الطاف حسین حالی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں
الطاف حسین حالی
مولانا الطاف حسین حالؔی- غالباً اُنیسویں صدی عیسوی کے آغاز میں
مولانا الطاف حسین حالؔی- غالباً اُنیسویں صدی عیسوی کے آغاز میں
ادیب
پیدائشی نام خواجہ الطاف حسین
تخلص حالؔی
ولادت 1837ء پانی پت
وفات 31 دسمبر، 1914ء پانی پت
اصناف ادب شاعری
نثر
ذیلی اصناف مسدس
معروف تصانیف مسدس حالؔی

خواجہ الطاف حسین حاؔلی ، ہندوستان میں ’’اردو‘‘ کےنامورشاعراورنقاد گزرے ہیں۔حالی 1837ء میں پانی پت میں پیدا ہوئے۔ انکے والد کا نام خواجہ ایزؔو بخش تھا - ابھی 9 سال کے تھے کہ والد کا انتقال ہوگیا۔ بڑے بھائی امدؔاد حسین نے پرورش کی۔ اسلامی دستور کے مطابق پہلے قرآن مجید حفظ کیا۔ بعد ازاں عربی کی تعلیم شروع کی۔ 17 برس کی عمر میں ان کی مرضی کے خلاف شادی کر دی گئی۔ اب انہوں نے دلی کا قصد کیا اور 2 سال تک عربی صرف و نحو اور منطق وغیرہ پڑھتے رہے۔ حالؔی کے بچپن کا زمانہ ہندوستان میں تمدن اور معاشرت کے انتہائی زوال کا دور تھا۔ سلطنتِ مغلیہ جو 300 سال سے اہل ِ ہند خصوصاََ مسلمانوں کی تمدنی زندگی کی مرکز بنی ہوئی تھی، دم توڑ رہی تھی۔ سیاسی انتشار کی وجہ سے جماعت کا شیرازہ بکھر چکا تھا، اور انفرادیت کی ہوا چل رہی تھی۔

1856ء میں ہسار کے کلکٹر کے دفتر میں ملازم ہوگئے لیکن 1857ء میں پانی پت آ گئے۔ 3-4 سال بعد جہانگیر آباد کے رئیس مصطفٰی خان شیفؔتہ کے بچوں کے اتالیق مقرر ہوئے۔ نواب صاحب کی صحبت سے مولانا حالؔی کی شاعری چمک اٹھی۔ تقریباَ 8 سال مستفید ہوتے رہے۔ پھر دلی آکر مرزا غاؔلب کے شاگرد ہوئے۔ غاؔلب کی وفات پر حالؔی لاہور چلے آئے اور گورنمنٹ بک ڈپو میں ملازمت اختیار کی۔ لاہور میں محمد حسین آزؔاد کے ساتھ مل کر انجمن پنجاب کی بنیاد ڈالی یوں شعر و شاعری کی خدمت کی اور جدید شاعری کی بنیاد ڈالی۔

4 سال لاہور میں رہنے کے بعد دلی چلے گئے اور اینگلو عربک کالج میں معلم ہوگئے۔ وہاں سرسؔید احمد خان سے ملاقات ہوئی اور ان کے خیالات سے متاثر ہوئے۔ اسی دوران1879ء میں ’’مسدس حالؔی‘‘ سر سیؔد کی فرمائش پر لکھی۔ ’’مسدس‘‘ کے بعد حالؔی نے اِسی طرز کی اوربہت سی نظمیں لکھیں جن کے سیدھے سادے الفاظ میں انہوں نے فلسفہ، تاریخ، معاشرت اور اخلاق کے ایسے پہلو بیان کئے جن کو نظر انداز کیا جارہا تھا۔[1]

ملازمت سے فارغ ہونے کے بعد پانی پت میں سکونت اختیار کی۔ 1904ء میں ’’شمس اللعلماء‘‘ کا خطاب ملا 31 دسمبر 1914ء کو پانی پت میں وفات پائی۔

سرسید جس تحریک کے علمبردار تھے حالی اسی کے نقیب تھے۔ سرسؔید نے اردو نثر کو جو وقار اور اعلیٰ تنقید کے جوہر عطا کئے تھے۔ حالی کے مرصع قلم نے انہیں چمکایا۔ نہ صرف یہ کہ انہوں نے اردو ادب کو صحیح ادبی رنگ سے آشنا کیا بلکہ آنے والے ادیبوں کے لیے ادبی تنقید، سوانح نگاری، انشاپردازی اور وقتی مسائل پر بے تکان اظہار خیال کرنے کے بہترین نمونے یادگار چھوڑے۔

تصانیف[ترمیم]

  1. تریاق مسموم
  2. طبقات الارض
  3. مسدس حالی
  4. حیات سعدی
  5. حیات جاوید
  6. یادگار غالب
  7. مقدمہ شعروشاعری
  8. حب الوطن
  9. برکھارت
  10. منطق پر رسالہ لکھا۔ جو 1854 میں تلف ہوا
  11. طباق الارض کا عربی سے اردو میں ترجمہ کیا جو مبادی جیولوجی پر تھا
  12. اصولِ فارسی

مذہبیات[ترمیم]

  1. مولود شریف
  2. تریاق مسموم: پادری عماد الدین کے لیے جواب تھا
  3. رسالہ خیر المواعظ
  4. شواہد الہام

اخلاقیات[ترمیم]

  1. مجالس النساء: لاہور میں لکھی، طالبات کے لیے، جو 400 روپے انعام کی حقدار سرکار کی جانب سے قرار پائی اور برسوں نصاب میں شامل رہی۔

سوانح[ترمیم]

  1. سوانحِ حکیم ناصر خسرو
  2. حیات سعدی
  3. تذکرۂ رحمانیہ: مولانا عبد الرحمن کی وفات پر چھپی
  4. یادگار غالب: اس کتاب نے غالب کو آب حیات کے مقابل اصل مقام سے روشناس کروایا
  5. حیات جاوید

مضامین و انشا[ترمیم]

  1. مضامینِ حالی
  2. مقالاتِ حالی
  3. مکاتیبِ حالی

تنقید[ترمیم]

  1. مقدمۂ شعرو شاعری
  2. دیوانِ حالی
  3. مجموعۂ نظمِ حالی
  4. ضمیمہ اردو کلیاتِ حالی
  5. انتخاب کلامِ داغ: حالی نے اس پر کام شروع کیا مگر مکمل نہ کرسکے جس کی تکمیل بعدمیں سجاد حسین اور محمد اسماعیل پانی پتی نے کی۔

بیرونی روابط[ترمیم]


  1. [1]