عبرت بہرائچی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
Ibrat Behraich profile pic.jpeg
پیدائش 01 جنوری 1927ء
بہرائچ، یوپی، انڈیا
اقامت بہرائچ، اتر پردیش
دیگر نام ڈاکٹر عبرت بہرائچی
پیشہ ادب سے وابستگی،
وجۂ شہرت شاعری
مذہب اسلام
والدین
  • عبد الشکور خاں (باپ)
عبرت بہرائچی کی موجودہ تصویر

عبد العزیز خاں (عبرتؔ بہرائچی ) : کی پیدائش یکم جنوری 1927ء کو شہر بہرائچ میں ہوئی۔ والد صاحب عبد الشکور خاں تھے۔ ان کی تعلیم ام۔ بی۔ بی۔ اس۔(ہومیو)

پیشہ ورانہ سفر[ترمیم]

محکمہ تعمیر اتر پردیش میں ملازم رہے۔ وظیفہ یابی کے بعد ہومیو پتھ ڈاکٹری علاج و معالجہ میں مصروف۔

عبرت بہرائچی ۔

ادبی سفر[ترمیم]

آپ کے پردادا حضرت انیقؔ بہرائچی صاحب دیوان شاعر حضرت انیسؔ لکھنوی کے ساتھیوں میں تھے۔ انیق صاحب شاعر اور بیسوں کتابوں کے مصنف تھے۔ عبرت ؔ صاحب اردو ،عربی،فارسی،ہندی اور انگریزی زبانوں کا بہترین علم ہے۔ ڈاکٹر عبرت ؔصاحب حضرت نشورؔواحدی کے شاگرد ہیں۔

اہم شخصیات سے رابطہ[ترمیم]

ڈ اکٹر عبرت ؔصاحب کافی عرصے تک حضرت جگرؔ مرادآبادی کے سا تھ رہے اور ان کے ساتھ ہندوستان کے درجنوں مشاعروں میں شرکت بھی کی اور اپنے معیاری کلام سے سامعین کا دل جیتا۔

ادبی خدمات[ترمیم]

عبرت ؔ ؔ بہرائچی نظم اور غزل دونوں میں حاکمانہ قدرت رکھتے ہیں، انکی غزلوں کی خاص پہچان الفاظ و محاورات کا بخوبی استعما ل ہے جو ان کے تخلیقی ذہن کی غمازی کرتا ہے۔ عبرتؔ صاحب نشر کے میدان میں بھی پیچھے نہیں ہیں۔ آپ نے سیکڑوں مضامین لکھے ہیں۔ اب تک پچاس کتابیں منظر عام پر آچکی ہیں جن میں دو درجن کتابیں دینی اور ادبی نشری کتابیں ہیں اور دو درجن سے زائید آپکے شعری مجموعے ہیں عبرت ؔ ؔ صاحب نے صرف غزل ہی اپنے اظہار کا وسیلہ نہیں بنایا بلکہ نظم،حمد و نعت و منقبت،رباعی،قطعات بھی کہے،بچوں پر بھی بہت عمدہ نظمیں کہی ،حبّ الوطنی پر آپکی معیاری نظمیں ہندوستان کے کئی معیاری رسائل و جراید میں شایع ہوچکی ہیں، آپ کی نظم ـ"باپو" ریڈیو تاشقند سے نشر ہو چکی ہے جو بین الاقوامی سطح پر پسند کی گئی۔ آل انڈیا ریڈیوپر بھی کئی نظمیں پڑھی جا چکی ہیں۔ آل انڈیا ریڈیو سے آپ کا تا حیات اگریمنٹ ہے۔

تصانیف وتخلیقات[ترمیم]

دیگر تصانیف کی فہرست
  1. متاع زیست
  2. تحقیق وجستجو
  3. لگن
  4. وجہہ لوح و قلم اور دیگر کتابیں ہیں

نمونہ کلام[ترمیم]

میت کو میری دوستو آہستہ لے چلو

میں موت سے لڑا ہوں ،بدن چور چور ہے

نفرتیں آپے سے باہر ہوگیئں

جب سے پھیلا ہے نظریاتی بخار

اعزازات[ترمیم]

  • ڈ اکٹر عبرت ؔ بہرائچی کو انکی گراں قدر ادبی خدمات کے لیے اترپردیس اردو اکادمی نے انعامات سے نوازا،اور دیگر تنظمیوں نے انعامات اور ایواڈ سے سرفراز کیا

ساتھ ہی جشن عبرت ؔ بہرائچی بھی منایا ہے۔

دیگر باتیں[ترمیم]

ڈ اکٹر عبرت ؔ ؔ بہرائچی کی معیاری شاعری پر ملک کے ممتاز ادیبوں نے مضامین لکھے ہیں۔ آپ کے شاگردو کی بھی تعداد کم نہیں ہے،ملک کے مختلف حصّو میں آپکے شاگرد آج بھی خط و فون کے ذریعہ آپ سے اصلاح لیتے ہیں ۔ عبرت ؔ بہرائچی کی رگ رگ میں ،ان کے خون میں شاعری رچی بسی ہے۔ آج 87برس کے ہونے کے باوجود وہ خود کو تروتازہ محسوس کر رہے ہیں اور صحت مند شعر و ادب کی آبیاری میں مصروف ہیں۔

مزید دیکھے[ترمیم]

حوالہ جات[ترمیم]

بیرونی روابط[ترمیم]