گیانی گرمکھ سنگھ مسافر

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
گیانی گرمکھ سنگھ مسافر
Giani Gurmukh Singh Musafir 2001 stamp of India.jpg 

مناصب
رکن دوسری لوک سبھا   خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں منصب (P39) ویکی ڈیٹا پر
دفتر میں
اپریل 1957  – 1962 
رکن تیسری لوک سبھا   خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں منصب (P39) ویکی ڈیٹا پر
دفتر میں
اپریل 1962  – 1967 
وزیر اعلیٰ پنجاب   خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں منصب (P39) ویکی ڈیٹا پر
دفتر میں
11 نومبر 1966  – 8 مارچ 1967 
رکن راجیہ سبھا[1]   خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں منصب (P39) ویکی ڈیٹا پر
دفتر میں
1968  – 1974 
معلومات شخصیت
تاریخ پیدائش 15 جنوری 1899  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ پیدائش (P569) ویکی ڈیٹا پر
وفات 18 جنوری 1976 (77 سال)  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ وفات (P570) ویکی ڈیٹا پر
دہلی  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام وفات (P20) ویکی ڈیٹا پر
شہریت Flag of India.svg بھارت
British Raj Red Ensign.svg برطانوی ہند  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں شہریت (P27) ویکی ڈیٹا پر
جماعت انڈین نیشنل کانگریس  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں سیاسی جماعت کی رکنیت (P102) ویکی ڈیٹا پر
عملی زندگی
پیشہ سیاست دان،  مصنف  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں پیشہ (P106) ویکی ڈیٹا پر
پیشہ ورانہ زبان پنجابی،  انگریزی[2]  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں زبانیں (P1412) ویکی ڈیٹا پر
اعزازات
ساہتیہ اکادمی ایوارڈ  (برائے:Urvar Par) (1978)[3][4]
IND Padma Vibhushan BAR.png پدم وبھوشن برائے ادب اور تعلیم   خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں وصول کردہ اعزازات (P166) ویکی ڈیٹا پر

گیانی گرمکھ سنگھ مسافر (15 جنوری 1899-18 جنوری، 1976) کو غربی پنجاب کے کیمل پور ضلعے کے ادھوال نامی قصبے(جو اب تھانہ چونترہ تحصیل و ضلع راولپنڈی میں شامل ہے) میں سردار سجان سنگھ کے گھر پیدا ہوئے۔ گیانی گرمکھ سنگھ مسافر کو ادب اور سیاست کی علامت مانا جاتا ہے۔ ان کے والد کھیتی باڑی اور کاروبار کرتے تھے۔

تعلیم، ملازمت اور خدمات[ترمیم]

انہوں نے ابتدائی تعلیم اپنے آبائی گاؤں سے ہی حاصل کی۔ مڈل کا امتحان دینے کے لیے راولپنڈی جانا پڑا۔ وہیں سے جے0 وی کا امتحان بھی پاس کیا۔ پہلے 1918 میں ضلع بورڈ چکری کے اسکول میں اور پھر راولپنڈی کی تحصیل کہوٹہ کے قصبے کل کے خالصہ اسکول کے ہیڈ ماسٹر رہے۔ اس کے بعد ایس0وی پاس کر کے بسالی میں ہیڈ ورنیکلر ماسٹر کی نوکری شروع کردی۔ 1930 میں ایک سال کے لیے سری اکال تخت صاحب کے جتھیدار کی حیثیت سے خدمت نبھائی۔ [5] اس کے علاوہ شرومنی گردوارہ پربندھک کمیٹی کے سیکٹری اور شرومنی اکالی دل کے جنرل سیکٹری کی حثیت سے خدمات انجام دیں۔

جلیاں والا باغ اور ننکانہ صاحب کے خونی سانحوں نے گیانی گرمکھ سنگھ اندرو سے جھنجوڑ دیا۔ 1922 میں مدرسے کو خیر باد کہہ کر گرودوارہ سدھار لہر میں شامل ہو گئے۔ 1922 میں 'گورو کا باغ' میں گرفتار ہوئے اور جیل یاترا کی۔ الگ الگ آزادی تحریکوں میں حصہ لینے پر کئی بار جیل جانا پڑا۔ آزادی کے بعد ان کی خدمات کے پیش نظر 1949 کو انہیں پنجاب صوبائی کانگرس کا سربراہ چنا گیا۔ گیانی گرمکھ سنگھ مسافر 1952 سے 1966 تکّ تین بار لوک سبھا کے رکن کا انتخاب جیتے۔ 1968 سے 1976 تکّ دو بار راج سبھا کے میمبر چنے گئے۔ جب 1966 میں پنجابی صوبے کی بنا ہوئی تو آپ ہی پنجاب کے وزیر اعلی بنے۔ [6]انہوں نے شاعری لکھنی شروع کی تو نام کے ساتھ تخلص کے طور ہر 'مسافر' لکھنا شروع کر دیا۔ وہ سیاست سے زیادہ ادب میں شہرت رکھتے ہیں۔

ناولٹ[ترمیم]

اوہناں دے نوں ناولٹ چھپے ملدے نیں

  1. صبر دے بان
  2. پریم-بان
  3. جیون-پندھن
  4. مسافریاں
  5. ٹٹے کھنبھ
  6. کاوَ-سنیہے
  7. سہج سیتی
  8. وکھرا وکھرا قطرہ قطرہ
  9. دور نیڑے

حوالہ جات[ترمیم]

  1. https://www.tribuneindia.com/2008/20081225/edit.htm#6 — اخذ شدہ بتاریخ: 20 فروری 2019
  2. http://data.bnf.fr/ark:/12148/cb12169371c — اخذ شدہ بتاریخ: 10 اکتوبر 2015 — اجازت نامہ: آزاد اجازت نامہ
  3. http://sahitya-akademi.gov.in/awards/akademi%20samman_suchi.jsp#PUNJABI — اخذ شدہ بتاریخ: 20 فروری 2019
  4. http://sahitya-akademi.gov.in/awards/akademi%20samman_suchi.jsp#PUNJABI — اخذ شدہ بتاریخ: 7 مارچ 2019
  5. Walia، Varinder۔ "A Giani، a Gurmukh and a Musafir"۔ The Tribune۔ مورخہ 7 جنوری 2019 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 2009-06-14۔
  6. http://punjabassembly.nic.in/members/showcm.asp