مالک رام

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
مالک رام
مالک رام

معلومات شخصیت
پیدائش 22 دسمبر 1906(1906-12-22)ء
پھالیہ  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام پیدائش (P19) ویکی ڈیٹا پر
وفات 16 اپریل 1993(1993-40-16) (عمر  86 سال)
نئی دہلی  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام وفات (P20) ویکی ڈیٹا پر
شہریت Flag of India.svg بھارت[1]
British Raj Red Ensign.svg برطانوی ہند  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں شہریت (P27) ویکی ڈیٹا پر
عملی زندگی
پیشہ حکومت ہند کی خدمت (1939ء – 1965ء)
پیشہ ورانہ زبان اردو  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں زبانیں (P1412) ویکی ڈیٹا پر
اعزازات

مالک رام مالک رام باویجا (پیدائش: 22 دسمبر 1906ء– وفات: 16 اپریل 1993ء) کا قلمی نام تھا جو ایک مشہور اردو، فارسی اور عربی عالم تھے۔ انہیں اپنی شاہکار تخلیق "تذکرہ معاصرین" پر 1983ء میں ساہتیہ اکیڈمی ایوارڈ ملا۔ اردو اور فارسی کے مشہور شاعر مرزا غالب پر حرفِ آخر ہونے کے علاوہ مالک رام اپنے دور کے مشہور مصنف اور نقاد بھی تھے۔ انہوں نے اپنی زندگی میں 80 تخلیقات تدوین یا شائع کرائیں۔ گوکہ ان کی تحریریں اردو، فارسی، عربی اور انگریزی میں ہوتی تھیں مگر زیادہ تر تحریریں اردو میں ہیں اور ادب، مذہب اور تاریخ کے موضوعات غالب ہیں۔[2] مزید براں انھوں نے 200 سے زیادہ مقالے اور مضامین اردو میں پاکستان اور بھارت کے ادبی جریدوں اور رسالوں میں چھپوائے۔[3]

سوانح[ترمیم]

مالک رام[4] پھالیہ میں 22 دسمبر 1906ء کو پیدا ہوئے۔ وزیر آباد میں ابتدائی تعلیم مکمل کرنے کے بعد انہوں نے گورنمنٹ کالج لاہور میں داخلہ لیا۔ 1931ء تا 1937ء تک انہوں نے بطور صحافی کام کیا۔ پہلے انہوں نے لاہور کے ماہانہ ادبی جریدے نیرنگِ خیال کے لیے جائنٹ ایڈیٹر کا کام اور پھر اس کے مدیر بنے۔[5] اسی دوران وہ لاہور کے ہفتہ وار آریہ گزیٹ کے غیر علانیہ مدیر بھی رہے۔ بعد ازاں جنوری 1936ء تا جون 1936ء تک انہوں نے لاہور کے روزنامہ بھارت ماتا کے نائب مدیر کا کام کیا۔[6] 1939 تا 1965 تک انھوں نے انڈین فارن سروس میں شمولیت اختیار کیے رکھی جس سے انھیں ایشیا، مشرقِ وسطیٰ اور یورپ کی سیر کا موقع ملا اور وہاں کی لائبریریوں، عجائب گھروں اور آرکائیوز میں محفوظ مشرقی متن اور قلمی نسخوں کا بذاتِ خود مطالعہ کیا۔

1965ء میں گورنمنٹ ملازمت سے سبکدوش ہو کر انھوں نے انڈین کی نیشنل اکیڈمی آف لیٹرز، ساہتیہ اکیڈمی نئی دہلی میں شمولیت اختیار کر لی۔ اس کی ذمہ داریوں میں اردو سیکشن تھا اور مولانا ابوالکلام آزاد کے مکمل کام کی تدوین تھی۔[7] جنوری 1967 میں انہوں نے اپنا سہ ماہی ادبی تنقیدی رسالہ تحریر شروع کیا اور اس کے مدیر کے طور پر دہلی کی علمی مجلس سے بھی وابستہ رہے۔ علمی مجلس اردو کے نوجوان محققین اور لکھاریوں پر مشتمل ہے۔ مرتے دم تک مالک رام بکثرت لکھتے رہے۔ اپنی وفات سے کچھ قبل انہوں نے اپنی پوری لائبریری جامعہ ہمدرد یونیورسٹی لائبریری، دہلی کو عطیہ کر دی۔ لائبریری میں ان کی کتب کو مالک رام مجموعے کے نام سے رکھا گیا ہے۔[8] ان کی وفات 86 سال کی عمر میں 16 اپریل 1993 کو نئی دہلی میں ہوئی۔

ادبی زندگی اور کام[ترمیم]

مرزا غالب[ترمیم]

مالک رام نے اپنی زندگی کا بڑا حصہ مرزا اسد اللہ خان غالب کے مطالعے میں گزارا۔ انہیں غالب کے نام سے جانا جاتا ہے۔ انہیں اردو ادب سے بالعموم اور مرزا غالب سے بالخصوص لگاؤ تھا۔ انہوں نے اردو اور فارسی میں غالب کے زیادہ تر کلام کی تدوین کی اور حاشیے بھی لکھے۔ ان میں سبدِ چین، دیوانِ غالب، گلِ رعنا اور خطوطِ غالب شامل ہیں۔

