سید علی محمد باب

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
باب
(عربی میں: علي محمد رضا الشيرازي)،(فارسی میں: سید علی‌محمد باب ویکی ڈیٹا پر مقامی زبان میں نام (P1559) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
باب علی شیرازی
باب علی شیرازی

معلومات شخصیت
پیدائش 20 اکتوبر 1819(1819-10-20)
شیراز  ویکی ڈیٹا پر مقام پیدائش (P19) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
وفات جولائی 9، 1850(1850-70-09) (عمر  30 سال)
تبریز  ویکی ڈیٹا پر مقام وفات (P20) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
وجۂ وفات سزائے موت بذریعہ گولیوں کی باڑھ  ویکی ڈیٹا پر وجۂ وفات (P509) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
مدفن مزارِ باب  ویکی ڈیٹا پر مقام دفن (P119) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
طرز وفات سزائے موت  ویکی ڈیٹا پر طرزِ موت (P1196) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
قومیت فارسی
مذہب پہلے مسلمان بعد میں بانیِ بابیت
زوجہ خدیجہ بیگم (1842–1850)
فاطمہ خانم (1846/7؟-1850)[1]
اولاد احمد (پیدائش:1843ء - وفات:1843ء)
والدین والد: سید محمد رضا
والدہ: فاطمہ بیگم
عملی زندگی
پیشہ خادم دین، واعظ، مظہرِ اللہ  ویکی ڈیٹا پر پیشہ (P106) کی خاصیت میں تبدیلی کریں

سید علی محمد باب (پیدائش: 1820ء - انتقال: 1850ء) بابی یا بہائی مذہب کا بانی۔ اس کا باپ محمد رضا، شیراز کا تاجر تھا۔ سید علی محمد حصول تعلیم کے لیے کربلا گیا اور پھر شیراز واپس آکر چوبیس سال کی عمر میں (باب خدا تک پہنچنے کا دروازہ) ہونے کا دعوی کیا۔ اصفہان کا گورنر منوچہراس کا پیرو بن گیا۔ مرزا یحییٰ نوری جو بعد میں (صبح ازل) کہلایا۔ مرزا حسین علی نوری جو بہا اللہ کے نام سے مشہور ہوا اور آیت اللہ ملا برغانی کی حسین و جمیل لڑکی زرین تاج جو قرۃ العین طاہرہ کہلائی دونوں اس مذہب کے پرجوش مبلغ تھے۔ علما نے باب کی زبردست مخالفت کی اور اسے کافر قرار دیا۔ بادشاہ ناصر الدین قاچار کے حکم سے بالاخر تبریز کے چوراہے پر اسے گولی مار کر ہلاک کر دیا گیا اور لاش شہر سے باہر پھینک دی گئی۔ اس کے پیرؤوں کا عقیدہ ہے کہ اس کے مریدوں نے اس کی لاش کہیں چھپا دی اور پچاس سال بعد عبد البہا کے عہد میں فلسطین لے جا کر کوہ کرمل پر دفن کی۔ بہائی اسے مقام اعلیٰ کہتے ہیں۔ باب نے دو کتب بیان اور دلائل السبعہ تحریر کی تھیں۔ جن سے اس کے مذہبی عقائد کا مجملاً پتا چلتا ہے۔

مزید دیکھیے[ترمیم]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. مرزا حبیب اللہ افنان۔ دی جینیسز آف دی بابی-بہائی فیتھس اِن شیراز اینڈ فارس۔ بِرل 2008۔ صفحہ 306۔ آئی ایس بی این 9004170545۔