وحید الدین خاں

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
وحید الدین خاں
Maulanawahiduddin.jpg 

معلومات شخصیت
پیدائش 1 جنوری 1925 (94 سال)  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ پیدائش (P569) ویکی ڈیٹا پر
اعظم گڑھ  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام پیدائش (P19) ویکی ڈیٹا پر
شہریت Flag of India.svg بھارت
British Raj Red Ensign.svg برطانوی ہند  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں شہریت (P27) ویکی ڈیٹا پر
عملی زندگی
پیشہ الٰہیات دان[1]،  مترجم  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں پیشہ (P106) ویکی ڈیٹا پر
اعزازات
P islam.svg باب اسلام
مولانا وحید الدین خاں ایک پروگرام میں
مولانا وحید الدین خاں ایک پروگرام میں
مولانا وحید الدین خاں موت کی حقیقت پر ایک پروگرام میں

وحیدالدین خاں: یکم جنوری، 1925ء کو بڈھریا اعظم گڑھ، اتر پردیش بھارت میں ولادت ہوئی۔ مدرسۃ الاصلاح اعظم گڑھ کے فارغ التحصیل عالم دین، مصنف، مقرر اورمفکر جو اسلامی مرکز نئی دہلی کے چیرمین، ماہ نامہ الرسالہ کے مدیر ہیں اور1967ء سے 1974ء تک الجمعیۃ ویکلی(دہلی) کے مدیر رہ چکے ہیں۔ آپ کی تحریریں بلا تفریق مذہب و نسل مطالعہ کی جاتی ہیں۔ خان صاحب، پانچ زبانیں جانتے ہیں، (اردو، ہندی، عربی، فارسی اور انگریزی) ان زبانوں میں لکھتے اور بیان بھی دیتے ہیں، ٹی وی چینلوں میں آپ کے پروگرام نشر ہوتے ہیں۔ مولانا وحیدالدین خاں، عام طور پر دانشور طبقہ میں امن پسند مانے جاتے ہیں۔ ان کا مشن ہے مسلمان اور دیگر مذاہب کے لوگوں میں ہم آہنگی پیدا کرنا۔ اسلام کے متعلق غیر مسلموں میں جو غلط فہمیاں ہیں انہیں دور کرنا۔ مسلمانوں میں مدعو قوم (غیر مسلموں) کی ایذا وتکلیف پر یک طرفہ طور پرصبر اور اعراض کی تعلیم کو عام کرنا ہے جو ان کی رائے میں دعوت دین کے لیے ضروری ہے۔[2]

ماہ نامہ الرسالہ[ترمیم]

الرسالہ نامی ایک ماہ نامہ جو اردو اور انگریزی زبان میں شائع کیا جاتا ہے۔ الرسالہ (اردو) کا مقصد مسلمانوں کی اصلاح اور ذہنی تعمیر ہے اور الرسالہ (انگریزی) کا خاص مقصد اسلام کی دعوت کو عام انسانوں تک پہنچانا ہے، دور جدید میں الرسالہ کی تحریک، ایک ایسی اسلامی تحریک ہے جو مسلمانوں کو منفی کاروائیوں سے بچ کر مثبت راہ پر ڈالنے کی کوششیں جاری رکھی ہوئی ہے۔ مولانا لکھتے ہیں کہ

1976ء میں الرسالہ کے اجراء کے بعد سے جو کام میں کررہاہوں،اس کا ایک خاص پہلو یہ ہے کہ میں مسلمانوں کو یہ سبق دے رہاہوں،کہ وہ منفی سوچ سے اوپر اٹھیں اور مثبت سوچ کا طریقہ اختیار کریں

[3]

الرسالہ کا انگریزی ایڈیشن مولانا کی دختر محترمہ ڈاکٹر فریدہ خانم [1] کی تنہا کوششوں سے 1984ء میں جاری ہوا اور اب تک جاری ہے،مولانا کی اردو کتب کے جو انگریزی ترجمے شائع ہوئے ہیں وہ تمام تر ڈاکٹر فریدہ خانم کی تنہا کوششوں کا نتیجہ ہے۔ جس کا اعتراف مولانا نے اپنی ڈائری (1990ء - 1989ء) کے صفحہ 85 میں کیاہے۔

سفرنامے[ترمیم]