1938ءمیں انہوں نے غالب پر اپنے کام کو چھپوایا تو اس وقت ان کی عمر 31 سال تھی۔ اس کتاب نے اردو ناول نگار، افسانہ نگار اور ناقد کوثر چاندپوری (1904ء– 1990ء) کو جہانِ غالب کو غالب کے کردار کے اس پہلو پر لکھا۔[9] ذکرِ غالب کتاب میں مالک رام نے غالب پر اپنی مہارت کا لوہا منوا لیا۔ یہ کتاب مالک رام کی زندگی میں پانچ مرتبہ چھپی۔ جامع تدوین کے بعد پانچویں ایڈیشن کو 1976ء میں شائع کیا گیا اور غالب پر تحقیقی اعتبار سے اسے سند مانا گیا ہے۔[10] تعلیمی دنیا میں مالک رام کو محض ایک تخلیق نے لازوال بنا دیا تھا۔[11] ابھی چھٹے ایڈیشن پر کام جاری تھا کہ زندگی نے مہلت نہ دی۔

مالک رام کی تصنیف Mirza Ghalib پہلی بار 1968ء میں نیشنل بک ٹرسٹ، انڈیا نے چھاپی اور اس کے بعد سے باقاعدگی سے چھاپا جا رہا ہے۔ اس کا اردو ترجمہ محمد اسماعیل پانی پتی نے پاکستان میں کیا ہے۔

تلامذہ غالب پہلی بار 1958ء میں شائع ہوئی اور اس میں غالب کے تمام 146 طلبہ کے بارے تفصیل سے بات کی گئی ہے اور ان کے نمونہ ہائے کلام بھی پیش کیے گئے ہیں۔ 3 مئی 2010ء کو پاکستان کے مؤقر انگریزی روزنامے ڈان میں نقاد اور لکھاری رؤف پاریکھ نے اپنے مضمونTazkirah, Malik Ram and his passion for Ghalib میں لکھا ہے کہ اردو ادب میں پہلی بار کسی شخصیت پر تحقیق کی ہے اور اس کتاب نے مالک رام کے لیے شہرت کی نئی بلندیاں عطا کی ہیں اور انہیں ‘غالب شناس‘ کا خطاب ملا ہے۔ پاریک نے لکھا:

ایک عظیم شاعر کے تلامذہ کی حیات کے بارے کام کرنا اردو میں کوئی نئی بات نہیں مگر جتنی محنت اور عرق ریزی سے مالک رام نے غالب کے طلباپر تحقیق کی ہے، وہ پہلے کبھی نہیں دیکھی گئی اور اسی کاوش نے مالک رام کو غالب پر حرفِ آخر کا درجہ دلا دیا۔[12]

‘تلامذہ غالب‘ کے دوسرے ایڈیشن میں پہلے کی نسبت دو گنے صفحات ہیں اور یہ کتاب 1984ء میں شائع ہوئی جس سے غالب کے طلبہ کی تعداد 181 تک بڑھ گئی ہے اور اس میں 40 جزوقتی طلبہ کا بھی تذکرہ ہے۔ مالک رام کو 1984ء میں دہلی اردو اکیڈمی نے اردو انعام سے نوازا۔[13]

غالب پر اپنے دیگر اہم کاموں میں مالک رام نے غالب کے صوفیانہ یا متنازع کلام کی اپنی تشریح پیش کی ہے اور ان میں فسانہ غالب (1977ء) اور گفتارِ غالب (1985ء) اہم ترین ہیں۔[14] and "Guftar-i Ghalib" (1985).[15]

1969ء میں غالب کے سو سالہ جشن کی تیاری کر رہے تھے۔ انہوں نے انگریزی میں دو خاص مضامین لکھے(Ghalib: Man and poet اور The (Works of Ghalib) جو اس موقع کی مناسبت سے تھے۔ یہ مضامین پریس انفارمیشن بیورو آف دی گورنمنٹ آف انڈیا نے شائع کیے اور اسے بین الاقوامی میڈیا کو بھی بھجوایا۔ مالک رام کی کتاب ‘عیارِ غالب‘ میں غالب پر 13 ُپرمغز مضامین ہیں جن میں سے دو مالک رام نے لکھے تھے، شائع ہوئی۔ اسی سال دیوانِ غالب کا نیا نسخہ بھی شائع ہوا جو غالب کی صد سالہ یادگار کی مناسبت سے تھا۔

مولانا آزاد[ترمیم]

1965ء میں حکومت نوکری سے فارغ خطی کے بعد انہوں نے نئی دہلی میں مستقل رہائش اختیار کر لی اور ساہتیہ اکیڈمی میں شمولیت اختیا رکر لی جہاں تین سال کے دوران انہوں نے مولانا ابولکلام آزاد کے خطوط، تقاریر اور ادبی کاموں کے علاوہ مولانا کے چار جلدوں پر مشتمل قرآن کے ترجمے کی تدوین بھی کی۔ یہ کام ساہتیہ اکیڈمی نے چھاپے اور مالک رام کی وفات کے بعد بھی بہت بار شائع ہوئے ہیں۔[16]

