قرت العین حیدر

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
قرت العین حیدر
معلومات شخصیت
پیدائش 20 جنوری 1927[1]  ویکی ڈیٹا پر (P569) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
علی گڑھ  ویکی ڈیٹا پر (P19) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
وفات 21 اگست 2007 (80 سال)[2][1]  ویکی ڈیٹا پر (P570) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
نوئیڈا  ویکی ڈیٹا پر (P20) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
شہریت Flag of India.svg بھارت
British Raj Red Ensign.svg برطانوی ہند
Flag of India.svg ڈومنین بھارت  ویکی ڈیٹا پر (P27) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
والد سجاد حیدر یلدرم  ویکی ڈیٹا پر (P22) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
عملی زندگی
مادر علمی جامعہ لکھنؤ  ویکی ڈیٹا پر (P69) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
پیشہ ماہرِ لسانیات،  مصنفہ،  مترجم  ویکی ڈیٹا پر (P106) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
پیشہ ورانہ زبان اردو  ویکی ڈیٹا پر (P1412) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
اعزازات
IND Padma Bhushan BAR.png پدم بھوشن  (2005)[3]
گیان پیٹھ انعام  (1989)[4]
IND Padma Shri BAR.png پدم شری اعزاز برائے ادب و تعلیم  (1984)[5]
ساہتیہ اکادمی ایوارڈ  (برائے:Patjhar Ki Awaz) (1967)[6]  ویکی ڈیٹا پر (P166) کی خاصیت میں تبدیلی کریں

قرت العین حیدر بھارت میں مقیم اردو کی ایک خاتون ناول نگار تھیں۔

ابتدائی زندگی[ترمیم]

20 جنوری، 1927ء میں اتر پردیش کے شہر علی گڑھ میں پیدا ہوئیں۔ ان کے والد سجاد حیدر یلدرم اردو کے پہلے افسانہ نگار شمار کیے جاتے ہیں۔ تقسیم ہند کے بعد قرت العین حیدر کا خاندان پاکستان چلا گیا۔ لیکن بعد میں انہوں نے بھارت آ کر رہنے کا فیصلہ کیا۔

ادب[ترمیم]

قرت العین حیدر نہ صرف ناول نگاری کے لیے ہی نہیں بلکہ اپنے افسانوں اور بعض مشہور تصانیف کے ترجموں کے لیے بھی جانی جاتی ہیں۔ ان کے مشہور ناولوں میں آگ کا دریا، آخرِ شب کے ہم سفر، میرے بھی صنم خانے، چاندنی بیگم اور کارِ جہاں دراز شامل ہیں۔

اندر پرستھ کالج دہلی[7] سے تعلیم مکمل کرنے کے بعد وہ لکھنئو چلی گئیں اور لکھنؤ یونیورسٹی میں داخلہ لیا۔ پھر ازابیلا تھبرن کالج میں بھی تعلیم حاصل کی اور 1947ء میں پاکستان چلی گئیں۔ اس کے بعد کچھ دن برطانیہ میں رہیں اور پھر 1960ء میں بھارت آ گئیں اور نوئیڈا منتقل ہونے سے قبل 20 برس ممبئی میں رہیں۔ نوئیڈا میں ہی ان کا انتقال ہوا۔ وہ ساری عمر کنواری رہیں۔

تقسیم ہند کے وقت وہ اپنے اہل خانہ کے ساتھ پاکستان چلی گئیں۔[8] 1959ء میں ان کا ناول آگ کا دریا منظر عام پر آیا جس پر پاکستان میں بہت ہنگامہ ہوا۔ اس کے فوراً بعد انہوں نے بھارت واپس جانے کا فیصلہ کیا جہاں[8] وہ بطور صحافی کام کرتی رہیں اور افسانے اور ناول بھی لکھتی رہیں۔ اس کے علاوہ انہوں نے ادبی تراجم بھی کیے۔ ان کی کتابوں کی تعداد 30 سے زیادہ ہے۔ انہوں نے 1964ء تا 1968ء ماہنامہ امپرنٹ کی ادارت کی اور السٹریٹیڈ ویکلی آف انڈیا میں اداریہ لکھتی رہیں۔ ان کی کتابیں انگریزی اور دیگر زبانوں میں ترجمہ ہوئی ہیں۔

ناول[ترمیم]

