاضی شیخ محمد علیش ؒ (1802-1881ء) نے فرمایا کہ اگر آپ نے زکوٰۃ کو کاغذی پیسوں کی صورت میں ادا کرنا ہو تو پھر اس کی قدر صرف ایک کاغذ کی لی جائے گی۔ اس لئے اس پر لکھی ہوئی رقم کا زکوٰۃ کی ادائیگی میں کوئی حصہ نہیں۔ (یعنی اگر ایک ہزار روپے کی نوٹ پر ایک روپیہ خر چ آیا ہے تو اس کی قیمت ایک روپے تصور کی جائے گی ناکہ ایک ہزار روپے)۔
اگر زکوٰۃ کسی شے یا مال کی جنس (مادے) کی وجہ سے فرض ہو تو پھر زکوٰۃ (کاغذی نوٹوں) پر لکھی ہوئی رقم کی وجہ سے نہیں ہوگی بلکہ اس کی قدر اس کی جنس کی وجہ سے ہوگی (عین) یعنی اس کی قدر صرف کاغذ کے طور پر قبول کی جائے گی جیسا کہ چاندی، سونے، اناج یا پھل وغیرہ میں ہوتا ہے۔ اب جبکہ اس کے مادے (یعنی کاغذ) کا زکوٰۃ کی ادائیگی سے کوئی تعلق نہیں اس لئے ان کو تانبے،لوہے یا اس جیسی اجناس کی مانند تصور کرنی چاہیئے۔
اسلامی فقہ میں زکوٰۃ کی ادائیگی اور اس کی تنظیم کو جامع انداز مین بیان کیاگیا ہے۔ صدیوں سے جب خلیفہ یا امیر اسلامی قانون کا نفاذ کرتا تھا تو زکوٰۃ کو ہمیشہ سونے اور چاندی میں ہی اکٹھا کرتا تھا۔ جب کاغذی پیسے کو پچھلے صدی میں (مغربی) مستعمراتی قوتوں نے متعارف کرایا تو روایتی علماء نے اس کے استعمال کو ردّ کیا کیونکہ یہ اسلامی قانون کے خلاف تھا۔ ان کے مطابق کاغذی کرنسی کو فلوس کی مانند تصور کرنا چاہیئے یا اِسے پیسے (زر) کی ادنیٰ صورت تصور کرنا چاہیئے جس کا استعمال بہت محدود ہو اور بنیادی طور پر اِسے صرف ریزگاری(Change)کے لئے استعمال کرنا چاہیئے۔
مثال کے طور پر ، فلوس میں قرض نہیں دیا جا سکتا۔ ان علماء میں سب سے مشہور مغربی النسل عالم شیخ محمد علیش ؒ (1801-1881)تھے جو جامعہ الازھر مصر میں فقہ مالکی میں شیوخ و علماء کے شیخ تھے وہ اپنے فتویٰ میں لکھتے ہیں:
’’آپ کا اس کاغذ کے بارے میں کیا رائے ہے۔ جس میں سلطان کا مہر لگا ہوا ہو اور دینار و درہم کی طرح گردش کرتی ہو (معاشرے میں)؟ کیا اس سے زکوٰۃ دی جا سکتی ہے یا نہیں، جیسا کہ سونے اور چاندی کے سکوں یا کسی قابلِ فروختنی جنس کی صورت میں دی جاتی ہے؟
میں نے مندرجہ ذیل طریقہ سے اس کا جواب دیا:
’’تمام تعریفیں اللہ تعالیٰ کے لئے اور سلامتی ہو ہمارے آقا محمدﷺ پر جو اللہ تعالیٰ کے رسول ہیں۔‘‘
’’زکوٰۃ ان (کاغذی نوٹوں) میں نہیں دی جا سکتی کیونکہ زکوٰۃ کی ادائیگی خاص چیزوں کے ساتھ منسلک ہے مثلاً مویشی، اناج، پھل، سونا اور چاندی اور روزمرہ استعمال ہونے والی فروختنی اشیاء اور اجناس وغیرہ۔ جس (کاغذی نوٹ) کا پہلےذکر ہوا اس کا تعلق ان میں سے کسی چیز کے ساتھ نہیں۔‘‘
آپ اس کے بارے میں تفصیلی معلومات اس وقت حاصل کر سکتے ہیں جبکہ اپ ان کا تقابل فلوس یا تانبے سے بنے سکے کے ساتھ کریں گے، جس پر سلطان کا مہر ہوتا ہے، جو (زر کے طور پر معاشرے میں) گردش کرتے ہیں اور اس پر کوئی زکوٰۃ ادا نہیں کی جاتی کیونکہ اس کا تعلق مندرجہ بالا اشیاء میں کسی کے ساتھ نہیں ہوتا۔ وہ ’’مَدوّانہ‘‘میں لکھتا ہے:
’’جن لوگوں کے پاس دو سو درہم کے برابر فلوس موجود ہو، ان پر زکوٰۃ واجب نہیں ، جب تک وہ (مارکیٹ میں) گردشی جنس کے طور پر استعمال نہ ہو، تب ان کو جنس یا مال تصور کیا جائے گا۔‘‘
’’اِتّراز‘‘ میں امام ابو حنیفہ ؒ اور امام شافعی ؒ کی فلوس میں زکوٰۃ دینے کو جائز قرار دینے کے بارے میں لکھتا ہے کہ دونوں نے اس بات پر زور دیا ہے کہ زکوٰۃ کی ادائیگی اس کی (حقیقی) قدر کی وجہ سے ہیں اور شافعی ؒ مذہب کا ان کے بارے میں دو مختلف رائے ہیں۔ ان میں سے ایک مکتبہ فکر کا کہنا ہے کہ چونکہ زکوٰۃ فلوس میں دینا واجب نہہیں کیونکہ اس بات میں کوئی تضاد نہیں پایا جاتا کہ فلوس کی قدر اس کی مادے یا مقدار کی وجہ سے نہیں ہوتی بلکہ صرف اس پر لکھی ہوئی ظاہری قیمت کی وجہ سے ہوتی ہے۔ اب اگر زکوٰۃ ان (فلوس) کے مادے کوبطور جنس قرار دینے کے بعد واجب ہو، تو پھر اس کا نصاب کو پہنچنا اس کی ظاہری قیمت کی وجہ سے نہیں ہوگی بلکہ اس سے بنی مادے اور مقدار کی وجہ سے ہوگی۔ جیسا کہ سونے، چاندی ، اناج اور پھلوں میں ہوتا ہے۔ اب جبکہ اس کا مادے (کاغذ) کا زکوٰۃ سے کوئی تعلق نہیں اس لئے اس کو تانبے ، لوہے یا ِاِسی قسم کے دوسرے اشیاء کے بطور لیا جائے گا۔‘‘ اور اللہ تعالیٰ سب سے دانان ہے۔ اور اللہ تعالیٰ ہمارے آقا محمدﷺ اور اس کی آل پر سلامتی اور برکتیں نازل کرے۔[1]