مالک رام نے مرزا غالب پر گہرائی میں تحقیقی مطالعہ شروع کیا۔ اپنے آخری برسوں میں انہوں نے مولانا آزاد کے اردو اور عربی کام پر بھی اسی عرق ریزی سے کام کیا۔ اب مالک رام کو مولانا آزاد پر بھی سند مانا جاتا ہے اور ان کی کتاب ‘کچھ مولانا آزاد کے بارے میں‘ مولانا کی حیات اور اور ان کے تخلیقی کام پر تھی اور 1989 میں شائع ہوئی۔ اس میدان میں تحقیق کرنے والے طلبہ کے لیے اس کتاب کا پڑھنا لازمی قرار دیا جاتا ہے۔[17]

تحریر[ترمیم]

جنوری 1967ء میں مالک رام نے سہ ماہی اردو ادبی ریویو قیام کیا جس کا نام ‘تحریر‘ رکھا گیا۔ 1978ء تک اس کے بند ہونے تک مالک رام اس کے مدیر رہے۔ اس تحقیقی مجلے میں علمی مضامین پیش کیے جاتے تھے جو علمی مسائل اور شخصیات کے بارے ہوتے تھے اور ہر میدان کے ماہرین انہیں لکھتے تھے۔ مالک رام اور ان کے رفقائے نے جن شخصیات پر تحقیقی کام کیے ہوتے تھے، ان پر خصوصی شمارے شائع کیے جاتے تھے۔ بہت سارے شمارے بطور کتاب بھی شائع ہوئے۔

مالک رام نے نوجوان محققین اور مصنفین کی ایک تنظیم ‘علمی مجلس‘ کی حمایت بھی جاری رکھی اور انہیں اصلی تحقیقی مواد پیش کرنے کی اہمیت سمجھائی اور ‘تحریر‘ کی تمام پبلیکشنز پر ‘علمی مجلس‘ کی مہر لگی ہوتی تھی۔17 اپریل، 1972ء میں نئی دہلی کے مشہور انگریزی روزنامے ‘دی سٹیٹس مین‘[18] میں مالک رام کی شخصیت پر لکھا:

اردو تحقیق کی ترقی کے لیے مالک رام کی شراکتیں اہم ہیں۔ انہیں محققین کی صفِ اوّل میں شمار کیا جاتا ہے اور ان کی اہم ترین خدمات میں سے ایک نوجوان محققین کی مجلس کا قیام ہے۔ ان کا سہ ماہی ‘تحریر‘ ہر اس جگہ پڑھا جاتا ہے جہاں اردو پڑھی جاتی ہے۔

سید سلیمان ندوی نے اپنے دور میں ‘معارف‘ میں باقاعدگی سے تذکرہ جات لکھے تھے اور انہی کے نقشِ قدم پر چلتے ہوئے مالک رام نے اس شاخ کو مقبولِ عام بنا دیا۔ اس سلسلے میں انہوں نے ‘تحریر‘ میں ‘وفیات‘ کے عنوان سے ایک حصہ مختص کیا ہوا تھا۔

انہی تذکرہ جات کو وسعت دے کر انہوں نے اپنے چار جلدوں پر مبنی ‘تذکرہ معاصرین‘ کی شکل میں پیش کیا جس میں 219 اردو شعرا اور ادبی شخصیات کا تذکرہ تھا جو 1967ء سے 1976ء کے دوران وفات پائی۔ اس اعلٰی ادبی کام پر انہیں 1983ء میں ساہتیہ اکیڈمی اردو ایوارڈ دیا گیا۔

2010ء میں تذکرہ معاصرین کے تمام چاروں حصہ ملا کر ایک ساتھ پیش کیے گئے جس میں کل صفحات کی تعداد 1060 تھی اور اسے راولپنڈی سے شائع کیا گیا۔[19] تحریر کا آخری شمارہ دسمبر 1978ء میں شائع ہوا۔ بارہ سال کے دوران کل 46 شمارے شائع ہوئے تھے۔ مالک رام نے اپنی صحت کے پیشِ نظر اس مجلے کی اشاعت کو تمام کرنے کا فیصلہ کر لیا تھا۔ انہوں نے اس رسالے کو اپنے وسائل سے شائع کرایا اور کوئی اور اس کی ذمہ داری لینے کو تیار نہیں تھا۔

معاصرین پر کام[ترمیم]

مالک رام نے زندہ اردو ادیبوں کو بھی نظرانداز نہیں کیا۔ انہوں نے مستند اردو ادیبوں اور شعرا پر چھ تجزیاتی بائیوگرافیکل کام پیش کیے۔ یہ کام پہلے تحریر میں سلسلہ وار پیش ہوتا رہا تاکہ اسے ادبی سند مل سکے۔ اس بارے ‘علمی مجلس‘ کا جمع کیا گیا تخلیقی مواد پہلی بار استعمال کیا گیا۔[2][11][20]

