جگر مراد آبادی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
جگر مراد آبادی
Jigar-moradabadi.jpg

معلومات شخصیت
پیدائش 6 اپریل 1890  ویکی ڈیٹا پر (P569) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
مرادآباد  ویکی ڈیٹا پر (P19) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
وفات 9 ستمبر 1960 (70 سال)  ویکی ڈیٹا پر (P570) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
گونڈہ، اترپردیش  ویکی ڈیٹا پر (P20) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
شہریت Flag of India.svg بھارت
British Raj Red Ensign.svg برطانوی ہند  ویکی ڈیٹا پر (P27) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
عملی زندگی
صنف غزل
پیشہ مصنف،  شاعر  ویکی ڈیٹا پر (P106) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
پیشہ ورانہ زبان اردو  ویکی ڈیٹا پر (P1412) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
اعزازات
P literature.svg باب ادب

جگر مرادآبادی کا اصل نام علی سکندر اور تخلص جگر تھا۔ بھارت کی ریاست اترپردیش کے شہر مراداباد میں پیدا ہوئے اور اسی لیے مرادآبادی کہلائے۔ اردو کے مشہور شاعر گزرے ہیں۔ آپ 6 اپریل1890ء کو مرادآباد میں پیدا ہوئے۔ آپ بیسویں صدی کے اردو کے مشہور شاعروں میں سے ایک ہیں۔ آپ کو سب سے زیادہ نظموں کو جمع کرنے پر ایوارڈ ملا۔ آپ کم عمر میں ہی اپنے والد سے محروم ہو گئے اور آپ کا بچپن آسان نہیں تھا۔ آپ نے مدرسے سے اردو اور فارسی سیکھی۔ شروع میں آپ کے شاعری کے استاد رسہ رامپوری تھے۔ آپ غزل لکھنے کے ایک اسکول سے تعلق رکھتے تھے۔ بلا کے مے نوش تھے مگر بڑھا پے میں تا ئب ہو گئے تھے -آپ کا 9 ستمبر 1960ء کو انتقال ہو گیا۔گوندا میں ایک رہائشی کالونی کا نام آپ کے نام پر 'جگر گنج ' رکھا گیا ہے۔ وہاں ایک اسکول کا نام بھی آپ کے نام پر جگر میموریل انٹر کالج رکھا گیا ہے۔

شاعری[ترمیم]

جگر مرادآبادی اردو شاعری کے چمکتے ستاروں میں شمار ہوتے ہیں کیونکہ ان کی شاعری ان کی رنگارنگ شخصیت،رنگ تغزّل اور نغمہ و ترنم کی آمیزش کا نتیجہ ہے جس نے انہیں اپنے زمانے بے حد مقبول اور ہردلعزیز بنا دیا تھا۔[1] جگر کوشاعری کا ذوق بچپن سے ہی تھا کیونکہ والد مولوی علی نظر اور چچا مولوی علی ظفر دونوں شاعر تھے اور بے حد مقبول تھے۔ ان کا دیوان کلیات جگر کے نام سے بازار میں دستیاب ہے جو ان کی غزلوں، نظموں قصائد و قطعات کا مجموعہ ہے۔ اس دیوان کی خاص بات یہ ہے کہ اس کا دیباچہ آل احمد سرور نے لکھا ہے جنہوں نے کلیات کا عکس اتار کر رکھ دیا ہے۔

آل احمد سرور کہتے ہیں:

جگر ایک رومانی شاعر ہیں۔ رومان کسی نہ کسی حقیقت کو ہی خوابوں میں پیش کرتا ہے۔ جگر کے یہاں بھی خواب اور حقیقت کی دھوپ چھاؤں نظر آتی ہے۔[2]

جگر کو مرزا غالب اور دیگر شعرا کی طرح یہ امتیاز حاصل ہے کہ ان کے کئی اشعار ضرب المثل بن گئے ہیں اور برسوں گزر جانے کے بعد ہیں زبان پر تازہ رہتے ہیں۔ مثلاً

یہ عشق نہیں آساں اتنا ہی سمجھ لیجے
اک آگ کا دریا ہے اور ڈوب کے جانا ہے

نمونۂ کلام[ترمیم]

کسی صورت نمودِ سوزِ پنہانی نہیں جاتی

بھجا جاتا ہے دل چہرے کی تابانی نہیں جاتی

صداقت ہو تو دل سینے سے کھنچنے لگتے ہیں واعظ

حقیقت خود کو منوالیتی ہے مانی نہیں جاتی

چلے جاتے ہیں بڑھ بڑھ کرمٹے جاتے ہیں گرگرکر

حضورِ شمع پروا نوں کی نادانی نہیں جاتی

وہ یوں دل سے گزرتے ہیں کہ آ ہٹ تک نہیں ہوتی

وہ یوں آواز دیتے ہیں کہ پہچانی نہیں جاتی

محبت میں اک ایسا وقت بھی دل پر گزرتا ہے

کہ آنسو خشک ہو جاتے ہیں طغیا نی نہیں جاتی

گلشن پرست ہوں مجھے گل ہی نہیں عزیز

کانٹوں سے بھی نباہ کیے جا رہا ہوں میں

آدمی آدمی سے ملتا ہے

دل مگر کم کسی سے ملتا ہے

میں وہ صاف ہی نہ کہہ دوں‘جو ہے فرق تجھ میں مجھ میں

ترا درد دردِ تنہا‘مرا غم غمِ زمانہ

مرے دل کے ٹوٹنے پر ‘ہے کسی کو ناز کیا کیا

مجھے اے جگر مبارک‘یہ شکستِ فاتحانہ

بیرونی روابط[ترمیم]

حوالہ جات[ترمیم]