نیر مسعود

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
نیر مسعود
Naiyar Masud, March 05, 2008 (cropped).jpg
 

معلومات شخصیت
پیدائش اکتوبر 1936  ویکی ڈیٹا پر (P569) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
لکھنؤ  ویکی ڈیٹا پر (P19) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
وفات 24 جولا‎ئی 2017 (80–81 سال)  ویکی ڈیٹا پر (P570) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
لکھنؤ  ویکی ڈیٹا پر (P20) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
شہریت Flag of India.svg بھارت (26 جنوری 1950–)
British Raj Red Ensign.svg برطانوی ہند (–14 اگست 1947)
Flag of India.svg ڈومنین بھارت (15 اگست 1947–26 جنوری 1950)  ویکی ڈیٹا پر (P27) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
رشتے دار اظہر مسعود (بھائی)
عملی زندگی
مادر علمی جامعہ الٰہ آباد
جامعہ لکھنؤ  ویکی ڈیٹا پر (P69) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
پیشہ مصنف،  نقاد،  مترجم،  اکیڈمک،  مصنف  ویکی ڈیٹا پر (P106) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
پیشہ ورانہ زبان اردو  ویکی ڈیٹا پر (P1412) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
ملازمت جامعہ لکھنؤ  ویکی ڈیٹا پر (P108) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
کارہائے نمایاں طاؤس چمن کی مینا
اعزازات
سرسوتی اعزاز  (2007)
ساہتیہ اکادمی ایوارڈ  (برائے:Taoos Chaman Ki Maina) (2001)[1]  ویکی ڈیٹا پر (P166) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
P literature.svg باب ادب

نیر مسعود (1936ء تا 2017ء) ایک اردو اسکالر، قلمکار اور اردو زبان کے معروف افسانہ نگار و مترجم تھے۔[2][3] وہ ان ادیبوں میں سے تھے جنہوں نے ادبی دنیا میں اپنی منفرد شناخت قائم کی۔ ان کے افسانوں کا مجموعہ "طاؤس چمن کی مینا" گزشہ ایک دہائی میں سب سے زیادہ پڑھا جانے والا افسانہ تھا۔ نیر مسعود افسانہ، تحقیق، تنقید اور ترجمہ کے موضوعات پر تیس سے زائد کتابوں کے مصنف تھے۔ لکھنؤ یونیورسٹی میں شعبہ فارسی سے تا عمر وابستہ رہے۔[4]

ابتدائی زندگی اور تعلیم[ترمیم]

نیر مسعود 16 نومبر 1936ء کو لکھنؤ میں مشہور اردو ناقد و ادیب سید مسعود حسن رضوی ادیب کے گھر پیدا ہوئے۔ 1957ء میں لکھنؤ یونیورسٹی سے فارسی میں ایم۔ اے۔ اور 1965ء میں الہ آباد یونیورسٹی سے اردو میں پی ایچ ڈی کی ڈگر ی حاصل کرنے کے بعد 1965ء میں ہی اسلامیہ کالج بریلی میں اردو و فارسی کے استاذ مقرر ہوئے۔ اس کے بعد شعبہ فارسی لکھنؤ یونیورسٹی میں استاذ مقرر ہوئے اور بتدریج ترقی کرتے ہوئے 1996ء میں پروفیسر کے عہدے سے سبکدوش ہوئے۔[5]

ادبی زندگی[ترمیم]

ان کی ادبی زندگی کا آغاز ان کے لڑکپن میں ہی ہو گیا تھا، جب 11-12 سال کی عمر میں انھوں نے ایک ڈراما لکھا اور اسے انہوں نے علی عباس حسینی، مولوی اختر علی تلہری اور مزا محمد اصغری وغیرہم کی موجودگی میں بے جھجھک پڑھا اور دادِ تحسین حاصل کی۔ لیکن تصنیف و تالیف کا سلسلہ باضابطہ 1965ء میں شروع ہوا۔ ان کی کہانیاں مختلف ادبی رسائل بالخصوص "شب خون" میں شائع ہوئیں اور کہانیوں کا پہلا مجموعہ "سیمیا" کے نام سے 1984ء میں شائع ہوا۔ انہوں نے بچوں کے لیے بھی دو کتابیں تحریر کیں۔ قصہ سوتے جاگتے ابو الحسن کا (الف لیلی) جو 1985ء میں اترپردیش اردو اکادمی سے شائع ہوا۔ انھوں نے بچوں کے لیے ایک ڈرامائی مشاعرہ بھی لکھا۔ ان کے تین سو سے زائد علمی و تحقیقی مقالات ہند و پاک کے ادبی رسائل میں شائع ہوئے۔ محمد عمر میمن نے 1998ء میں نیر مسعود کی دس کہانیوں کا ترجمہ انگریزی میں کیا تھا، نیز انہوں نے "طاؤس چمن کی مینا" کا بھی انگریزی میں ترجمہ کیا۔ ان کی سات کہانیاں "کافور" کے نام سے پیرس سے بھی شائع ہوئی تھیں۔[5]