  • 1970: جگر بریلوی – شخصیات اور فن (1890–1976) معاون مدیر: سیفی پریمی
  • 1973: جوش ملسیانی – شخصیات اور فن (1884–1976)
  • 1974: سید مسعود حسن رضوی ‘ادیب‘ – ذات و صفات (1893–1975)
  • 1974: رشید احمد صدیقی – کردار، افکار، گفتار (1894–1977)
  • 1974: ل۔ احمد اکبر آبادی (1885–1980)
  • 1977: ضیا فتح آبادی – شخص اور شاعر (1913–1986)

مالک رام نے چھ توصیفی جلدیں بھی پیش کیں جو معاصرین ادبی شخصیات اور تعلیمی شخصیات کے بارے تھیں۔ ہر جلد میں انہوں نے اپنا تحقیقی مواد پیش کیا۔

  • نظرِ ذاکر: ذاکر حسین، 1897–1969، عالم اور انڈیا کے تیسرے صدر جو 13 مئی 1967 تا 3 مئی 1969 اپنی وفات تک رہے
  • نظرِ عابد: سید عابد حسین، 1896–1978، معلم، پلے رائٹ، مترجم۔ ساہتیہ اکیڈمی ایوارڈ برائے اردو، 1956
  • نظرِ عرشی: امتیاز علی خان ‘عرشی‘، 1904–1981، بیسویں صدی کے صفِ اوّل کے اردو محقق۔ ساہیتہ اکیڈمی ایوارڈ برائے اردو، 1961۔ معاون مدیر: مختار الدین احمد
  • نظرِ زیدی: بشیر حسین زیدی، 1898–1992، علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے وائس چانسلر اور اردو عالم
  • 195نظرِ حمید: حکیم عبد الحمید، 1908–1999، انسان دوست، ماہرِ تعلیم، طبیب، لکھاری، جامعہ ہمدرد اور ہمدرد )وقف(، انڈیا کے بانی
  • نظرِ مختار: مختار الدین ‘آرزو‘، 1924–2010، علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں عربی کے پروفیسر اور اردو اور عربی کے عالم

یہ توصیفی اور دیگر تخلیقی کام اور علمی مجلس کے بائیوگرافیکل شمارے اور ان کے شائع ہونے کی تاریخیں اوپن لائبریری کی ویب سائٹ پر موجود ہیں۔

حموربی[ترمیم]

1950/51 میں مالک رام کی تقرری عراق میں ہوئی تھی جہاں انہیں بابل کی تہذیب اور ثقافت اور بالخصوص حموربی کے قوانین کا مطالعہ کرنے کا موقع ملا۔ حموربی بابل کا چھٹا بادشاہ تھا۔ مالک رام کو حموربی کے قوانین نے بہت متاثر کیا اور عراق سے واپسی پر اس کا خصوصی مطالعہ کیا۔

1952 اور 1955 کے درمیان مالک رام نے حموربی پر اردو زبان میں چھ مضامین لکھے جن میں حموربی کے قوانین، بابل کی تہذیب، روایات، رسومات اور زبان پر روشنی ڈالی گئی۔ ان میں سے پانچ کراچی کے تاریخ سے متعلق مجلے تاریخ و سیاسیات میں شائع ہوئے۔ چھٹا کراچی کے ایک دوسرے اردو مجلے میں شائع ہوا۔ اس موضوع پر اردو میں پہلی بار کسی نے اتنی تفصیل سے توجہ دی تھی۔

ان چھ مضامین پر نظرِ ثانی کے بعد انہیں ایک کتاب کی شکل میں سنہ 2000ء میں شائع کیا گیا۔ اس کا نیا ایڈیشن لاہور میں ‘حموربی اور بابلی تہذیب و تمدن‘ کے نام سے چھاپا گیا۔[21]

مالک رام نے حموربی کو تاریخ کی عظیم ترین شخصیات میں سے ایک گردانا ہے جسے جدید دنیا، تعلیمی اداروں اور میڈیا میں زیادہ توجہ، مقام اور وقت دیا جانا چاہیے۔

اسلامیات[ترمیم]

مالک رام کو اسلامی ثقافت اور ادب پر بھی خاصا عبور حاصل تھا۔ انہوں نے اپنی زندگی کی دو دہائیاں مشرقِ وسطیٰ میں گزاریں اور جہاں انہوں نے بہت زیادہ سفر کیا اور عربی زبان پر عبور حاصل کیا۔ انہوں نے اسلامی ادب، روایات اور رسومات پر بہت سارے مضامین لکھے۔ اسلامی امور سے متعلق ان کی دو کتب ہر خاص و عام کے لیے مفید ہیں۔

