فراق گورکھپوری

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
فراق گورکھپوری
Firaq Gorakhpuri 1997 stamp of India bw.jpg 

معلومات شخصیت
پیدائش 28 اگست 1896  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ پیدائش (P569) ویکی ڈیٹا پر
گورکھپور  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام پیدائش (P19) ویکی ڈیٹا پر
وفات 3 مارچ 1982 (86 سال)  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ وفات (P570) ویکی ڈیٹا پر
نئی دہلی  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام وفات (P20) ویکی ڈیٹا پر
شہریت Flag of India.svg بھارت
British Raj Red Ensign.svg برطانوی ہند  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں شہریت (P27) ویکی ڈیٹا پر
عملی زندگی
مادر علمی جامعہ الٰہ آباد  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تعلیم از (P69) ویکی ڈیٹا پر
پیشہ مصنف،  وشاعر  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں پیشہ (P106) ویکی ڈیٹا پر
پیشہ ورانہ زبان اردو  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں زبانیں (P1412) ویکی ڈیٹا پر
اعزازات
دستخط
Firaq Autograph.jpg 

فراق گورکھپوری (پیدائش: 28 اگست 1896ء– وفات: 3 مارچ 1982ء) مصنف، ادیب، نقاد اور شاعر تھے۔ اُن کا شمار بیسویں صدی کے اردو زبان کے صفِ اول کے شعرا میں ہوتا تھا۔ ان کا اصل نام رگھو پتی سہائے تھا۔

شاعری[ترمیم]

جدید شاعری میں فراق کا مقام بہت بلند ہے۔ آج کے شاعری پر فراق کے اثر کو باآسانی محسوس کیا جاسکتا ہے۔ بہترین شخصیت کے مالک تھے حاضر جوابی میں ان کا مقابلہ کرنے والا کوئی نہیں تھا۔ بین الاقوامی ادب سے بھی شغف رہا۔ تنقید میں رومانی تنقید کی ابتدا فراق سے ہوئی۔

ان کے معاصرین میں شاعر مشرق علامہ اقبال، فیض احمد فیض، کیفی اعظمی، یگانہ یاس چنگیزی، جوش ملیح آبادی، جگر مرادآبادی اور ساحر لدھیانوی جیسے شاعر ہیں۔ اتنی عظیم ہستیوں کی موجودگی کے باوجود انہوں نے ابتدائے عمر میں ہی اپنی شاعری کا لوہا منوالیا۔[4] [5][6]

حالات زندگی[ترمیم]

فراق پی سی یس اور آئی سی یس (انڈین سول سروس) کے لیے منتخب ہوئے تھے۔ لیکن گاندھی جی کی تحریک عدم تعاون کی مخالفت میں استعفی دے دیا۔ جس کی پاداش میں انھیں جیل جانا پڑا۔ اس کے بعد وہ جامعہ الٰہ آباد میں انگریزی زبان کے ؛لچرر مقرر ہوئے۔ یہیں سے وہ دنیائے شعر و ادب کے آسمان پر سورج بن کر چمکے اور ناچاہتے ہوئے بھی معاصرین کو ماننا پڑا کہ بلا شبہ فراق اور دیگر شعرا کی شاعری میں فرق تو ضرور ہے۔ ان میں ایک انفرادیت تھی جس کی وجہ سے وہ اپنے آپ کو بطور شاعر منوا پائے۔ ان کی کی شہر آفاق کتاب گل نغمہ بھی اسی دوران منظر عام پر آئی۔ جس کو ہندوستان کا اعلیٰ معیار ادب گیان پیٹھ انعام بھی ملا۔ اور وہ آل انڈیا ریڈیو کے پروڈیوسر بھی رہے۔

بطور ممتاز شاعر انہوں نے اردو شاعری کی اہم اصناف مثلاً غزل، نظم، رباعی اور قطعہ میں کے وہ ایک منفرد شاعر ہیں جنہوں اردو نظم کی ایک درجن سے زائد اور اردو نثر کی نصف درجن سے زائد جلدیں ترتیب دیں اور ہندی ادبی اصناف پر متعدد جلدیں تحریر کیں، ساتھ ہی ساتھ انگریزی ادبی وثقافتی موضوعات پر چار کتابیں بھی لکھیں۔

وفات[ترمیم]

فراق کا انتقال طویل علالت کے بعد 3 مارچ 1982ء کو 85 سال کی عمر میں نئی دہلی میں ہوا۔ میت الہ آباد لے جائی گئی جہاں دریائے گنگا اور دریائے جمنا کے سنگم پر نذر آتش کیا گیا۔[7]

تصانیف[ترمیم]

  • گل نغمہ[8]
  • گل رعنا
  • مشعل
  • روح کائنات
  • روپ
  • شبستان
  • سر غم
  • بزم زندگی رنگ شاعری

اعزازات[ترمیم]

  • 1960: ساہتیہ اکیڈمی ایوارڈ
  • 1968: پدم بھوشن
  • 1968: سویت لینڈ نہرو ایوارڈ
  • 1969: گیان پیٹھ انعام، اردو شاعری میں پہلا گیان پیٹھ انعام[9]
  • 1981: غالب اکیڈمی ایوارڈ

حوالہ جات[ترمیم]

  1. http://www.jnanpith.net/page/jnanpith-laureates
  2. https://www.thequint.com/news/india/remembering-firaq-gorakhpuri-through-his-shayari-on-his-birthday — اخذ شدہ بتاریخ: 2 مارچ 2019
  3. http://sahitya-akademi.gov.in/awards/akademi%20samman_suchi.jsp#URDU
  4. نقص حوالہ: ٹیگ <ref>‎ درست نہیں ہے؛ IndiaToday نامی حوالہ کے لیے کوئی مواد درج نہیں کیا گیا۔ (مزید معلومات کے لیے معاونت صفحہ دیکھیے)۔
  5. Lucknow Christian Degree College to celebrate 150 years of glory. Times of India. 23 November 2012
  6. Peace was his obsession (IK Gujral used to quote Firaq Gorakhpuri). tehelka.com. 5 December 2012
  7. مالک رام: تذکرہ ماہ و سال، صفحہ 294۔ مطبوعہ دہلی، 2011ء۔
  8. نقص حوالہ: ٹیگ <ref>‎ درست نہیں ہے؛ TOI نامی حوالہ کے لیے کوئی مواد درج نہیں کیا گیا۔ (مزید معلومات کے لیے معاونت صفحہ دیکھیے)۔
  9. http://jnanpith.net/laureates/index.html