آپ کے سفر نامے کافی مشہور ہیں۔ جیسے سفرنامہ غیر ملکی اسفار جلد اول ودوم، سفرنامہ اسپین وفلسطین، اسفار ہند وغیرہ۔

افکار ونظریات[ترمیم]

خان صاحب لکھتے ہیں کہ:(میری پوری زندگی پڑھنے،سوچنے اور مشاہدہ کرنے میں گزری ہے۔ فطرت کا بھی اور انسانی تاریخ کا بھی۔ مجھے کوئی شخص تفکیری حیوان کہہ سکتاہے۔ میری اس تفکیری زندگی کا ایک حصہ وہ ہے جو الرسالہ یا کتب میں شائع ہوتا رہاہے۔ اس کا دوسرا،نسبتاً غیر منظم حصہ ڈائریوں کے صفحات میں اکھٹا ہوتا رہاہے۔ یہ کہنا صحیح ہوگا کہ میری تمام تحریریں حقیقتاً میری ڈائری کے صفحات ہیں۔ اس فرق کے ساتھ کہ لمبی تحریروں نے مضمون یا کتاب کی صورت اختیار کرلی۔ اور چھوٹی تحریریں ڈائریوں کا جزء بن گئیں۔)[4]

ان سب کے باوجود مولانا کی کچھ تحریریں اور ونظریات ایسے ہیں جن کی وجہ سے اہل علم ان سے اختلاف رکھتے ہیں۔ اختلاف معمولی نہیں ہے بہت سی باتوں میں یہ جمہور علما اسلام سے الگ رائے رکھتے ہیں۔ جیسے انسان کامل، جہاد، دجال، مہدی، ختم نبوت کا مفہوم، ظلم کو برداشت کرنا اور جوابی کارروائی سے گریز کی تلقین، تقلید شخصی، وغیرہ

اوراق حیات... خود نوشت سوانح حیات[ترمیم]

مولانا وحید الدین خاں کی خودنوشت تحریروں پر مبنی سوانح عمری "اوراق حیات" شائع ہوگئ ہے، جو ایک ہزار صفحات پر مشتمل ہے. اس کتاب کو اردو زبان معروف سوانح نگار شاہ عمران حسن نے دس سال کی طویل محنت کے بعد مرتب کیا ہے . اس جاں گسل کام پر تبصرہ کرتے ہویے مولانا وحید الدین خاں نے ایک بار کہا کہ جو کام میں پوری زندگی نہ کر سکا اسے شاہ عمران حسن صاحب نے کیا ہے...

کتب و رساہل[ترمیم]

اردو کتب[ترمیم]

خاں صاحب نے عصری اسلوب میں 200 سے زائد اسلامی کتب تصنیف کی ہیں۔ جو آپ کی علمی قابلیت کا سب سے بڑا ثبوت ہے۔ ان میں سے چند قابل ذکر تصانیف مندرجہ ذیل ہیں۔

  • تذکیر القرآن
  • اللہ اکبر
  • الاسلام
  • الرّبانیہ
  • حقیقت حج (اردو اورعربی)
  • پیغمبر انقلاب
  • رازِ حیات
  • مذہب اور سائنس
  • مذہب اور جدید چیلنج
  • ہند۔ پاک ڈائری (2006)
  • اسلام دور جدید کا خالق
  • عقلیات اسلام
  • علما اور دور جدید
  • تجدید دین
  • سفرنامہ غیر ملکی اسفار جلد اول
  • سفرنامہ غیر ملکی اسفار،جلد دوم
  • سفرنامہ اسپین وفلسطین
  • اسفار ہند
  • خلیج ڈائری
  • ڈائری جلد اول(1983-1984)
  • ڈائری( 1989- 1990)
  • ڈائری(1991-1992)
  • فسادات کا مسئلہ
  • سوشلزم اور اسلام
  • مطالعہ قرآن
  • تعبیر کی غلطی
  • دین کی سیاسی تعبیر

عربی کتب و تراجم[ترمیم]

  • القضیة الکبری
  • قضیة البعث الإسلامى
  • واقعنا ومستقبلنا فى ضوء الإسلام
  • الإسلام يتحدى
  • من نحن
  • عليكم بسنتى
  • إمكانات جديدة للدعوة الإسلامية
  • التفسير السياسى للدين
  • تاريخ الدعوة إلي الإسلام
  • خطأ في التفسير
  • مأساة كربلاء الحسن والحسين