‘عورت اور اسلامی تعلیم‘ میں انہوں نے اسلام میں عورت کے حقوق اور مقام پر گہرائی سے بحث کی ہے جس میں عورت کو بطور بیٹی، بیوی، ماں، مطلقہ اور وارث کی حیثیت سے دکھایا گیا ہے۔ یہ کتاب لکھنؤ میں پہلی بار 1951ء میں اردو زبان میں شائع ہوئی۔ نظرِ ثانی کے بعد دوسرا ایڈیشن 1977 میں دہلی سے چھپا اور اسے بعد ازاں لاہور سے بھی چھاپا گیا۔ اسے انگریزی زبان میں Woman in Islam کے نام سے ترجمہ کر کے حیدرآباد، دہلی اور نیو یارک سے شائع کیا گیا۔ عربی زبان میں اسے ‘المراۃ فی السلام‘ کے نام سے قاہرہ میں 1958 میں شائع کیا گیا اور اس کا دوسرا ایڈیشن نئی دہلی میں 1990 میں شائع ہوا۔ اسلامی تنظیمیں اس کتاب کو اس موضوع پر سند مانتی ہیں جو سہل انداز سے پیش کی گئی ہے۔[22]

1984 میں انہوں نے اسلامیات کے حوالے سے دوسری اہم تخلیق پیش کی جس کا نام ‘اسلامیات‘ تھا۔ اس میں اسلام اور اسلامی روایات کے مختلف پہلوؤں پر روشنی ڈالی گئی تھی۔

علمی رفاقت[ترمیم]

مصر میں اسکندریہ میں مالک رام نے 1939 تا 1955 کل پندرہ سال گزارے۔ یہاں وہ YMCA کی مینیجنگ کمیٹی کے ارکان رہے اور شہر دوسری جنگِ عظیم کے دوران بالخصوص ادبی سرگرمیوں کو زندہ رکھا۔[23] مالک رام نے اسکندریہ کے وائی ایم سی اے میں مذہبی امور سے متعلق سیمناروں میں ‘اسلام میں عورت کا مقام‘ پر کئی لیکچر دیے۔

انہی لیکچروں کو اپنی کتاب ‘عورت اور اسلامی تعلیم‘ میں جمع کیا ہے۔[24]

بین الاقوامی پین فاؤنڈیشن کے انڈیا چیپٹر میں مالک رام نے باقاعدگی سے حصہ لیا۔ انڈیا میں اس انجمن کا قیام صوفیا واڈیا کی کوشش سے ہوا۔ یاد رہے کہ صوفیا واڈیا بین الاقوامی پین فاؤنڈیشن کی بانی رکن بھی رہی ہیں۔[25] یہ انجمن شعرا، لکھاریوں، مدیران، افسانہ نگاروں اور ناول نگاروں کے لیے بنائی گئی تھی۔ کئی سال تک مالک رام انڈین پین کے ترجمان بھی رہے۔ 1972 میں مجلے نے لکھا:

مشہور اردو ادیب مالک رام نے پین کے دہلی گروپ اردو ادب کے ساتھ اپنی عمر بھر کے ساتھ کے بارے بات کی اور بتایا کہ کیسے انہوں نے عربی اور فارسی سیکھی تھی۔ ان کی عمر بارہ برس تھی جب انہیں ایک استاد نے اسکول کی لائبریری کی ذمہ داری سونپی تھی۔ اس لائبریری میں تین سے چار سو کتب موجد تھیں جن میں زیادہ تر کہانیاں اور داستانیں تھیں جنہیں مالک رام نے چند ماہ میں پڑھ ڈالا۔ بچپن سے انہیں مطالعے کا شوق تھا جس نے انہیں اوائل عمری سے ادب سے وابستہ کر دیا تھا۔[26]

انہیں برطانیہ اور آئرلینڈ کی رائل ایشیاٹک سوسائٹی کی رکنیت بھی ملی ہوئی تھی۔

1973 سے 1982 تک وہ ساہتیہ اکیڈمی جنرل کونسل اور ایگزیکٹو کمیٹی کے ارکان رہے۔ 1977 میں انہیں جامعہ اردو، علی گڑھ کا پرو چانسلر مقرر کیا گیا اور وہ اس کی جنرل کونسل کے رکن پہلے سے ہی تھے۔[27] 1986 میں انہوں نے کورٹ آف علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے رکن کے طور پر فرائض سر انجام دیے تھے۔

مالک رام ہمیشہ سے نئی دہلی میں غالب سے منسوب دو مشہور اداروں کے ساتھ شامل رہے جن کے نام غالب انسٹی ٹیوٹ[28] اور غالب اکیڈمی ہیں۔[29] غالب اکیڈمی کو 1969 میں حکیم عبد الحمید نے قائم کیا[30] جو جامعہ ہمدرد کے بانی ہیں۔ مالک رام نے اس ادارے کے امور میں اہم کردار ادا کیا اور زیادہ تر پسِ منظر میں رہ کر اپنے فرائض سر انجام دیتے رہے جو اس ادارے کے قیام سے مالک رام کی اپنی وفات تک کے عرصے پر محیط تھے۔ اکیڈمی نے ان کے بارے ‘غالب شناس مالک رام‘ کے نام سے ان کی وفات کے کئی سال بعد ایک کتاب شائع کی۔[31]