اس فتویٰ کے مطابق کاغذی نوٹوں کو فلوس کی حیثیت دی گئی ہے کیونکہ یہ صرف ’’زر‘‘ کی نمائندگی کرتی ہے اور اس کی بطور جنس حقیقی کوئی قدر نہیں۔ اس کے مطابق زکوٰۃ کو فلوس میں ادا نہیں کیا جا سکتا کوینکہ اس کی جنس کی کوئی قدر نہیں ۔ اس کو کاغذی نوٹوں میں بھی نہیں دیا جا سکتا کیونکہ اس کی کاغذ کی کوئی قدر نہیں۔ اس بنیاد پر زکوٰۃ کی دینار و درہم میں ادائیگی کی فوراً بحالی بالکل واضح ہو جاتی ہے ۔ اگر لاکھوں مسلمان جو زکوٰۃ کاغذی کرنسی میں دیتے ہیں ، نئے ڈھالے گئے سونے کے دینار اور چاندی کے درہم میں دینا شروع کر دے تو اس سے لاکھوں سونے اور چاندی کے سکے ہمارے معاشروں کے تجارتی سرگرمیوں میں گردش کرنا شروع کر دیں گے اور یہ اقدام اس صدی کا سب سے اہم سیاسی اقدام ہوگا جس سے ہمارے اپنے حلال اور آزاد ’’زر‘‘ (Currency) کے قیام کی راہیں کھولیں گی جو ہمیںٰ (موجودہ) سودی نظام معیشت سے الگ کر دے گا۔
اسلام کی دوبارہ بحالی کے لئے زکوٰۃ کی ادائیگی کو پھر سے سونے اور چاندی میں کرنا نہایت ضروری ہے۔

