غلام مصطفٰی خان (گلوکار)

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
غلام مصطفٰی خان (گلوکار)
A still of Shri Ghulam Mustafa Waris Khan who will be presented with the Sangeet Natak Akademi Award for Hindustani Music - Vocal by the President Dr. A.P.J Abdul Kalam in New Delhi on October 26, 2004.jpg
 

معلومات شخصیت
پیدائش 3 مارچ 1931  ویکی ڈیٹا پر (P569) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
بدایوں  ویکی ڈیٹا پر (P19) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
وفات 17 جنوری 2021 (90 سال)  ویکی ڈیٹا پر (P570) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
ممبئی  ویکی ڈیٹا پر (P20) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
شہریت Flag of India.svg بھارت
British Raj Red Ensign.svg برطانوی ہند
Flag of India.svg ڈومنین بھارت (15 اگست 1947–)  ویکی ڈیٹا پر (P27) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
فنی زندگی
پروڈکشن کمپنی سارےگاما  ویکی ڈیٹا پر (P264) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
پیشہ استاد موسیقی  ویکی ڈیٹا پر (P106) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
اعزازات
IND Padma Vibhushan BAR.png پدم وبھوشن  (برائے:موسیقی) (2018)[1]
IND Padma Bhushan BAR.png پدم بھوشن  (2006)
IND Padma Shri BAR.png فنون میں پدم شری  (1991)
سنگیت ناٹک اکادمی ایوارڈ   ویکی ڈیٹا پر (P166) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
ویب سائٹ
ویب سائٹ باضابطہ ویب سائٹ  ویکی ڈیٹا پر (P856) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
IMDb logo.svg
IMDB پر صفحات  ویکی ڈیٹا پر (P345) کی خاصیت میں تبدیلی کریں

غلام مصطفٰی خان ہندوستانی کلاسیکی موسیقی کے گلوکار تھے۔ اُنہیں 1991ء میں پدم شری 2006ء میں پدم بھوشن اور 2018ء میں پدم وبھوشن کے اعزازات سے نوازا گیا۔ 2003ء میں اُنہیں سنگیت ناٹک اکیڈمی ایوارڈ بھی ملا۔

ابتدائی زندگی[ترمیم]

وہ 3 مارچ 1931ء کو اتر پردیش کے شہر بدایوں میں پیدا ہوئے۔ اُن کی والدہ استاد عنایت حسین خان کی صاحبزادی تھیں اور موسیقی اُن کے خاندان کی میراث تھی۔ عنایت حسین خان واجد علی شاہ کے زمانے کے موسیقات تھے اور گوالیر گھرانہ کے بانی حدو خان کے داماد تھے۔

چونکہ غلام مصطفٰی خان کے والد اور والدہ دونوں اِنیہں گلوکار بنانا چاہتے تھے اس لیے اِن کی موسیقی کی تعلیم بہت چھوٹی عمر میں ہی شروع کر دی گئی جب وہ صفر دھن یاد کر سکتے تھے الفاظ کے معنے نہیں سمجھ سکتے تھے۔ اپنے والد کے بعد اُنہوں نے استاد فدا حسین خان اور پھر نثار حسین خان سے تعلیم حاصل کی۔

اُس وقت ہر شہر میں وکٹوریہ گارڈن ہوتا تھا اور یہ روایت تھی کہ موسیقی میں دلچسپی رکھنے والے لوگوں کے سامنے اپنا پہلی ہنرسازی کرشن جنم اشٹمی کے وقت دکھاتے تھے۔ علی مقصود جو شہر کے منتظم اعلیٰ تھے ہر سال یہ تقریب منعقد کرتے تھے۔ اُنہوں نے غلام مصطفٰی خان کو 8 سال کی عمر میں وہاں اپنا ہنر پیش کرنے کی دعوت دی۔ اُن کے کزن حفیظ احمد خان آکاش وانی میں ملازم تھے۔

کیریئر[ترمیم]

اُنہوں نے اپنا پہلا فلمی گانا میراٹھی زبان میں 1951ء میں گایا۔ پھر اُنہوں نے مراٹھی اور گجراتی فلموں میں گانا شروع کر دیا۔ اُنہوں نے اپنی 70 سے زیادہ دستاوزی فلموں میں اپنی آواز کا جادو جگایا اور بہت سے قومی اور بین القوامی اعزازات حاصل کیے۔ اُنہوں نے پورے بھارت اور یورپ میں اپنے فن کا مظاہرہ کیا۔ اُن کے شاگردوں[2] میں آشا بھوسلے، منا ڈے، کمل باڑت، وحیدہ رحمن، رانی مکرجی، گیتا دت، اے آر رحمان، [3][4] ہری ہرن، [5][6] شان، سونو نگم، [7][8] ثنا موئدوٹی، [9] ساگاریکا، الیشا چنائی اور شلپا راوْ[10][11] شامل ہیں۔ اُنہوں نے اپنے چاروں بیٹوں کو بھی موسیقی کی تعلیم دی اور وہ بھی پیشہ ورانہ گلوکار ہیں۔ اُن کے پوتے فیض اور عامر نے بھی اُن سے تعلیم حاصل کی۔ کوک اسٹوڈیو میں اے آر رحمان نے اپنے 82 سالہ استاد اور اُن کے چاروں صاحبزادوں اور 12 سالہ پوتے فیض کے ساتھ فن کا مظاہرہ کیا۔[12]

