قرۃ العین طاہرہ

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
قرۃ العین طاہرہ
قرۃ العین طاہرہ، زرین تاج
قرۃ العین طاہرہ، زرین تاج

معلومات شخصیت
پیدائش 1814 ء یا 1817ء
قزوین  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام پیدائش (P19) ویکی ڈیٹا پر
وفات اگست 16–27 1852ء
تہران  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام وفات (P20) ویکی ڈیٹا پر
طرز وفات سزائے موت  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں طرزِ موت (P1196) ویکی ڈیٹا پر
شہریت Flag of Iran.svg ایران  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں شہریت (P27) ویکی ڈیٹا پر
عملی زندگی
پیشہ شاعرہ الٰہیات اور حقوق نسواں کی کارکن
پیشہ ورانہ زبان فارسی،  ترک زبان،  عربی  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں زبانیں (P1412) ویکی ڈیٹا پر
شعبۂ عمل شاعری،  فعالیت پسند  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں شعبۂ عمل (P101) ویکی ڈیٹا پر

قرۃ العین طاہرہ مشہور فارسی شاعرہ، علی محمد باب کی سترہویں حروف حی اور بہائی مذہب کی مبلغہ تھیں۔ کلاسیکی فارسی شاعرات میں ان کا نام سب سے بلند ہے۔

زندگی[ترمیم]

1823ء میں ایران کے قدیم شہر قزوین میں پیدا ہوئیں۔ ان کا اصل نام زرین تاج تھا۔ وہ ایران کے عظیم شیعہ آیت اللہ ملا برغانی کی صاحبزادی تھیں۔ والدہ کا نام آمنہ خانم قزوینی تھا۔ ان کی شادی قزوین کے نوجوان عالم شیخ محمد تقی سے ہوئی، جنہیں شہید ثالث کے نام سے بھی جانا جاتا ہے۔ ان کی فطانت اور علمیت کا یہ عالم تھا کہ کم عمری ہی میں وہ اپنے والد اور چچا جیسے نوابغ کو مباحثوں میں لاجواب کر دیتیں۔ وہ بچپن ہی سے ایک قادر الکلام شاعرہ بھی تھیں۔ ایران میں ان کی شہرت کی ایک اور وجہ ان کا حسن و جمال بھی تھا۔1850ء میں، دین میں فتنہ پھیلانے کے الزام میں بادشاہ ناصر الدین قاچار نے انہیں سزائے موت دلوا دی۔

مذہب[ترمیم]

وہ پیدائشی طور پر شیعہ خانوادہ سے تعلق رکھتی تھیں، لیکن ابتدا ہی سے ہر بات پر “کیوں“ کی جرح کرنے والا باغیانہ مزاج پایا تھا۔ شہر میں دینی مسائل پوچھنے کے لیے آنے والی خواتین سے انہوں نے علی محمد باب کے خروج اور تعلیمات کا سنا جس نے حال ہی میں مہدویت کا دعویٰ کیا تھا۔ طاہرہ ان کی تعلیمات سے متاثر ہوئیں اور باب سے خفیہ خط کتابت شروع کر دی۔ وہ علی محمد باب پر ایمان لانے والے پہلے 18 لوگوں (جو بابی تاریخ میں “حروف حی“ کے نام سے بھی جانے جاتے ہیں)، میں سے واحد خاتون مبلغہ تھیں۔ سیّد کاظم رشتی نے انہیں “قرۃ العین“ کا لقب دیا اور بہاء اللہ نے انہیں “طاہرہ“ کا لقب دیا۔ انہوں نے اپنے گھر کو خیرباد کہنے کے بعد شہر بہ شہر بابی مذہب کی تبلیغ شروع کر دی اور ہزاروں لوگوں کو اپنے نظریات سے متاثر کیا۔ وہ ایک بلیغ اور شعلہ نوا مقرر تو تھیں ہی، لیکن ان کے حسن کا یہ عالم تھا کہ وہ جب دوران تقریر اپنے چہرے سے نقاب گرا دیتیں تو مجمع میں موجود تمام حاضرین بابی مذہب کا کلمہ پڑھنے لگتے۔