نوٹ:الاسلام یتحدی:(مذہب اور جدید چیلنج) پانچ عرب ملکوں:(قطر، قاہرہ ،طرابلس، خرطوم اورتیونس) کی جامعات میں داخل نصاب ہے۔

انگریزی کتب و تراجم[ترمیم]

  • Islam and peace
  • In search of God
  • An Islamic Treasury of Virtues
  • The Moral Vision
  • Muhammad : A Prophet for All Humanity
  • Principles of Islam
  • Prophet Muhammad : ASimple Guide to His Life
  • The Quran for All Humanity
  • The Quran : An Aiding Wonder
  • Religion and Science
  • Simple Wisdom(HB
  • Simple Wisdom (PB
  • The True jihad
  • A Treasury of the Quran
  • Woman Between Islam and Western Society
  • Woman in Islamic Shari'ah
  • The Ideology of Peace
  • Indian Muslim
  • Introducing Islam
  • Islam : Creator of the Modern Age
  • Islam : The Voice of Human Nature
  • Islam Rediscovered
  • Words of the Prophet Muhammad
  • God Arises
  • The call of the Qur'an
  • Building a Strong and Prosperous India and Role of Muslim
  • Islam As It Is

اعزازات[ترمیم]

  • ڈیمورگس بین الاقوامی اعزاز، جو گوربہ چیف کے ہاتھوں دیا گیا
  • پدما بھوشن
  • قومی یکجہتی اعزاز (بھارت)
  • کمیونل ہارمونی اعزاز (بھارت حکومت)
  • دیوالی بن موہنلال مہتا اعزاز
  • اردو اکاڈمی ایوارڈ
  • قومی اتحاد اعزاز (بھارت حکومت)
  • دہلی اعزاز (دہلی حکومت)
  • ارونا آصف علی، بھائی چارگی اعزاز
  • قومی شہری اعزاز (بھارت حکومت)
  • سیرت بین الاقوامی اعزاز

(12مئی،1989ء میں حکومت پاکستان نے مولانا کی کتاب، پیغمبر انقلاب(انگریزی) پر پہلا بین الاقوامی انعام دیا۔)[5]

تنقید[ترمیم]

مولانا وحید الدین خان، جنہیں اے گریٹ سائنٹیفک سینٹ آف مسلم ورلڈ بھی کہا جاتا ہے، کو بہت سے لوگوں کی طرف سے تنقید کا سامنا بھی ہے۔ ان کے متعلق کہا جاتا ہے کہ اِنہیں ہر جگہ اور ہر چیز میں ہندوستانی مسلمان ظالم نظر آتے ہیں،ہندو مُسلم فسادات ہوں تو وہ مسلمانوں کو موردِ الزام ٹھہراتے ہیں۔ ہندوؤں کے محبوب ہونے کے باعث اکثر حکومتی اور ہندو تنظیموں اور جماعتوں کی جانب سے خُطبات کے لیے مدعو کیے جاتے ہیں، جہاں وہ مسلمانوں پر خوب کیچڑ اُچھالتے ہیں۔ اِن کا مزید کہنا ہے کہ " ہندوستان کی اسلامی جماعتیں ذرہ برابر اشاعتِ اسلام اور تبلیغ کے لیے کام نہیں کر رہیں۔ اِن کا یہ بھی خیال ہے " اِدھر سو سالوں میں کوئی ایسی کتاب نہیں لکھی گئی ہے جس سے اسلام کو کوئی فائدہ پہنچ رہا ہو۔ مولانا کے متعلق کہا جاتا ہے کہ اُن کا قلم صرف مولانا مودودیؒ، مولانا حمید الدین فراہیؒ، مولانا اصلاحیؒ ،علامہ اقبالؒ اور علامہ ابو الحسن ندویؒ ( علی میاں ) پر ہی تنقید کرتا ہے[حوالہ درکار]۔

حوالہ جات[ترمیم]

  1. جی این ڈی- آئی ڈی: https://d-nb.info/gnd/104186860 — اخذ شدہ بتاریخ: 8 مارچ 2015 — اجازت نامہ: CC0
  2. Maulana Wahiduddin Khan, CPS Television.
  3. مولانا وحید الدین خاتون اسلام ،ص:203
  4. مولانا وحید الدین خاں ،ڈائری (1989-1990) ص:4
  5. مولانا وحید الدین خاں، ڈائری(1990-1989) ص:90

بیرونی ورابط[ترمیم]