فنا نانپاروی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
فنا نانپاروی
پیدائش محمد احسان الحق
1905ء
محلہ پیڑاؤ شہر نانپارہ بہرائچ اتر پردیش بھارت
وفات 14جون 1976ء
شہر نانپارہ بہرائچ اتر پردیش بھارت
زبان اردو
قومیت بھارتی
شہریت بھارتی
موضوع نعت ،غزل
نمایاں کام نغمات فنا

فنا نانپاروی کا اصل نام محمد احسان الحق تھا اور آپ کی پیدائش1905ءمیں شہر نانپارہ ضلع بہرائچ میں ہوئی تھی۔ آپ کے والد کا نام کریم بخش تھا ۔

حالات[ترمیم]

فنا نانپاروی کی ابتدائی تعلیم نانپارہ میں ہی ہوئی اور مڈل تک کی تعلیم نانپاروی میں ہی حاصل کی ،پھر بعد میں دینی تعلیم کے حصول کے لیے بریلی کے مدرسہ منظر السلام میں داخلہ لیا اور کئی سال تک تعلیم حاصل کی لیکن چند وجوہات کی وجہ سے گھر واپس آ گئے اور پھر کورس نہیں مکمل کر سکے۔ بعد میں تحصیل نانپارہ میں عرائض نوسی اپنا ذریعہ معاش بنایا اور تادم آخر اسی شغل کو جاری رکھا۔ آپ کو اردو ادب سے گہرا لگاو تھا۔ آپ استاد شاعر اصغر ؔ نانپاروی کے شاگرد تھے۔ فنا نانپاروی نے غزلیں ،نعتیں،منقبت وغیرہ لکھی۔ فنا نانپاروی بہرائچ اور نانپارہ کی ادبی نشتوں اور مشاعروں میں اکثر شرکت کرتے تھے اور داد و سخن حاصل کرتے تھے۔ ایک حادسہ کے سبب آپ کے ایک پیر میں مشتقلاََ لنگ پیدا ہو گیا تھا اور بعد میں فالج ہوجانے سے چلنے پھرنے سے اور تحریری کاموں سے معذور ہو گئے تھے۔

ادبی شخصیات سے رابطہ[ترمیم]

فنا نانپاروی شہر نانپارہ اور ضلع بہرائچ کے مشہور شاعر تھے اور آپ کا نانپارہ اور بہرائچ کے تمام شاعروں سے گہرا رابطہ تھا۔ ایمن چغتائی نانپاروی، واصف القادری نانپاروی، مہشر نانپاروی، غوث نانپاروی، ڈاکٹر نعیم اللہ خیالی، شفیع بہرائچی، ڈاکٹر عبرت بہرائچی، وصفی بہرائچی، بابا جمال ،حکیم اظہر وارثی، شوق بہرائچی، رافعت بہرائچی ،شہرت بہرائچی وغیرہ سے گہرارا تعلوق تھا۔ اور آپ ہمیشہ بہرائچ اور نانپارہ کی ادبی محفلوں میں شرکت کرتے تھے۔ شاعر و ادیب شارق ربانی نے آپ کی تفصیلات کو یکجا کر کے 2014ء میں ہندی روزنامہ ہندوستان میں اردو ادب اور بہرائچ کے نام سے شائع ہوئے ایک سلسلہ میں شائع کرائی۔ شاعر و ادیب شارق ربانی کا کہنا ہے کہ فنا نانپاروی نے اردو ادب کی کافی خدمت انجام دی۔ فنا کے انداز بیان میں جملہ شاعرانہ محاسن نظر آتے ہیں۔ اس میں معنی آفرینی بھی ہے اور غزل کا بہترین رنگ اور آہنگ بھی۔

تصنیف[ترمیم]

آپ کی وفات کے بعد آپ کے فرزند محمد نظام الحق نے آپ کی غزلوں کا ایک مجموعہ نغمات فناکے نام سے شائع کرایا ۔

وفات[ترمیم]

فنا نانپاروی کی وفات 14جون 1976ء کو نانپارہ میں ہوئی تھی اور تدفین بھی نانپارہ کے قبرستان میں ہوئی جس میں کثیر تعداد میں لوگو ں نے شرکت کی تھی۔

نمونہ کلام[ترمیم]

گھٹا چھائی ہے اور رو کتے ہیں بادہ نوشی سے الہٗی خیر مجھ توبہ شکن کی آزمائش ہے
خدا کے ہاتھ میں ہے آبرو اب اشیانے کی ادھر بجلی ادھر چرخ کہن کی آزمائش ہے
الہٗی خیر ہو زنداں کی دیواریں ہیں بوسیدہ جنوں کا جوش ہے دیوانہ پن کی آزمائش ہے
فنا ؔ حق گوئی بے معنی بقول حضرت غالب جہاں میں ہوں وہاں دارورسن کی آزمائش ہے
میں جب سمجھوں گا انگریزوں کے گلشن سے قدم نکلے زمین ہند کی زلفوں سے پہلے پیچ و خم نکلے
ہزاروں غم ہیں نکلے بھی تو کیا دوچار غم نکلے جو دیکھا جائے تو دل مرکز رنج والم نکلے
حرم میں ذیر میں مسجد میں بت خانے میں محفل میں نئے آئے صنم جتنے پرانے تھے صنم نکلے
مری بالیں پہ وہ آجابنگے آئے ہیں آئے ہیں نہ جانے کس گھڑی کس روز دل کا بھرم نکلے
بتائے تو کوئی دونوں میں کس کی راہ سیدھی ہے ہم ان کے نقش پاکے شیخ بابند حرم نکلے
تمھاری بزم سے نکلے تو ہر اک شادئی نکلے مگر روتے ہوئے نکلے تو اک بدبخت ہم نکلے
جہاں کی کشمکش سے چھوٹ جایءں زندگی پایءں جو وہ آجایءں بالیں پر تو آسانی سے دم نکلے
نہ جانے وقت کب آئے گا جب تجدید غم ہوگی فناؔ عرصہ ہوا ہے سر سے طوفان الم نکلے

حوالہ جات[ترمیم]

  • ہندی روزنامہ ہندوستان بہرائچ میں شائع مضمون 2014
  • نغمات فنا از فنا نانپاروی