1983 سے 1987 تک مالک رام طویل عرصے سے قائم اور موقر ‘انجمن ترقی اردو (ہند) کے صدر بھی رہے۔ یہ آزاد ادارہ جس کی ملک بھر میں 600 سے زائد شاخیں ہیں، خود مختار ہے اور اردو کی ترقی کے لیے کام کرتا ہے۔[32]

تجزیہ[ترمیم]

مختار الدین احمد ‘آرزو‘ (1924–2010)[33] نے مالک رام پر 1955ء میں نقوش، لاہور کے شخصیات نمبر میں تفصیلی مضمون لکھا۔[34] بہت سارے لوگوں کے لیے مالک رام سے یہ پہلا تعارف تھا۔ اس کے بعد سے مالک رام پر اور ان کے ادبی کردار پر بہت ساری اہم تخلیقات پیش کی گئی ہیں۔

کتاب مالک رام، ایک مطالعہ کو 1986 میں شائع کیا گیا۔[35] اس کی تدوین کے فرائض ممتاز اردو ادیب ارو شاعر علی جواد زیدی نے انجام دیے اور اس کے لیے پیش لفظ بھی لکھا۔ اس جلد میں مشہور اردو ادبی شخصیات کے بارے معلومات دی گئی تھیں جنہوں نے مالک رام کی ادبی کاوشوں پر کسی نہ کسی طور سے روشنی ڈالی تھی۔

اس سے قبل 1972 میں مالک رام کی 65ویں سالگرہ کے موقع پر ایک توصیفی کمیٹی بنائی گئی۔ اس کمیٹی میں دنیا بھر سے 79 اکیڈیمک اور مشرقی امور سے ماہرین شامل تھے۔ انہوں نے مالک رام کے لیے توصیفی جلد پیش کی۔[36] علی جواد زیدی نے اس کی تدوین کی اور مالک رام کو اردو تحقیق کے چار ستونون میں سے ایک قرار دیا۔ مالک رام اور ان کے کام سے متعلق لکھتے ہوئے جی ڈی چندن نے اپنے مضمون ‘A Seeker of Knowledge قرار دیا۔[37] اسے پریس انفارمیشن بیورو، گورنمنٹ آف انڈیا نے چھپوایا۔ جی ڈی چندن بذاتِ خود مشہور اردو ادیب ہیں۔ انہوں نے لکھا:

بہت کم اردو محققین نے تنِ تنہا اتنی زیادہ تخلیقات پیش کی ہیں جتنی کہ مالک رام نے۔ محنت اور لگن کے علاوہ تحقیق اور خداداد صلاحیت سے مالک رام نے آپ بیتی، تاریخی اور ادبی موضوعات پر کام کیا ہے۔ انہوں نے اردو کے بہت سارے گوہرِ نایاب ہمارے سامنے پیش کیے ہیں۔ ان کے موضوعات میں علم کی پیاس، مسلسل حصولِ علم اور تلاش اہم عناصر ہیں۔ بعض کے خیال میں شاہکار کے لیے تنقید اہم عنصر ہوتی ہے۔ مالک رام کے کام نے دکھایا ہے کہ یہ کام نہ صرف شاہکار تخلیقات بلکہ ان کے تخلیق کنندہ کے لیے بھی اتنا ہی اہم ہے۔

مالک رام پر دو توصیفی تصنیفات گوپی چند نارنگ نے مجتمع کی ہیں۔ مالک رام کی 65ویں سالگرہ کے موقع پر چھپنے والی تین کتب میں مالک رام کی ادبی، علمی اور لسانی خدمات پر روشنی ڈالی گئی اور یہ کتب راشٹرپتی بھون، نئی دہلی میں 1972 میں مالک رام کو انڈین صدر وی وی گیری نے پیش کیں۔

مشہور اردو شاعر اور اقبال پر شمار ہونے والے جگن ناتھ آزاد نے ان کے بارے تذکرہ معاصرین کے بارے اپنی رائے دی:[38]

مالک رام کو بین الاقوامی طور پر غالب پر سند مانا گیا ہے۔ وہ الفاظ کے کھلاڑی ہیں۔ اپنی حیات میں جاوداں، انہوں نے بہت سارے مختلف موضوعات پر کام کیا ہے۔ بیک وقت مضمون نگار، بائیوگرافر، میمور نگار، ادبی نقاد، محقق اور اسلامی ادب اور ثقافت کے ماہر، تذکرہ معاصرین انسائیکلوپیڈیا نوعیت کا خزانہ ہے۔

مالک رام کی حیات اور ان کے کام پر دو کتب زیادہ مشہور ہیں: مالک نامہ (1987ء)،[3] جس کی تدوین بشیر حسین زیدی نے کی اور مالک نامہ، جو غالب انسٹی ٹیوٹ نے نئی دہلی سے پیش کی۔ ان کتب میں مالک رام کو خراجِ تحسین پیش کیا گیا ہے۔ مالک نامہ 1991 میں مالک رام کی 85ویں سالگرہ کے موقع پر پیش کی گئی تھی۔

