امرتا پریتم

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
امرتا پریتم
(انگریزی میں: Amrita Pritam ویکی ڈیٹا پر (P1559) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
Amrita Pritam (1919 – 2005) , in 1948.jpg

معلومات شخصیت
پیدائش 31 اگست 1919(1919-08-31)
گوجرانوالہ  ویکی ڈیٹا پر (P19) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
وفات اکتوبر 31، 2005(2005-10-31) (عمر  86 سال)
دہلی  ویکی ڈیٹا پر (P20) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
قومیت بھارتی
عملی زندگی
پیشہ شاعرہ ، ناول نگار
پیشہ ورانہ زبان پنجابی،  ہندی  ویکی ڈیٹا پر (P1412) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
کارہائے نمایاں پنجر[1]  ویکی ڈیٹا پر (P800) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
تحریک رومانیت  ویکی ڈیٹا پر (P135) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
اعزازات
ساہتیہ اکادمی فیلوشپ (2004)[2]
IND Padma Vibhushan BAR.png پدم وبھوشن برائے ادب اور تعلیم  (2004)[3]
Ordre des Arts et des Lettres Officier ribbon.svg افسر برائے فنون و مراسلہ (1987)
گیان پیٹھ انعام  (1981)[4]
IND Padma Shri BAR.png پدم شری اعزاز برائے ادب و تعلیم  (1969)[5]
ساہتیہ اکادمی ایوارڈ  (برائے:Sunehure) (1956)[6][7]  ویکی ڈیٹا پر (P166) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
IMDb logo.svg
IMDB پر صفحہ  ویکی ڈیٹا پر (P345) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
امرتا پریتم

پیدائش:1919ء

انتقال:2005ء

امرتا پریتم (گرمکھی: ਅਮ੍ਰਿਤਾ ਪ੍ਰੀਤਮ، ہندی: अमृता प्रीतम) ایک بھارتی شاعرہ اور ناول نگار تھیں۔ وہ گوجرانوالہ میں پیدا ہوئیں۔ ان کی سو سے زائد کتابیں شائع ہو چکی ہیں جن میں شاعری کے علاوہ کہانیوں کے مجموعے، ناول اور تنقیدی مضامین کے انتخابات بھی شامل ہیں۔

اس کے علاوہ ہندوستان اور پاکستان کی تقسیم پر ان کی ایک ناول پنجر پر اسی نام سے فلم بھی بن چکی ہے۔

وہ بھارتی ایوانِ بالا کی رکن رہی ہیں اور انہیں پدم شری کا اعزاز بھی حاصل ہوا۔ اس کے علاوہ انہیں ساہتیہ اکیڈمی ایوارڈ اور دیگر اعزازات بھی حاصل ہو ئے جن میں پنجابی ادب کے لیے گیان پیتھ ایوارڈ بھی شامل ہے۔ ساحر لدھیانوی کے ساتھ ان کا معاشقہ ادبی دنیا کے مشہور معاشقوں میں شمار ہوتا ہے جس کی تفصیل تھوڑی بہت ان کی کتاب رسیدی ٹکٹ میں موجود ہے۔

امرتا پریتم کی سب سے شہرہ آفاق نظم "اج آکھاں وارث شاہ نوں " ہے، اس میں انہوں نے تقسیم ہند کے دوران ہوئے مظالم کا مرثیہ پڑھا ہے۔ کچھ اشعار ذیل میں درج ہیں۔

شاہ مکھی متن:

اج آکھاں وارث شاہ نوں، کتوں قبراں وچوں بول
تے اج کتابِ عشق دا کوئی اگلا ورقہ کھول

اک روئی سی دھی پنجاب دی توں لِکھ لِکھ مارے وَین
اَج لَکھاں دھیآں روندیاں، تینوں وارث شاہ نوں کَیہن

اٹھ دردمنداں دیا دردیا تک اپنا دیس پنجاب
اج بیلے لاشاں وچھیاں تے لہو دی بھری چناب

کسے نے پنجاں پانیاں وچ اج دتی زہر رلا
تے اوہناں پانیاں نوں دتا دھرت نوں لا

جتھے وجدی پھوک پیار دی او ونجلی گئی گواچ
رانجھے دے سب ویر اج بھل گئے اوس دی جاچ

دھرتی تے لہو وسیا تے قبراں پیّئاں چون
پریت دیاں شہزادیاں اج وچ مزاراں رون

اج تے سبے کیدو بن گئے حسن عشق دے چور
اج کتھوں لیآئیے لبھ کے وارث شاہ اک ہور

حوالہ جات[ترمیم]

  1. https://www.revolvy.com/main/index.php?s=Pinjar%20(novel) — اخذ شدہ بتاریخ: 3 مارچ 2018
  2. http://www.thehindu.com/2004/10/05/stories/2004100514031300.htm — اخذ شدہ بتاریخ: 3 مارچ 2018
  3. List of Padma awardees — شائع شدہ از: دی ہندو — شائع شدہ از: 26 جنوری 2004
  4. Jnanpith Laureates — اخذ شدہ بتاریخ: 3 مارچ 2018
  5. Amrita Pritam - Vikas Publishing — اخذ شدہ بتاریخ: 3 مارچ 2018
  6. SAHITYA : Akademi Awards — اخذ شدہ بتاریخ: 3 مارچ 2018
  7. http://sahitya-akademi.gov.in/awards/akademi%20samman_suchi.jsp#PUNJABI — اخذ شدہ بتاریخ: 7 مارچ 2019