آل احمد سرور

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
آل احمد سرور
معلومات شخصیت
پیدائش سنہ 1912 اور 9 ستمبر 1911  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ پیدائش (P569) ویکی ڈیٹا پر
بداؤں ضلع  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام پیدائش (P19) ویکی ڈیٹا پر
وفات 9 فروری 2002 (89–90 سال)  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ وفات (P570) ویکی ڈیٹا پر
دہلی  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام وفات (P20) ویکی ڈیٹا پر
شہریت Flag of India.svg بھارت  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں شہریت (P27) ویکی ڈیٹا پر
عملی زندگی
مادر علمی جامعہ علی گڑھ  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تعلیم از (P69) ویکی ڈیٹا پر
پیشہ مصنف  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں پیشہ (P106) ویکی ڈیٹا پر
پیشہ ورانہ زبان اردو  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں زبانیں (P1412) ویکی ڈیٹا پر
اعزازات
IND Padma Bhushan BAR.png پدم بھوشن 
ساہتیہ اکادمی ایوارڈ  (برائے:نظر اور نظریہ)  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں وصول کردہ اعزازات (P166) ویکی ڈیٹا پر
P literature.svg باب ادب

آل احمد اردو کے سر بر آوردہ نقاد ہیں اور موجودہ نسل کے ادبی مذاق کو مرتب بنانے میں ان کے تنقیدی مضامین کا بہت اہم کردار رہا ہے۔ سرور صاحب ایک کھلا ذہن رکھنے والے نقاد ہیں انہوں نے خود کو کسی گروہ سے وابستہ نہیں کیا اور کبھی آزادی فکر و نظر کا سودا نہیں کیا۔ انقلاب روس کے نتیجے میں جب ترقی پسند تحریک کا آغاز ہوا تو انہوں نے اس تبدیلی کو وقت کا تقاضا قرار دیا اور اس کا خیر مقدم کیا لیکن جب ترقی پسند ادب، ادب نہیں رہا تو وہ اس سے کنارہ کش ہو گئے۔ انہوں نے واضح الفاظ میں کہا کہ میں ادب کا مقصد نہ ذہنی عیاشی سمجھتا ہوں اور نہ اشتراکیت کا پرچارک۔ سرور صاحب کی تنقید ایک خاص وصف ان کا دلنشیں اسلوب ہے جس میں سادگی بھی ہے اور رعنائی بھی ان کی تنقید اپنی ذمہ داریوں کو فراموش کیے بغیر تخلیق کے دائرے میں داخل ہو جاتی ہے جس سے تنقیدی بصیرت بھی حاصل ہوتی ہے اور ایک طرح کا ذہنی سرور بھی۔

اردو ادبی دنیا میں ایک اہم نام، جو نقاد اور شاعر تھے۔ آگرہ اور علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں تعلیم پائی۔ مسلم یونیورسٹی کے شعبہ اردو میں لیکچرار مقرر ہوئے۔ وہاں سے لکھنؤ یونیورسٹی چلے گئے اور پھر علی گڑھ واپس آ گئے اور رشید احمد صدیقی کے وظیفہ یاب ہونے کے بعد صدر شعبہ اردو مقرر ہوئے۔ اشعار کے ایک مجموعہ سلسبیل اور تنقید کی چار کتابوں کے مصنف ہیں۔ ان کی خود نوشت کا نام خواب باقی ہیں ہے۔

حوالہ جات[ترمیم]