ویکم محمد بشیر

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
ویکم محمد بشیر
Basheer.jpg
پیدائش Abdul Rahman Muhammad Basheer[1]
21 جنوری 1908(1908-01-21)
Thalayolaparambu، وائکم، ضلع کوٹایم، تراونکور
وفات 5 جولائی 1994(1994-70-05) (عمر  86 سال)
Beypore، کوژیکوڈ ضلع، کیرلا، India
پیشہ Author، تحریک آزادی ہند
زبان ملیالم زبان
قومیت Indian
اصناف Novel, short story, essays, memoirs
اہم اعزازات Sahitya Akademi
1970
Central Sahitya Akademi, پدم شری اعزاز
1982
Kerala State Film Award for Best Story
1989 Mathilukal
Lalithambika Antharjanam Award
1992
Muttathu Varkey Award
1993
Vallathol Award
1993
شریک حیات Fabi Basheer

ویکم محمد بشیر ہندوستان کی جنوبی ہندوستا ن کی دراوڑی زبان ملیا لم کا جدید افسانہ نگار اور ناول نویس۔ ویکم ایک جگہ کا نام ہے۔

حالاتِ زندگی[ترمیم]

ویکم محمد بشیر کیرلا کے ضلع کوٹائم کے قصبہ Thalayolaparambu میں پیدا ہوئے۔ویکم محمد بشیر (19 جنوری 1908ء تا 5 جولائی 1994ء)[2] ایک مالایالم افسانہ نگار تھے جن کا تعلق بھارت کی ریاست کیرالا سے تھا۔ وہ ایک انسانیت پرست، مجاہد آزادی، ناول نگار اور مختصر کہانیاں لکھنے والے مصنف تھے۔ وہ اپنے جدا گانہ طرز تحریر کی بدولت نہ صرف تنقیدی حلقوں میں بلکہ عوام میں بھی بہت مقبول ہوئے۔ انہیں بھارت کے چند کامیاب ترین اور ممتاز مصنفین میں سے ایک گردانا جاتا ہے۔ ان کے کام کا ترجمہ دیگر زبانوں میں بھی کیا گیا جس سے ان کو دنیا بھر میں پسند کیا گیا۔ ان کے قابل ذکر کاموں میں بالیاکلاسکھی، شبدنگل، پتھومایودھ آدوو، متھیلوکل، نتوپوپاکوراریندرانوو، جنمندینم اور انارگا نمیشام شامل ہیں۔ انہیں 1982ء میں پدما شری ایوارڈ سے نوازا گیا۔ انہیں بیپور سلطان کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔

سوانح حیات: ابتدائی زندگی بشیر ویکم کے قریب تھالایوپارامبو ضلع کوٹایام میں پیدا ہوئے۔ وہ اپنے والدین کی پہلی اولاد تھے۔ ان کے والد عمارتی لکڑی کا کاروبار کرتے تھے۔ مقامی ملیالم میڈیم اسکول میں اپنی ابتدائی تعلیم کا آغاز کرنے کے بعد انہیں وہاں سے پانچ میل دور ویکم میں واقع انگلش میڈیم اسکول میں داخل کیا گیا۔ اسکول میں تعلیم حاصل کرنے کے دوران میں وہ مہاتما گاندھی سے بہت زیادہ متاثر ہو گئے۔ انہوں نے اپنے مثالی رہنماؤں سے متاثر ہو کر کھدر پہننا شروع کر دیا۔ جب گاندھی ویکم ستیاگراہم (1924ء) میں شرکت کی غرض سے آئے تو بشیر انہیں دیکھنے کے لیے گئے۔ وہ اس کار تک پہنچے جس میں گاندھی سفر کر رہے تھے اور گاندھی کے ہاتھ کو چھونے میں کامیاب ہو گئے۔ اس واقعے کو بشیر نے با رہا اپنی تحریروں میں بڑے ذوق و شوق سے بیان کیا۔ وہ ویکم میں واقع گاندھی ستیاگرا آشرم میں ہر روز جایا کرتے تھے۔ ان کی شادی کافی تاخیر سے پچاس سال کی عمر (18 دسمبر 1958ء) میں کی۔ تحریک آزادی میں شمولیت پانچویں میں ہی انہوں نے اپنی تعلیم کو ادھورا چھوڑ دیا تاکہ تحریک آزادی میں اپنا حصہ ڈال سکیں۔

بشیر اپنے جمہوری انداز فکر اور تمام مذاہب کا احترام کرنے کی وجہ سے مشہور تھے۔ ایک شاہی ریاست ہونے کی بنا پر کوچی میں آزادی کی کوئی تحریک موجود نہیں تھی۔ وہ سالٹ ستیاگرا میں حصہ لینے کے لیے 1930ء میں مالابار چلے گئے۔ ستیاگرا میں حصہ لینے سے پہلے ہی ان کی جماعت کو گرفتار کر لیا گیا۔ بشیر کو تین ماہ کی سزائے قید ہوئی اور کانور جیل میں رکھا گیا۔ وہ ہمیشہ سے انقلابی ہیروز کی کہانیوں سے بہت متاثر تھے جیسا کہ بھگت سنگھ، سکھ دیو اور راج گرو جنہیں اس وقت پھانسی دی گئی تھی جب وہ کانور جیل میں تھے۔ وہ اور ان کے ساتھ تقریباً 60 سیاسی قیدیوں کو گاندھی ارون معاہدے کے تحت مارچ 1931ء میں کانور جیل سے رہا کیا گیا۔ جیل سے رہا ہونے کے بعد انہوں نے ایک اینٹی برٹش موومنٹ قائم کی اور ایک انقلابی رسالہ اوجیونام کی ادارت کی۔ ان کی گرفتاری کا پروانہ جاری ہوا تو انہوں نے کیرالہ کو خیرباد کہہ دیا۔

افسانے[ترمیم]

ناول[ترمیم]

رحلت[ترمیم]

5 جولائی 1994 ء کو انتقال ہوا۔

حوالہ جات[ترمیم]

  1. V. B. C. Nair (1976). "പൂര്‍ണ്ണത തേടുന്ന അപൂര്‍ണ്ണ ബിന്ദുക്കള്‍ [Poornatha Thedunna Apoornna Bindukkal]" (Malayalam میں). Malayalanadu. 
  2. "Writeup on Vaikom Muhammad Basheer". New York University. Retrieved 4 June 2013.

مزید پڑھیے[ترمیم]

بیرونی روابط[ترمیم]


سانچہ:Basheer سانچہ:Malayalam Literature سانچہ:Padma Award winners of Kerala سانچہ:SahityaAkademiFellowship

[زمرہ:بیسویں صدی کے ہندوستانی ناول نگار]]