مدعیان مہدویت کی فہرست

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search

مسلمانوں کے نزدیک آخر زمانے میں ظاہر ہونے والی شخصیت مہدی ہیں جو قیامت سے قبل دنیا میں آئیں گے اور دنیا کو ظلم سے نجات دلائیں گے، ناانصافی اور جبر کا خاتمہ کر دیں گے۔ اسلامی دنیا میں مہدی ہونے کا دعوی کرنے والی کئی شخصیات سامنے آچکی ہیں۔ بالخصوص سعودی عرب، افریقا، جنوبی ایشیا وغیرہ میں متعدد مسلمان افراد نے اس کا دعوی کیا اور یہ دعوی بہت پہلے سے لوگ کرتے آ رہے ہیں۔

مسلمانوں کا عقیدہ ہے کہ مہدی وسیع دنیاوی اختیارات، روحانی طاقتیں اور ولایت کے حامل ہوں گے۔ کچھ مدعیان مہدویت نے دنیاوی طاقت کے اظہار کے لیے ریاستوں کی بنیاد رکھی (جیسے مہدی سوڈانی نے انیسویں صدی عیسوی میں، سوڈان میں) اسی طرح بعض نے روحانی طاقت سے مطابقت کے لیے مذاہب اور فرقوں کی بنیاد رکھی (جیسے مرزا غلام احمد نے احمدیہ جماعت اور بابی تحریک وغیرہ)۔

اسی سلسلہ کی مطابقت کی وجہ سے 1979ء میں مکہ، سعودی عرب میں جہیمان عتیبی نے 200 مسلح افراد کے ساتھ مل کر مسجد الحرام پر قبضہ کر لیا اور دعوی کیا کہ اس کا بہنوئی اور ساتھی محمد قحطانی مہدی ہے۔ (کیونکہ، مہدی کے متعلق اسلامی روایات میں ہے کہ وہ پہلی بار حج کے موقع پر مکہ میں خانہ کعبہ کے پاس مہدی تسلیم کیے جائیں گے)۔[1]

پہلی صدی[ترمیم]

دوسری صدی[ترمیم]

صالح بن طريف[ترمیم]

صالح بن طريف جو بورغوطہ کا دوسرا بادشاہ تھا، اس نے آٹھویں صدی عیسوی میں ایک نئے مذہب کے نبی ہونے کا دعوی کیا۔ اس کا یہ دعوی بنو امیہ کے ہشام بن عبدالملک کے دور میں سامنے آیا۔ ابن خلدون کے مطابق، اس نے خود پر خدا کی طرف سے ایک نئے قرآن کے نزول کا دعوا کیا، جو 80 ابواب پر مشتمل بربر زبان میں لکھا گیا۔ اس نے اپنی قوم کے لیے قوانین بنائے جسے اس نے صالح المومنین کا نام دیا (مومنوں کا اعادہ) اور دعوی کیا وہ ہی اصل مہدی ہے۔

عبد اللہ بن معاویہ[ترمیم]

عبد اللہ بن معاویہ جو جعفر ابن ابی طالب کی نسل سے تھا۔ 127 ہجری (بمطابق 744ء) کے آخر میں کوفہ کے شیعہ نے اسے اپنا امام مانا۔ اس نے اموی خلیفہ یزید ثالث بن ولید کے خلاف تیسفون اور کوفی شیعوں کی معیت میں بغاوت کی۔

نویں صدی عیسوی[ترمیم]

مزید دیکھیے[ترمیم]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. Benjamin, The Age of Sacred Terror (2002) p.90