ذاتی زندگی[ترمیم]

اُنہوں نے پدم بھوشن یافتہ گلوکار مشتاق حسین خان کی صاحبزادی آمینہ بیگم سے شادی کی تھی۔ اُن کے چار بیٹے، مرتضیٰ مصطفٰی، قادر مصطفٰی، ربّانی مصطفٰی اور حسن مصطفٰی ہیں۔ وہ کلاسیکی گلوکار راشد خان کے استاد ہیں[13] اور ممبئی مہاراشٹر میں اپنے خاندان کے ساتھ رہتے تھے۔

اعزازات[ترمیم]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. https://padmaawards.gov.in/PDFS/Padma2018List.pdf
  2. "Celebs wish Ustad Gulam Mustafa Khan on b'day". Times of India. Times Group. 4 مارچ 2012. 25 دسمبر 2018 میں اصل سے آرکائیو شدہ. اخذ شدہ بتاریخ 4 مارچ 2012. 
  3. Singh، Nirmika (17 اگست 2013). "AR Rahman teams up with guru" (Mumbai). Hindustan Times. 25 دسمبر 2018 میں اصل سے آرکائیو شدہ. اخذ شدہ بتاریخ 17 اگست 2013. 
  4. Nivas، Namita (14 اپریل 2011). "Mani Ratnam releases A.R. Rahman's biography" (Mumbai). The Indian Express. 25 دسمبر 2018 میں اصل سے آرکائیو شدہ. اخذ شدہ بتاریخ 14 اپریل 2011. 
  5. "Mumbai reaches out to Chennai flood victims". The Hindu. 20 جنوری 2016. 25 دسمبر 2018 میں اصل سے آرکائیو شدہ. اخذ شدہ بتاریخ 20 جنوری 2016. 
  6. Pawar، Yogesh (23 فروری 2014). "Seven years on, tabla hazir for ghazal" (Entertainment). DNA India. Essel Group. 25 دسمبر 2018 میں اصل سے آرکائیو شدہ. اخذ شدہ بتاریخ 23 فروری 2014. 
  7. Ali Khan، Ujala (9 ستمبر 2015). "A look at the rise and careers of Sonu Nigam and Atif Aslam ahead of their concert tomorrow" (UAE). The National. 25 دسمبر 2018 میں اصل سے آرکائیو شدہ. اخذ شدہ بتاریخ 9 ستمبر 2015. 
  8. "Sonu and Shaan wish Ustaad Ghulam Mustafa Khansaab on his birthday". radioandmusic. 25 دسمبر 2018 میں اصل سے آرکائیو شدہ. اخذ شدہ بتاریخ 3 مارچ 2016. 
  9. "Meeting AR Rahman was a dream: Sanah Moidutty" (Entertainment). Deccan Chronicle. 16 جولائی 2016. 25 دسمبر 2018 میں اصل سے آرکائیو شدہ. اخذ شدہ بتاریخ 16 جولائی 2016. 
  10. Mehta، Sejal (20 دسمبر 2013). "A life told in tune" (Mumbai Edition). DNA India. Essel Group. 25 دسمبر 2018 میں اصل سے آرکائیو شدہ. اخذ شدہ بتاریخ 20 دسمبر 2013. 
  11. Ali Khan، Ujala (22 جنوری 2013). "MTV India unplugged comes to Dubai this weekend" (UAE). The National. 25 دسمبر 2018 میں اصل سے آرکائیو شدہ. اخذ شدہ بتاریخ 22 جنوری 2013. 
  12. "AR Rahman teams up with guru". Hindustan Times. 06 جنوری 2019 میں اصل سے آرکائیو شدہ. اخذ شدہ بتاریخ 17 اگست 2013. 
  13. Mathur، P N (1 جولائی 2015). "The 'Albela' Rashid Khan, India's Most Popular Classical Vocalist". The Quint. Quint Media. 25 دسمبر 2018 میں اصل سے آرکائیو شدہ. اخذ شدہ بتاریخ 1 جولائی 2015. 

بیرونی روابط[ترمیم]