یہ بہترین مضمون ہے۔ مزید تفصیل کے لیے یہاں طق کریں۔

الٰہ آباد

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
(الہ آباد سے رجوع مکرر)
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں
ضد ابہام صفحات کے لیے معاونت زیر نظر مضمون the Indian city کے بارے میں ہے۔ other uses کے لیے Allahabad (disambiguation) دیکھیے۔
Allahabad
इलाहाबाद
اللہ آباد

Prayag
प्रयाग
پریگ
Metropolis
Clockwise from top left: All Saints Cathedral, Khusro Bagh, the Allahabad High Court, the New Yamuna Bridge near Sangam, skyline of Civil Lines, the University of Allahabad, Thornhill Mayne Memorial at Alfred Park and Anand Bhavan.
عرفیت: City of Prime Ministers,[1]
Sangam City[2]
Allahabad is located in اتر پردیش
Allahabad
Allahabad
Location of Allahabad in Uttar Pradesh
متناسقات: 25°27′N 81°51′E / 25.45°N 81.85°E / 25.45; 81.85متناسقات: 25°27′N 81°51′E / 25.45°N 81.85°E / 25.45; 81.85
Country  India
State Uttar Pradesh
District Allahabad
حکومت
 • قسم Mayor–Council
 • ادارہ Allahabad Municipal Corporation
 • Mayor Abhilasha Gupta[3]
 • Member of Parliament Shyama Charan Gupta (Agrahari)[4]
رقبہ
 • Metropolis 70.5 کلو میٹر2 (27.2 مربع میل)
بلندی 98 میل (322 فٹ)
آبادی (2011)[5]
 • Metropolis 1,117,094
 • درجہ بلحاظ آبادی 36th
 • کثافت 1,087/کلو میٹر2 (2,820/مربع میل)
 • میٹرو[6] 1,216,719
 • Metro rank 23rd
نام آبادی Allahabadi, Ilahabadi
منطقۂ وقت IST (یو ٹی سی+5:30)
PIN 211001-18
Telephone code +91-532
گاڑی رجسٹریشن UP-70
Sex ratio 978 /1000
Official language Hindi
Additional official language Urdu[7]
ویب سائٹ allahabad.nic.in
Example.of.complex.text.rendering.svg
یہ مضمون، Indic text رکھتا ہے۔ موزوں معاونت کے بغیر آپ کو، Indic text کے بجائے question marks or boxes, misplaced vowels or missing conjuncts نظر آسکتے ہیں۔
قلعہ الٰہ آباد، 1850 کی تصویر۔ یہ قلعہ بادشاہ اکبر نے 1575 میں بنوایا تھا۔
قلعہ الٰہ آباد

بھارت کی ریاست اتر پردیش کا ایک قدیم شہر ہے۔ گنگا و جمنا کے سنگم پر آباد ہے۔ تجارتی مرکز ، ہندوؤں کا مقدس مقام اور ریلوے کا بہت بڑا جنکشن ہے۔ مسلمانوں کے دور حکومت سے قبل اس کا نام پراگ تھا۔ اکبر کا ایوان، جامع مسجد ، اشوک کی لاٹھ، زمین دوز قلعہ اور خسرو باغ قابل دید تاریخ عمارات ہیں۔ 1857ء میں جنگ آزادی کے دوران یہاں انگریزوں اور حریت پسندوں میں زبردست لڑائی ہوئی۔۔ 1861ء میں انگریزوں کی عملداری میں آیا۔

تعلیمی اور سماجی اہمیت[ترمیم]

الٰہ آباد کو قدیم دور سے ہی تعلیمی اور سماجی اہمیت حاصل رہی ہے۔ تعلیمی اعتبار سے یہ شہر بےحد اہمیت کا حامل ہو گیا ہے۔ یہ بات شہرۂ عام ہے کہ اس شہر میں آکر تعلیم حاصل کرنے اور مقابلہ جاتی امتحانات میں شرکت سے نمایاں کامیابی حاصل کی جا سکتی ہے۔ الٰہ آباد یونیورسٹی بھارت کا قدیم ترین تعلیمی ادارہ ہے جسے 1887ء میں انگریزی سرکار نے شروع کیا تھا۔ یہاں ہندو، مسلمان، سکھ، عیسائی، پارسی، جین اور بودھ مذہب کے ماننے والے امن و آشتی کے ساتھ رہتے ہیں۔

اردو بولنے والے[ترمیم]

الٰہ آباد کی مرکزی زبانیں اردو ، اودھی، ہندی ، انگریزی ، بنگالی اور پنجابی ہیں۔ اردو لکھنے اور بولنے والی آبادی آٹھ لاکھ سے متجاوز ہے۔ یہاں اردو کی تعلیم کے لئے چھوٹے بڑے سینکڑوں مدارس اور کالج موجود ہیں۔

اردو شخصیات[ترمیم]

الٰہ آباد نے اکبر الہ آبادی جیسا طنزومزاح کا شاعر اقامِ عالم کو دیا ہے۔ مشہور شاعر نوح ناروی اسی سرزمین سے وابستہ رہے جو لفظوں کے جادوگر مانے جاتے ہیں۔ بعد کے دور میں فراق گورکھپوری ، شبنم نقوی ، راز الہ آبادی ، عتیق الہ آبادی وغیرہ نے اردو زبان کو پروان چڑھایا۔ گیان پیٹھ انعام یافتہ فراق گورکھپوری کا منظوم مجموعہ گل نغمہ یہیں رہ کر لکھا گیا۔

حوالہ جات[ترمیم]

  1. "City of Prime Ministers". Government of Uttar Pradesh. اخذ کردہ بتاریخ 16 August 2014. 
  2. Mani، Rajiv (21 May 2014). "Sangam city, Allahabad". Times of India. Bennett, Coleman & Co. Ltd. (Times Group). http://timesofindia.indiatimes.com/city/allahabad/Girl-from-Sangam-city-grabs-headlines-in-US/articleshow/35421311.cms۔ اخذ کردہ بتاریخ 16 August 2014. 
  3. "Mayor of the city". The Indian Express. اخذ کردہ بتاریخ 25 September 2012. 
  4. "Constituency wise candidates". Election Commission of India. اخذ کردہ بتاریخ 28 June 2014. 
  5. "Census 2011" (PDF). censusindia. The Registrar General & Census Commissioner. اخذ کردہ بتاریخ 25 June 2014. 
  6. "Urban Agglomerations/Cities having population 1 lakh and above" (PDF). censusindia. The Registrar General & Census Commissioner,. اخذ کردہ بتاریخ 25 June 2014. 
  7. "Report of the Commissioner for linguistic minorities: 50th report (July 2012 to June 2013)" (PDF). Commissioner for Linguistic Minorities, Ministry of Minority Affairs, Government of India. صفحة 49. اخذ کردہ بتاریخ 8 November 2015.