آتما رام رواجی دیش پانڈے انل

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
آتما رام رواجی دیش پانڈے انل
معلومات شخصیت
پیدائش 11 ستمبر 1901  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ پیدائش (P569) ویکی ڈیٹا پر
مرتضی پور  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام پیدائش (P19) ویکی ڈیٹا پر
تاریخ وفات سنہ 1982 (80–81 سال)  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ وفات (P570) ویکی ڈیٹا پر
شہریت Flag of India.svg بھارت
British Raj Red Ensign.svg برطانوی ہند  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں شہریت (P27) ویکی ڈیٹا پر
عملی زندگی
پیشہ شاعر،  مصنف  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں پیشہ (P106) ویکی ڈیٹا پر
پیشہ ورانہ زبان مراٹھی  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں زبانیں (P1412) ویکی ڈیٹا پر
اعزازات
ساہتیہ اکادمی ایوارڈ  (برائے:Dashpadi) (1977)[1]  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں وصول کردہ اعزازات (P166) ویکی ڈیٹا پر
P literature.svg باب ادب

انل، آتما رام رواجی دیش پانڈے پ:1901ء۔ و: 1982ء مراٹھی کے مشہور شاعر تھے۔ ریاستی اور مرکزی سرکاروں میں اونچے عہدے پر رہے۔ ان کی شاعری چالیس برسوں کو محیط ہے۔ انہوں نے مراٹھی شاعری کے کئی دور مثلاً ترقی پسند، رومانی اور عنفوان شباب کے جذبات کی عکاس شاعری اور جدید شاعری کا دور دیکھے۔ وہ سب میں شریک رہے، لیکن اپنی انفرادیت اور اپنا انفرادی رنگ قائم رکھا۔ گویا سب میں شامل بھی رہے اور سب سے الگ بھی۔ ان کی نظموں کا مجموعہ"پھول واٹ" 1932ء میں شائع ہوا۔ ان نظموں میں تازگی بھی ہے اور حسن و عشق کی جذباتی شاعری کے ساتھ ایک اعلیٰ مقصد بھی ہے۔ ان کے ہاں عشق کا جذبہ اقدار کی امیزش سے انسان دوستی اور سماجی شعور کی شاعری کے روپ میں نکھرا ہے جو "بھگن مورتی"کی نظموں کا طرہ امتیاز ہے۔ یہ مجموعہ 1940ء میں شائع ہوا۔

انل نے سانیٹ کے فارم کو ایک نئی شکل دی، وہ مراٹھی میں آزاد شاعری کے بانی سمجھے جاتے ہیں۔ 1976ء میں شائع ہونے والے نظموں کے مجموعے "دشیدی" پر انہیں ساہتیہ اکادمی انعام ملا۔ ان نظموں میں حقیقت پسندی بھی ہے اور تصوف پر چوٹ بھی۔ پچھلی پیڑھیوں کے شاعروں، خاص طور پر کیشو سُت اور سنت تکارام کا بھی ان پر اثر ہے۔

انل کو کئی ادبی اعزاز ملے۔ دوبارہ وہ دربھ ساہتیہ سنگھ کے صدر رہے، مراٹھی ساہتیہ مہا منڈل کے صدر بھی رہے اور مراٹھی ساہتیہ سمیتلن کے بھی صدر چُنے گئے، یونیسکو کی ماہرین خواندگی کمیٹی کے ارکان بھی رہے۔ سوویت یونین میں جو ادبی ماہرین کا وفد گیا تھا، اس کے سربراہ بھی تھے۔ مختلف ملکوں میں سماجی تعلیم کی صورت حال کاجائزہ لینے کے لیے انہیں یو۔ این۔ او نے فیلو شپ بھی دی۔ ساہتیہ اکادمی کے رکن رہے اور بعد میں فیلو بھی منتخب ہوئے۔ نیشنل بک ٹرسٹ(N.B.T)کے ارکان بھی رہے۔ 1977ء میں انہیں نہرو ادبی انعام ملا۔

حوالہ جات[ترمیم]

  1. http://sahitya-akademi.gov.in/awards/akademi%20samman_suchi.jsp#MARATHI — اخذ شدہ بتاریخ: 22 فروری 2019