ان کے سبھی ناولوں اور کہانیوں میں تقسیم ہند کا درد صاف نظر آتا ہے۔ ان کے دو ناولوں آگ کا دریا اور آخر شب کے ہم سفر کو اردو ادب کا شاہکار مانا جاتا ہے۔

آخرِ شب کے ہم سفر کے لیے 1989ء میں انہیں بھارت کے سب سے باوقار ادبی اعزاز گیان پیٹھ انعام سے بھی نوازا گیا جبکہ بھارتی حکومت نے انہیں 1985ء میں پدم شری اور 2005ء میں پدم بھوشن جیسے اعزازات بھی دیے۔

شعور کی رو[ترمیم]

11 سال کی عمر سے ہی کہانیاں لکھنے والی قرت العین حیدر کو اردو ادب کی ورجینیا وولف کہا جاتا ہے۔ انہوں نے پہلی بار اردو ادب میں سٹریم آف کونشیئسنسرا تکنیک کا استعمال کیا تھا۔ اس تکنیک کے تحت کہانی ایک ہی وقت میں مختلف سمت میں چلتی ہے۔

اعزازات[ترمیم]

انھیں ساہتیہ اکادمی اور گیان پیٹھ انعام کے اعزازات بھی مل چکے ہیں۔ ساہتیہ اکیڈمی اعزاز ان کے افسانوی مجموعہ پت جھڑ کی آواز پر 1967ء میں تفویض ہوا جبکہ گیان پیٹھ اعزاز 1989ء میں آخرِ شب کے ہم سفر پر دیا گیا تھا۔ انہیں پدم بھوشن اور جنان پیٹھ اعزازت سے بھی نوازا گیا ہے۔

وفات[ترمیم]

ان کی وفات 21 اگست 2007ء کو نوئیڈا میں ہوئی اور جامعہ ملیہ اسلامیہ کے قبرستان میں مدفون ہوئیں۔[9]

وفات[ترمیم]

21 اگست، 2007ء کو دہلی میں طویل علالت کے بعد ان کا انتقال ہوا۔

تصانیف[ترمیم]

  • آگ کا دریا
  • آخرِ شب کے ہمسفر (گیان پیٹھ ایوارڈ یافتہ)
  • میرے بھی صنم خانے
  • چاندنی بیگم
  • کارِ جہاں دراز ہے
  • روشنی کی رفتار
  • سفینۂ غمِ دل
  • پت جھڑ کی آواز (ساہتیہ اکادمی ایوارڈ یافتہ)
  • گردشِ رنگِ چمن
  • چائے کے باغ
  • دلربا
  • اگلے جنم موہے بٹیا نہ کیجو

مزید مطالعات[ترمیم]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. ^ ا ب دائرۃ المعارف بریطانیکا آن لائن آئی ڈی: https://www.britannica.com/biography/Qurratulain-Hyder — بنام: Qurratulain Hyder — اخذ شدہ بتاریخ: 9 اکتوبر 2017 — عنوان : Encyclopædia Britannica
  2. http://news.bbc.co.uk/2/hi/south_asia/6956218.stm
  3. https://www.outlookindia.com/website/story/padma-awards-2005/226328 — اخذ شدہ بتاریخ: 19 فروری 2020
  4. http://www.jnanpith.net/page/jnanpith-laureates
  5. http://www.dashboard-padmaawards.gov.in/?Year=1984-1984 — اخذ شدہ بتاریخ: 19 فروری 2020
  6. http://sahitya-akademi.gov.in/awards/akademi%20samman_suchi.jsp#URDU
  7. "Vital statistics of colleges that figure among India's top rankers". انڈیا ٹوڈے. 21 May 2001. اخذ شدہ بتاریخ 07 جولا‎ئی 2014. 
  8. ^ ا ب Ahsan، Kamil (22 July 2019). "The Alternate India". The Nation. doi:ڈی او ئي. https://www.thenation.com/article/river-of-fire-qurratulain-hyder-india-pakistan-partition-novel-review/۔ اخذ کردہ بتاریخ 26 July 2019. 
  9. Hyder، Qurratulain (June 2003). River of Fire. Editorial Reviews: About the Author. ISBN 0811215334. "With her unfortunate passing, the country has lost a towering literary figure.” 

بیرونی روابط[ترمیم]