تصنیفات[ترمیم]

نیر مسعود نے کئی تحقیقی کتابیں اور تراجم کیے (خاص طور پر کافکا کے ) لیکن اپنے افسانوں سے زیادہ مشہور ہوئے، ان کے افسانوں کے مجموعے مندرجہ ذیل ہیں:

  • طاؤس چمن کی مینا (1988ء) دس افسانے[6]
  • عطر ِ کافور[6]
  • سیمیا
  • گنجفہ[6]
تحقیقی کتابوں میں

یگانہ احوال و آثار[6]

دیگر
  • بچوں سے باتیں مرتب
  • بستانِ حکمت ترجمہ
  • سوتا جاگتا
  • کافکا کے افسانے (ترجمہ)

اعزازات[ترمیم]

ڈاکٹر نیر مسعود کو ان کی ادبی خدمات کے صلہ میں 2001ء میں ساہتیہ اکیڈمی نے اردو ادب دیا اور 2007ء میں سرسوتی سمان ملا۔ جب کہ سنہ 1979ء انہیں پدم شری اعزاز برائے تعلیم و ادب سے نوازا گیا۔[5]

وفات[ترمیم]

24 جولائی 2017ء کو طویل علالت اور کئی سال تک فالج کے مرض میں مبتلا رہنے کے بعد وفات پائی اور لکھنؤ کے حیدر گنج میں واقع کربلا منشی فضل حسین میں تدفین عمل میں آئی۔[5]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. http://sahitya-akademi.gov.in/awards/akademi%20samman_suchi.jsp#URDU
  2. ڈان بُکس اینڈ آتھرز (17 فروری 2013ء). "کالم: نیر مسعود: "A passionate but calm realist of the strange" by Muhammad Umar Memon". ڈان. 26 دسمبر 2018 میں اصل سے آرکائیو شدہ. اخذ شدہ بتاریخ 24 جولائی 2017ء. 
  3. "نیر مسعود". پینگوئن (ادارہ) بھارت. 26 دسمبر 2018 میں اصل سے آرکائیو شدہ. اخذ شدہ بتاریخ 24 جولائی 2017ء. 
  4. روزنامہ راشٹریہ سہارا، اشاعت کانپور، مؤرخہ 25 جولائی 2017ء، صفحہ 1۔
  5. ^ ا ب پ ت روزنامہ راشٹریہ سہارا، اشاعت کانپور، مؤرخہ 25 جولائی 2017ء، صفحہ 5۔
  6. ^ ا ب پ ت ٹ ث ج چ ح ریختہ ڈاٹ کام. "نیر مسعود کی کتابیں ریختہ پر". ریختہ ویب سائٹ. اخذ شدہ بتاریخ 25 جولا‎ئی 2017. 
  7. ایم سلطانہ بخش، داکٹر (1986ء). اردو میں اصول تحقیق (مضمون:ہندوستان میں شائع ہونے والی اہم تحقیقی و تدوینی کتابیں). اسلام آباد: ورڈ ویژن پبلشرز. صفحہ 386. ISBN 81680306 تأكد من صحة |isbn= القيمة: length (معاونت). 
  8. ^ ا ب پ ت ٹ کانگریس کتب خانہ (2015-11-07). "نیر مسعود کانگریس کتب خانہ پر معلومات". کانگریس کتب خانہ. اخذ شدہ بتاریخ 25 جولا‎ئی 2017. 

بیرونی روابط[ترمیم]