کوٹا شیوارام کارناتھ

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
کوٹا شیوارام کارناتھ
پیدائش 10 اکتوبر 1902(1902-10-10)
Kota, اڈوپی ضلع، برطانوی ہند کے صوبے اور علاقے
وفات 9 دسمبر 1997(1997-12-90) (عمر  95 سال)
Manipal، کرناٹک، India
پیشہ Novelist, playwright, conservationist[1][2]
قومیت Indian
دور 1924–1997[3]
اصناف Fiction, popular science, literature for children, dance-drama
ادبی تحریک کنڑا ادب
شریک حیات Leela Alva (شادی. ایرر: غلط وقت۔خطاء تعبیری: غیر متوقع < مشتغل۔)
اولاد 4; including Ullas

کوٹا شیوارام کارناتھ (انگریزی: K. Shivaram Karanth) (10 اکتوبر 1902ء-9 دسمبر 1997ء) ایک بھارتی جامع العلوم تھے۔ وہ کنڑ زبان کے ناول نگار، ڈراما نویس اور محافظ ماحولیات بھی تھے۔ رامچندر گوہا کہتے ہیں “وہ عہد جدید کے رابندرناتھ ہیں اور آزادی کے بعد کے بہترین ناول نگاروں اور سماجی کارکنوں میں سے ایک ہیں۔“[4] وہ کنڑ زبان کے تیسرے لکھاری تھے جنہیں گیان پیٹھ انعام سے نوازا گیا ہے۔[5][6]

ابتدائی زندگی[ترمیم]

شیوارام کارناتھ کی ولادت 10 اکتوبر 1902ء[7] کو بھارت کی ریاست کرناٹک کے اڈوپی ضلع کے اڈوپی شہر کے ایک کنڑ زبان بولنے والے خاندان میں ہوئی۔ والد کا نام شیشا کارناتھ اور والدہ کا نام لکشھمما تھا۔ شیوارام والدین کی 5ویں اولاد تھے۔ ان کی ابتدائی تعلیم کنڈاپور اور منگلور میں ہوئی۔ وہ گاندھیت سے بہت زیادہ متاثر تھے اور انہوں نے گاندھی کی تحریک آزادی ہند میں حصہ لیا۔ وہ ان کے کالج کا زمانہ تھا۔ تحریک عدم تعاون کی وجہ سے وہ کالج کی تعلیم مکمل نہ کرسکے اور 1922ء میں تعلیم ترک کردی۔ وہ کھادی پہننے لگے اور سودیشی تحریک کا حصہ بن گئے۔[8] وہ اس میں پانچ برس تک ملوث رہے۔[7] اسی زمانہ میں انہوں نے لکھنا شروع کر دی اور کئی ناول اور ڈرامے لکھے۔ ۔[7]

کیرئر[ترمیم]

کارناتھ نے 1924ء میں لکھنا شروع کیا اور بہت جلد اپنی کتاب راشٹرگیت سودھاکر شائع کردی۔ یہ شاعری کا مجموعہ تھا۔ ان کا پہلا ناول وچتر کوٹ تھا۔ اس کے بعد انہوں نے نربھاگیہ جنم اور سولیا سامسرا جیسی کتابیں لکھیں جو غربت اور سماج میں پھیلی غربت کی برائیوں پر مبنی تھی۔ 1928ء میں ان کا شاہکار دیودوتارو شائع ہوا جو عصری بھارت کا ایک تنقیدی جائزہ تھا۔[3]

وفات[ترمیم]

انہیں 2 دسمبر 1997ء کو کستوربا میڈیکل کالج، منی پال میں داخل کیا گیا۔ انہیں نزلہ کی شکایت تھی۔ ایک دن بعد انہیں حرکت قلب میں ہریشانی ہوئی اور کومہ میں چلے گئے۔ 8 دسمبر کو ان کے گردے جواب دینے لگے۔ بھارتی معیاری وقت کے مطابق 11:35 صبح 95 سال کی عمر میں ان کا انتقال ہو گیا حکومت کرناٹک نے دو دن کے ماتم کا اعلان کیا۔[9][3][9]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. "Karanth: Myriad-minded "Monarch of the Seashore""۔ The Indian Express۔ 10 دسمبر 1997۔ مورخہ 8 اکتوبر 1999 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 4 نومبر 2018۔
  2. نقص حوالہ: ٹیگ <ref>‎ درست نہیں ہے؛ chandra نامی حوالہ کے لیے کوئی مواد درج نہیں کیا گیا۔ (مزید معلومات کے لیے معاونت صفحہ دیکھیے)۔
  3. ^ ا ب پ نقص حوالہ: ٹیگ <ref>‎ درست نہیں ہے؛ pampa نامی حوالہ کے لیے کوئی مواد درج نہیں کیا گیا۔ (مزید معلومات کے لیے معاونت صفحہ دیکھیے)۔
  4. The Arun Shourie of the left۔ Thehindu.com (26 نومبر 2000)۔ Retrieved on 2018-11-15.
  5. "Jnanapeeth Awards"۔ Ekavi۔ مورخہ 27 اپریل 2006 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 31 اکتوبر 2006۔
  6. "Jnanpith Laureates Official listings"۔ گیان پیٹھ انعام Website۔ مورخہ 13 اکتوبر 2007 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ Unknown parameter |url-status= ignored (معاونت)
  7. ^ ا ب پ Ramachandra Guha (13 اکتوبر 2002)۔ "The Kannada colossus"۔ The Hindu۔ اخذ شدہ بتاریخ 24 نومبر 2006۔
  8. Si En Rāmacandran (2001)۔ K. Shivarama Karanth (انگریزی زبان میں)۔ Sahitya Akademi۔ صفحہ 7–22۔ آئی ایس بی این 9788126010714۔ اخذ شدہ بتاریخ 4 نومبر 2018۔
  9. ^ ا ب "Literary legend Karanth dead"۔ The Indian Express۔ 10 دسمبر 1997۔ مورخہ 17 اگست 2003 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 4 نومبر 2018۔