امرتا پریتم

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
امرتا پریتم
(انگریزی میں: Amrita Pritam خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقامی زبان میں نام (P1559) ویکی ڈیٹا پر
امرتا پریتم

معلومات شخصیت
پیدائش 31 اگست 1919(1919-08-31)
گوجرانوالہ  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام پیدائش (P19) ویکی ڈیٹا پر
وفات اکتوبر 31، 2005(2005-10-31) (عمر  86 سال)
دہلی  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام وفات (P20) ویکی ڈیٹا پر
قومیت بھارتی
عملی زندگی
پیشہ شاعرہ ، ناول نگار
پیشہ ورانہ زبان پنجابی،  ہندی  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں زبانیں (P1412) ویکی ڈیٹا پر
اعزازات
ساہتیہ اکادمی فیلوشپ (2004)[1]
IND Padma Vibhushan BAR.png پدم وبھوشن برائے ادب اور تعلیم  (2004)[2]
Ordre des Arts et des Lettres Officier ribbon.svg افسر برائے فنون و مراسلہ (1987)
گیان پیٹھ انعام (1981)[3]
IND Padma Shri BAR.png پدم شری اعزاز برائے ادب و تعلیم  (1969)[4]
ساہتیہ اکادمی ایوارڈ  (برائے:Sunehure) (1956)[5][6]  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں وصول کردہ اعزازات (P166) ویکی ڈیٹا پر
IMDb logo.svg
IMDB پر صفحات  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں آئی ایم ڈی بی - آئی ڈی (P345) ویکی ڈیٹا پر
امرتا پریتم

پیدائش:1919ء

انتقال:2005ء

امرتا پریتم (گرمکھی: ਅਮ੍ਰਿਤਾ ਪ੍ਰੀਤਮ، ہندی: अमृता प्रीतम) ایک بھارتی شاعرہ اور ناول نگار تھیں۔ وہ گوجرانوالہ میں پیدا ہوئیں۔ ان کی سو سے زائد کتابیں شائع ہو چکی ہیں جن میں شاعری کے علاوہ کہانیوں کے مجموعے، ناول اور تنقیدی مضامین کے انتخابات بھی شامل ہیں۔

اس کے علاوہ ہندوستان اور پاکستان کی تقسیم پر ان کی ایک ناول پنجر پر اسی نام سے فلم بھی بن چکی ہے۔

وہ بھارتی ایوانِ بالا کی رکن رہی ہیں اور انہیں پدم شری کا اعزاز بھی حاصل ہوا۔ اس کے علاوہ انہیں ساہتیہ اکیڈمی ایوارڈ اور دیگر اعزازات بھی حاصل ہو ئے جن میں پنجابی ادب کے لیے گیان پیتھ ایوارڈ بھی شامل ہے۔ ساحر لدھیانوی کے ساتھ ان کا معاشقہ ادبی دنیا کے مشہور معاشقوں میں شمار ہوتا ہے جس کی تفصیل تھوڑی بہت ان کی کتاب رسیدی ٹکٹ میں موجود ہے۔

امرتا پریتم کی سب سے شہرہ آفاق نظم "اج آکھاں وارث شاہ نوں " ہے، اس میں انہوں نے تقسیم ہند کے دوران ہوئے مظالم کا مرثیہ پڑھا ہے۔ کچھ اشعار ذیل میں درج ہیں۔

شاہ مکھی متن:

اج آکھاں وارث شاہ نوں، کتوں قبراں وچوں بول
تے اج کتابِ عشق دا کوئی اگلا ورقہ کھول

اک روئی سی دھی پنجاب دی توں لِکھ لِکھ مارے وَین
اَج لَکھاں دھیآں روندیاں، تینوں وارث شاہ نوں کَیہن

اٹھ دردمنداں دیا دردیا تک اپنا دیس پنجاب
اج بیلے لاشاں وچھیاں تے لہو دی بھری چناب

کسے نے پنجاں پانیاں وچ اج دتی زہر رلا
تے اوہناں پانیاں نوں دتا دھرت نوں لا

جتھے وجدی پھوک پیار دی او ونجلی گئی گواچ
رانجھے دے سب ویر اج بھل گئے اوس دی جاچ

دھرتی تے لہو وسیا تے قبراں پیّئاں چون
پریت دیاں شہزادیاں اج وچ مزاراں رون

اج تے سبے کیدو بن گئے حسن عشق دے چور
اج کتھوں لیآئیے لبھ کے وارث شاہ اک ہور

حوالہ جات[ترمیم]

  1. http://www.thehindu.com/2004/10/05/stories/2004100514031300.htm — اخذ شدہ بتاریخ: 3 مارچ 2018
  2. List of Padma awardees — شائع شدہ از: دی ہندو — شائع شدہ از: 26 جنوری 2004
  3. Jnanpith Laureates — اخذ شدہ بتاریخ: 3 مارچ 2018
  4. Amrita Pritam - Vikas Publishing — اخذ شدہ بتاریخ: 3 مارچ 2018
  5. SAHITYA : Akademi Awards — اخذ شدہ بتاریخ: 3 مارچ 2018
  6. http://sahitya-akademi.gov.in/awards/akademi%20samman_suchi.jsp#PUNJABI — اخذ شدہ بتاریخ: 7 مارچ 2019