مالک رام، قاضی عبد الودود (1896–1984)[33] and Imtiyaz Ali Khan 'Arshi' (1904–81)[33] اور امتیاز علی خان ‘عرشی‘ (1904–1981) بیسویں صدی میں پچاس سال سے زیادہ تک کام کرتے رہے اور تینوں نے ہی شہرت سے کنارہ اختیار کیا۔ ان کے لیے ان کا کام اور تحقیقی سرگرمیاں ہی کافی معاوضہ تھیں۔ تینوں نے انفرادی طور پر اور مل کر اردو میں تحقیق کے نئے معیار قائم کیے۔ اس ضمن میں ان کے کام سے متاثر ہو کر اندر کمار گجرال کمیٹی نے انڈین پارلیمان میں 21 فروری 1979 کو اردو زبان کے لیے ان تینوں کی خدمات پر تفصیل سے روشنی ڈالی گئی۔[39]

مالک رام کی پہلی برسی پر انہیں خراجِ تحسین پیش کرنے کے لیے کراچی کے ماہنامہ قومی زبان اور نئی دہلی کے ماہنامہ آج کل نے اپریل 1994 کے شمارے مالک رام اور اردو اور اسلامی ادب پر ان کے کام پر تفصیلی روشنی ڈالی اور ایسا مواد پیش کیا جو مالک رام کے بارے پہلے گوشہ راز میں تھا۔

1996 میں نئی دہلی سے غالب اکیڈمی نے ‘غالب شناس مالک رام‘ از اردو شاعر اور 1982 میں ساہیتہ اکیڈمی سے اردو انعام یافتہ گیان چند جین، شائع کیا۔[40]

2010 میں محمد ارشد نے ‘مالک رام: حیات اور کارنامے‘ علی گڑھ، انڈیا سے شائع کیا۔ اس میں اس مشہور محقق مالک رام پر تحقیق کی گئی تھی۔[41]

ادبی ایوارڈ[ترمیم]

مالک رام کو ان کی زندگی کا پہلا ادبی انعام ایک کلائی گھڑی کی صورت میں ملااس مضمون پر ملا، جو انہوں نے اپنے طالب علمی کے دور میں 1925ء میں لکھا۔ اس مضمون کا نام ‘مذہب اور دلیل‘ تھا۔ علی جواد زیدی نے ارمغانِ مالک میں لکھا کہ یہ ان کے لیے بہت اہم تھا۔ بعض اہم اردو ادبی ایوارڈ (ان کی تفصیل مالک نامہ – مالک رام کی ادبی خدمات، تدوین بشیر حسین زیدی)

  • اتر پردیش حکومت: گلِ رعنا (1971)
  • اترپردیش اردو اکیڈمی، لکھنؤ: تذکرہ معاصرین – جلد اوّل (1973)
  • اترپردیش اردو اکیڈمی، لکھنؤ: واہ صورتیں الہٰی (1974)
  • ساہیتہ کالا پرساد، دہلی: اردو ایوارڈ (1975)
  • بہار اردو اکیڈمی، پٹنہ: تزکرہ معاصرین – جلد دوم (1975)
  • ادارہ غالب، نئی دہلی، غالب ایوارڈ (1976)
  • میر اکیڈمی، لکھنؤ: امتیازِ میر ایوارڈ (1977)
  • میر اکیڈمی، لکھنؤ: افتخارِ میر ایوارڈ (1981)
  • اترپردیش اردو اکیڈمی، لکھنؤ: تذکرہ معاصرین – جلد چہارم (1982)
  • ساہیتہ اکیڈمی )خطوط کی قومی اکیڈم(، نئی دہلی: اردو ایوارڈ برائے تذکرہ معاصرین – جلد چہارم (1983)
  • اردو اکیڈمی، دہلی: تلامذہ غالب (1984)
  • بہار اردو اکیڈمی، پٹنہ: اردو ادب کے لیے خدمات (1984*85)
  • ڈاکٹر ذاکر حسین اردو انعام: اردو ادب اور تحقیق (1987)

تاہم یہ فہرست ادھوری ہے اور 1987 تا 1993 والے انعامات اس میں ہنوز شامل نہیں ہو پائے۔

حوالہ جات[ترمیم]

