حموربی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
حموربی
Milkau Oberer Teil der Stele mit dem Text von Hammurapis Gesetzescode 369-2.png 

معلومات شخصیت
پیدائش سنہ 1810 ق م  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ پیدائش (P569) ویکی ڈیٹا پر
سلطنت بابل  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام پیدائش (P19) ویکی ڈیٹا پر
وفات سنہ 1750 ق م  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ وفات (P570) ویکی ڈیٹا پر
سلطنت بابل  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام وفات (P20) ویکی ڈیٹا پر
شہریت سلطنت بابل  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں شہریت (P27) ویکی ڈیٹا پر
اولاد سمسو ایلونا  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں اولاد (P40) ویکی ڈیٹا پر
والد سیم موبالیط  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں والد (P22) ویکی ڈیٹا پر
مناصب
بادشاہ بابل   خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں منصب (P39) ویکی ڈیٹا پر
مدتِ منصب
1792 ق م  – 1750 ق م 
حلقہ بابل 
Fleche-defaut-droite-gris-32.png سیم موبالیط 
سمسو ایلونا  Fleche-defaut-gauche-gris-32.png
عملی زندگی
پیشہ مقتدر اعلیٰ  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں پیشہ (P106) ویکی ڈیٹا پر
پیشہ ورانہ زبان اکدی  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں زبانیں (P1412) ویکی ڈیٹا پر
حموربی کا مجسمہ

حموربی (1792 تا 1750 ق م) (Hammurabi) [1] اٹھارویں صدی قبل مسیح میں قدیم بابل کے پہلے شاہی خاندان کا چھٹا اور سب سے مشہور بادشاہ گزرا ہے۔ سمیر اور اکاد ’’جنوبی عراق‘‘ کی شہری ریاستوں کو اپنی قلمرو میں شامل کیا اور لرسا کے ایلمی بادشاہ کو شکست دے کر اس کے علاقے پر قبضہ کر لیا۔ مگر فتوحات سے زیادہ اپنے ضابطہ قوانین کے لیے مشہور ہے۔ حموربی کا قانونی، آئینی اور اخلاقی ضابطہ دنیا کا سب سے قدیم ضابطہ ہے اور 282 قوانین پر مشتمل ہے۔ اس میں آنکھ کے بدلے آنکھ اور دانت کے بدلے دانت کی سزا کا ذکر ہے اور یہ بھی درج ہے کہ بیل گاڑی والے کا معاوضہ کتنا ہونا چاہئیے اور سرجن کا کتنا۔ اگر کوئی انجینئر پُل بنائے گا تو اسے اپنے خاندان سمیت اس پل کے نیچے سونا پڑے گا۔ اگر کوئی مکان گر جائے اور مالک مکان اس وجہ سے مر جائے تو معمار کو موت کی سزا ملتی تھی۔ اگر کپتان کی غلطی سے بحری جہاز تباہ ہو جائے تو کپتان کو نقصان کا ازالہ کرنا پڑتا تھا۔[2] کہتے ہیں کہ بنی اسرائیل کے ضوابط اسی سے ماخوذ ہیں ۔انجیل میں اس کا نام ام رافیل ’’فرماں روائے شنار‘‘ (سمیر) ہے۔ ضابطہ قوانین میں عدالت، کھیتی باڑی، آبپاشی، جہاز رانی، غلاموں کی خریدوفروخت، آقا اور غلام کے تعلقات، شادی بیاہ، وراثت، ڈاکا، چوری وغیرہ سے متعلق قانون کے اصول بیان کیے گئے ہیں۔ یہ ضابطہ پتھر کی تختی پر کندہ ہے اور برٹش میوزیم میں محفوظ ہے۔ حموربی نے بکثرت عمارتیں بنوائیں اور نہریں کھدوا کر آبپاشی کا نظام درست کیا۔

ایک زبردست بادشاہ ہونے کے علاوہ حموربی ایک زبردست کلدانی ساحر و ماہر طلسمات و روحانیات بھی تھا، اس کی طلسمات کے موضوع پر سب سے مشہور تصنیف (مکاشفات حموربی) ہے جو (بابل) کے شہر ایلم کی کهدائی کے دوران میں محلات کے کھنڈر سے پتھر کے کتبوں پر کھدی ہوئی برآمد ہوئی ہے۔ یہ اب برٹش میوزیم میں موجود ہے۔[3]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. الموسوعہ العربيہ العالميہ
  2. s Hammurabi's Code the key to fixing the banks?
  3. العمال الجامع از حکیم عبد الستار قریشی