دریائے جمنا

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں
جمنا
دریا
تاج محل ، جمنا کے کنارے
ملک بهارت
ریاستیں اتراکھنڈ, اتر پردیش, ہریانہ
معاون
 - بائیں دریائے ہندون, دریائے کالی, کنتا, Gir[ضدابہام درکار], رشی گنگا, ہنومان گنگا, سسر کهدری
 - دائیں تونس, چمبل, بیتوا, کین, سندھ
شہر یمنا نگر, دہلی, متھرا, آگرہ, اٹاوہ, کلپی, الہ آباد
ماخذ یمنوتری
 - مقام بندرپونچھ پہاڑ، اتر کاشی ضلع، اتراکھنڈ، بھارت
 - بلندی 3,293 میٹر (10,804 فٹ)
 - متناسقات 31°01′0.12″N 78°27′0″E / 31.0167000°N 78.45000°E / 31.0167000; 78.45000
دھانہ تروینی سنگم
 - مقام الہ آباد، بھارت
 - بلندی سانچہ:Unit اونچائی
 - متناسقات 25°25′11.44″N 81°53′5.80″E / 25.4198444°N 81.8849444°E / 25.4198444; 81.8849444متناسقات: 25°25′11.44″N 81°53′5.80″E / 25.4198444°N 81.8849444°E / 25.4198444; 81.8849444
لمبائی 1,376 کلومیٹر (855 میل)
طاس 366,223 کلومیٹر2 (141,399 مربع میل)
نکاسی for دہانہ
 - اوسط 2,950 m3/s (104,178 cu ft/s) [1]
Map
دریائے جمنا

کوہ ہمالیہ کے علاقہ جمنوتری سے نکلتا ہے۔ اور 850 میل جنوب کی طرف بہتا ہوا الہ آباد کے مقام پر دریائے گنگا سے جا ملتا ہے۔ ہندو اس مقام کو بہت متبرک خیال کرتے ہیں۔ دہلی ، برنداون ، متھرا ، اور آگرہ ، اسی دریا کے کنارے آباد ہیں۔ الہ آباد سے متھرا تک اس میں کشتیاں چل سکتی ہیں۔ چنبل ، بیتوا اور کین سون دریائے جمنا کے معاون ہیں جو بندھیا چل سے نکلتے ہیں۔ ہندو گنگا کی طرح جمنا کو بھی مقدس سمجھتے ہیں۔ کانپور کے قریب دریائے جمنا سے نہر جمن شرقی نکالی گئی ہے۔جو گنگا اور جمنا کے درمیانی دوآبہ کو سیراب کرتی ہے۔ دہلی سے ذرا نیچے نہر آگرہ بھی دریائے جمنا ہی سے نکالی گئی ہے۔

نگار خانہ[ترمیم]

  1. Jain، Sharad K.; Agarwal، Pushpendra K.; Singh، Vijay P. (2007). Hydrology and water resources of India. Springer. p.341. http://books.google.com/books?id=ZKs1gBhJSWIC&pg=PA341۔ اخذ کردہ بتاریخ 26 April 2011.