امام کاسانیؒ نے اس بات کی تصدیق کی کہ زکوٰۃ ’’دَین‘‘ میں نہیں دی جا سکتی
امام کاسانیؒ مشہور حنفی عالم اپنی کتاب ’’بدائع صنائع‘‘ میں لکھتا ہے:
’’اگر جائیداد جس پر زکوٰۃ واجب ہو ’’دَین‘‘ کی صورت میں ہو، جو ’’عین‘‘ سے مختلف ہو، اس کی زکوٰۃ ’’عین‘‘ کی دولت کی شکل میں دی جا سکتی ہے۔ اس طرح اگر کسی شخص کے پاس دو سو درہم ہو (کسی پر قرض کی صورت میں) جس پر زکوٰۃ ہوتی ہے تو وہ پانچ درہم نقد زکوٰۃ میں دے گا کیونکہ ’’دَین‘‘ مقابل ’’عین‘‘ کے ناقص ہے اور ’’عین‘‘ کامل ہے ۔ اسی لئے ناقص کا معاملہ ’’کامل‘‘ کی صورت میں کرنا درست ہے۔ اس کے برعکس ’’کامل‘‘ کا معاملہ ناقص کی صورت میں درست نہیں اور اسی لئے اگر کو‏‏ئی شخص دو سو درہم ملکیت پر زکوٰۃ اس ‎شکل میں ادا کرنا چاہے کہ ایک غریب آدمی کودئے گئے پانچ درہم قرض کو ادائیگی مان لیا جائے تو ایسا کرنے کی اجازت نہیں ہے۔ آخر میں ’’دَین‘‘ دولت کی زکوٰۃ ’’دَین‘‘ کی صورت میں ، اگر دولت جس پر زکوٰۃ واجب ہو ’’دَین‘‘ کی صورت میں ہو جو واپسی پر عین کی شکل اختیار کریں تو ’’دَین‘‘ کی صورت میں اس کی زکوٰۃ ادا نہیں کی جا سکتی ہے۔ اسی طرح اگر ایک شخص کی ایک دوسرے شخص پر پانچ دراہم قرض ہو اور ایک دوسرے شخص پر دو سو دراہم قرض ہو تو اس پہلے شخص کے پانچ درہم خیرات کی صورت میں دینے پر اس کی زکوٰۃ ادا نہیں ہو جاتی کیونکہ جب یہ شخص اپنے دو سو دراہم کا قرض واپس لے لے گا تو یہ ’’عین‘‘ بن جائے گا اور ’’عین‘‘ دولت کی زکوٰۃ ’’دَین‘‘کی صورت میں دینا ناقص ہے۔
اس کے برعکس صورتِ حال کی مثال یہ ہوگی کہ ایک شخص جو کسی کا دو سو دراہم قرضدار ہو اور وہ قرضدار ان (دو سو دراہم) سے (پانچ) دراہم (اس نیت سے اپنے پاس) رکھ لے کہ اسکے (مالک) کے قرض پر زکوٰۃ ’’دَین‘‘ کی صورت میں ادا ہو تو یہ جائز ہے ۔ البتہ یہ اس وقت جائز ہوگی جب قرضدار غریب ہو اور اس کے علاوہ اس کی تضاد رائے بھی موجود ہے۔ تو ہم یہ بات بغیر کسی ہچکچاہٹ کے کہہ سکتے ہیں کہ ’’عین‘‘ دولت کی زکوٰۃ ’’عین‘‘ کی صورت میں دینے سے زکوٰۃ ادا ہو جاتی ہے مثلاً ’’کسی شخص کے پاس دو سو دراہم ہو اور وہ ان دو سو دراہم میں سے پانچ دراہم کو زکوٰۃ کی شکل میں دےد ے۔‘‘[2]
اسی لئے زکوٰۃ کی ’’دَین‘‘ اور ’’عین‘‘ کی صورت میں ادائیگی کے مسئلے کو درجہ ذیل طریقے سے بیان کیا جا سکتا ہے:
(۱) زکوٰۃ اس شخص پر واجب ہو جاتی ہے جس کا کسی پر قابل واپسی قرض (دَین) ہو(جو نصاب) تک پہنچے۔
(۲) جس پر زکوٰۃ واجب ہوتی ہے وہ اس کو ’’دَین‘‘ کی صورت میں ادا نہیں کر سکتا۔
(۳) زکوٰۃ کی ادائیگی ہمیشہ ’’عین‘‘ کی صورت میں ہونی چاہیئے جو حقیقی قابل لمس دولت ہو۔

