مرزا ادیب

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
(میرزا ادیب سے رجوع مکرر)
Jump to navigation Jump to search
مرزا ادیب
معلومات شخصیت
پیدائش 4 اپریل 1914  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ پیدائش (P569) ویکی ڈیٹا پر
لاہور  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام پیدائش (P19) ویکی ڈیٹا پر
وفات 31 جولا‎ئی 1999 (85 سال)  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ وفات (P570) ویکی ڈیٹا پر
لاہور  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام وفات (P20) ویکی ڈیٹا پر
شہریت Flag of Pakistan.svg پاکستان
British Raj Red Ensign.svg برطانوی ہند  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں شہریت (P27) ویکی ڈیٹا پر
عملی زندگی
مادر علمی اسلامیہ کالج لاہور  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تعلیم از (P69) ویکی ڈیٹا پر
پیشہ مصنف  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں پیشہ (P106) ویکی ڈیٹا پر
پیشہ ورانہ زبان پنجابی  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں زبانیں (P1412) ویکی ڈیٹا پر
اعزازات

میرزا ادیب (پیدائش: 4 اپریل 1914ء— وفات: 31 جولائی 1999ء) پاکستان کے نامور ڈراما نویس، افسانہ نگار اور ناول نگار تھے۔

حالات زندگی[ترمیم]

مرزا ادیب 4 اپریل 1914ء کو لاہور میں پیدا ہوئے۔ اصل نام دلاور حسین علی ہے۔ والد کا نام مرزا بشیر علی تھا۔ مرزا ادیب نے اسلامیہ کالج لاہور سے بی اے کیا۔ ابتدا میں شاعری کو ذریعہ اظہار بنایا مگر پھر نثر کو اپنی شناخت بنالیا۔ اور پھر اردو ادب کی خدمت پر کمربستہ ہو گئے۔ اور اسی کو مقصد حیات سمجھ لیا۔ ان کا خاص میدان افسانہ نگاری اور ڈراما نگاری ہے۔ بزرگ افسانہ نگار محترم میرزا ادیب نے اپنی 82 سالہ زندگی میں اردو کو بہت کچھ دیا ہے۔ نثری ادب کی وہ کون سی صنف ہے جس میں ان کی قد آور شخصیت کی چھاپ نہ ہو، افسانہ، ڈراما، سفرنامہ، تنقید، تراجم، تالیفات بچوں کے لیے کہانیاں، غرض ہر صنف میں میرزا ادیب کی گراں قدر تخلیقات اردو کی توقیر میں اضافہ کا باعث ہیں۔ میرزا ادیب کی تصانیف میں صحرا نورد کے خطوط، صحرا نورد کے رومان، دیواریں، جنگل، کمبل، حسرت تعمیر، متاع دل، کرنوں سے بندھے ہاتھ، فصیل شب، شیشے کے دیوار، آنسو اور ستارے، ناخن کا قرض، گلی گلی کہانیاں اور ان کی خودنوشت سوانح "مٹی کا دیا" شامل ہیں۔ انہوں نے کئی رسالوں کی ادارت کے فرائض سر انجام دیے جن میں سے (ادب لطیف) خاص طور پر قابل ذکر ہے۔

مرزا ادیب ریڈیو پاکستان سے وابستہ رہے ان کئی کے کئی فیچر اور ڈرامے ریڈیو پاکستان سے نشر ہوئے جن کو شہرت عام حاصل ہوئی۔ ان کی اعلیٰ ادبی خدمات کے اعزاز میں انہیں صدارتی تمغا برائے حسن کارکردگی عطا کیا۔

وفات[ترمیم]

31 جولائی 1999ء کو میرزا ادیب لاہور میں وفات پاگئے۔

تصانیف[ترمیم]