  1. http://catalogue.bnf.fr/ark:/12148/cb13083822g — اخذ شدہ بتاریخ: 27 مارچ 2017
  2. ^ ا ب "Malik Ram"۔ Open Library۔ مورخہ 26 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 9 اگست 2012۔
  3. ^ ا ب Bashir Hussain Zaidi۔ "Malik Namah – Malik Ram Ki Adabi Khidmaat (p. 249)"۔ Open Library۔ مورخہ 26 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 9 اگست 2012۔
  4. Urdu Authors: Date list as on 31 May 2006۔ National Council for Promotion of Urdu, حکومت ہند, وزارت ترقی انسانی وسائل، حکومت ہند۔
  5. "Sajjan Archives – Forum"۔ Sajjanlahore.org۔ مورخہ 26 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 12 فروری 2012۔
  6. "Leading News Resource of Pakistan"۔ Daily Times۔ 4 فروری 2007۔ مورخہ 26 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 9 اگست 2012۔
  7. "Booklist-Urdu"۔ Tesla.websitewelcome.com۔ مورخہ 26 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 12 فروری 2012۔
  8. http://www.jamiahamdard.ac.in/LibrayInformationSystem/one6.html
  9. "National Council for Promotion of Urdu Language"۔ Urducouncil.nic.in۔ مورخہ 26 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 9 اگست 2012۔
  10. G. C. Naranga1 (23 مارچ 2011)۔ "Cambridge Journals Online – Abstract"۔ Journals.cambridge.org۔ مورخہ 26 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 9 اگست 2012۔
  11. ^ ا ب Various Authors۔ "Malik Ram"۔ Open Library۔ مورخہ 26 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 9 اگست 2012۔
  12. (40:Tazkirahs, Malik Ram and his passion for Ghalib)http://webcache.googleusercontent.com/search?q=cache:MEyMOiSa4JYJ:http://www.qal.org.pk/E-lab-files/INDEX%20OF%20NEWSPAPERS%20CLIPPINGS/language%20&%20languages.xls
  13. "Urdu Academy, Delhi, India"۔ Urduacademydelhi.com۔ مورخہ 26 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 9 اگست 2012۔
  14. Malik Ram۔ "Formats and Editions of Fasānah-yi G̲h̲ālib"۔ Worldcat.org۔ مورخہ 26 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 9 اگست 2012۔
  15. Malik Ram۔ "Formats and Editions of Guftār-i G̲h̲ālib"۔ Worldcat.org۔ مورخہ 26 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 9 اگست 2012۔
  16. ":: SAHITYA : Publications ::"۔ Sahitya-akademi.gov.in۔ مورخہ 6 جنوری 2019 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 9 اگست 2012۔
  17. http://su.digitaluniversity.ac/WebFiles/Urdu%20Ph.D.%20Course%20work%20%20Syllabus%20P-II,%20III%20&%20IV.pdf
  18. "The Statesman Offices"۔ Thestatesman.net۔ اخذ شدہ بتاریخ 9 اگست 2012۔
  19. Malik Ram۔ "Tazkara e Mua'sreen"۔ Open Library۔ مورخہ 26 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 9 اگست 2012۔
  20. "National Council for Promotion of Urdu Language"۔ Urducouncil.nic.in۔ 31 مئی 2006۔ مورخہ 26 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 9 اگست 2012۔
  21. Mālik Rām.۔ "Results for 'malik ram hammurabi'"۔ Worldcat.org۔ اخذ شدہ بتاریخ 9 اگست 2012۔
  22. "Ahmadiyya Muslim Community"۔ Alislam.org۔ مورخہ 26 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 9 اگست 2012۔
  23. "Aurora University – Home Page"۔ Aurora.edu۔ مورخہ 26 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 9 اگست 2012۔
  24. (p.12)
  25. "B.P. Wadia's life, 1923–1958 – Theosophical History"۔ Katinkahesselink.net۔ مورخہ 26 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 9 اگست 2012۔
  26. malik ram PEN classical literature - Google Search
  27. "Welcome to Jamia Urdu, Aligarh"۔ Jamiaurdualigarh.com۔ مورخہ 26 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 9 اگست 2012۔
  28. "Ghalib Institute"۔ Ghalib Institute۔ اخذ شدہ بتاریخ 9 اگست 2012۔
  29. ghalib academy: http://www.indiaprofile.com/religion-culture/ghalibacademy.htm
  30. "Hakim Abdul Hameed"۔ Hamdard.com.bd۔ 14 اگست 2011۔ مورخہ 6 جنوری 2019 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 9 اگست 2012۔
  31. "Ghalib Academy"۔ Ghalib Academy۔ مورخہ 26 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 9 اگست 2012۔
  32. "Anjuman Taraqqi Urdu (Hind)"۔ Anjumantaraqqiurduhind.org۔ اخذ شدہ بتاریخ 9 اگست 2012۔
  33. ^ ا ب پ "National Council for Promotion of Urdu Language"۔ Urducouncil.nic.in۔ 31 مئی 2006۔ مورخہ 26 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 12 فروری 2012۔
  34. "<.:|GC University Library, Lahore|:.>"۔ Gcu.edu.pk۔ مورخہ 26 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 9 اگست 2012۔
  35. Ali Jawad Zaidi (7 مارچ 2012)۔ "Malik Ram – Ek Mutaalah"۔ Open Library۔ مورخہ 26 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 9 اگست 2012۔
  36. Various Authors۔ "Malik Ram Felicitation Volume"۔ Open Library۔ مورخہ 26 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 9 اگست 2012۔
  37. Reasons for decline of Urdu journalism , The Milli Gazette, Vol.6 No.13, MG131 (1-15 July 05)
  38. "Tazkerah-I-Muasireen"۔ Allamaiqbal.com۔ مورخہ 26 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 12 فروری 2012۔
  39. http://www.languageinindia.com/jan2009/gujralreport1.pdf
  40. Shāhid Aʻẓmī;۔ "Formats and Editions of Urdū taḥqīq aur Mālik Rām"۔ Worldcat.org۔ مورخہ 26 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 12 فروری 2012۔
  41. Malik Ram | Open Library