علی محمد باب نے ان کے تن میں جناب سیّدہ فاطمۃ الزھرا کے روح کے حلول کر جانے کی نوید دی، جس سے انہوں نے مظہر سیدہ طاہرہ ہونے کا دعویٰ کر دیا، جسے ایران میں ہاتھوں ہاتھ‍ لیا گیا۔

بعد ازاں وہ بہاء اللہ کی تعلیمات کی بھی بہت بڑی مبلغ بنیں۔ بغداد پہنچ کر مفتی اعظم سے ملاقات کی اور نہایت ہی قابلیت کے ساتھ بابی تحریک پر روشنی ڈالی، پھر مفتی اعظم سے درخواست کی کہ وہ انہیں تبلیغِ بابیت کی اجازت دیں مفتی اعظم سے نااُمید ہونے کے بعد انہوں نے گورنر وقت سے ملاقات کی اور تبلیغ کی اجازت چاہی گورنر نے اِن کو کہا ”میری عملداری سے نکل جاؤ“۔ ناچار انہوں نے بغداد کو چھوڑ دیا۔ بغداد سے نکلتے ہی یہ بابیت کی تبلیغ میں مشغول ہوگئیں بغداد سے کرمان شاہ اور کرمان شاہ سے ہمدان جاتے جاتے اِنہوں نے کئی افراد کو دائرہِ بابیت میں داخل کیا اس کے بعد زرین تاج عرف قرۃ العین نے ہمدان سے طہران جاکر محمد شاہ والئی ایران وعظ و نصیحت کرنے کا قصد کیا۔ جب اِن کے والد حاجی ملا صالح کو اس بات کا علم ہوا تو جلدی سے آئے اور بیٹی کو قزوین لے گئے۔ کچھ ایام تک زرین تاج امن و سکون سے رہیں لیکن حسب معمول بابیت کا پرچار دوبارہ شروع کر دیا۔ جس کی وجہ سے ان شوہر اور سسر کے درمیان چپقلش شروع ہو گئی پھر انہوں نے فتویٰ دیا کہ محمد تقی (شوہر) و ملا محمد (سسر) دونوں واجب القتل ہیں اور کہا ”جو تبلیغ کا مانع ہے اس کا خون حلال ہے“۔ یہ سن بابی جوش میں آ گئے اور محمد تقی کو قتل کا کرنے منصوبہ بنا کر ان کا قتل کر ڈالا۔

وفات[ترمیم]

1850ء میں بغاوت، دین میں فتنہ پھیلانے اور خواتین کے حقوق پر کچھ‍ باغیانہ سوالات اٹھانے کے الزام میں ایران کے بادشاہ ناصر الدین قاچار نے اپنے دربار بلایا۔ انہوں نے بادشاہ کو مخاطب کر کے یہ اشعار کہے:

تو و ملک و جاہ سکندری
من و رسم و راہ قلندری
اگر آن نکوست، تو در خوری،
اگر این بد است، مرا سزا

(تیرے پاس ملک، جاہ اور بادشاہی ہے، میں ہوں کہ میرے پاس قلندرانہ اطوار ہیں۔

اگر وہ بھلی چیز ہے، تو تجھے مبارک، لیکن اگر یہ شے بری ہے، تو مجھے [یہ بدی] قبول ہے۔)

کہا جاتا ہے کہ بادشاہ جو ان کے حسن و جمال کو دیکھ‍ کر پہلے ہی پگھلنے کے قریب تھا، ان کی اس بے ساختہ جواب پر ان کی ذہانت کا بھی قائل ہو گیا، اس خوف سے کہ ان کے مزید چند لمحے دربار میں رہنے پر مبادا وہ ان کو دل دے بیٹھے، جلد از جلد انہیں انجام تک پہنچا دیا جائے۔ اس نے ان کے بال ایک گھوڑے کے پیچھے باندھ‍ کر اسے دوڑا دیا اور انہیں اذیتیں دے کر قتل کر دیا گیا۔

