کملیشور

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
کملیشور
Kamleshwar (1932 - 2007).jpg
 

معلومات شخصیت
پیدائش 6 جنوری 1932[1]  ویکی ڈیٹا پر (P569) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
مین پوری  ویکی ڈیٹا پر (P19) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
وفات 27 جنوری 2007 (75 سال)[2][1]  ویکی ڈیٹا پر (P570) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
فریدآباد  ویکی ڈیٹا پر (P20) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
وجہ وفات دورۂ قلب  ویکی ڈیٹا پر (P509) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
طرز وفات طبعی موت  ویکی ڈیٹا پر (P1196) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
شہریت Flag of India.svg بھارت (26 جنوری 1950–)
British Raj Red Ensign.svg برطانوی ہند (–14 اگست 1947)
Flag of India.svg ڈومنین بھارت (15 اگست 1947–26 جنوری 1950)  ویکی ڈیٹا پر (P27) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
عملی زندگی
مادر علمی جامعہ الٰہ آباد  ویکی ڈیٹا پر (P69) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
پیشہ مصنف،  صحافی،  منظر نویس[1]،  ناول نگار،  مصنف[1]  ویکی ڈیٹا پر (P106) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
پیشہ ورانہ زبان ہندی  ویکی ڈیٹا پر (P1412) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
اعزازات
IMDb logo.svg
IMDB پر صفحات  ویکی ڈیٹا پر (P345) کی خاصیت میں تبدیلی کریں

کملیشور ہندی کے مشہور ادیب تھے۔ وہ منی پور میں پیدا ہوئے۔ ان کی مشہور کتاب ’کتنے پاکستان‘ برصغیر میں نہایت مقبول رہی۔ انہوں نے تقریباً دس ناول، کئی مختصر کہانیاں اور کئی کتابوں کی تصنیف کی ہے۔ ان کی تصنیف میں موضوع سے لے کر لکھنے کے انداز میں تنوع پایا جاتاہے۔ انہوں نے فلموں کے سکرین پلے اور سکرپٹ بھی لکھے ۔

ان کے مشہور ادبی کارناموں میں ' آندھی‘، ’لوٹے ہوئے مسافر‘، ’تیسرا آدمی‘، ’کہرا‘ اور ’ماس کا دریا‘ شامل ہے۔ کملیشور کی ادبی خدمات کے لیے ہندوستانی حکومت نے انہیں سال دوہزار چھ میں اعلیٰ شہری اعزاز پدم بھوشن سے نوازہ گیا۔ ان کے مشہور ناول ’ کتنے پاکستان کے لیے‘ انہیں سنہ دو ہزار تین میں ساہتیہ اکاڈمی ایوارڈ سے نوازہ گیا ۔اردو کے تنقیدی نقاد اور نظریہ دان احمد سہیل کی رائے ہے ۔ " ان کی کہانیاں ہندی ادب کے نئے افسانوں آفاق کو جنم دیتا ہے۔ جس میں عام انسانوں کے کرب ، مسائل دکھ و درد بھرا ہوا ہے۔ اس میں حکومت شکنی، خاص طور پر نوکر شاھی سے سے بیزاری نمایاں ہے۔ کملیشور ایسے ادیب ہیں جو دیو ناگری رسم الخط میں اردو لکھتے ہیں"۔ کملیشور کو مذھبی تعصب سے سخت نفرت تھی۔ خواجہ احمد عباس نے لکھا ہے۔ " موتیا بند کی تکلیف کے باوجود میں نے آر ایس ایس پر آپ کا فکر انگیز اور دل چھونے والا مضمون پڑھا اور آپ کی وسعت نظری اور سیکولر ازم کا پہلے سے بھی زیادہ قائل ہوگیا یقینا آر ایس ایس پر بھروسہ نہیں کیا جاسکتا ۔ آپ نے اس جماعت کے قول و فعل کو جو حقیقت پسندانہ تجزیہ کیا ہے اس کو پڑھکر سوشلسٹوں، مارکسٹوں اور مسلمانوں کو ہوشیار ہوجانا چاہیے"۔ ۔۔۔ کملیشور کو ہندی فکشن کا " گورکی" بھی کہا جاتا تھا۔ انھوں نے بیالیس (42) کہانیاں اور چار (4) ناولز لکھے۔ مگر ان کا ناول ۔۔" کتنے پاکستان" کو بہت شہرت ملی۔ جس میں تقسیم ہند کے تاریخی واقعہ پر بڑی حساس اور کسی بھید بھاؤ کے بغیر کھلی کھلی باتیں لکھی ہیں ۔ اس ناول کو 2003 میں ساہیتہ اکادمی کا ایوارڈ اور 2005 میں انھیں " پدم بھوشن" کا خطاب دیا گیا۔ ان کی ناول " کتنے پاکستاں " کا ترجمہ اردو میں ہوچکا ہے ۔ کملیشور مذھبا کائست تھے لہذا ان کی ہندی بیانیہ اور متن میں اردو لفظیات کا گہرا اثر ہے۔ 70 کی دہائی میں میرے والد اور احمد ہمیش نے مجھے کملیشور کی کہانیاں ۔۔ " تلاش، مان سروکار نہیں، نیلی جھیل، مانس کا دریا، جوکھم، راجہ فرینا، اور نانسنی" پڑھ کر سنائی تھیں۔جس سے میں بہت متاثر ہوا تھا۔ اسی زمانے میں جب بھی اردو حلقوں ، نشتوں اور ادبی محافل میں کملیشور کی کہانیوں کا ذکر ہونا شروع ہوا۔ ان کا ایک معرکتہ اعلی ایک مختصر مضمون بعنوان، " صحیح زبان کی تلاش" لائق مطالعہ ہے۔

کملیشور نے ہندی کہانی کو نیا شعور اور مزاج رہا۔ ان کی کہانیوں میں جو انسان نظر آتا ہے۔ جو زندگی سے قریب ہے۔ فرد جس معاشرے میں رہتا ہے، رنج و غم سہتا ہے اور دنیا میں جیسےتیسے زندگی کاٹتا ہے۔ یہی کملیشور کی کہانیوں کا فکری مقولہ ہے۔ اس رویے کو " سمانترا" تحریک بھی کہا جاتا ھے۔"{احمد سہیل} 4۔

حوالہ جات[ترمیم]

4. https://www.punjnud.com/kamleshwar