زکوٰۃ کی ادائیگی اور فلوس[ترمیم]

معاملات میں فلوس چھوٹے ریزگاری (چھوٹے سکے) کی حیثیت رکھتے ہیں۔ یہ دراصل سب سے چھوٹے سکے ایک درہم کے ایک چھوٹے حصے کی نمائندگی کرتی ہے۔ (حالانکہ نصف درہم کے سکے بھی استعمال ہوئے ہیں)۔
فلوس کو ’’زر‘‘ نہیں کہا جا سکتا کیونکہ اس کی قدر کا انحصار درہم پر ہوتا ہے۔ یہ اسی لئے کاغذی نوٹوں (Fiat Money) کی طرح ہے۔ اور اس کی یہ دوسری تعریف، کاغذی نوٹوں کو سمجھنے کے لحاظ سے خاص تعلق رکھتی ہے کیونکہ ابتدائی کاغذی نوٹوں کو فلوس تصور کیا جا چکا تھا۔ حالانکہ تاریخ نے یہ بات ثابت کر دی کہ اس کو کبھی بھی چھوٹے ریزگاری (Small Change) کے لئے کبھی بھی استعمال نہیں کیا گیا بلکہ اس کو حقیقی ’’زر‘‘ کے مکمل خاتمے کے لئے استعمال کیا گیا۔

زکوٰۃ اور فلوس
عمومی قانون یہ ہے کہ زکوٰۃ کو فلوس میں ادا نہیں کیا جا سکتا اور نہ ہی فلوس رکھنے پر زکوٰۃ واجب ہوتی ہے۔ اس بات میں کوئی اختلاف نہیں کہ زکوٰۃ کو فلوس میں نہیں دیا جا سکتا کیونکہ اس کی بطور جنس کوئی قدر نہیں بلکہ اس کی صرف ظاہری قدر ہوتی ہے۔ اسی لئے اس کو ’’زر‘‘(Money) تصور نہیں کیا جا سکتا۔ زکوٰۃ کو فلوس میں دینے کی کچھ استثنائی صورتیں ہیں جو مندرجہ ذیل ہیں:
(۱) جب فلوس کی قدر و قیمت نصاب سے تجاوز کر جائے ۔ کچھ علماء کا کہنا ہے کہ اگر فلوس کی مقدار نصاب سے تجاوز کر جائے جو دو سو دراہم یا بیس (20) دینار ہے تو اس پر زکوٰۃ واجب ہو جاتی ہے۔
(۲) جب فلوس بطورِ فروختنی جنس استعمال کی جائے ۔ دوسری استثنائی صورت یہ ہے کہ جب فلوس کو بطورِ مال تجارت استعمال کیا جائے ، تب اس کی قدر اس کی دھاتی جنس کی وجہ سے ہو(جو تانبے سے یا تانبے کے ساتھ دوسری دھاتوں کی ملاوٹ سے بنی ہوتی ہیں) ۔ کچھ لوگ اس کی تجارت مثلِ دھات کے کرتے تھے تو دوسری صورت کے بارے میں کچھ علماء کا کہنا ہے کہ ان (فلوس) پر زکوٰۃ ، اجناس پر زکوٰۃ واجب ہو نے کی طرح ہوگی جس پر ایک سال گزر جائے۔

حوالہ جات[ترمیم]

  1. ^ الفتح العلی المالکی : ص۱۶۵۔۱۶۴
  2. ^ بدائع صنائع : ص۱۵۵۔ ۱۵۴