بعض روایات کے مطابق گلا گھونٹ کر لاش کو آگ لگا دیا گیا بعض کا بیان ہے کہ باغ ایخانی میں لے جاکر تانت سے گلا گھونٹ دیا گیا۔ بعض بیان کرتے ہیں کہ قصر شاہی کے ایک باغ میں جسے ”نگارستان“ کہتے تھے، لے جاکر دھکیل دیا گیا اور کنویں کو پتھروں سے پاٹ دیا گیا۔ ایک بیان کے مطابق زرین تاج کی زلفیں چاروں طرف سے کاٹ دی گئیں اور چند یا کے گردا گرد سر مونڈ دیا گیا، پھر سر کے بیچ کے بال ایک خچر کی دُم سے باندھے گئے اور انہیں اِسی طرح کھینچتے ہوئے دارالقضا لایا گیا ایک روایت کے مطابق ان کو وہاں لے جاکر پہلے گلا گھونٹا گیا پھر آگ میں جھونک دیا گیا اور یہ 9 جولائی 1850ء کو وفات پا گئیں۔[1]

نمونۂ کلام[ترمیم]

گر بہ تو افتدم نظر، چہرہ بہ چہرہ، رو بہ روشرح دہم غم ترا، نکتہ بہ نکتہ، مو بہ مو
از پۓ دیدن رخت، ہمچو صبا فتادہ امخانہ بہ خانہ، در بہ در، کوچہ بہ کوچہ، کو بہ کو
می رود از فراق تو، خون دل از دو دیدہ امدجلہ بہ دجلہ، یم بہ یم، چشمہ بہ چشمہ، جو بہ جو
دور دہان تنگ تو، عارض عنبرین خطتغنچہ بہ غنچہ، گل بہ گل، لالہ بہ لالہ، بو بہ بو
ابرو چشم و خال تو، صید نمودہ مرغ دلطبع بہ طبع، دل بہ دل، مہر بہ مہر، خو بہ خو
مہر ترا دل حزیں، بافتہ بر قماش جاںرشتہ بہ رشتہ، نخ بہ نخ، تار بہ تار، پو بہ پو
در دل خویش طاہرہ گشت و نہ دید جز تراصفحہ بہ صفحہ، لا بہ لا، پردہ بہ پردہ، تو بہ تو

یہ غزل قرۃ العین طاہرہ کی نمائندہ غزل ہے، ان کی اس بحر پر مختلف شعرا نے بہت سی طبع آزمائی کی ہے۔ جون ایلیاء جو قرۃ العین کے بہت بڑے مدّاح تھے، نے اس بحر کو اپنی پسندیدہ ترین بحر کہا ہے۔ ان کے والد سید شفیق الحسن ایلیاء امروہوی جو قرۃ العین طاہرہ کے افکار سے بہت متاثر تھے، نے اس زمین میں غزل کہی ہے:

روئے حسن، رخ حسین، جلوہ طراز مشرقین
غازہ بہ غازہ، خط بہ خط، دیدہ بہ دیدہ، دو بہ دو

طاہرہ اور حقوق نسواں[ترمیم]

قرۃ العین طاہرہ ایران میں حقوق نسواں پر بات کرنے والی پہلی خاتون تھیں۔ انہوں نے 1848ء میں بابی مذہب قبول کرنے سے 4 سال قبل حقوق نسواں اور عورت کے مرد کے برابر حقوق کی بات کی تھی۔

مزید دیکھیے[ترمیم]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. عبد البہاء، ایپی سوڈ آف دی باب، صفحہ نمبر 45